Bismillah

671

۲۸ربیع الاول تا۴ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۷تا۱۳دسمبر۲۰۱۸ء

معارف سید احمد شہید ؒ (قسط:۸)

معارف سید احمد شہید ؒ (قسط:۸)

ترتیب و تسہیل : محمد سعد ، محمد سعید

(شمارہ 663)

دوسری تمہید
حکمت رسالت کے بیان میں

چونکہ علم الٰہی میں بنی نوع انسان کے لئے مصائب اخرویہ سے بچاؤ اور مناصب علیا کے حصول کا ذریعہ اس کے سوا اور کوئی نہیں تھا کہ انسان حضرت حق جل و علا سے شدید محبت رکھیں اور ان کی بہت زیادہ تعظیم بجا لائیں، اس لئے اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس جیسے دیگر وہ امور جو انسان کی جبلت اور فطرت میں ودیعت رکھے گئے ہیں انہی کو سعادتِ جاودانی اور سرمایۂ دوجہانی کے اضافہ کا طریق مقرر کر دیا گیا، اور پھر اشرف ترین اور کامل ترین فرد انسانی (یعنی حضرت محمد ﷺ) کی لسان نبوت سے اس امر کی منادی کرا دی گئی کہ:

اَحِبُّوا اللّٰہَ لِمَا یَغْذُوکُمْ مِّنْ نِّعَمِہٖ۔ 

’’اللہ تعالیٰ سے محبت رکھو، کیونکہ وہ تمہیں کھلا کھلا کر تمہاری پرورش اور تربیت کرتا ہے۔‘‘

اور پھر اس محبت کا دستور العمل بیان کرتے ہوئے اعلان ہوا:

{قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ}

’’اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو پھر میرے قدم بقدم چلے چلو۔‘‘

اور پھر اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کے دل مبارک میں اپنا وہ عظیم کلام ڈال دیا جو لطف و مہربانی سے معمور، حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ کی نعمتوں سے مشحون و آثارِ صمدیت کی تشریح و تفصیل سے پُر ہے اور جو صفاتِ کمال کو ثابت کرتا ہے اور نقص و زوال کے داغ کو دور کرتا ہے۔

اور ایسی تسبیحات و تکبیرات جو باری تعالیٰ کی صمدیت کی مشعر ہیں، اور وہ تحمیدات جو اللہ تعالیٰ کے جود و انعامات، اس کے اوصاف و کمالات کی خبر دیتی ہیں اور ایسی تہلیلات جو اس کے تفرد بالالوہیت (جو کہ صمدیت کی اصل ہے) اور تفرد بربوبیت (جو کہ بخشش و انعامات کی اصل اور حمائد و کمالات کی بیخ و بنیاد ہے) کو آشکارا کرنے والی ہیں، اکمل الافراد  (حضرت محمد ﷺ) کے واسطہ سے (بندوں کو) تعلیم فرما دیں۔

اور محض اپنے فضل و کرم سے افصح العرب و العجم حضرت محمد ﷺ کی لسان نبوت سے وہ نشانیاں بھی واضح فرما دیں جو عالَم  کے آفاق و اطراف میں پھیلی ہوئی تھیں اور وہ نشانیاں بی جو ذوات و نفوس میں مضمر و پوشیدہ تھیں۔ اور اسی طرح وہ عجائبات بھی ظاہر کر دیے جو اجرام علویہ اور اجسام عنصریہ خصوصاً نوعِ انسان کے اندر رکھے ہوئے تھے مثلاً انسان کی ایجاد میں واقع ہونے والے  تغیرات و تحولات جیسے نطفہ ہونا، علقہ اور مضغہ بننا، اس کی خوبصورت اور رنگا رنگ تصویر کشی و نقاشی کرنا، اعضائے متناسبہ اور قوائے مختلفہ کا ایجاد کرنا، اسے غذا پہنچانا اور اس کی نشو و نما کرنا اولاً رحم مادر میں، پھر صغرسنی اور بچپن میں، پھر جوانی اور کلاں سالی میں اور پھر بڑھاپے اور شیخوخت میں اور اسی طرح دفع بلیات، حل مشکلات، نصرت مظلومین، اجابت دعائے مضطرین اور انسان کی ہدایت کے لئے پیغمبروں کو بھیجنا، کتابوں کا نازل کرنا وغیرہ۔ اور یہ سب اس لئے کیا تاکہ جو امور خیمۂ فطرت کے اندر مستور تھے وہ منصۂ ظہور پر جلوہ گر ہو جائیں اور دین حنیف انہیں نصیب ہو۔ جس کے معنی بجز ’’تصقیل فطرت‘‘ کے اور کچھ نہیں۔ چنانچہ آیت مبارکہ: {فَاَقِمْ وَجْھَکَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا ط فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا ط لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ ط ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ} کا مضمون اس امر کا شاہد ہے اور آیت: {بَلْ مِلَّۃَ اِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفًا} اس پر دال ہے۔

تیسری تمہید

اگرچہ اقوال و افعال ’’احوال‘‘ کے فروع و توابع ہیں لیکن بعض وجوہ کے اعتبار سے ان کو احوال کے لئے مُتمِّم اور مُکَمِّل بھی شمار کر سکتے ہیں۔ کیونکہ افعال و اقوال قالب اور بدن کے حکم میں جبکہ  احوال بمنزلہ روح اور جان کے ہیں۔ جس طرح ’’قالب‘‘ بے جان جمادات کی جنس سے شمار کیا جاتا ہے اسی طرح ’’جان‘‘ قالب کے بغیر زیورِ کمالات سے عاری اور برہنہ ہے، مثلاً گالم گلوچ اور مار پیٹ اگرچہ کیفیت غضبیہ کے آثار و فروع ہیں اور قوتِ غضبیہ احوال قلبیہ میں سے ہے لیکن ان آثار کو اس کے مُتمِّمات اور مُکمِّلات کے مرتبہ میں رکھنا چاہئے۔ کیونکہ اگر کسی کو  غضب یا فرحت کی حالت عارض ہو اور اس حالت کے آثار مثلاً سب و شتم، مار پیٹ، نغمہ و سرور سرائی، عیش و نشاط کے اسباب کی آرائش، عشرت و انبساط کی محفلوں کو ترتیب دینا وغیرہ افعال و اقوال فرحیہ یا غضبیہ کے ظہور سے حیا مانع آ جائے تو ایسا غضب اور فرحت وساوسِ نفسانیہ کی جنس سے شمار ہو تے ہیں اور (غضب و فرحت کی وہ حالت) بہت جلد غضب کی آگ میں لپٹ کر منتفی ہو جاتی ہے، جبکہ فرحت کا انبساط انقباض اور پژمردگی سے بدل کر باطل ہو جاتا ہے۔ اور جب اقوال لسانیہ اور افعالِ جسمانیہ اس حالتِ قلبیہ کی تائید  کرتے ہیں تو اسے مزید قوت اور ترقی میسر آجاتی ہے اور مزید وسعت و احاطہ حاصل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح منعم جواد کی محبت اور صمد کی تعظیم اپنے کمالات میں اضداد و انداد سے منزہ ہے۔ اور یہ تعظیم و محبت اگرچہ امورِ قلبیہ اور حالاتِ نفسانیہ میں سے ہے لیکن محبت انگیز اقوال اور تعظیم آمیز افعال  اس کو دوبالا کر دیتے ہیں اور اس کو وہ آب و تاب بخشتے ہیں جو اہلِ وجدان سلیم پر مخفی نہیں۔ ان امور (یعنی اقوال و افعال) کے بغیر حالتِ قلبی کی مثال ایسے ہے جیسے ہاتھ کٹاکاتب، بے گھوڑا شہسوار۔

 مقدمہ کی اس تمہید فارغ ہونے کے بعد اب ہم اصل مقصد کی طرف آتے ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online