Bismillah

672

۶تا۱۲ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۴تا۲۰دسمبر۲۰۱۸ء

عزیز العقائد (قسط۱۱)

عزیز العقائد (قسط۱۱)

تحریر:حضرت مولانا صاحبزادہ ابو الفیص محمد امیرؒ

تسہیل از:مولانا مفتی محمد اشرف بالاکوٹی

(شمارہ 671)

سولہواں سوال:

کیا کسی نبی کا وجود جائز سمجھتے ہو؟ نبی کریمﷺکے بعد حالانکہ آپ خاتم النبین ہیں اور معناً درجہ تواتر کو پہنچ گیا ہے۔ آپ کا یہ ارشاد کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور اس پر اجماع امت منعقد ہوچکا ہے اور جو شخص باوجود ان نصوص کے کسی نبی کا وقوع جائز سمجھے اس کے متعلق تمہاری رائے کیا ہے اور کیا تم میں  سے یا تمہارے اکابر میں سے کسی نے ایسا کہا ہے؟

جواب

ہمارا اور ہمارے مشائخ کا عقیدہ یہ ہے کہ ہمارے سردار وآقا اور ہمارے پیارے شفیع، محمد رسول اللہﷺ خاتم النبین ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی  نہیں ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں فرمایاہے۔ ’’محمد اللہ  کے رسول اور خاتم النبین ہیں‘‘ اور یہی ثابت ہے بکثرت حدیثوں سے جو معناً حد متواتر تک پہنچ  گئیں  اورنیز اجماع امت سے، سو حاشا کہ ہم میں سے کوئی اس کے خلاف کہے۔ کیونکہ جو اس کا منکر ہے وہ ہمارے نزدیک کافر ہے اس لیے  کہ منکر ہے  نص صریح قطعی کا بلکہ ہمارے شیخ ومولانا مولوی محمد قاسم صاحب  نانوتویؒ نے اپنی دقت نظر سے عجیب دقیق مضمون بیان فرماکر آپ کی خاتمیت کو کامل وتام ظاہر فرمایا ہے جو کچھ مولانا نے اپنے رسالہ ’’تحذیرالناس‘‘ میں بیان فرمایا ہے۔ اس کا حاصل  یہ ہے کہ خاتمیت ایک جنس ہے جس کے تحت میں دونوع داخل ہیں۔ ایک خاتمیت باعتبار زمانہ وہ یہ کہ آپﷺ کی نبوت  کے زمانہ سے متاخر ہے اور آپﷺبحثیت زمانہ کے سب کی سب کی نبوت کے خاتم ہیں اور دوسری  نوع خاتمیت باعتبار ذات، جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی ہی نبوت ہے جس پر تمام انبیاء کی نبوت ختم ومنتہی ہوئی اور جیسا کہ آپﷺخاتم النبین ہیں باعتبار زمانہ اسی طرح آپﷺخاتم النبین ہیں بالذات کیونکہ ہر  وہ شے جو بالعرض ختم ہوجاتی ہے اس پر جو بالذات ہو اس سے آگے سلسلہ نہیں چلتا اور جب کہ آپﷺکی نبوت بالذات ہے اور تمام انبیاء علیھم السلام کی نبوت بالعرض اس لیے کہ سارے انبیاء کی نبوت آپﷺکی نبوت کے واسطہ سے ہے اور آپﷺہی فرد اکمل ویگانہ اور دائر رسالت ونبوت کے مرکز اور عقد  نبوت کے واسطے ہیں پس آپ ختم النبین ہوئے ذاتاً بھی اور زمانا بھی اور آپﷺکی خاتمیت صرف زمانہ کے اعتبار سے نہیں ہے اس لیے  کہ یہ کوئی  بڑی فضیلت نہیں کہ آپﷺ کا زمانہ انبیاء سابقین کے زمانہ سے پیچھے ہے بلکہ کامل سرداری اور غایت رفعت اور انتہاء درجہ کا شرف اُسی وقت ثابت ہوگا جبکہ آپﷺکی خاتمیت ذات اور زمانہ دونوں اعتبار سے ہو ورنہ محض زمانہ کے اعتبار سے خاتم الانبیاء ہونے سے آپﷺکی سیادت ورفعت نہ مرتبہ  کمال کو پہنچے گی اور نہ آپ کو جامعیت وفضل کُلی کا شرف حاصل ہوگا اور یہ دقیق مضمون جناب رسول اللہﷺ کی جلالت ورفعت شان وعظمت کے بیان میں مولانا کا  مکاشفہ ہے۔ ہمارے خیال میں علمائے متقدمین اور ازکیا مُتبحرین  میں سے  کسی کا ذھن اس میدان  کے نواح تک بھی نہیں گھوما، ہاں ہندوستان کے بدعتیوں کے نزدیک کفرو ضلال بن گیا۔ یہ مبتدعین اپنے چیلوں اور تابعین کو یہ وسوسہ دلاتے ہیں کہ یہ تو جناب رسول اللہﷺکے خاتم النبین ہونے کا انکار ہے۔ افسوس صد افسوس! قسم ہے اپنی زندگی کی کہ ایسا  کہنا پرلے درجہ کا افتراء ہے اور بُرا جھوٹ وبہتان ہے، جس کا باعث محض کینہ وعداوت وبغض ہے۔ اہل اللہ اور اس کے خاص بندوں کے ساتھ اور سنت اللہ اسی طرح جاری ہے انبیاء اور اولیاء میں۔

سترھواں سوال:

کیا تم اس کے قائل ہو کہ جناب رسول اللہﷺ کو بس ہم پر ایسی فضیلت ہے جیس بڑے بھائی کو چھوٹے بھائی پر  ہوتی ہے؟ اور کیا تم میں سے کسی نے کسی کتاب میں یہ مضمون لکھا ہے؟

جواب:

ہم میں اور ہمارے بزرگوں میں سے کسی کا بھی یہ عقیدہ نہیں ہے اور ہمارے خیال میں کوئی ضعیف الایمان بھی ایسی خرافات زبان سے نہیں نکال سکتا اور جو اس کا قائل ہو کہ نبی  کریمﷺ کو ہم پر بس اتنی ہی فضیلت ہے، جتنی بڑے بھائی کو چھوٹے بھائی پر ہوتی ہے، تو اس کے متعلق ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ وہ دائرہ ایمان سے خارج ہے اور ہمارے تمام گزشتہ اکابر کی تصنیفات میں اس عقیدہ واہیہ کے خلاف مصرح ہے اور وہ حضرات جناب رسول اللہﷺ کے احسانات اور وجوہ فضائل تمام امت پر بتصریح اس قدر بیان کرچکے اور لکھ چکے ہیںکہ میں تو کیا ان میں سے کچھ بھی مخلوق میں سے کسی شخص کے لیے ثابت نہیں ہوسکتے۔ اگر کوئی شخص ایسے واہیات خرافات کا ہم پر  یا ہمارے اکابر پر بہتان باندھے وہ بے اصل ہے اور اس کی طرف توجہ بھی مناسب نہیں۔ اس لیے کہ حضرت کا افضل الابشر اور تمام مخلوقات سے اشرف اور جمیع پیغمبروں کا سردار اور سارے نبیوں کا امام ہونا ایسا قطعی امر ہے جس میں ادنی مسلمان بھی تردد نہیں کرسکتا اور باوجود اس کے بھی اگر کوئی شخص ایسی خرافات ہماری  جانب منسوب کرے تو اسے ہماری تصنیفات  میں موقع ومحل بتانا چاہیے تاکہ ہم ہر سمجھ دار منصف پر اس کی جہالت اور بدفہمی اور الحاد وبددینی ظاہر کریں۔

اٹھارھواں سوال:

کیا تم اس کے قائل ہو کہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کوصرف احکام شرعیہ کا علم ہے یا آپﷺ کو حق تعالیٰ شانہ کی ذات وصفات وافعال اور مخفی اسرار حکمت ہائے الٰہیہ وغیرہ کے اس قدر علوم عطا  ہوئے ہیں جن کے پاس تک مخلوق میں سے کوئی  نہیں پہنچ سکتا۔

جواب:

ہم زبان سے قائل اور قلب سے معتقد اس امر کے ہیں کہ سیدنا رسول اللہﷺ کو تمامی مخلوقات سے زیادہ علوم عطاء ہوئے ہیں جن کو ذات وصفات اور تشریعات یعنی احکام عملیہ وحکم نظریہ اور حقیقت ہائے حقہ اور اسرار مخفیہ وغیرہ سے تعلق ہے کہ مخلوق میں سے کوئی بھی ان کے پاس تک نہیں پہنچ سکتا۔ نہ مقرب فرشتہ اور نہ نبی رسول اور بے شک آپ کو اولین وآخرین کا علم عطاء ہوا اور آپ پرحق تعالیٰ کافضل عظیم ہے۔ ولیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ کو زمانہ کی ہر آن میں حادث و واقع ہونے والے واقعات میں سے ہرہر جزئی کی اطلاع وحکم ہو کہ اگر کوئی واقع آپ کے مشاھدہ شریفہ سے غائب رہے تو آپ کے علم اور  معارف میں ساری مخلوق سے افضل ہونے اور وسعت علمی میں نقص آجائے اگرچہ آپ کے علاوہ کوئی دوسرا شخص اس جزئی سے آگاہ ہوجیسا کہ سلمان علیہ السلام پر واقعہ عجیبہ مخفی رہا کہ جس سے ھد ھد کا  آگاہی ہوئی اس سے سلمان علیہ السلام کے اعلم ہونے میں کوئی نقص نہیںآیا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online