Bismillah

652

۶ تا۱۲ذوالقعدہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۲۰تا۲۶جولائی۲۰۱۸ء

جواہرِ جہاد (قسط۷۱)

جواہرِ جہاد (قسط۷۱)

از: امیر المجاہدین حضرت اقدس مولانا محمد مسعود ازہر صاحب دامت برکاتہم العالیہ

(شمارہ 651)

تاخیر کی وجہ

’’معرکۂ نگروٹہ‘‘ کے بارے میں ’’رنگ و نور ‘‘ تاخیر سے آ رہا ہے… وجہ یہ کہ گذشتہ ہفتے جب کالم لکھا جا رہا تھا تو… یہ مبارک معرکہ جاری تھا … مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی بندش کی وجہ سے مکمل تفصیل آنے میں دیر ہو جاتی ہے… مگر وہاں کے مجاہدین جدید مواصلاتی نظام کو استعمال کر کے… پاکستان اور دنیا بھر میں کشمیر کے حقائق اور جہادی حملوں کی تفصیلات پہنچاتے رہتے ہیں… اور حقیقی، سچی تفصیلات وہی ہوتی ہیں جو مجاہدین کی طرف سے آتی ہیں… انڈین میڈیابے چارہ تو ’’پٹھان کوٹ‘‘ اور ’’اُڑی‘‘ کے بعد حکومت کے عتاب کا شکار ہے …اس پر طرح طرح کی پابندیاں لگ چکی ہیں … وہ تو اب ہمارے ’’بیانات‘‘ اور ’’رنگ و نور‘‘  بھی نہیں سناتا… بس ’’رنگ و نور‘‘ کے چند جملے پکڑ کر … اُن پہ تبصرے کرتا رہتا ہے… حقیقی معلومات تک میڈیا کو رسائی نہیں دی جا رہی … اسے بس یہ کہا جاتا ہے کہ … انڈیا نے ایک ’’سرجیکل سٹرائیک‘‘ کیا ہے… وہ سرجیکل سڑائیک کہیں نظر نہیں آ رہا … مگر تم اسی کی ’’بین‘‘ بجاتے رہو… چنانچہ میڈیا سرجیکل، سرجیکل کا شور ڈال دیتا ہے… پھر اسے بتایا جاتا ہے کہ … مجاہدین نے ’’نگروٹہ ‘‘ پر نظر آنے والا حملہ کیا ہے… مگر تم نے وہ دور، دور رہ کر دیکھنا اور سنانا ہے … چنانچہ میڈیا والے بے چارے اس حملے سے پانچ سو کلومیٹر دور کھڑے ہو کر موویاں اور ڈرامے بناتے رہتے ہیں… آج انڈیا بالکل پرانے زمانے والا ’’سوویت یونین ‘‘ نظر آ رہا ہے… وہاں کرنسی پر پابندی تھی، میڈیا مفلوج تھا…  سیکورٹی کے نام پر لوگوں کو ہر جگہ ستایا جا رہا تھا اور … اپنی فوجوں کی جھوٹی فتوحات کے چرچے تھے…

چنانچہ یہ مصنوعی صورتحال ’’سوویت یونین ‘‘ کو لے ڈوبی… اب یہ صورتحال انڈیا پر آئی ہے تو اس کو بھی لے ڈوبی گی…ان شاء اللہ

عرض یہ کر رہا تھا کہ… چونکہ نگروٹہ کا معرکہ جاری تھا … اور نام بھی ہمارے لگناتھا تو اس لئے ضروری تھا کہ …جب مکمل خبریں آ جائیں گی تب اس موضوع پر لکھا جائے گا… بس اسی وجہ سے تاخیر ہو گئی…

انڈیا پھنس گیا

نگروٹہ کی اتنی منظم ، مضبوط اور مستحکم کارروائی کو دیکھ کر پہلا سوال یہ اُٹھتا ہے کہ… اس کارروائی کے لئے انڈین کرنسی کہاں سے آئی … سامان کیسے خریدا گیا؟… اس سوال کا جواب اس لئے بھی اہم ہے کہ… ’’نگروٹہ‘‘ کی فوجی چھاؤنی کوئی معمولی ٹارگٹ اور عام ہدف نہیں تھا… یہ انڈین فوج کی اہم ترین چھاؤنی ہے اور اس کی سیکورٹی فول پروف ہے… اور اسی چھاؤنی میں … جموں ، کشمیر اور پوری ’’ایل، او، سی‘‘ پر فوجی کارروائیوں کی پلاننگ تیار کی جاتی ہے… ایک ایسی چھاؤنی جسے انڈین آرمی کی شمالی کمان کا ’’دل‘‘ سمجھا جاتا ہے … اس پر حملہ کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے… اس چھاؤنی کے گرد تین حفاظتی حصار تھے… ان حفاظتی حصاروں کو توڑنے یا خریدنے پر کتنی رقم خرچ ہو سکتی ہے؟…

چھاؤنی کے اندر کا نقشہ حاصل کرنا… یہ بھی آسان اور سستا کام نہیں ہے… چھاؤنی کے راستوں اور اندر کے اہداف کی فوٹیج بنانا یا بنوانا یہ بھی کوئی معمولی کام نہیں ہے… کوئی ایسا آدمی جو پہلے اس علاقے میں نہ آیا ہو وہ تو چند قدم چل کر ہی پکڑا اور مارا جا سکتا ہے… اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ ایسے افراد استعمال ہوں جو بار بار اس علاقے میں آ چکے ہوں… اور پھر ایک مضبوط حملے کے لئے…اندر کی مدد بھی ضروری ہوتی ہے … افضل گورو شہید سکواڈ… کشمیری مجاہدین کا قابل فخر عسکری بازو ہے…

انہوں نے یہ سارے مرحلے ان حالات میں طے کئے کہ جب …انڈیا میں ہر جیب خالی ہے … اور ہر شخص کرنسی کے لئے پریشان ہے … مگر اندر کے ذرائع بتاتے ہیں کہ …مودی حکومت نے کرنسی پر پابندی لگا کر…خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے… اور وہ خود اپنے جال میں پھنس گئی ہے… دراصل صنعتکاروں اور ’’ منی چینجرز‘‘ کو پہلے ہی اس پابندی کا علم ہو گیا تھا اور انہوں نے بڑی مقدار میں چھوٹے نوٹ حاصل کر لئے تھے… یہ نوٹ، ڈالر، پونڈ اور یورو کے عوض آسانی سے ملتے ہیں… اور اب مجاہدین کے لئے کام کرنے والے افراد بھی ’’ڈالر ‘‘ زیادہ پسند کرتے ہیں… اس طرح کشمیری مجاہدین ،ماؤ نواز حریت پسند اور خالصتان کے فریڈم فائٹر… کسی بھی طرح کی مالی مشکلات کا شکار نہیں ہوئے … بلکہ اُن کا کام مزید آسان ہو گیا ہے… جبکہ انڈین عوام انتہائی سخت مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں… مودی جیسے بے عقل، دہشت گرد کو اپنا حکمران بنانے والوں کو یہی انجام ملنا تھا جو انہیں مل رہا ہے…

دوسرا رُخ

لوگ سمجھ رہے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات بہتر ہو رہے ہیں … وہاں اب ہڑتال ، کرفیو، سنگ بازی اور احتجاج میں کمی آئی ہے … حالانکہ ایسا نہیں ہے… اہل کشمیر کی اس طویل قربانی نے … کشمیر کے عسکری جہاد کو مضبوط کر دیا ہے… بہت سے نوجوان اور پڑھے لکھے افراد تحریک میں شامل ہو چکے ہیں … اور وہ اس تحریک کو اپنی آزادی تک جاری رکھنے کے لئے پُر عزم ہیں… نگروٹہ کا حملہ اسی عزم کا ایک اظہار ہے … اندرونی ذرائع کے مطابق اس کارروائی میں درجنوں بھارتی فوجی مارے گئے…جن میں سے سات کا اعتراف خود بھارتی حکومت نے بھی کیا ہے…بہرحال یہ کارروائی…جہادکشمیر کو ان شاء اللہ ایک نئی طاقت فراہم کرے گی… پانچ مجاہدین اتنا بڑا حملہ کریں… تین شہید ہو جائیں … اور باقی دو اگلے ہدف کے قریب جا بیٹھیں …یہ سب کچھ سوچنا آسان ہے مگر کرنا بہت مشکل ہے … اور جو لوگ اتنی عظیم اور مشکل کارروائیاں کر لیتے ہوں… اُن کی فتح میں کون شک کر سکتا ہے؟… اللہ تعالیٰ پوری امت مسلمہ اور تمام مجاہدین کو اپنی رحمت، مغفرت، نصرت … اور اعانت عطاء فرمائے … آمین یا ارحم الراحمین

بلا عنوان

اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں پر نماز فرض فرمائی…وَاَقِیْمُو الصَّلٰوۃَ… اور قائم کرو نماز کو…

اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں پر جہاد فرض فرمایا… کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ… فرض کیا گیا تم پر قتال…

یعنی نماز سے پہلے بھی ’’ایمان ‘‘ ضروری… بے ایمان کی نماز نہیں ہوتی… اور جہاد سے پہلے بھی ’’ایمان‘‘ ضروری…بے ایمان کا جہاد نہیں ہوتا… امید ہے کہ یہ بات آپ کے ذہن میں بیٹھ گئی ہو گی… اب آئیے اگلی بات کی طرف… نماز کے لئے جتنا ایمان ضروری ہے بس اتنا ہی ایمان جہاد کے لئے ضروری ہے… جہاد کے لئے کسی الگ سپیشل ایمان کی ضرورت نہیں… بلکہ… جتنے ایمان سے نماز ادا ہو جاتی ہے اتنے ایمان سے جہاد بھی ادا ہو جاتا ہے… ایک آدمی نماز ادا کر رہا ہے معلوم ہوا کہ وہ خود کو ایمان والا سمجھتا ہے… اب اگر اسے جہاد کے لئے کہا جائے تو وہ فوراً اپنے ایمان کا انکار کر دے اور یہ کہے کہ… پہلے میںایمان بناؤں گا پھر جہاد کروں گا یا پھر جہاد کو مانوں گا… تو یہ بڑی خطرناک غلطی اور گمراہی ہے… امید ہے کہ ان شاء اللہ یہ بات بھی آپ کے دل میں اتر گئی ہو گی… اب آئیے اگلی بات کی طرف…

نماز زیادہ افضل ہے یا جہاد؟… اس بات پر تو اہل علم کا اتفاق ہے کہ نماز کی فرضیت بھی قرآن مجید میں نازل ہوئی ہے… اور جہاد بمعنیٰ قتال فی سبیل اللہ کی فرضیت بھی قرآن مجید میں نازل ہوئی ہے… چنانچہ یہ دونوں دین اسلام کے اہم فرائض ہیں… ان کا انکار کرنا ’’کفر‘‘ ہے… اور ان کو چھوڑنا بہت بڑا کبیرہ گناہ ہے… مگر ان دونوں میں سے زیادہ اہم کون سافریضہ ہے… حضور اقدس ﷺ نے کبھی نماز کی وجہ سے جہاد کو نہیں چھوڑا… اور کبھی جہاد کی وجہ سے نماز کو نہیں چھوڑا… ہاں جہاد کی مشقت میں چند نمازیں قضاء ضرور ہوئیں مگر ان کو فوراً بعد میں ادا کر لیا گیا… اور ان کے قضاء کروانے پر مشرکین کو سخت بددعاء دی گئی

جہاد اور نماز کا آپس میں کوئی ٹکراؤ بھی نہیں … البتہ دونوں ایک دوسرے کو قوت اور سہولت دیتے ہیں… چنانچہ جہاد میں ایسی نماز کی بھی اجازت ہے…جو چلنے پھرنے اور لڑنے سے نہیں ٹوٹتی… اور دو قسطوں میںادا ہوتی ہے … اسے ’’صلوٰۃ خوف‘‘ کہتے ہیں… معلوم ہوا کہ جہاد بھی بہت اہم ہے… اور نماز بھی بہت اہم ہے… مگر سوال وہی کہ ان دونوں میں سے زیادہ اہم کون سا فریضہ ہے؟ …اہل علم کے مختلف اقوال ہیں… بندہ کم علم کو جو بات سمجھ آئی ہے وہ یہ ہے کہ… نماز جہاد سے زیادہ اہم ہے اور جہاد نماز سے زیادہ افضل ہے واللہ اعلم بالصواب

اب جب کہ ہم یہ مان رہے ہیں کہ… نماز زیادہ اہم ہے تو پھر نماز کے لئے زیادہ ایمان کی ضرورت ہو گی یا جہاد کے لئے؟ …اگر آج ہم کسی مسلمان سے کہیں کہ بھائی نماز ادا کرو… وہ جواب دے کہ نہیں جی… میرا تو ایمان ہی نہیں بنا… میں تو کچا مسلمان ہوں پھر میں ایسے کچے ایمان اور اسلام کے ساتھ مسجد میں کیسے جاؤں؟… اللہ تعالیٰ کے سامنے کیسے کھڑا ہوں؟ … میں پہلے ایمان بناؤں گا پھر نماز ادا کروں گا… آپ بتائیے کہ اس آدمی کی بات ٹھیک ہے؟… آپ یہی جواب دیں گے کہ … نہیں جی اس کی بات ٹھیک نہیں ہے… ایمان لانے کے بعد ایمان بنانے کا سب سے ضروری طریقہ یہ ہے کہ… فرائض کی پابندی کرو… نماز ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو، زکوٰۃ دو، حج کرو، جہاد کرو… جب تم فرائض کی پابندی کرتے چلے جاؤ گے تو…تمہارا ایمان بنتا چلا جائے گا… لیکن اگر تم فرائض چھوڑ کر ایمان بنانے کی کوشش کرو گے تو قیامت تک تمہارا ایمان نہیں بنے گا… نماز اور جہاد سے پہلے ایمان لانے کی ضرورت ہے… اب ایمان بنانے کے لئے تمہیں نماز بھی ادا کرنی ہو گی اور جہاد بھی کرنا ہو گا… اور یہ کہنا کہ پہلے ایمان بناؤں گا پھر جہاد کروں گا… پہلے ایمان بناؤں گا پھر نماز ادا کروں گا… یہ بالکل غلط شیطانی وسوسہ ہے جو وہ انسانوں کو گمراہ کرنے کے لئے… ان کے دل میں ڈالتا ہے…

دیکھو! سورہ حجرات میں واضح اعلان ہو رہا ہے کہ:

’’ایمان والے تو صرف وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے، پھر شک میں نہ پڑے اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑے یہی لوگ سچے ہیں ‘‘( الحجرات ۱۵)

امید ہے کہ ان شاء اللہ یہ بات بھی آپ سمجھ گئے ہوں گے …اب آئیے اگلی بات کی طرف…نماز تب فرض ہوتی ہے جب نماز کا وقت داخل ہو جائے… بالکل جہاد بھی اس وقت فرض ہوتا ہے جب جہاد کا وقت آ جائے … مگر یہ کون بتائے گا کہ وقت آیا یا نہیں؟ تو اس میں فطری بات یہ ہے کہ… وقت خود آ جاتا ہے نہ وہ کسی کے اعلان کا محتاج ہے اور نہ کسی کی تصدیق کا… ہر دن صبح صادق خود آ جاتی ہے … ساتھ فجر کی نماز بھی اتر آتی ہے… سورج اللہ تعالیٰ کے حکم سے زوال پذیر ہوتا ہے تو ظہر آ جاتی ہے… اسی طرح جہاد کا وقت بھی خود آ جاتا ہے… کسی کے اعلان یا کسی کی تصدیق کی ضرورت نہیں ہوتی… جہاد کے اوقات خود قرآن مجید نے اور حضور اقدس ﷺ کی احادیث مبارکہ نے طے فرمادئیے ہیں … اور یہ وہ اوقات ہیں جو ہر زمانے میں آتے رہتے ہیں …جس طرح نماز کے اوقات ہر زمانے میں آتے رہتے ہیں… اب کسی نے نماز نہ پڑھنی ہو… اور وہ فوراً اعلان کر دے کہ جی ہم تو حالات کے بھنور میں پھنس گئے ہیں … اور ہم اب بنی اسرائیل سے روشنی پائیں گے… اور بنی اسرائیل کو حکم تھا کہ…اپنے گھروں میں نماز ادا کرو… اور صرف دو نمازیں ادا کیا کرو … ہم چونکہ کچے مسلمان ہیں… مسجد نبوی ہمارے لئے مثال نہیں بن سکتی… اس لئے ہمیں بہت دور، بہت پیچھے جا کر اپنے لئے مثال اور روشنی ڈھونڈنی ہو گی… ہمیں بنی اسرائیل کے دور میں داخل ہو کر ان سے سبق پڑھنا ہو گا… اور بنی اسرائیل کو حکم تھا کہ ’’ وَاجْعَلُوْا بُیُوْتَکُمْ قِبْلَۃً‘ ‘ … کہ اپنے گھروں میں نماز ادا کرو… ہم بھی آج سے ہر نماز گھر میں پڑھا کریں گے… اور بنی اسرائیل کے لئے چونکہ دو نمازوں کا حکم تھا تو ہم بھی پانچ کی جگہ دو نمازیں پڑھا کریں گے … آپ بتائیے کہ یہ بات درست ہے یا غلط؟ … اگر یہ غلط ہے تو پھر جہاد سے جان چھڑانے کے لئے… خود کو بنی اسرائیل کے زمانے میں کیوں لے جایا جا رہا ہے؟… اگر صحابہ کرام سے مثال اور روشنی لینی ہے تو نماز میں بھی لینی ہو گی… اور جہاد میں بھی… اور اگر بنی اسرائیل سے روشنی اور مثال لینی ہے تو… وہ نماز میں بھی لینی ہو گی اور جہاد میں بھی… یہ نہیں ہو سکتا کہ … نماز کے بارے میں تو حضرات صحابہ کرام کو مثال بنایا جائے… اور جہاد کے بارے میں … حضرات صحابہ کرام سے اپنا رشتہ اور تعلق توڑ کر… خود کو بنی اسرائیل کا پیروکار بنا دیا جائے … بات بالکل واضح ہے…حضرات صحابہ کرام کو مثال بنائیں گے تو نماز کا وقت بھی نظر آ جائے گا… اور جہاد کا وقت بھی… مگر چونکہ جہاد مشکل فریضہ ہے… اس لئے لوگ جہاد سے اپنی جان بچانے کے لئے کہہ دیتے ہیں کہ …ابھی جہاد کا وقت نہیں آیا… ان سے پوچھا جائے کہ جہاد کا وقت کب آتا ہے؟…کفر بھی موجود ہے اور اس کا فتنہ بھی… مسلمانوں پر حملے بھی موجود ہیں اور قبضے بھی…شعائر اسلام پر پابندی بھی ہے… اور حرمتوں کی پامالی بھی … اور ان سے پوچھا جائے کہ اگر آپ کے نزدیک جہاد کا وقت کبھی آ بھی گیا تو آپ نے اس کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ جہاد کی تیاری تو ہر وقت اور ہر حال میں فرض اور لازم ہے… امید ہے کہ ان شاء اللہ یہ بات بھی آپ کے دل و دماغ میں سما گئی ہو گی… اب آئیے اگلی بات کی طرف… اوپر جو چند باتیں عرض کی گئیں ان کا مقصد کسی کی تنقیص یا توہین نہیں … بس دل میں یہ درد اور کڑھن ہے کہ…کوئی مسلمان اس حال میں نہ مرے کہ… وہ جہاد فی سبیل اللہ کا منکر ہو… قرآن مجید کی ایک ہزار کے لگ بھگ جہادی آیات کا انکار… حضور اقدس ﷺ کی جہادی سیرت کا انکار… حضور اقدس ﷺ کی ہزاروں جہادی احادیث کا انکار … اسلام کے ان غزوات کا انکار جن پر قرآن مجید نے سورتیں نازل فرمائیں… کیا اللہ تعالیٰ نے اتنی آنکھیں بھی نہیں دیں کہ…مسلمانوں کو وہ تلوار نظر آ جائے جو حضرت آقا مدنی ﷺ نے اپنے ہاتھ مبارک میں اٹھائی اور چلائی… کیا مسلمانوں کی آنکھیں اس خون کو نہیں دیکھ رہیں جو جہاد میں حضرت آقا مدنی ﷺ کے جسم مبارک سے ٹپکا… اگر یہ سب کچھ نظر آ رہا ہے تو بات ہی ختم… آپ ان لوگوں کا کیوں اعتبار کرتے ہیں جو آپ کے آقا حضرت محمد ﷺ کے اس طرز عمل کے…عملی مخالف ہیں… ذرا دل پر ہاتھ رکھیں… اگر اسلحہ اٹھانا ہر حال میں دہشت گردی ہے تو…حضرت آقا مدنی ﷺ نے جو اسلحہ اٹھایا ، جو اسلحہ چلایا، جو اسلحہ سکھایا، جو اسلحہ خریدا، جو اسلحہ سجایا، جو اسلحہ بنایا… اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اے مسلمانو! آپ کے محبوب نبی ﷺ کی ملکیت میں گیارہ تلواریں تھیں… تو وہ لوگ آپ کی کس طرح سے درست رہنمائی کر سکتے ہیں جو دن رات… تلوار اور اسلحہ کے خلاف ذہن سازی کرتے ہیں … اور نعوذ باللہ حضور اقدس ﷺ کے غزوات کوبھی… اپنے لئے مثال نہیں سمجھتے… کیا میرے آقا ﷺ کا جہاد میں نکلنا… بار بار نکلنا اور زخم کھانا… یہ امت کے لئے نہیں تھا؟… کیا یہ امت کے لئے مثال نہیں ہے؟… تو کیا نعوذ باللہ نعوذ باللہ یہ سب کچھ فضول تھا؟… اے مسلمانو! میڈیا، شوبز اور کرکٹ کی بدبو سے باہر نکل کر حضور اقدس ﷺ کے غزوات مبارک کو پڑھو… انہیں غزوات کو اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کے لئے ’’اسوہ حسنہ‘‘ اور بہترین مثال بنایا ہے…

ٹھیک ہے آپ جہاد نہیں کر سکتے تو… اس پر توبہ، استغفار کرو، اللہ تعالیٰ سے مدد اور توفیق مانگو… اور دل میں شرمندگی اور ندامت اختیار کرو… مگر یہ کونسا دین ہے کہ…خود کو کچا مسلمان کہہ کرجہاد کا انکار کرو اور پھر اپنے کارناموں پر فخر بھی کرو… اور خود کو سب سے افضل اور اعلیٰ بھی سمجھو… ہائے کاش ، ہائے کاش، ہائے کاش… کوئی مسلمان قتال فی سبیل اللہ کی فرضیت کا انکار نہ کرے… بس یہی درد ہے، یہی فکر ہے…اور اسی کے لئے یہ چند باتیں لکھی ہیں… یا اللہ! قبول فرما… یا اللہ! ہم سب پر رحم فرما …

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online