Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

تحفۂ جہاد (قسط۱۷)

تحفۂ جہاد (قسط۱۷)

محمد ہارون

(شمارہ 663)

(۲۰) امیر لشکر جب اپنے ساتھی کو گم پائے

۳۲)… حضرت ابوبرزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جہاد میں تھے کہ اللہ نے آپﷺ کو مال غنیمت عطاء فرمایا تو آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: کیا تم کسی کو مفقود پاتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں فلاں، فلاں اور فلاں، آپﷺ نے پھرپوچھا: کیا تم میں سے کوئی گم نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں فلاں فلاں اور فلاں غائب ہیں، آپﷺ نے پھر فرمایا: کیا تم میں سے کوئی گم نہیں ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: نہیں، آپﷺ نے فرمایا :لیکن میں تو جلیبیب کو گم پاتا ہوں، اسے تلاش کرو۔ پس انہیں شہداء میں تلاش کیا گیا تو ڈھونڈنے والوں نے انہیں ان ہی سات آدمیوں کے پہلو میں پایا جنہیں انہوں نے قتل کیا تھا پھر کافروں نے انہیں شہید کر دیا۔نبی کریمﷺ ان کے پاس آ کر کھڑے ہوئے پھر فرمایا: اس نے سات کافروں کوقتل کیا پھر اُنہوں نے انہیں شہید کر دیا یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ۔پھر آپ ﷺ نے اپنے بازوؤں پر اُٹھا لیا اس طرح کہ نبی کریمﷺ کے علاوہ کسی اور نے اُٹھایا ہوا نہ تھا۔راوی فرماتے ہیں: پھر ان کے لئے قبر کھودی گئی اور انہیں قبر میں دفن کر دیا گیا اور غسل کا ذکر نہیں کیا۔(معالم السنن:رقم الحدیث۲۱۱۳)

٭ آج ہمارے معاشرے میں لوگوں میں تکلفات کی کثرت ہوتی جارہی ہے اور باہمی تعلقات اور اخلاقیات تیزی سے روبہ زوال ہے۔ ان ہی میں سے ایک ’’ہر مسلمان کا خیال و فکر رکھنا ہے‘‘ مگر جب ہم اپنے محبوب نبی کریمﷺ کی سیرت کو دیکھتے ہیں تو ہمارے سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔آپ ﷺہمیشہ اپنے ساتھیوں کا خیال رکھتے تھے اور ایک ایک سے واقف تھے اور جب کوئی ایک صحابی بھی مسجد میں نماز سے غیر حاضر ہوتا تو آپ ﷺ کو فوراً ادراک ہوجایا کرتا تھاپھر آپﷺ دوسروں سے اس غائب ساتھی کا نام لے کر اس کے بارے معلومات لیتے تھے۔ مگر افسوس آج ہمیں اپنے اداروں ،خانقاہوں،مدارس وتنظیموں کے علاوہ اپنے آس پاس گھرکے ماحول کا ہی علم نہیں ہوتا کہ کون غریب کہاں سے آیا،کہاں گیا۔انا للہ وانا الیہ راجعون

جبکہ رسول اللہ ﷺسفر میں ہوتے یاحضر میںہر حال میں اپنے ساتھی مسلمانوں کا خیال رکھتے اور ان کی خبر گیری فرماتے،قطع نظر اس کے کہ اس کی حیثیت و حالت کیا ہے…مذکورہ واقعہ حالت جنگ کا ہے جو سب امراء کیلئے مشعل راہ ہے کہ ایسی حالت میں بھی نبی کریمﷺکواپنے ایک ایک ساتھی کا خیال اور فکر دامنگیر تھی،یہ واقعہ جہاں صحابیٔ رسول حضرت جلیبیب بن عبد الفہری رضی اللہ عنہ کی جلالت شان اوردربار رسالت میں ان کے مقام و مرتبے کی دلیل ہے وہیں قتال فی سبیل اللہ کی مبارک منزل’’ شہادت‘‘کے بعدنبی کریم ﷺ کی طرف اس اعزاز و اکرام کی روشن تصویر ہے کہ خاتم المرسلین ﷺاپنے ہاتھوں قبرمیں اُتار رہے ہیں ،حالانکہ حسب و نسب کے اعتبار سے حضرت جلیبیب بن عبد  الفہری رضی اللہ عنہ کچھ بھی نہ تھے،انصار کے کسی قبیلہ سے تھے۔ نہ مالدار تھے نہ کسی معروف خاندان سے تعلق تھا، صاحب منصب بھی نہ تھے، رشتہ داروں کی تعداد بھی زیادہ نہ تھی۔ رنگ بھی سانولا تھا لیکن اللہ کے رسولﷺکی محبت سے سرشار تھے۔ بھوک کی حالت میں پھٹے پرانے کپڑے پہنے رسول ﷺکی خدمت میں حاضر ہوتے، علم سیکھتے اور صحبت سے فیض یاب ہوتے۔ان کی شادی کا عجیب واقعہ تفصیل سے کتب سیر میں مذکور ہے۔

 ۳۳)…حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ سفر میں پیچھے رہا کرتے تو کمزوروں کو ساتھ رکھتے اور اپنے اونٹ پر پیچھے سوار کرلیتے اور ان کے لئے دعاء فرماتے۔(معالم السنن:رقم الحدیث۲۱۱۴)

٭ رسول کریم ﷺ کا(سفر کے دوران، خصوصاً جہاد کے سفر کے دوران )یہ معمول تھا کہ چلتے وقت (تواضع وانکسار کی وجہ سے اور دوسروں کی مدد وخبر گیری کے پیش نظر قافلے سے ) پیچھے رہا کرتے تھے،اس کے ساتھ ساتھ آپﷺ کمزور (کی سواری ) کو ہانکابھی کرتے (تاکہ وہ ہمراہیوں کے ساتھ مل جائے ) اور جو کمزور وضعیف شخص سواری سے محروم ہونے کی وجہ سے پیدل چلتا ہواملتا اس کواپنے ساتھ سوار کر لیتے اور ان (قافلہ والوں ) کے لئے برابردعاء فرماتے رہتے اور یہ آپ ﷺ کے سراپا رحمت ہونے کی دلیل ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ لقد جاء کم رسول من انفسکم عزیز علیہ ماعنتم حریص علیکم بالمؤمنین رؤوف رحیم ‘‘

 ترجمہ : تمہارے پاس ایک ایسے رسول آئے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں ، جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے ، جو تمہاری منفعت کے بڑ ے خواہشمند رہتے ہیں ، ایمان داروں کے ساتھ بڑے ہی شفیق اور مہربان ۔(سورۃ التوبہ)

(۲۱)دشمن سے مقابلے کی آرزونہ کرنا

۳۴)… حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:دشمن سے مقابلے کی آرزومت کرواور جب اُن سے آمنا سامنا (مقابلہ)ہو جائے تب صبر(یعنی ثابت قدمی) سے کام لو۔(معالم السنن:رقم الحدیث۲۱۱۵)

مسند احمد کی روایت میں’’لاتمنوا لقاء العدو فانکم لاتدرون مایکون فی ذلک‘‘(دشمن سے مقابلے کی آرزومت کروکیونکہ تم نہیں جانتے کہ اس میں تمہارے لئے کیا ہے؟)کے الفاظ ہیں۔

٭یہ روایت مختلف طرق اور الفاظ سے مروی ہے ،کہیں ’’ایہا الناس!لاتمنوا لقاء العدوواسألوا اللّٰہ العافیۃ، فاذا لقیتموہ فاثبتوا واکثروا ذکر اللّٰہ، فان أجلبوا وصیحوا فعلیکم بالصمت‘‘کے الفاظ ملتے ہیں تو کہیں’’فاصبروا‘‘کے بعد’’اعلمواان الجنۃ تحت ظلال السیوف‘‘ کے اضافے کے ساتھ یہ روایت ملتی ہے، خلاصہ ان سب روایتوں کا یہ ہے کہ دشمن سے برسرپیکار رہنے کی خودسی کوشش کوئی اچھی چیز نہیں ہے۔ صلح صفائی، امن و امان بہرحال خوش کن حالتیں ہیں ،اس لئے کبھی بھی خواہ مخواہ جنگ نہ چھیڑی جائے نہ اس کے لئے آرزو کی جائے کیونکہ اس میں تمہارے لئے کیا منشاء ایزدی پنہاں ہے وہ تم نہیں جانتے ،دوسری بات یہ کہ جنگ ڈھول کی مانند ہے کبھی اِس طرف کا پلڑہ بھاری تو کبھی اُس طرف کا…اس لئے ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے عافیت ہی کا سوال کرو،مباداتمنا و آرزو کے بعد نتیجہ تمہارے حق میں نہ نکلے توتمہارے کمزور ایمان لوگ سوال اُٹھائیں گے کہ’’متی نصر اللّٰہ‘‘کہاں ہے اللہ کی مدد و نصرت؟

روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سے فرمایا:کبھی بھی کسی کولڑائی کی خود سے دعوت نہ دو،ہاں جب تمہیں لڑائی کیلئے بلایا جائے تب اس کیلئے نکلو کیونکہ اب وہ بلانے والاباغی ہے اوراللہ تعالیٰ نے باغی سے مقابلے میں نصرت کی ضمانت دی ہے۔

اسی لئے جب سر سے پانی گزر جائے اور جنگ بغیر کوئی چارہ کار نہ ہو تو پھر صبر و استقامت کے ساتھ پوری قوت سے دشمن کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔اب اس حالت سے پیٹھ پھیرنا مسلمان کے شایان شان نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے اعانت طلب کرتے ہوئے نتیجے سے بے پرواہ میدان کارزار میں ڈٹ جانااور اللہ کے ذکر سے اپنے قدم جمائے رکھنا مطلوب و مقصود اور مردانگی کے لائق ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online