Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

اختتام رمضان اورعید

اختتام رمضان اورعید

از: امیر المجاہدین حضرت مولانا محمد مسعود ازہر دامت برکاتہم العالیہ

(شمارہ 648)

رمضان کے آخر میں محنت بڑھا دیں

 شیطان کی معاون قوتیں پورا زور لگاتی ہیں کہ رمضان کے آخری ایام میں سب کچھ ضائع کرا دیں طرح طرح کے گناہ بازاروں کی غفلت عید کے نام پر افسوسناک مشغولیت عید کے کپڑوں،جوتوں اور سامان کی فکر زیادہ غصہ اہل محبت کی باہمی لڑائی یہ سب اس لئے کہ رمضان کااختتام خراب ہوجائے اسی لئے حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کواعتکاف دے گئے تاکہ رمضان کے آخری ایام محفوظ ہوجائیں مگرجو لوگ کسی بھی وجہ سے اعتکاف نہیں کر سکتے انہیں چاہئے کہ وہ آخری عشرے میں اعمال بڑھا دیںخصوصاً تلاوت بڑھا دیں رات کا آسان نصاب چھ رکعت اوابین، بیس تراویح، آٹھ تہجد پوری چالیس رکعت کرلیں تو اور مزہ اور زبان کی حفاظت عزم کرلیں کہ آخری عشرہ میں دین کی بات یا سخت ضرورت کے علاوہ زبان بند ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرہ میں اتنی محنت فرماتے کہ ازواج مطہرات کو یوں لگتا کہ گویا ہمیں پہچانتے ہی نہیں پس اپنے محبوب آقاﷺکی اتباع میں ہم بھی اپنی محنت کچھ بڑھا دیں۔

زندگی کو رمضان المبارک کی ترتیب پر لایا جائے

رمضان المبارک آتا ہے اورآ کر چلا جاتا  ہے مگر رمضان المبارک کا اختتام عید کی خوشی پر ہو تا ہے بس اسی سے یہ سبق سیکھیں کہ ہم بھی دنیا میں آئے اور ایک دن ضرور یہاں سے چلے جائیں گے کیا ہمارا اختتام بھی عید جیسی خوشی پر ہو گا؟ جی ہاں!اگر ہم اپنی پوری زندگی رمضان المبارک کی ترتیب پر گزاریں خوشی خوشی شریعت کی پابندی برداشت کریںاور ان پابندیوں کو اپنے لئے نعمت سمجھیں کیا کھانا ہے اور کیا نہیں کھانا؟ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا؟ ہر وقت نفس کی خواہشات پوری نہیں کرنی ہروقت لذتوں کی فکر میں نہیں رہنا پس جو اس طرح پابندی والی زندگی گزارے گااس کی موت کا دن،رمضان المبارک کے بعد والے دن کی طرح ہو گا یعنی عید کا دن خوشی کا دن پابندیاں اٹھ جانے اور عیش و عشرت ملنے کا دن تب اس کی روح اس دن خوشیاں مناتی ہوئی تکبیر پڑھتی ہوئی مقام عِلِّیِّیْن کی طرف لے جائی جائے گی یہ مقام آسمانوں کے اوپر ہے وہاں ایک کتاب رکھی ہوئی ہے ہر مومن کی روح کو وہاں لے جا کراس کتاب میں اس کا نام لکھ دیا جائے گا اور پھر قیامت تک اس کے درجے کے مطابق کسی اچھی جگہ قیام کی ترتیب بن جائے گی یا اللہ!ہمیں بھی ان میں شامل فرما دیجئے۔

رمضان ا لمبارک کو اچھی حالت میں رخصت کریں

رمضان المبارک کو بہت اچھی حالت اور کیفیت میں الوداع کہنا چاہئے یہ محبوب مہینہ جب جارہا ہو تو وہ ہمیں با وضو حالت میں تلاوت کرتے، استغفار کرتے یا دین کا کوئی کام کرتے ہوئے دیکھے اور ہم تشکر، ندامت اور محبت کے آنسوؤں کے ساتھ بہت ہی پیارے رمضان المبارک کو رخصت کریں وہ سحری کے وقت کا نور، وہ افطار کے وقت کی برکت وہ تراویح کے وقت کی خوشبو اور وہ محبوب کی خاطر بھوکے پیاسے رہنے کا مزہ وہ رحمتوں کی بارش وہ مغفرتوں کی بوچھاڑ وہ خوفناک جہنم سے آزادی کے پروانے وہ تلاوت کی لذت وہ نمازوں کا سرور اور وہ فرشتوں کے میلے اﷲاکبرکبیرا یہ سب کچھ جا رہا ہے جی ہاں!پیارا رمضان المبارک جا رہا ہے مجاہدین پر خصوصی نصرت کے نازل ہونے کا مہینہ وہ بدر والا مہینہ وہ فتح مبین والا مہینہ جا رہا ہے خوب اچھی طرح رخصت کریں۔

رمضان کی آخری رات، اور مغفرت کی بارش

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:

رمضان المبارک کی آخری رات میں میری امت کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔

پوچھا گیا کہ اے اللہ کے رسول!

کیا یہی رات لیلۃ القدر ہے؟

فرمایا:

نہیں، لیکن ضابطہ یہ ہے کہ جب مزدور، اپنا کام پورا کر لے تو اس کو اس کی مزدوری دے دی جاتی ہے۔

(مشکٰوۃالمصابیح؍کتاب الصوم، الفصل الثالث؍ص ؍ط، قدیمی کراتشی)

دل نہیں مرے گا

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے ارشاد فرمایا:

جس شخص نے عیدین (عید الفطر، عید الاضحیٰ)کی راتوں میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے قیام کیا (یعنی ان راتوں میں عبادت کی)تو دلوں کے مر جانے والے دن میں اس کا دل نہیں مرے گا۔

(رواہ ابن ماجۃ فی کتاب الصیام؍باب فی من قام فی لیلتی العیدین؍رقم الحدیث ؍ط، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

دلوں کے مریض ہوشیار!

رمضان المبارک میں جن لوگوں نے اﷲتعالیٰ کو راضی کیا وہ لوگ بخشے گئے پاک ہوگئے اور اہل جنت میں شامل ہوگئے یہ کتنی بڑی خوشی ہے؟ بہت بڑی، بہت بڑی آپ ذرا قرآن پاک میں جنت کا حسن تو پڑھ کر دیکھیں اﷲپاک بار بار جنت کی فضائیں اور جنت کی ادائیں یاد دلاتے ہیں ساری دنیا کی چمک، دمک جنت کی ایک گز زمین کے حسن تک نہیں پہنچ سکتی آپ ٹی وی چینلز پر دنیا کے حسن کو دیکھ کر متاثر نہ ہوں جنت کے مقابلے میں یہ سب کچھ نمائشی کھیل تماشا ہے محض دھوکہ، جی ہاں!ایک فانی اور عارضی چمک ارے!جنت تو بہت اونچی ہے، بہت پیاری ہے، بہت حسین ہے بہت میٹھی ہے ذرا سورۃ الرحمن میں جھانک کر دیکھیں نیویارک اورسوئٹزرلینڈ کا حسن ویران کھنڈرات کی طرح نظر آئے گا اﷲتعالیٰ فرماتے ہیں اس جنت کی طرف دوڑو یہ میں نے اپنے لوگوں کے لئے تیار کی ہے اﷲتعالیٰ کے لوگ اﷲتعالیٰ کے بندے اب آپ خود سوچیں جن لوگوں کے لئے جنت کی ہمیشہ ہمیشہ والی ابد الآبادوالی زندگی کا فیصلہ ہوجائے ان کے لئے کتنی بڑی خوشی ہے اب اس خوشی کو منانے کا آغاز عید کی رات سے ہی کردینا چاہئے عید کی رات یعنی عید کے دن سے پہلے والی رات جو لوگ عبادت کرتے ہیں اﷲتعالیٰ ان کے دلوں کو خاص زندگی عطاء فرماتا ہے لیجئے زندہ دل بننے کا طریقہ معلوم ہوگیا اور دل کے مریضوں کو خوشخبری مل گئی اﷲاکبر کبیرا آخرت کی اصل زندگی سے غافل لوگ عید کی رات بازاروں میں مگن سینماؤں میں مست اور دنیا کی رسموں میں مصروف جبکہ دل والے اس رات بھی اﷲتعالیٰ کو راضی کرنے کی فکر، محنت اور جستجو میں

اب آپ بتائیں عید کس کو نصیب ہوئی؟ ان کو جو محبوب حقیقی سے غافل ہو گئے یا ان کو جو آج بھی محبوب حقیقی کے ساتھ ہیں؟ اور اس کی یاد میں ڈوبے ہوئے ہیں ہوسکے تو اس رات زیادہ عبادت کی جائے رمضان المبارک کی یادوں کو تازہ رکھا جائے وگرنہ اتنا تو ضرور رہے کہ عشاء اور فجر کی نماز مسجد میں باجماعت ادا ہو اور رات کا دامن گناہوں سے پاک رہے

حضور اکرمﷺکا ارشاد گرامی ہے:

مَنْ قَامَ لَیلَتِی العِیْدَینِ مُحْتَسِباً لَم یَمُتْ قَلْبُہ یَومَ تَمُوتُ القُلُوبُ

جس شخص نے عیدین کی راتوں میں ثواب کی نیت سے قیام کیا (یعنی عبادت کی)تو جس دن دل مر جائیں گے اس دن اس کا دل نہیں مرے گا۔ (رواہ ابن ماجہ)

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:

مَنْ اَحْیَا لَیْلَۃَ الفِطرِ وَلَیْلَۃَ الاَضْحیٰ لَمْ یَمُتْ قَلْبُہ یَوْمَ تَمُوْتُ القُلُوبُ

جس نے عید الفطر اور عید الاضحیٰ کی رات کو (عبادت سے)آباد رکھا، اس کا دل ، دلوں کے مر جانے والے دن زندہ رہے گا۔ (رواہ الطبرانی فی الاوسط)

٭…٭…٭

خوشی اور مسکراہٹ کا دن

عید کا دن خوشی اور مسکراہٹ کا دن ہے اس دن ایمان والوں کو دیکھ کر زمین بھی مسکراتی ہے آسمان بھی مسکراتا ہے فضائیں اور ہوائیں بھی مسکراتی ہیں ارے!زمین سے لے کر عرش تک جشن کا سماں ہوتا ہے کہ ایمان والوں کو پورے ایک مہینہ کے روزے نصیب ہوئے ایک مہینہ کی تراویح نصیب ہوئی ایک مہینہ کی مقبول عبادت نصیب ہوئی اور آج ان سب کو انعام ملنے والا ہے سبحان اللہ!سب سے بڑا انعام جی ہاں! مغفرت کا انعاماس سے بڑی خوشی اور کیا ہو گی؟ تقریب انعامات کا دناس سے بڑا جشن کیا ہو گا؟ اپنے محبوب رب کی رضا کا دن اس سے بڑی فرحت اور کیا ہو گی کہ اپنے رب کی تکبیر اٹھانے اور اپنے رب کا شکر ادا کرنے کا دن ہے۔

عید عید

٭ اﷲتعالیٰ نے مسلمانوں کو دو عیدیں عطاء فرمائی ہیں:عید الفطر عید الاضحیٰ۔

یہ سچی بات حضرت آقا مدنیﷺنے مدینہ منورہ میں ارشاد فرمائی کہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے دو عیدیں عطاء فرمائی ہیں(ابوداود) اب تیسری کوئی عید نہیں چوتھی کوئی عید نہیں قیامت تک مسلمانوں کی عیدیں دو ہی رہیں گی۔

عیدالفطر عیدالاضحیٰ

٭عیدالفطر بس ایک دن کی ہوتی ہے یکم شوال یہ عید دو دن یا تین دن کی نہیں ہوتی رمضان المبارک مکمل ہوا اس سعادت کی خوشی میں عید آگئی اور ایک دن رہ کر چلی گئی۔

٭ عید خود آتی ہے اور خود جاتی ہے لوگ عید کریں یا نہ کریں عید منائیں یا نہ منائیں رمضان المبارک ختم ہوتے ہی عید آجاتی ہے اپنے ساتھ خیر، خوشی، خوشخبری اور برکتیں لاتی ہے بعض لوگ کہتے ہیں اس سال ہمارے گھر میں وفات ہوئی ہے،ہم عید نہیں کر رہے عید کرنے یا نہ کرنے کا کیا مطلب؟ عید نہ نئے کپڑوں کا نام ہے اور نہ ھلّا گُلّا کرنے کا عید نہ کسی شور شرابے کا نام ہے اور نہ کسی خاص پکوان کا عیدکادن، رمضان المبارک اچھی طرح گذارنے والے مسلمانوں کیلئے یوم الجائزہ یعنی انعام کا دن ہے عید کی صبح ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان سب کی مغفرت کر دی جاتی ہے اور انہیں اجر وثواب عطاء فرمایا جاتا ہے اوریوں اُن کے لئے عید ہو جاتی ہے عید کئی لوگ عید کے دن لاکھوں کا لباس پہنتے ہیں لاکھوں کے پکوان کھاتے ہیں مگر وہ عید کی رحمت اور برکت سے محروم رہ جاتے ہیں جبکہ کئی لوگ عید کے دن اپنا پیوند زدہ دُھلا ہوا لباس پہنتے ہیں گھر میں دال روٹی کھاتے ہیں مگر ان کی ایسی عیدہوتی ہے کہ زمین تاآسمان اور آسمان تا عرش اُن کی عید چمک رہی ہوتی ہے، دمک رہی ہوتی ہے اور فرشتوں میں اُن کے تذکرے چل رہے ہوتے ہیں۔

٭ عید کا دن یوم الجائزہ انعام کا دن ہے غلط رسومات کی وجہ سے اسے حسرت کا دن نہ بنایا جائے آپ خود سوچیں اگر ایک بندہ جو خود کو مسلمان کہتا ہے عید کے دن بھی اللہ تعالیٰ سے(نعوذباللہ)ناخوش اور ناراض ہوگا تو وہ کس منہ سے اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت مانگے گاہائے!میرے پاس نئے کپڑے نہیں ہائے ! میرے پاس نیا جوتا نہیں ہائے!میرے بچوں کی اس سال کیا عید؟ فلاں سامان نہیں، فلاںشخص نہیںیہ سب محرومی والی سوچیں اور شیطان کے حربے ہیں رمضان المبارک میں آپ نے محنت کی روزے رکھے، رات کا قیام کیا اب اُس ساری محنت کے انعام پانے کا دن ہے تو اپنے محبوب رب سے شکوے لیکر بیٹھ گئے ذرا دماغ سے تو سوچو کہ آخر نئے کپڑوں سے کیا ہوتا ہے؟ کیا نئے کپڑوں سے کوئی غریب مالدار ہوجاتا ہے؟ کوئی بیمار تندرست ہو جاتا ہے؟ کوئی ذلیل عزت مند ہو جاتا ہے؟ کوئی قیدی رہا ہو جاتا ہے؟ کوئی مصیبت اور بلا ٹل جاتی ہے؟ کوئی قرضہ یا آفت اُتر جاتی ہے؟ کچھ بھی نہیں کچھ بھی نہیں بادشاہ پرانے کپڑے پہن کر بادشاہ ہی رہتا ہے اور چپڑاسی نئے کپڑے پہن کر افسر نہیں بن جاتا کائنات کے سب سے افضل اور سب سے شان والے انسان نے اکثر پیوند زدہ کپڑے پہنے اس سے اُن کے مقام میں کوئی کمی نہیں آئی دراصل مسلمانوں میں عید اور خوشی کا مطلب ہی تبدیل ہوتا جارہا ہے وہ نعوذباللہ عید کے مقدس دن کو کرسمس، ہولی، بسنت، دیوالی جیسا کوئی تہوار سمجھ بیٹھے ہیں ایک مسلمان اور کافر کے درمیان جو فرق ہے وہ بڑے دن منانے میںبھی ظاہر ہوتا ہے کافروں کے ہاں تہوار کا مطلب شہوت، لذت، آزادی، غفلت، چھٹی، فخر، نمائش اور درندگی ہے اسی دن وہ دل بھر کے گناہ کی پیپ پیتے ہیں اور اسی دن مالدار لوگ اپنے مال کی نمائش کر کے غریبوں کا دل دکھاتے اور اپنی نقلی شان بڑھاتے ہیں۔

تہوار کے دن آزادی ہوتی ہے، عقل، اخلاق اور ہرضابطے سے آزادی اور انسان ایک ایسے جانور جیسا ہوتا ہے جسے پنجرے سے باہر نکال دیا گیا ہو مگر عید تو عید ہے سبحان اللہ!عبادت اور راحت کا شاندار امتزاج خوشی اور خدمت کا بہترین جوڑ اور برکت اور مسرّت کا حسین سنگم اس میں نہ غفلت ہے نہ حرام کاری نہ نمائش ہے اور نہ ایذاء رسانی مگر کیا کریں، کافروں کی دوستی اور صحبت نے کئی مسلمانوں کو ڈس لیا ہے اور انہوں نے عید جیسے پاکیزہ دن کو کافروں کے تہواروں جیسا سمجھ لیا ہے اور اب عید کے دن ناشکری کے جملے اُٹھتے ہیں کپڑے نہیں، جوتے نہیں فلاںعزیز گھر نہیں فلاں کیوں انتقال کرگیا بس میری قسمت میں خوشیاں کہاں؟ اَسْتَغْفِرُاللہ، وَ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُونْ

آئیے عزم کریں کہ عید کے انعام والے دن ہر حال میں اپنے عظیم رب تعالیٰ سے خوش اور راضی رہیں گے۔

٭ عید کے دن اس بات کی فکر رہے کہ ہمارا رمضان المبارک قبول ہوجائے حضرت جبیرؒ بن نفیر فرماتے ہیں:

حضرات صحابہ کرامؓجب عید کے دن آپس میں ملتے تو ایک دوسرے کو یہ دعاء دیتے:

تَقَبَّلَ اللہُ مِنَّا وَمِنْکَ

اللہ تعالیٰ ہمارے اور آپ کے اعمال قبول فرمائے۔

عید کے دن کوئی ایسی حرکت، غفلت اور گناہ نہ ہو جو رمضان المبارک کے اعمال کو بھی ضائع کر دے خوشی کریں مگر حلال اور مباح اورایک مسلمان کے لئے حرام میں خوشی ہے بھی کہاں؟

حضرت حسن بصریؒ فرماتے ہیں:

ہر وہ دن جس میں کوئی بندہ، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کرے وہ اس کے لئے عید کا دن ہے اور ہر وہ دن جو ایک مومن اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اللہ تعالیٰ کے ذکر اور شکر میں گزارے وہ اُس کے لئے عید کا دن ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ کا شکرادا کیوں نہیں کرتے؟ 

اللہ تعالیٰ نے زمین پر رزق اُتارا ہے کسی کو زیادہ دیا اور کسی کو تھوڑا جن کو اسلام اور ایمان کی نعمت ملی ان کو اگر رزق کم بھی ملا تو انہوں نے فکر نہیں کیا لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے اور کافروں کے سفارتخانوں پر لائن لگانے کی بجائے انہوں نے اپنی ضروریات کو محدود کر لیا وہ اپنے اسلام پر راضی رہے تب ان کے فقر و فاقے میں ایسا سکون رکھ دیا گیا جو بادشاہوں کو خوابوں میں بھی نہیں ملتاآپ ﷺنے ایک انصاری صحابی کو دیکھا کہ فقرو فاقے اور بیماری کی وجہ سے بہت سخت حالت میں ہیںنہ مال تھا نہ صحت آپﷺنے ان کی ایسی خستہ حالت دیکھی تو ایک وظیفہ ارشاد فرمایا کہ یہ پڑھو گے تو حالت سدھر جائے گی اُن انصاری کا ایمان بہت بلند تھا فرمانے لگے میں ان دو چیزوں یعنی فقروفاقے اور بیماری کے بدلے بڑی سے بڑی نعمت لینے کوبھی تیار نہیںحضرت آقا مدنیﷺنے ان کی تعریف فرمائی کہ جو اپنی ایسی حالت پر اللہ تعالیٰ سے راضی ہو اس کا مقام بڑے بڑے اعمال کرنے والوں سے بھی بہت اونچا ہے۔

آج جس کے پاس عید کا نیا جوڑا نہ ہو وہ آہیں بھرتا ہے جس کے پاس عید کا نیا جوتا نہ ہو وہ آنسو بہاتا ہے جس کے بچوں کو عید پر زیادہ عیش نہ ملے وہ شکوے برساتا ہے یہ نہیں سوچتا کہ اصل نعمتیں اللہ تعالیٰ نے ہر غریب اور ہر امیر کو وافر عطاء فرمائی ہیںاسلام کی نعمت، ایمان کی نعمت، قرآن کی نعمت،رمضان کی نعمت روزوں اور تراویح کی نعمت جہاد کی نعمت ان نعمتوں کو ہر غریب سے غریب آدمی بھی حاصل کر کے آخرت کا بادشاہ بن سکتا ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیوں نہیں کرتے؟

عید کے دن کے دو ضروری کام 

٭ عید کے دن کاپہلا کام یہ ہے کہ دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور بڑائی اور زبان پر اس کی تکبیر ہودنیا کی ہر طاقت کا رعب دل سے نکال دینا ہے ارے!سائنس نے ایسی کوئی ترقی نہیں کر لی کہ ہم نعوذباللہ اسے سجدے کرتے رہیںجب بجلی نہیں تھی تو لوگوں کے پاس روشنی کا انتظام آج کے زمانہ سے زیادہ اچھا تھاکوئی اندھیرے میں نہیں مرتا تھالوگ سفر کرتے تھے اور بہت صحت مند تھے وہ آج کے لوگوں کی طرح پلاسٹک کی بوتلیں اور گیس کے سلنڈر نہیں تھے منوں وزنی تلواریں ہاتھ کے پنکھے کی طرح گھماتے تھے اور بھاری کمانوں سے تیروں کی بوچھاڑ کرتے تھے عید کے دن اپنے دل سے بے حیا اور بد کار کافروں کی عظمت نکالنی ہے امریکہ اور یورپ کی عظمت دل سے ختم کرنی ہے یہ سب اللہ تعالیٰ کی عظمت کے سامنے اڑتا ہوا غبار بھی نہیں اللہ ہی سب سے بڑا ہے اور اللہ ایک ہے۔

اَللہُ اَکْبَر،اللہُ اَکْبَر،لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَر،اَللہُ اَکْبروَلِلّٰہِ الْحَمْدُ

٭عید کا دوسرا کام یہ کرنا ہے کہ اپنے دل کو حقیقی نعمت یعنی اسلام کی یاد دلا کر خوش کرنا ہے عید کا دن رونے پیٹنے اور دنیا کے غموں کو اپنے اوپر مسلط کرنے کا دن نہیں یہ شکر اور خوشی کا دن ہے اور شکر اور خوشی ان نعمتوں پر جو اصل اور قیمتی نعمتیں ہیں الحمد للہ ہمارے پاس کلمہ طیبہ ہے الحمد للہ ہمیں رمضان المبارک ملاالحمد للہ ہمیں روزوں کی توفیق ملی الحمد للہ ہمیں رمضان المبارک میں جہاد میں نکلنے یا جہاد کی خدمت کی توفیق ملی ہمیں زیادہ تلاوت،زیادہ صدقے اور زیادہ عبادت کی توفیق ملی ہمیں حضرت آقا مدنیﷺجیسے نبی ،قائد اور رہبر ملے اللہ اکبر یہ کتنی بڑی نعمت ہے؟ دنیا بھر کے کافر ہزار دولت کے باوجود حضرت آقا مدنیﷺسے محروم ہیں آپ بتائیے اس سے بڑی محرومی اور کیا ہو سکتی ہے؟حضرات صحابہ کرام کو جب حضور پاکﷺمل گئے تو انہوں نے کیسی عظیم قربانیاں دے کراس نعمت کی قدر کی ۔

عید کے دن ان بڑی بڑی عظیم نعمتوں کو یاد کر کے اپنے دل کو خوشی پر اور اپنے ہونٹوں کو مسکراہٹ پر لانا ہے ہم لاکھ گناہگار سہی مگر الحمد للہ مسلمان تو ہیںحضرت آقا مدنی ﷺکے امتی تو ہیںیہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے۔

عید کے دن خوش خوش رہیں

 عید کے دن اپنے دل کو آمادہ کریں کہ وہ خوش رہے جس طرح مال ملنے پر بچت ہونے پر اور عیش آرام حاصل ہونے پر خوش ہوتا ہے جس طرح گاڑی، کوٹھی، کپڑے، جوتے ملنے پر خوش ہوتا ہے اس سے بڑھ کر مسلمان ہونے پر خوش ہو کہ اللہ پاک نے دنیا کی سب سے قیمتی اور مہنگی نعمت اسلام مجھے دی ہے رمضان پر خوش ہو قرآن پر خوش ہو جہاد پر اور صدقہ پر خوش ہو شیطان دل میں غم ڈالے کہ تمہارے پاس تو رہنے کی جگہ نہیں تم اپنے بچوں سے دور تم محروم وغیرہ تو جواب دیں مسٹر شیطان!نہیں، نہیں۔ میں یہ سب آج نہیں سوچ سکتا آج میں اپنے رب کی حقیقی نعمتوں پر خوش ہوں دنیا تو جس کے پاس ہو وہ بھی پریشان جس کے پاس نہ ہو وہ بھی پریشان ۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online