Bismillah

672

۶تا۱۲ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۴تا۲۰دسمبر۲۰۱۸ء

جواہرِ جہاد (قسط۸۹)

جواہرِ جہاد (قسط۸۹)

از: امیر المجاہدین حضرت اقدس مولانا محمد مسعود ازہر صاحب دامت برکاتہم العالیہ

(شمارہ 671)

(۵) کل تک طالبان کو ایک بہت بڑی طاقت مانا جارہا تھا اور امریکا خود کہہ رہا تھا کہ اس کا دشمن بہت سخت جان ہے آج یہ سخت جان دشمن کہاں ہے؟ کیا وہ ختم ہوچکا ہے؟ یا وہ نرم جان بن چکا ہے؟

(۶) اب تک کی اچانک پسپائی میں کتنے طالبان گورنر گرفتار ہوئے؟ کتنے نامور کمانڈر پکڑے گئے؟ اسلحے کے کتنے ذخیرے دشمنوں کے ہاتھ لگے؟ غور طلب بات یہ ہے کہ اگر کوئی گورنر، کمانڈر یا اسلحہ کا ذخیرہ پکڑا گیا ہے تو یہ سب کچھ کہاں گیا؟

(۷) اس پوری پسپائی میں کتنے طالبان شہید ہوئے اور کتنے گرفتار ہوئے؟ غور طلب بات یہ ہے کہ اگر شہید اور گرفتار طالبان کی تعداد درجنوں میں ہے تو باقی ہزاروں طالبان کہاں گئے؟ خود بخود پگھل گئے؟ آسمان پر چڑھ گئے؟ یا زمین میں اتر گئے؟

(۸) طالبان کی اس اچانک پسپائی سے امریکی حکمرانوں کے چہرے سے خوشی کی بجائے پریشانی کے آثار کیوں چھلک پڑے؟ غور طلب بات یہ ہے کہ امریکہ، برطانیہ اور پاکستان طالبان کی پسپائی پر دو روز تک بیان دینے سے کیوں کتراتے رہے اور طرح طرح کے خدشات کا اظہار کرتے رہے؟

(۹) جن صوبوں میں طالبان کی حکومت ختم ہوچکی ہے، وہاں سے انار کی، چوری، قتل وغارت گری اور طوائف الملو کی کی خبریں کیوں آرہی ہیں؟ غور طلب بات یہ ہے کہ ’’خونخوار دہشت گرد‘‘ طالبان کے زمانے میں امن اور اب امریکہ نواز روشن خیالوں کے زمانے میں بدامنی اور انتشار کیوں پھیل گیا ہے؟

(۱۰) امریکی بمباری سے طالبان کی طاقت ایک دم ختم ہوئی یا آہستہ آہستہ؟ اگر آہستہ آہستہ ختم ہوئی تو طالبان کا نام ونشان بھی مٹ جانا چاہئے تھا؟ غور طلب بات یہ ہے کہ ابھی تک طالبان اپنے پورے عزائم کے ساتھ کیوں اور کیسے موجود ہیں؟

ان دس سوالات پرا چھی طرح سے غور کیجئے اور پھر درج ذیل حیران کن حقائق کو ملاحظہ فرمائیے:

(۱) طالبان جب قندھار کے ایک دیہی علاقے سے اٹھے تھے تو ان کی تعداد پچاس کے لگ بھگ تھی مگر انہوں نے نوے فیصد افغانستان پر قبضہ کرلیا۔

(۲) افغانستان کے جن صوبوں پر طالبان کا قبضہ تھا ان تمام صوبوں میں طالبان کی منظم فوج موجود نہیں تھی۔ خوست کے صوبے میں چالیس پچاس طالبان تھے اتنے ہی تعداد جلال آباد میں تھی اور یہی حال غزنی، لوگر، میدان، اور دیگر صوبوں کا تھا ان صوبوں سے طالبان کے چلے جانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہاں طالبان کو شکست ہوئی بلکہ وہ چالیس پچاس طالبان جو پورے صوبے کا نظم ونسق چلاتے تھے وہاں سے چلے گئے۔ اب خود غور کیجئے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی اپنی کن فتوحات پر بغلیں بجارہے ہیں؟

(۳) طالبان کی جنگی طاقت مزار شریف، قندوز، کابل اور قندھار چلے گئے جبکہ باقی امیر المؤمنین کے حکم پر قندھار واپس آگئے۔ قندوز والے طالبان ابھی تک قندور ہی مورچہ زن ہیں اور ان کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ کابل والے طالبان امیر المؤمنین کے حکم پر قندھار اور اس کے ملحقہ صوبوں میں چلے گئے، گویا کہ طالبان کی جنگی قوت پہلے کی طرح برقرار اور پہلے سے زیادہ مجتمع ہے۔

(۴) افغانستان کا نظام حکومت دنیا کے عمومی نظام سے بہت مختلف ہے۔ ہمارے مسلمان بھائی افغانستان کو دوسرے ملکوں جیسا سمجھ کر حالات کا تجزیہ کرتے ہیں اور طالبان کے ہاتھ سے ہر صوبے کے نکلنے پر آنسو بہاتے ہیں حالانکہ افغانستان میں صوبوں کا آنا جانا کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا اگر کسی گروپ کی بنیادی طاقت محفوظ ہے تو وہ بآسانی اپنا علاقہ واپس لے سکتا ہے۔

(۵) طالبان نے جو کام پانچ سال تک اکیلے کر دکھایا تھا آج ساری دنیا مل کر اس کام کو نہیں کرسکی… وہ کام افغانستان میں یکجہتی اور امن کا قیام ہے، آج خوست سے لے کر کابل تک اور جلال آباد سے لے کر مزار شریف تک، ہزاروں پھاٹک اور سینکڑوں حکومتیں قائم ہوچکی ہیں، جگہ جگہ لوٹ مار کا بازار گرم ہے کل تک افغانستان میں ہر شخص کا مال اور آبرو محفوظ تھی مگر آج کسی کی کوئی بھی چیز محفوظ نہیں ہے… یہ طالبان کی کرامت تھی کہ انہوں نے اسلحے سے بھرے ہوئے افغانستان کو امن، سکون اور یکجہتی دی… مگر آج امریکہ، برطانیہ، اور اقوام متحدہ مل کر بھی افغانستان کے ایک شہر میں امن قائم نہیں کرسکتے؟

(۶) طالبان ایک متحدہ طاقت کا نام تھا جس میں صرف ایک امیر کی بات چلتی تھی اور یہ امیر صرف ایک اللہ تعالیٰ کی بات مانتا تھا، طالبان کا یہ نظم الحمدللہ اب بھی قائم ہے مگر شمالی اتحاد کئی خونکوار اور مفاد پرست ٹولوں کا نام ہے۔ اور ان میں سے کوئی بھی کسی کو نہیں جانتا۔ ان سب کا اتحاد ایک نکتے پر تھا اور وہ نکتہ تھا ’’طالبان کے اقتدار کا خاتمہ‘‘ اب شمالی اتحاد کو متحد رکھنے والا یہ نکتہ ختم ہوچکا ہے۔

چنانچہ اب اس اتحاد کا قائم رہنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے… طالبان نے مشکل وقت میں عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمنوں کے اتحاد کو توڑ دیا ہے… اب دنیا کو خود معلوم ہوجائے گا کہ طالبان مہذب اور معتدل تھے، یا ان کے مخالف؟

(۷) لٹے پٹے افغانستان میں حکومت چلانا، امن قائم رکھنا اور وہاں عدالتی نظام کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا… ایک بہت ہی مشکل کام تھا… طالبان اللہ تعالیٰ کی نصرت اور اپنی نورانی فراست کے بل بوتے پر یہ مشکل کام بھی سر انجام دے رہے تھے۔ اور ساتھ ساتھ ہی دنیا کے کافروں اورمنافقوں کا مقابلہ بھی کررہے تھے… ان دونوں کاموں کو ساتھ لے کر چلنا کافی دشوار تھا اور طالبان حکومت عوام کو اس کا پورا حق دینے کی قائل تھی۔ چنانچہ طالبان نے حکومت چلانے کی ذمہ داری چھوڑ دی اور دشمن سے مقابلہ کرنے کے لئے خود کو فارغ کرلیا یہ ان کی وہ جنگی حکمت عملی ہے جسے سمجھنے کے لئے مضبوط دل ودماغ کی ضرورت ہے۔

(۸) امریکہ پورے افغانستان کوکھنڈر بنانے اور وہاں کے عوام کو مٹی میں ملانے پر تلا ہوا تھا طالبان نے افغانستان کے اکثر شہروں میں امریکہ کے یاروں کو لا بٹھایا اب امریکہ کہاں بمباری کرے گااور کہاں مسلمانوں کے قتل سے اپنے دل کو ٹھنڈا کرے گا؟ طالبان کی موجودہ حکمت عملی نے افغانستان کے اکثر صوبوں کے عوام کو امریکی بمباری سے محفوظ کردیا ہے اس پر امریکہ پشیمان بھی ہے اور سخت پریشان بھی۔

(۹) روس کے خلاف مجاہدین نے جہاد شروع کیا تھا اس وقت ان کے پاس افغانستان کا کوئی شہر تو درکنار قصبہ بھی نہیں تھا تب مجاہدین نے افغانستان کے خوبصورت جغرافیائی نظام کا فائدہ اٹھا کر پہاڑوں میں محفوظ مقامات کو مورچہ بنایا تھا۔ روس کے خلاف بے بسی کے عالم میں لڑی جانے والی جنگ کا نتیجہ دنیا کے سامنے ہے حالانکہ اس وقت افغان علماء اور طلبہ کی تعداد آج سے بہت کم تھی اور مجاہدین کے پاس اسلحے کی بھی کمی تھی… مگر آج افغانستان میں علماء اورطلبہ کی تعداد ہزاروں میں ہے اور ان علماء اور طلبہ کے حامیوں کی تعداد لاکھوں میں ہے اور یہ سب لوگ جدید اسلحے سے لیس اور لڑائی کے طویل تجربات سے مالا مال ہیں۔

شہداء کرام کے یہ سچے جانشین اور بیٹے جہاد کے ساتھ والہانہ عشق رکھتے ہیں۔ پہلے انہوں نے افغانستان میں اسلام کو نافذ کیا مگر اب حکومت چلانے کے ساتھ ساتھ امریکہ سے مقابلے کا حق ادا نہیں ہورہا تھا تو انہوں نے اسلام اور جہاد کی خاطر حکومت چھوڑ دی اور خود کو اس حالت پر لے آئے جس حالت میں ان کے بزرگوں اور بھائیوں نے روس کا مقابلہ کیا تھا۔

(۱۰) آج ریڈیو، اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ میں پرانے افغان کمانڈروں کے نام دوبارہ جگہ پارہے ہیں حالانکہ گذشتہ چھ سات سالوں میں کسی نے غلطی سے بھی ان کا نہیںلیا تھا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ طالبان کی مضبوط، منظم اور طاقتور حکومت کے باجود ان کے مخالف زندہ رہے اور موجود بھی، توکیا اب مخالفین کی حکومت آنے سے طالبان ایک دم ختم ہوجائیں گے؟ طالبان کے خاتمے کی باتیں کرنے والے اگر اس نکتے پر غور کریں تو خوف کی وجہ سے ان کے دانتوں تک پسینہ آجائے گا۔ بے شک سچی بات یہ ہے کہ طالبان نہ تو زمین سے نکلے تھے نہ آسمان سے ٹپکے تھے بلکہ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے قرآن مجید پر عمل کرنے میں اپنی نجات سمجتی تھی… الحمدللہ قرآن آج بھی موجود ہے اور وہ ہر زمانے میں اپنے ’’طالبان‘‘ پیدا کرتا ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عزت اور سرفرازی دلاتا ہے۔

خلاصۂ کلام:

امید ہے کہ دس ’’سوالات‘‘ اور دس ’’حقائق‘‘ پڑھ کر ان شاء اللہ بہت سارے افراد کے دل ودماغٖ پر چھایا ہوا مایوسی کا غبار چھٹ گیا ہوگا۔ آخر میں اس پوری گفتگو کا خلاصہ حاضر خدمت ہے:

طالبان نے اپنی نئی حکمت عملی کے ذریعے امریکہ کو دوہری شکست دی ہے اور وہ اس طرح کہ پہلے امریکہ کا ارادہ تھا کہ وہ دو چار روز کی بمباری میں طالبان کو ختم کردے گا پھر اقوام متحدہ کی قرار داد کے ذریعے اپنے اور اپنے حواریوں کے فوجی دستے کابل میں اتارے گا۔ پھر خوب غور وخوض کے بعد ایک وسیع البنیاد کٹھ پتلی حکومت بنائی جائے گی۔ پھر آہستہ آہستہ اقتدار اس حکومت کی طرف منتقل کردیا جائے گا۔ اور اس دوران افغانستان کو سیاسی اور معاشی طورپر غلامی اور قرضوں کے جال میں پھنسا دیا جائے گا… مگر جب طالبان ایک ماہ تک امریکی بمباری کو مسکرا کر سہتے رہے تو امریکہ نے اپنی شکست تسلیم کرکے یہ اعلان کیا کہ ہمارا دشمن سخت جان ہے اور اب ہم طویل عرصہ تک اس کے خلاف جنگ کریں گے… اس پہلی شکست کے بعد امریکہ نے پھر یہ منصوبہ بنایا کہ وہ کئی ماہ کی بمباری سے طالبان کو بری طرح سے تباہ کرے گا اور اس دوران افغانستان سے باہر ایک وسیع البنیاد حکومت بنائے گا ، چار چھ ماہ کے بعد جب طالبان ختم ہوجائیں گے تو اقوام متحدہ کی وردی پہنے ہوئے امریکی، برطانوی اور دوسرے کافر ممالک کے فوجی اس حکومت کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر کابل لے جائیں گے۔ تب اس حکومت کی نگرانی میں افغانستان سے اسلام اور جہاد کا اسی طرح خاتمہ کرایا جائے گا جس طرح ترکی اور الجزائر میں کیا گیا… اس امریکی منصوبے کی ہانڈی ابھی گرم نہیں ہوئی تھی کہ اچانک طالبان نے کابل کو چھوڑ دیا… امریکہ کو اس جلد بازی کا تصور بھی نہیں تھا۔ دوسری طرف طالبان، شمالی اتحاد کے لالچی اور سازشی ذہن کو جانتے تھے۔

(جاری ہے)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online