Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

جواہرِ جہاد (قسط۸۲)

جواہرِ جہاد (قسط۸۲)

از: امیر المجاہدین حضرت اقدس مولانا محمد مسعود ازہر صاحب دامت برکاتہم العالیہ

(شمارہ 663)

جہاد کا ترقی یافتہ انداز

ان دنوں اسلام کی بہار فلسطین کی سرزمین پر مہربان ہے۔ غلامی کے شکنجے میں جکڑی ہوئی مظلوم فلسطینی قوم کی تیسری نسل میں ’’قرون الیٰ کے مجاہدین‘‘ کی جھلک صاف نظر آرہی ہے۔ بے شک ان دنوں فلسطین میں اسلامی عظمتیں بہت عرصے بعد پھر مسکرا رہی ہیں اور یہودیت کے ہاتھ پائوں ایک بار پھر پھول رہے ہیں۔ بندوق بردار مجاہدین سے لڑنا یہودیوں نے سیکھ لیا تھا، لیکن جب ایک مسلمان خود بم بن کر پھٹتا ہے تو یہودیت کو اپنا مستقبل تاریک نظر آنے لگتا ہے جہاد کے اس عالی شان طریقے کا علاج نہ تو اسرائیل کے پاس ہے اور انہ اس کے طاقتور سرپرستوں کے پاس۔ سب ششدر ہیں اور اس بات پر حیران ہیں کہ مسلمان مائیں اپنی کوکھ سے کیسے عجیب لوگوں کو جنم دیتی ہیں۔ بیس بائیس سال کا نوجوان، مضبوط جسم، خوبصورت خدوخال اس کے باوجود نہ شادی کی خواہش نہ شراب کی، نہ میوزک پر ناچنے کا شوق اور نہ فلمیں دیکھ کر دل کا لاکرنے کا، یہ نوجوان جسم سے بم باندھتا ہے، دو رکعت نماز پڑھ کر کامیابی کی دعاء مانگتا ہے۔ جی ہاں! عجیب کامیابی کی پھر عشق ووفا کی مستی میں جھومتا ہوا، اسلام کی عظمت کے خواب آنکھوں میں سجاتا ہوا، زیر لب ذکر کرکے وصال کے شوق میں مسکراتا، اشداء علی الکفار کی بجلی سینے میں لئے یہودی ریستوران میں گھستا ہے آخری بار اس دنیا میں کلمہ پڑھتا ہے اور بٹن دبا کر اسلامی تاریخ کا چمکتا ستارہ بن جاتا ہے۔ وہ ستارہ جس کے ذریعے مستقبل میں منزل کا پتا لگایا جائے گا۔ کروڑ آفرین ایسی خوبصورت جوانی پر، لاکھوں تحسین ایمان کی اس پختگی پر، مجھے سمجھ نہیں آتا کہ میں ان نوجوانوں کے لئے کتنی دعاء کروں، کتنے دامن پھیلائوں، ان کی تعریف میں کتنے صفحے لکھوں اور ان پروانوں کے لئے کتنی دعائیں مانگوں۔ بے شک اسلام سچا ہے تب ہی تو اس کے ماننے والے اس زمانے میں بھی پروانوں کی طرح اس پر نچھاور ہورہے ہیں اور ان کے پیچھے ایسے دیوانوں کی ایک لمبی قطار لگی ہوئی ہے۔

مجاہدین کی طرف سے جنگ کا یہ انداز اسلام کے اس عروج کی طرف اشارہ کررہا ہے جو آخری زمانہ میں اس کا مقدر ہے۔ یہودیوں کا خونخوار لیڈر ایریل  شیرون سخت پریشان ہے، اس نے سوچا تھا کہ میں بربریت کے ہاتھوں انتفاضہ کو کچل دوں گا۔ امریکا سے لے کر اسرائیل تک کے یہودی اس خونخوار لیڈر کو بہت نازوں اور ارمانوں سے لائے تھے لیکن اس کا آنا مسلمانوں میں بیداری کا ذریعہ بنا۔ بے شک کفر کا جب بھی کوئی بڑا فرد میدان میں آتا ہے تو امت محمدیہ بھی اپنے خاص جگر گوشوں کو اُس کے مقابلے کے لئے کھڑاکردیتی ہے اور تو اور جب کفر کا نقطہ عروج بصورت دجال آئے گا تو امت محمدیہ اس کے مقابلے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی رضی اللہ عنہ کو لے کر آئے گا۔ بے شک ہماری امت ایک زندہ وتابندہ اُمت ہے اور جہاد نے ہر حال میں جاری رہنا ہے۔

ایریل شیرون ہو یا دجال، عبداللہ بن ابی ہو یا انور سادات، کمال اتر ترک ہو یا یاسر عرفات، کافروں اور منافقوں کے یہ نامور لوگ جہاد کو بند نہیں کراسکے اور نہ کراسکیں گے، بلکہ کفر جب بھی نفاق کا نقاب اتار کر اپنے اصلی روپ میں آتا ہے تو پھر امت محمدیہ کی مائیں خالص مجاہد جنتی ہیں۔

بھارت میں کانگریس کے بعد جب بی جے پی کا کھلا کفر آیا تو اُمت محمدیہ نے ابو حذیفہ، طلحہ، پاملا، بلال اور آفاق پیدا کئے اور جہادِ ہند نے ایک نئی شکل اختیار کی۔ اس طرح فلسطین میں جوں جوں سخت گیر یہودی آتے جارہے ہیں تحریک انتفاضہ اتنی خالص ہوتی جارہی ہے اور اب وہ اپنے اس نقطۂ عروج تک پہنچ چکی ہے جہاں کافروں کے لئے میدان میں ڈٹے رہنا ممکن ہی نہیں رہا۔یہ صفحات گواہ رہیں گے کہ اگر اس طرح کے فدائی حملے جاری رہے تو پھر مذاکرات کا مردار دستر خوان سجایا جائے گا اور ساری دنیا کے طاقتور ممالک بات چیت بات چیت کی رٹ لگائیں گے۔ یہ بات اب کسی سے مخفی نہیں رہی کہ اسلام دشمن عناصر کسی بھی مسلمان کو برداشت نہیں کرتے۔ وہ مسلمان خواہ مجاہد ہو، یا سیاستدان، مسلح ہو یا نہتا، جنگ کی بات کرتا ہو یا مذاکرات کی، لیکن جب مجاہدین کی یلغار کافروں کو بے بس کردیتی ہے تو وہ ان مسلمانوں کو غنیمت سمجھنے لگتے ہیں، جو جہاد وجنگ کی بات نہیں کرتے بلکہ سیاست اور مذاکرات کا نعرہ لگاتے ہیں۔ تب کافروں کی طرف ان لوگوں کو خوب نوازا جاتا ہے اور انہیں قوم کا ہیرو بنایا جاتا ہے تاکہ قوم مجاہدین کی ہمنوا نہ بن جائے، کافروں کا ان مسلمانوں کو نوازنا اسلام کی محبت میں نہیں ہوتا بلکہ وہ مجاہدین کے خوف اسے ایسا کرتے ہیں اس بات کو سمجھنے کے لئے زیادہ دور جانے کی ضروت نہیں ہے فلسطین ہی کو لے لیجئے کچھ عرصہ پہلے جب مجاہدین کی تحریک زور پکڑ گئی تو یہودیوں نے یاسر عرفات کو غنیمت جانا اور اسے ایک نام نہاد حکومت بنانے کی اجازت دے دی۔ کچھ دن بعد یہودیوں کو احساس ہوا  انہیں یاسر عرفات کی ضرورت نہیں رہی تو انہوں نے اس کے دفاتر اور رفقاء کو نشانہ بنانا شروع کردیا۔ اب جب کہ مجاہدین کی کاروائیاں پھر یہودیت کے بت کو لرزا رہی ہیں یاسرعرفات ایک بار پھر آنکھوں کا تارا بننے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کو ہدایت عطاء فرمائے اور اسے بھی ان نوجوانوں کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے جنہیں حقیقی معنوں میں القدس کا بیٹا اور امت مسلمہ کا قابل فخر سرمایہ کہا جاسکتا ہے… اللہ کرے جہاد کا یہ نیا انداز اپنا دامن وہاں تک پھیلالے جہاں سے یہودیت کا ناسور پھوٹ رہا ہے اور ساری دنیا کو گندا کررہا ہے… جہاد کا یہ انداز اس وقت اُمت مسلمہ کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے، اور ہمیں امید ہے کہ ان شاء اللہ عنقریب دنیا کے بہت سارے ظالم ملکوں کو جہاد کا یہ ترقی یافتہ انداز گھٹنے ٹیکنے اور مسلم مقبوضات خالی کرنے پر مجبور کردے گا۔

(سراغ حقیقت)

ختمِ نبوت اور جہاد

ایک بار پھر ایمان والوں کو آزمایا گیا ہے تاکہ کھوٹے اور کھرے کی شناخت ہوجائے، جو سچے اور کھرے ہیں وہ ہر آزمائش کے بعد اور زیادہ مضبوط ہوجاتے ہیں اور ان کے دل کا اطمینان بڑھ جاتا ہے… بلکہ آزمائش کی ہر آنچ انہیں پختگی دیتی ہے اور کندن بناتی ہے… لیکن جو ایمان کے کناروں پر کھڑے ہوکر عبادت کرتے ہیں اور ان کی ہر نیکی اور عبادت کا مقصد دنیا میں کچھ پانا ہوتا ہے… وہ آزمائش کے وقت بدک جاتے ہیں اور ان کے جذبے حکمرانوں کی پھری ہوئی نگاہیں دیکھ کر سرد پڑ جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے ہاں دین کا کام اس وقت تک جائز ہوتا ہے جب تک اپنے اوپر کوئی آنچ نہ آئے، وہ امن اور نصرت کے زمانے میں بڑھ چڑھ کر کام کرتے ہیں لیکن جیسے ہی انہیں کسی خوف یا خطرے کا احساس ہوتا ہے تو وہ دین کے کام سے عموماً اور جہاد کے کام سے خصوصاً اس طرح بدک جاتے ہیں جس طرح مومن کفر سے اور کافر ایمان سے بدکتا ہے، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کا نام لیتے ہیں لیکن رسم وفا نہیں نبھاتے۔ یہ لوگ اس نبی کا کلمہ پڑھتے ہیں جن کی ساری زندگی جہدو جہاد میں گزری ہے، یہ لوگ وہ کلمہ پڑھتے ہیں جس کو دل سے پڑھنے والے ضرور آزمائے جاتے ہیں، یہ لوگ اس قرآن کو مانتے ہیں جو جنت کی تکلیفوں اور آزمائشوں کے ساتھ مشروط کرتا ہے… اس کے باوجود وہ جلد ڈر جاتے ہیں، تھوڑی سی پریشانی دیکھ کر گھبرا جاتے ہیں… اور استقامت کی بجائے فرار کا راستہ اختیار کرتے ہیں… سمجھ نہیں آتی کہ ان لوگوں کو کیا کہا جائے اور کس طرح سے سمجھایا جائے؟ یہ لوگ کیوں نہیں سوچتے کہ جو ایمان اور جہاد حکمرانوں کی تھوڑی سی بدلتی ہوئی آنکھیں دیکھ کر خطرے میں پڑ جاتا ہے وہ موت کے جھٹکے اور زلزلے کے وقت کیا کام دے گا؟ وہ قبر کے خوفناک عذاب سے کس طرح بچائے گا؟ وہ آخرت کے دہشت ناک دن کس طرح سے تھامے گا؟ ایک نظر اپنے ماضی پر ڈالئیے اور پھرتا حد نگاہ پھیلے ہوئے قبرستانوں کو دیکھئے، ماضی میں بھی دونوں طرح کے لوگ موجود تھے، آزمائشیں سہ کردین پر قائم رہنے والے بھی اور تھوڑا سا خطرہ دیکھ کر دین سے بھاگنے والے بھی، آج ان میں سے کوئی بھی ہماری دنیا میں زندہ نہیں ہے، قبرستان بتارہے ہیں کہ وہ سارے اپنے اپنے وقت پر دنیا کو چھوڑ کر قبروں میں جا سوئے، معلوم ہوا کہ دین کا کام چھوڑ کر جان بچانے والے اپنی جان نہیں بچا سکے اور اپنی عمر کا ایک دن تو کی ایک منٹ بھی بڑھا سکے، یہ لوگ اپنی جان بچاتے بچاتے، کانپتے ہوئے مرگئے، تاریخ انہیں بزدل لکھتی ہے، کوئی ان کے ساتھ اپنا نام ونسب جوڑنے کے لئے تیار نہیں ہے، وہ دنیا جس میں زیادہ جینے اور زیادہ پانے کے لئے انہوں نے دین کو چھوڑا تھا ان کے کسی کام نہ آئی بلکہ اس دنیا سے ان کا نام ونشان ہی مٹ گیا… اور اگلی دنیا جہاں وہ گئے ہیں وہاں کے لئے انہوں نے نہ کبھی سوچا تھا اور نہ کچھ کیا تھا، چنانچہ یہاں خوف اور بزدلی اور وہاں محرومی اور تہی دستی ان کے ہاتھ لگی۔ آج کوئی نہیں کہتا کہ میںمیر جعفر کے خاندان سے ہوں، میر صادق صاحب ہمارے بزرگ تھے، عبداللہ بن ابی ہمارے آئیڈیل ہیں۔ حالانکہ یہ لوگ اپنے دور کے ذہین تر ین لوگ اور مصلحتوں اور وقت کی نزاکتوں کو سمجھنے والے افراد تھے۔ انہوں نے اس دنیا کی خاطر دین کو چھوڑا لیکن یہاں بھی ذلیل ہوئے اور وہاں کے لئے بھی سوائے حسرتوں کے اور کچھ نہ لے جاسکے۔ان کے برعکس جو لوگ نہیں دبے، حالات کے آگے نہیں جھکے، آزمائشوں کی سختی کو دیکھ کر دین کے کام سے نہیں بھاگے… ظاہری طور پر وہ بھی آج دنیا میں نہیں ہیں لیکن درحقیقت وہ زندہ ہیں ان کے نام اور ان کے کام کو سن کر لوگ ہمت پاتے ہی اور جرأت کا سبق سیکھتے ہیں۔

ان لوگوں نے دنیا میں تھوڑی بہت تکلیفیں جھیلیں، پابندیاں اور سختیاں ضرور دیکھیں لیکن انہیں رب کی خاطر ان سب چیزوں میں راحت محسوس ہوتی رہی وہ اس دنیا کو بھلا کر آخرت کے لئے سب کچھ کرتے تھے اس لیے اس دنیا کے رنج اور تکلیفیں ان پر اثر انداز نہیں ہوتی تھیں… اپنی نئی نویلی، خوبصورت اور باوفا دلہن کی طرف سفر کرنے والے دولہا کو اگر ریل گاڑی میں گرمی محسوس ہو اور پسینہ آجائے تب بھی تھوڑی دیر بعد ملنے والے وصال کی لذت اس کے لئے اس گرمی اور پسینے کو محبوب بنادیتی ہے… یہی حال مومن کا ہے اسے دین کی خاطر جتنی بھی تکلیفیں اس دنیا میں ملتی ہیں آخرت میں اللہ تعالیٰ کے قرب لذت اور اس کی نعمتوں کو پانے کا لطیف احساس ان کے لئے ان تکلیفوں کو مزیدار بنادیتا ہے… پھر تھوڑا سا غور کیجئے، بزدلی، خود کتنی بڑی تکلیف ہے، ہر کسی سے ڈرنا، ہر آواز پر خوف کھانا، ہر آن اور ہر گھڑی مرنا اور ساری زندگی امن اور عافیت کی خاطر ایک ایک کی چاپلوسی کرنا خود کتنا درد ناک عذاب ہے، لیکن زیادہ جینے کے شوق میں اس عذاب کو خوشی کے ساتھ برداشت کیا جاتا ہے… جب ایک بزدل شخص زندگی کی چند سانسوں کی خاطر (جو کبھی نہیں بڑھتیں) یہ ساری تکلیفیں سہہ لیتا ہے اور پھر اللہ کے نیک بندے آخرت کی دائمی زندگی کی خاطر دنیا کی تکلیفوں کو کیوں برداشت نہیں کریں گے… ماضی کے اولو العزم لوگوں نے دین اور جہاد کی خاطر ہر آزمائش کو برداشت کیا، ہر جابر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور ہر تکلیف کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا ان لوگوں نے اللہ کے ہاں سے زندگی اور روزی کو پالیا اور دنیا میں بھی انہوں نے اپنی مقدر کی زندگی اور اپنے مقدر کی روزی کو حاصل کیا ماضی کی یہ سچی داستانیں، وسیع وعریض قبرستان کی خاموش زبانیں اور انسانوں کے عروج وزوال کی انمٹ حکایتیں ہمارے سامنے ہیں۔ آج زمین پر ہم لوگوں کو امتحان کے لئے اتارا گیا ہے… ہمارا ہر کام لکھا جاتا ہے، ہماری ہر بات کو سنا جاتا ہے، ہماری تاریخ مرتب ہورہی ہے اور ہمارا امتحانی پرچہ بھی بھرا جارہا ہے، ہمارا حال تیزی سے ماضی بنتا جارہا ہے اور مستقبل کا غار ہمیں نگل کر دوسروں کو موقع دینے کی تاک میں ہے۔ ہم اگر دین کے ساتھ کھیل کرتے رہے پھر ہمیں تماشہ بننے سے کوئی نہیں بچا سکے گا اور ہم مصلحت کا ٹوکرا اپنے سر پر اٹھا کر بالآخر تھک جائیں گے اور قبر کا گڑھا ہمیں اندھیروں میں دھکیل دے گا لیکن اس کے برعکس اگر ہم حکمرانوں، حکومتوں اور حالات کو اللہ تعالیٰ کی مخلوق سمجھیں اور اس مخلوق کے سامنے سر جھکانے کی بجائے اپنے خالق کے ساتھ اپنی محبت اور وفا داری کو پختہ کریں اور ہر طرح کے حالات میں ہم جہاد جیسے مقدس فریضے سے جڑے رہیں تو پھر ہمارا حال ہمیں ماضی سے جوڑ کر ہمارے مستقبل کو ہمارے لئے راحت گاہ بنادے گا۔ ایسی راحت گاہ جہاں نہ کوئی دکھ ہوگا نہ رنج نہ کوئی ظالم ہوگا نہ ظلم، نہ بے انصافی ہوگی نہ محرومی… راستہ ہمارے سامنے ہے اور بالکل واضح ہے، دنیا کی کوشش ہے کہ مجاہدین کو ستا کر باعزت لوگوں کو ڈرا دیا جائے اور وہ مرزا قادیانی کی طرح جہاد سے دور بھاگنے لگیں اور اس سے نفرت کرنے لگیں، تاجروں کوخوفزدہ کردیا جائے کہ وہ جہاد کے ساتھ تعاون بند کرکے ایک فریضے میں جزوی شرکت سے بھی محروم ہوجائیں۔ دینی اداروں کو پریشان کردیا جائے تاکہ مسجد، مدرسہ اور خانقاہ کا دروازہ مجاہدین کو اچھوت سمجھنے لگے اور وہ انہیں اپنے دینی کاموں کے لئے بطور خطرہ دیکھنے لگیں، سفید پوش طبقے کو ہراساں کیا جائے تاکہ گلیوں اور بازاروں میں مجاہدین کی بڑھتی ہوئی مقبولیت محدود ہوجائے۔ یوں جہاد سمٹ جائے گا، تکبیر وقتال کے نعرے ماند پڑ جائیں گے، جہادی فضاء خوف کی بادِ صر صر کا شکار ہوکر دم توڑ بیٹھے گی۔ تب کافرخوش ہوںگے اور اس ملک پر انعامات کی بارشیں برسادیں گے۔

یہ سازش کئی لوگوں کے ذہنوں میں ہے لیکن سچ یہ ہے کہ یہ سازشیں ذہنوں میں ہی رہیں گی… ان شاء اللہ! زمین پر کامیاب ہوتی نظر نہیں آئیں گی… جو مسلمان جو اللہ تعالیٰ کو اپنا رب مانتا ہے، حضور اکرمﷺ کو نبی اور اسلام کو اپنا دین مانتا ہے وہ جہاد سے کس طرح بیگانہ ہوسکتا ہے، جہاد کا حکم رب نے دیا نبی نے اسے کرکے دکھایا… قرآن نے اس کے اصول سمجھائے، حدیث میں اس کے لئے ترغیبی مضامین موجود ہیں… کیا ان حالات میں مسلمانوں کو جہاد سے کاٹا جاسکتا ہے؟ میں نہیں سمجھتا کہ ایسا ہوسکتا ہے، یہ اُمت حضور اکرمﷺ کو مانتی ہے، مرزا قادیانی کو نہیں اور حضور اکرمﷺ نے درجنوں بار خود جہاد فرمایا ہے اور سینکڑوں بار اس فریضے کی طرف امت مسلمہ کو دعوت دی ہے… کیا ختم نبوت کا اقرار کرنے والا کوئی بھی مسلمان کسی بھی خوف یا لالچ کی وجہ سے جہاد سے دور ہوسکتا ہے؟ نہیں ہرگز نہیں بلکہ ختم نبوت کا عقیدہ جہاد کا اور جہاد کا نظریہ ختم نبوت کا محافظ ہے اور یہ دونوں قیامت تک زندہ وتابندہ رہنے والے نظریات ہیں۔ اسلام نہ تو ختم نبوت کے بغیر مکمل ہے اور نہ جہاد کے بغیر… ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے اور جہاد اسلام کا اہم ترین فریضہ ہے اس لیے کافروں کو ہمیشہ ختم نبوت اور جہاد دونوں سے چڑ رہی ہے اور انہوں نے جب بھی کسی جھوٹے نبی کو کھڑا کیا ہے، اس نے سب سے پہلے جہاد ہی کا انکار کیا ہے… کیونکہ وہ جانتا ہے کہ صرف جہاد ہی کے ذریعے اس کا اور اس کے ناجائز نظریاتی ذریت کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے… دوسری طرف عقیدہ ختم نبوت جہاد کو اس طرح سے تحفظ فراہم کرتا ہے کہ حضور اکرمﷺ خود جہاد فرماتے، لشکروں کو روانہ کرتے اور جہاد کے قیامت تک جاری رہنے کا اعلان فرماتے ہوئے اس دنیا سے تشریف لے گئے… اب حضور اکرمﷺ کی بات کو کون بدل سکتا ہے؟اگر کسی نبی کے آنے کا امکان ہوتا تو وہ اس حکم کو بدل سکتا تھا لیکن عقیدہ ختم نبوت بتاتا ہے کہ حضور اکرمﷺ کے بعد نبی کی حیثیت سے کوئی شخص کسی بھی نام یا کسی بھی تاویل (ظلی وبروزی) سے نہیں آسکتا۔ جب یہ بات پکی ہے کہ حضور اکرمﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا تو پھر اسلام کے دیگر تمام احکامات سمیت جہاد کا حکم بھی ناقابل تنسیخ، ناقابل تبدیل اور ناقابل تاویل بالکل پکا حکم ہے اور اس حکم کو اس وقت تک باقی رہنا ہے جب تک اسلام باقی رہے گا اور ختم نبوت کا عقیدہ باقی رہے گا… یوں عقیدہ ختم نبوت جہاد کی حفاظت کرتا ہے، جب کہ جہاد تو ہمیشہ سے عقیدہ ختم نبوت کا محافظ رہا ہے… مسیلمہ کذاب سے لے کر اس زمانے کے ہر دشمن ختم نبوت کو مجاہدین کی تلوار کا سامنا رہا ہے… اور جب تک جہاد کا مبارک عمل اپنی آب وتاب سے جاری رہا ہے کسی شخص کو ختم نبوت کے خلاف محاذ کھولنے کے بعد زیادہ عرصہ کی زندگی نہیں ملی۔ البتہ مرزا قادیانی ملعون نے اپنے پیشروئوں کا حشر دیکھتے ہوئے ایک نئی حکمت عملی سے ختم نبوت کے خلاف محاذ کھولا اور وہ حکمت عملی یہ تھی کہ اس نے اپنے نام کو چھپا کر دوسرے ناموں سے مسلمانوں کے اندر جہاد کے خلاف وساوس پھیلائے اور اس نے جہاد کو مسلمانوں  کے لئے اجنبی بنادیا… قادیانی کی اس سازش کو توڑے بغیر قادیانیت کے ناسور کو ختم نہیں کیا جاسکتا اگر ہم مرزا قادیانی کو برا بھلا کہتے رہیں اور خود ہمارے دل میں جہاد جیسے محکم فریضے کے خلاف مرزا کے پھیلائے ہوئے وساوس موجود ہوں تو پھر مرزا قادیانی ملعون کی سازش کامیاب ہوجائے گی۔ ونعوذ باللہ من ذلک

(سراغ حقیقت)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online