Bismillah

659

۳تا۹محرم الحرام۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۴تا۲۰ستمبر۲۰۱۸ء

معارف سید احمد شہید ؒ (قسط:۱)

معارف سید احمد شہید ؒ (قسط:۱

ترتیب و تسہیل : محمد سعد ، محمد سعید

(شمارہ 651)

حمد و ثنا جو بے نیازِ مطلق کی بارگاہ کے شایانِ شان ہے، وہ اُسی کی ذاتِ پاک کے بیان کے سوا کسی کے بیان میں نہیں آ سکتی، اور اس دعوے کی دلیل فخرِ دو عالَمﷺ کے کلام:

لاأحصی ثناء علیک انت کما اثنیت علی نفسک۔

’’آپ کی حمد وثناء گنتی اور احاطے میں نہیں آسکتی، آپ کی ذات اور شان ویسی ہی ہے جیسی خود آپ نے اپنی حمد وثناء بیان کی ہے۔‘‘سے روشن ہے۔

اور ایسا شکر جو اُس کی اَن گنت اور بے شمار نعمتوں کا حق اداء کرے، کسی مخلوق سے نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ خود شکر ایک ایسی نعمت ہے کہ اور کوئی نعمت اس کے ہم پلّہ نہیںاور یہی وجہ ہے کہ اگر تمام ’’عالَمِ خلق و اَمر‘‘ جس کا نام دوسرے لفظوں میں ’’شخصِ اکبر‘‘ ہے، اپنے جیسے ہزاروں جہانوں کو ہمراہ لے کر شکر کے اس میدان کے درمیان نہایت جدو جہد سے دوڑ دھوپ کرے اور پھر نعمائے الٰہی کا پورا شکر بجالانے کا خیال تک اس کے دل میں گزرے تو شرمندگی کے پسینے کے سوا اور کوئی چیز اپنی پیشانی کا زیور نہ دیکھے اور ہزاروں زبان سے اپنی بے زبانی کا اقرار و اعتراف کرکے بندگی کے محکمہ میں اپنے عجز و ناتوانی کا شاہدِ عدل اس فرمانِ واجبُ الاِذعان کو پیش کرے کہ:

{وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ لَا تُحْصُوْھَا} (ابراہیم: ۳۴)

’’اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہوتو ان کا شمار نہیں کرسکو گے۔‘‘

خلاصہ یہ کہ اِس مشتِ خاک سے اُس کے حمد و شکر کا کچھ حصہ اداء نہیں ہو سکتا۔ ہاں مگر جو کچھ اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے حکم فرما دے تو ناچار اِس بے چارہ کا یہی چارہ ہے کہ اپنی قوت و طاقت سے ہاتھ جھاڑ کر اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کے لیے:

{اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ}

کہہ کر کبھی قصور کے گریبان سے سر نہ نکالے اور اُس حاکمِ حقیقی کی وکالت اور وِلایت کے حکم سے جس نے اس ناچیز محض کو خود حمد و شکر کی تعلیم کی، ہمیشہ اِس نعمتِ عظمیٰ کی لذّتِ مذاق، جان میں پہنچاتا رہے اور کلمۂ شہادت:

أَشْھَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

اور کلمۂ تمجید:

سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اللّٰہُ اَکْبَرُ وَ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ۔

کو اپنا ہمدم و ہم نفس اور اپنی جان کا مونس بنائے رکھے۔

اور درود لا محدود صاحبِ مقامِ محمود احمد مجتبٰی، محمد مصطفٰی پر نازل ہو۔ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور سلامتی نازل ہو اُن پر، اُن کی آل پر، اُن کے تمام صحابہ پر، اُن کے ورثاء اور نائبین پراور اُن میں ہمیں شامل فرما کر ہمارے اوپر بھی ۔ اے ارحم الراحمین اپنی رحمت سے قبول فرما۔

اما بعد!

اللہ بزرگ و برتر کی رحمت کا امیدوار، عاجز و ذلیل، بندۂ ضعیف محمد اسماعیل عرض کرتا ہے کہ:

اس کمترین پر اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں ہیں، اور سب سے بڑی نعمت ہادیٔ زمانہ، مُرشدِ یگانہ حضرت سید احمد صاحب کی محفلِ ہدایت منزل میں حاضر ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلما نو ں کو آپ کے دیر تک زندہ رکھنے سے فائدہ پہنچائے، اور آپ کے اَقوال، اَفعال اور اَحوال کے ساتھ سب طالبانِ قربِ الٰہی کو نفع پہنچائے۔

چونکہ یہ عاجز اس مجلسِ عالی میں حاضر ہونے کے وقت کلماتِ ہدایت آیات (ہدایت کی نشاندھی کرنے والے کلمات) کے سننے سے نفع مند ہوا، تو عام مسلمانوں کی نصیحت اور طالبانِ قربِ الٰہی کی خیر خواہی کا یہ تقاضا ہوا کہ غائبین بھی ان فیوضِ الٰہیہ میں حاضرین کے ساتھ شریک ہوں اوراس کا راستہ فقط یہی تھا کہ اُن بلند پرواز مضامین کو تحریر کے پنجرے میں قید کر دیا جائے۔ اگرچہ بحکم:

شنیدہ کے بود مانند دیدہ

حضوراور غَیبت میں بڑا فرق ہے،

 اور حدیث:

اَلشَّاھِدُ یَریٰ مَا لَایَرَاہُ الْغَائِبُ۔

(حاضر ایسے امور کا مشاہدہ کرتا ہے جنہیں غائب شخص نہیں دیکھتا۔)

اِس مدّعا پر شاہدِ عدل ہے، لیکن تاہم مقولہ:

مَا لَایُدْرَکُ کُلُّہٗ لَایُتْرَکُ کُلُّہٗ۔


(جو چیز مکمل حاصل نہ کی جا سکے تو وہ ساری کی ساری چھوڑی بھی نہیں جا سکتی۔)

کوسامنے رکھ کر اِس مقصد کو پورا کرنے کے لیے کمرِ ہمّت کو چُست باندھ لیا اور تہہ دِل بازگشت سے نیت خالص کر کے پوری پوری کوشش کی ۔

اور اس کتاب کی تحریر کے دوران جناب اِفادت مآب، قدوۂ فضلائے زمان، زُبدۂ علمائے دوران مولانا عبد الحی ادام اللہ برکاتہ، جو حضرت سید صاحب کی بارگاہِ عالی کے ملازموں کے سِلک میں منسلک ہیں، کے ہاتھ سے لکھے ہوئے چند اَوراق ملے، جن میں مولانا صاحب نے حضرت سید صاحب سے سُنے ہوئے چند مضامینِ ہدایت آگیں (ہدایت دینے والے مضامین) تحریر کیے تھے، چنانچہ اُن اَوراق کو بے مشقت غنیمت اور حلوائے بے دود سمجھ کر اس کتاب کے دوسرے اور تیسرے باب میں بعینہ درج کر دیا۔

اگرچہ اس کتاب کی تالیف میں مناسب یہی تھا کہ جس طرح اس کتاب کے اکثر مضامین کے تحریر کرنے میں صرف جناب سید صاحب کے فرمائے ہوئے کلمات کے ترجمہ ہی پر اکتفا کیا، اسی طرح تمام کتاب کے مضامین میں یہی طریق اِختیار کیا جاتا، لیکن چونکہ آپ کی ذات والا صفات اِبتدائے فطرت سے رسالت مآب علیہ افضل الصلوۃ و التسلیمات کی کمالِ مشابہت پر پیدا کی گئی تھی، اس لیے آپ کی لوحِ فطرت علومِ رسمیہ کے نقش اور تحریر و تقریر کے دانش مندوں کی راہ و روِش سے خالی تھی۔ چنانچہ ان دقیق مضامین اور اَسرارِ غامضہ کے سمجھنے کے لیے ضروری تھا کہ تمہیدی مقدمات (اور تفہیم کے لیے) مثالیںتحریر کی جائیں، اور سلف متقدمین کی اصطلاحات سے اِ ن مضامین کی مطابقت دِکھائی جائے، کیوں کہ ہمارے زمانے کے لوگ جو علومِ رسمیہ کے عادی ہو گئے ہیں ان کے لیے اس کے بغیر، محض آپ کی زبان برکت نشان سے صادر ہونے والے کلمات کے ترجمہ سے ہی ان مضامین کو سمجھ لینا دشوار تھا۔

اس لیے تفہیم کی غرض سے بعض مقامات میں کسی قدر تقدیم و تاخیر اور بعض جگہ چند مقامات کی تمہید اور تمثیلات تحریر کرنے اور سلف کی اصطلاحات سے تطبیق دینے کی ضرورت پیش آئی، خاص کر قطب المحققین، فخر العرفاء المُکَمِّلین، اَعلَمہم باللہ حضرت شیخ ولی اللہ قدس سرہ کی اصطلاح سے مطابق کرنا زیادہ مناسب معلوم ہوا۔

علاوہ ازیں! اس عاجز نے اس کتاب کے دونوں حصوں کو املاء کے بعد حضرت سید صاحب کے گوش گزار کر دیا تاکہ مقصود، غیر مقصود سے ممتاز ہو جائے اور جو نقصان اس ہیچمداں کی مداخلتِ عقل کے باعث اس کتاب میں آ گیا ہو، آں جناب کی اِصلاح کی وجہ سے اُس نقصان کی تلافی ہو جائے۔

اور اس کتاب کو ایک مقدمہ، چار ابواب، اور ایک خاتمہ پر  مرتب کیا، اور ہر باب کو فصلوں پر اور فصلوں کو ہدایات پر اور ہدایات کو تمہیدات اور اِفادات پر تقسیم کیا۔ مبادی کو لفظِ ’’تمہید‘‘ اور مقاصد کو لفظِ ’’افادہ‘‘ سے شروع کیا۔

وَ مَا تَوْفِیْقِیْ اِلَّا بِاللّٰہِ، عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَ اِلَیْہِ أُنِیْبُ۔

مقدمہ

یہ تین اِفادات پر مشتمل ہے

پہلا افادہ:

شریعت و طریقت کا ثمرہ اور حقیقت و معرفت کی بنیاد :

جاننا چاہئے کہ شریعت و طریقت کا ثمرہ اور حقیقت و معرفت کی بنیاد حضرتِ حق جل و علا کی محبت کو حاصل کرنا ہے۔ چنانچہ: ’’مَنْ کَانَ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ أَحَبُّ اِلَیْہِ مِمَّا سِوَاھُمَا۔‘‘ (ایمانی حلاوت حاصل ہونے کا ایک سبب یہ ہے کہ مومن کو اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول کی محبت باقی ہر چیز کی محبت سے زیادہ ہو) میں اِس حقیقت کی تصریح موجود ہے۔

اور آیت:

{وَالَّذِیْنَ آمَنُوا اَشَدُّ حُبًّا لِلّٰہ}

(ایمان والے اللہ تعالیٰ کی محبت میں مضبوط تر ہیں)

میں اِسی کی طرف اِشارہ ہے۔

حُبّ نفسانی اور حُبّ اِیمانی میں فرق

اگرچہ تمام صوفیائِ کرام اور جمیع طوائفِ اَنام کے نزدیک یہ مسئلہ اِجماعی اور متفق علیہ ہے، لیکن اس مقام میں ایک نہایت باریک نکتہ ہے، جس سے اکثر اہلِ زمان غافل اور چوکے ہوئے ہیں۔

وہ نکتہ یہ ہے کہ ’’حب نفسانی‘‘ جس کو دوسرے لفظوں میں لقب عشق سے نامزد کرتے ہیں اور’’حُبّ اِیمانی‘‘جو ’’حب عقلی‘‘ سے مشہور ہے، اِن دونوں میں فرق کیا جائے، کیوں کہ پہلی قسم مبادیٔ سلوک کی واردات میں سے ہے اور دوسری قسم انبیائے کرام کے کمالات اور اولیائے عظام کے مقامات میں سے ہے۔ اکثر عوام صوفیاء قسمِ اول کو دوسری قسم کے قائم مقام رکھ کر اور اُسی کو اِشاراتِ شرعیہ کا مصداق سمجھ کر انبیاء اور اولیاء کی سیر کو اہلِ عشق و وَجد کے اَحوال سے تطبیق دینے میں ناحق کی سَردَردی اُٹھاتے ہیں، حالانکہ اُن بزرگواروں کی ’’سیر‘‘ کو اِن سالکوں کی واردات سے کسی طرح کی مطابقت نہیں۔

عشق کیا ہے؟

اس اِجمال کی تفصیل یہ ہے کہ عشق اُس گھبراہٹ اور بے قراری کا نام ہے جو مقصود کے دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اِنسان کے باطن میں پیدا ہوتی ہے، اور وہاں سے تمام قوائے باطنہ میں سِرایت کر جاتی ہے۔ اس کیفیت کا انجام اور اس کی انتہاء اُس مقصود کا پالینا اور اس محبوب کا وصال ہے۔

اولاً اِس کیفیت کا موقع ’’قلب‘‘ ہے، جو تمام کیفیاتِ نفسانیہ کا ٹھکانہ ہے۔ ثانیاً تمام قوائے باطنہ اور ثالثاًاس کا انتہائی درجہ طالب کا مطلوب کوحاصل کرنے میں اپنے آپ سے غائب اور مضمحل ہو جانا ہے۔ پھر جب یہ غایت مرتب ہو جاتی ہے تو اُس بے قراری اور پریشانی کی شورش ختم ہو جاتی ہے اور وہ کیفیت جو عشق (کے نام) سے نامزد ہے، زائل ہو جاتی ہے۔ 

حُبّ عقلی کیا ہے؟

اور حُبِّ عقلی سے یہ مراد ہے کہ طالب کے دل میں اُس چیز کی طلب کا اِرادہ جوش مارتا ہے، جس کی طرف سے حاصل ہونے والے فوائد اور منافع دیکھ کر اس نے خود کو اُس کا محتاج سمجھا، اور پھر اُس جذبہ نے اس کے لیے راستے کی مشقتیں جھیلنا آسان کر دیا، اور اسی لیے اُس طلب میں کمرِ ہمّت چُست باندھ کر جو حیلہ اور جو تدبیر اپنی فکر کے خزانے میں رکھتا تھا، سب کچھ اُس کی طلب میں خرچ کر ڈالا اور بغیر کسی مجبوری کے اپنے اختیار سے اپنا سب سروسامان چھوڑ دیا۔

اِس محبت (محبت عقلی، محبت ایمانی) کے واقع ہونے کی جگہ اولاً تو عقل ہے، جو معلومات کا خزانہ ہے۔ پھر ثانیاً تمام قوائے باطنہ میں بھی یہی اِرادہ اَثر کر جاتا ہے، جیسے پانی درخت کی جڑ سے اُس کے پتوں اور پھول پھل تک سرایت کر جاتا ہے۔ الغرض عقل میں کیا کیا فکر اور کیسی کیسی تجویزیں اُس (مطلوب) کے حاصل کرنے کے لیے درست کرتا ہے اور دل میں کیا کیا ہمتیں اور کیا کیا ارادے اُس کی طلب کے لیے برانگیختہ کرتا ہے اور اُس مطلوب کے راستہ پر چلنے کے لیے اپنے جوارح (اور اعضاء) پر کیسی کیسی مشقتوں کا سامنا اور کیسے کیسے مالوفات (اور مرغوبات) کا ترک کرنا اپنے اوپر گوارا کرتا ہے!!

محبت عشقی اور محبت عقلی میں چار فرق:

 پھر جس طرح پہلی حُبّ (محبتِ عشقی) کا نتیجہ علم کا فنا ہونا ہے، یعنی ماسوا محبوب سے حتیٰ کہ اپنے نفس سے بھی غافل اور بے خبر ہو جانا، اسی طرح دوسری حُبّ (محبت عقلی) کا ثمرہ فنائے ہمت ہے، یعنی جو بات کہتا ہے محبوب ہی کہتا ہے اور جو کچھ سنتا ہے اُسی کی طرف سے سنتا ہے اور جس نظر و فکر کا نتیجہ محبوب کے حاصل کرنے اور اس کے راستہ پر چلنے کے سوا کچھ اور ہو وہ اس کے نزدیک اُس قسم کے وساوس میں سے ہے جن کا اعتبار کچھ نہیں ہوتا اور جو محبت اور عداوت اور پسند اور ناپسند کہ محبوب اور اُس کے طریق کے مناسب اور مخالف کے ساتھ نہ ہو، اُس کے لیے ناقابل التفات عوارض میں شمار ہوتے ہیں۔ الغرض تحصیلِ مطلوب اور اُس کے راستے کی درستگی کا خیال طالب کے ظاہر اور باطن کو اپنی حکمرانی اور فرماں روائی کے نیچے دبا لیتا ہے۔ برخلاف پہلی حُبّ کے کہ اس میں محب کے تمام باطن کا حُب سے پُر ہو جانا اُس محبت کے تحقق اور پائے جانے کے لیے شرط نہیں، کیونکہ بسا اوقات ایک چیز کا عشق اُس کے بغضِ عقلی کے ساتھ جمع ہو سکتا ہے، خاص کر جبکہ حبِ عقلی اور حُبِ عشقی میں تعارض ہو تو اس وقت تو یہ اِجتماع ضدین ضرور لازم آ جاتا ہے، مثلاً ایک نوجوان دیندار، والدین سے نیک سلوک کرنے والے کو کسی عورت یا کسی بے ریش لڑکے کا عشق لگ جاتا ہے۔ اور چونکہ شارع یا اُس کے والدین جو اس کے نزدیک حبّ عقلی سے محبوب ہیں، اِس امر سے روکتے ہیں، تو ناچار وہ سعادت مند دِل کی تہ سے اُس معشوق کو بلکہ اُس کے عشق کو مکروہ اور مبغوض رکھتا ہے، اگرچہ اپنی طبیعت کی رو سے اُس کا مغلوب ہی ہو جاوے۔ لیکن دوسری حُب چونکہ اس کا ٹھکانۂ اصلی عقل ہے اور وہاں سے اس کے لشکروں نے قوائے طبیعہ پر چڑھائی کی ہے (اس لیے وہ محبت) محب کے تمام باطن کو مسخر کر لیتی ہے اور کسی طرح معارضہ (و مقابلہ) کی اس میں گنجائش نہیں رہتی، اور جس طرح کہ پہلی حُب، محبوب کے پا لینے کے بعد زائل ہو جاتی ہے اور اس کی سوزش اور (بھڑک) فرو ہو جاتی ہے، اسی طرح دوسری حُبّ محبوب کے وصال کے بعد بھی مزید ترقی میں قدم رکھتی ہے اور پہلے سے ہزار گنا بڑھ جاتی ہے اور اس قدر وسعت اور کشادگی پکڑتی ہے کہ ہرگز ایسی وسعت اور قوت ہجر (اور جدائی) میں متصور نہیں۔ کیونکہ پہلی حُب کا مبنیٰ (اور منشا) محبوب کا نہ پانا تھا اور ہجر (فراق) اُس کی شرط تھی (اور قاعدہ کی بات ہے) کہ اذا فات الشرط فات المشروط۔ یعنی جب شرط ختم ہو جائے تو مشروط چیز بھی ختم ہو جاتی ہے۔ اور حُبّ ثانی کا منشا محبوب کے منافع اور فوائد کا علم اور اس کے کمالات کا جاننا اور اس کی طرف اپنی محتاجی کو سمجھنا تھا اور یہ باتیں وصال میں واضح تر ہو جاتی ہیں، کیوں کہ علم الیقین، عین الیقین سے بدل جاتا ہے اوراِجمال کی شرح تفصیل کے ساتھ ہو جاتی ہے۔

مثلاً پیاسے کو جب پیاس لگتی ہے یعنی معدہ میں حرارت جوش مارتی ہے اور سینہ میں سوزش اور لب پر خشکی ظاہر ہوتی ہے،  اُس وقت اُس کو پانی کا عشق ہو جاتا ہے، یعنی طبیعت کی تہہ سے اسے پانی کی طرف میلان ہو جاتا ہے اور اُس کے نہ پانے کی وجہ سے بے قراری اور گھبراہٹ عارض ہوتی ہے، اگرچہ کسی سے اُس نے یہ نہ سنا ہو کہ پانی پیاس بجھا دیتا ہے۔ (تاہم اُس کو پانی کا اشتیاق غالب ہو جاتا ہے) اگرچہ کسی جسمانی یا نفسانی ضرر کے اندیشہ سے عقل پانی کے استعمال سے روک بھی رہی ہو اور جب عین پیاس کی شدت میں اسے میٹھا پانی مل جاوے اور پی کر اُس سے سیراب ہو لے اور رونگٹے رونگٹے میں اُس کی سیرابی سرایت کر جاوے، اُس وقت اُس شخص پر ایک ایسی حالت وارد ہوتی ہے کہ اگر اُسے تعبیر کریں تو یہی کہہ سکتے ہیں کہ ماسوائے پانی سے نسیان اور فراموشی حاصل ہو گئی ہے، بلکہ بسا اوقات سکر اور نشہ کی طرح خمار سا طاری ہو جاتا ہے اور اس وجہ سے تھوڑی سی دیر کے لیے بے خودی میسر ہو جاتی ہے اور وہ پیاس کی حالت بالکل زائل ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس اہل زراعت اور کسانوں کو پانی سے حُبّ عقلی ہے، کیوں کہ وہ پانی کے طلبگار اور خواہش مند اس لیے رہتے ہیں کہ وہ یقیناً جانتے ہیں کہ ان کی کھیتیاں اور چراگاہ اور باغ باغیچے، جو ان کی عیش و معاش کا سرمایہ اور زندگی کا مدار ہیں، پانی کے بغیر کسی صورت سرسبز نہیں ہو سکتے۔ غرضیکہ پانی کی طرف اپنی کمالِ حاجت اور پھلوں اور غلوں میں پانی کی نہایت منفعت سمجھ کر اُس کی طلب کا خیال اُن کی عقل سے اٹھتا ہے اور اُن کی تمام ہمت کو پانی کی طلب میں مصروف کر دیتا ہے، تو پھر کیا کیا دعائیں اور زاریاں پانی کی طلب میں اُن سے صادر ہوتی ہیں اور کیا کیا حیلے اور تدبیریں اور چرسوں (چمڑے سے بناپانی کا بڑا ڈول) کے مرتب کرنے میں ان سے ظاہر ہوتی ہیں اور کیا کیا محنتیں اور مشقتیں کنوؤں اور نہروں کے کھودنے اور حوضوں کے درست کرنے میں رات دن میں کسانوں پر اور ان کے جانوروں پر گزرتی ہیں اور یہ لوگ ان تمام دشواریوں کو اپنا کمال اور فخر سمجھ کر ان امور اور ان جیسی دشواریوں میں ہمہ تن مصروف ہو کر اُن کے حاصل کرنے میں ایسی سرگرمی اور چالاکی دِکھلاتے ہیں جس میں کسی طرح سے سستی اور کوتاہی کو دخل نہیں ہوتا اور کبھی اس قوم کا کوئی فرد اِن کاموں میں پست ہمت ہو جاوے تو دوسرے کسان اس پر طعن کرتے ہیں اور اسے کم عقلی اور بے ہمتی کی طرف منسوب کرتے ہیں، اور پھر جتنا پانی انہیں حاصل ہوتا ہے اس کے منافع اور فوائد پر عین الیقین سے اطلاع پا کر اپنی تمام کوشش اور سعی کی جو جو مشقتیں اُس کی طلب میں اُٹھائی تھیں سب کو بجا اور برمحل سمجھتے ہیں اور اپنی اس محنت پرخوش حال اور شکر گزار ہوتے ہیں اور مشقتوں کے اٹھانے میں زیادہ چست ہو جاتے ہیں۔

جب یہ مقدمہ ذہن نشین ہو گیا تو جاننا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض خاص بندوں کو جن کی قسمت میں سعادت ازلی تھی، برگزیدہ و منتخب کر کے محض اپنی عنایت و مہربانی سے اپنی محبت کی دو قسموں میں سے ایک یا دونوں کی طرف ہدایت کر کے اس سعادتِ دوجہانی کے سرمایہ کی توفیق دیتا ہے اور اس کے ثمرات و نتائج عطاء فرما کر اسے فخر و امتیاز بخشتا ہے۔ وَ ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ۔ 

اور محبت کی ان دونوں قسموں کے لیے کئی اسباب اور انہیں قوت پہنچانے والی چیزیں اور کئی آثار اور ثمرات ہیں، جو اسی نوع کے ساتھ خصوصیت رکھتے ہیں اور چونکہ طالب راہِ حق محبت کی دونوں قسموں میں سے ہر ایک کو دوسری قسم سے انہی اُمور کی بدولت پہچانتا ہے اس لیے ان ’’اُمورِ اَربعہ‘‘ کا نام رکھا گیا: وجوہ التمایز فیما بین النوعین۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online