Bismillah

672

۶تا۱۲ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۴تا۲۰دسمبر۲۰۱۸ء

وصیت اور میراث کے احکام۔۴

وصیت اور میراث کے احکام۔۴

مولانا عاشق الٰہی بلند شہری رحمہ اللہ

انتخاب: شفیق الرحمن

(شمارہ 671)

مدارس اور مساجد کی تعمیرات میں حصہ لے، مدارس میں تفسیر وحدیث کی کتابیں دے دے، کہیں کنواں کھدوادے، مساجد میں پانی کا انتظام کرادے، مسافر خانہ بنادے، یتیموں، مسکینوں، بیواؤں کی مدد کرے اور اپنے گھر والوں پر خرچ کرتے ہوئے جو ممکن ہو اللہ کی رضا میں خرچ کرتا رہے، خاص کر اپنے رشتہ داروں پر بھی خرچ کرے، کیونکہ یہ صلہ رحمی ہے اور کسی خیر کام سے دریغ نہ کرے، اپنا آگے بھیجا ہوا اپنے ہی کام آئے گا، موت کے وقت جو مال اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خرچ کیا جائے تو ثواب تو اس میں بھی ہے، لیکن صحت اور تندرستی میں جو مال خرچ کیا جائے تو اس کا ثواب زیادہ ہے۔

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:

’’کوئی شخص اپنی زندگی میں ایک درہم خرچ کرے یہ اس سے بہتر ہے کہ موت کے وقت سو درہم خر کرے۔‘‘

(مشکوۃ الصابیح)

حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’کہ جو شخص موت کے وقت صدقہ کرتا ہے یا غلام آزاد کرتا ہے تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص ایسے وقت ہدیہ دے جب کہ اس کا پیٹ بھرا ہوا ہو۔‘‘

(مشکوۃ الصابیح)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ ثواب کے اعتبار سے کونسا صدقہ بڑا ہے؟

رسول اللہﷺنے فرمایا:

وہ صدقہ زیادہ بڑا ہے جب کہ تو اس حالت میںصدقہ دے کہ تو تندرست ہو، اور نفس میں کنجوسی ہو(یعنی نفس خرچ کرنا نہ چاہتا ہو) تو تنگ دستی سے ڈرتا ہو اور مال داری کی آواز لگائے ہو اور تو صدقہ کرنے میں دیر نہ لگائے، یہاں تک کہ جب روح گلے میں پہنچ گئی توکہنے لگا:

’’کہ فلاں کو اتنا دینا، فلاں کو اتنا دینا، حلانکہ اب تو فلاں کا ہو ہی چکا۔‘‘

(مشکوۃ الصابیح)

مطلب یہ ہے کہ کسی صدقہ جاریہ میں مال خرچ کردینا چاہیے، صدقہ جاریہ وہ ہے جس کا ثواب موت کے بعد بھی ملتا رہتا ہے… اس کے بارے میںآنحضرت سرور عالم ﷺکا ارشاد ہے کہ موت کے بعد مؤمن کو جو اس کے اعمال اور نیکیوں میں سے پہنچتا رہتا ہے وہ علم ہے جسے اس نے سکھایا اور پھیلا اور نیک اولاد ہے جو اس نے اپنے پیچھے چھوڑی یا وہ قرآن مجید ہے جو اس کی میراث سے وراثوں کو مال گیا یا اس نے مسجد تعمیر کردی یا مسافر خانہ بنادیا، یا نہر جاری کردی یا اپنے مال سے اپنی تندرستی میں ایسا صدقہ کردیا جو موت کے بعد اسے لاحق ہو رہا ہے… (یعنی اسے اس صدقے کا برابر ثواب پہنچ رہا ہے)۔

(رواہ ابن ماجہ)

میراث میں مرداورعورت حصہ مقرر ہے

لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰانِ وَالْاَقْرَبُوْنَ ص وَلِلنِّسَآئِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰانِ وَالْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْہُ اَوْکَثُرَط نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا۔

(النساء)

 ترجمہ: مردوں کے لیے اس مال میں سے حصہ ہے جو ان کے ماں باپ نے اور رشتہ داروں نے چھوڑا، اور عورتوں کے لیے حصہ ہے اس میں سے جو ماں باپ اور رشتہ دروں نے چھوڑا، وہ مال تھوڑا ہو یا زیادہ، یہ حصہ مقرر کیا ہوا ہے۔

فائدہ: اس آیت شریفہ میں میراث جاری کرنے کی اہمیت بتائی ہے اور فرمایا ہے: ’’کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مردوں اور عرتوں کے حصے مقرر ہیں ان کا دے دینا فرض ہے۔‘‘

 فرمایا مردوں کا بھی اپنے والدین اور دوسرے رشتہ داروں کے متروکہ مالوں میں حصہ مقرر ہے اور عورتوں کے لیے بھی ماں باپ اور دوسرے رشتہ داروںکے چھوڑے ہوئے اموال واملاک میں حصہ مقرر ہے…زمانہ جاہلیت میں عورتوں کو مرنے والے کی میراث سے حصہ نہیں دیا کرتے تھے… اب بھی بہت سی قوموں میں یہی رواج ہے… اول تو لوگ میراث تقسیم کرتے ہی نہیں، جس کے قبضے میں جو کچھ ہوتا ہے اس پر وہ قبضہ جمائے بیٹھا رہتا ہے… اور اگر حصہ دینے بھی لگتے ہیں تو مرنے والوںکی بیویوں اور لڑکیوںکو حصہ نہیں دیتے، خاص کر جہاں دو بیویوں کی اولاد ہو، ان میں جس بیوی کی اولاد کا قابو ہوگیا وہی سارا مال دبا لیتے ہیں، شرعی طور پر حق دینے کا ذرا خیال نہیں کیا جاتا… وارثین میں یتیم بچے بھی ہوتے ہیں ان کا مال بھی کھا جاتے ہیں اور میراث کا جو شرعی نظام ہے اس پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے… نماز پڑھنے کی حد تک تو مسلمان ہیں، تلاوت ذکر اذکار بھی خوب کرتے ہیں، لیکن میراث جاری کرنا جو شریعت کا ایک لازمی حکم ہے اس کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

آیت بالا سے معلوم ہوا کہ جیسے والدین سے میراث پہنچتی ہے ایسے ہی دوسرے رشتہ داروں کے مال میں سے بھی بطور میراث حصہ پہنچتا ہے۔

یتیم کے مال کے بارے میں ہدایت

سورۃ نساء میں ارشاد ہے:

وَاٰتُواالْیَتٰمٰٓی اَمْوَالَھُمْ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِیْثَ بِالطَّیِّبِ وَلَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَھُمْ اِلٰٓی اَمْوَالِکُم ط اِنَّہٗ کَانَ حُوْبًا کَبِیْرًا۔

(النساء)

ترجمہ: اور یتیموں کو ان اموال دے دو اور خبیث مال کو اچھے مال سے مت بدلو اور ان کے مالوں کو اپنے مالوں میں ملا کر مت کھاجاؤ، بے شک ایسا کرنا بڑا گناہ ہے۔

فائدہ: آیت بالا میںیتیموں کے بارے میں تین حکم ارشاد فرمائے:

یتیم کو مال دے دو

اول یہ کہ جو یتیم بچے تمہاری پرورش میں ہیں ان کے مال جو انھیں میراث میں ملے ہیں یا کسی نے انھیں ہبہ کردیا… بالغ ہونے تک محفوظ رکھو(اور بقدر ضرورت ان کے مالوں میں سے ان پر خرچ کرتے رہو) پھر جب وہ بالغ ہوجائیں تو ان کے مال ان کے سپرد کردو۔

یتیم کے مال کو تبدیل مت کرو

دوسرے نمبر پر یہ فرمایا کہ بُرے مال کو اچھے مال سے تبدیل نہ کرو… اس کا مطلب یہ ہے کہ یتیم بچے جو تمہاری پرورش اور نگرانی میں ہیں جن کا مال تمہارے قبضے میں ہے ان کے اچھے مال کو خود اپنے حصے میں اور اپنا گھٹیا مال اس کے عوض ان کے حصے میں نہ لگاؤ، ان کا جو عمدہ اور اچھا مال ہے اس کو اپنا نہ بنالو، اپنے گھٹیا مال کو اس کے عوض اس کے حساب میں لگا کر حساب پورا نہ کردو۔

آج کل لوگ اپنی  اولادکی خاطر یتیم کے مال کے ساتھ ایسا معاملہ کرتے ہیں کہ اچھی جائیداد اور اچھا مال جو یتیموں کی ملکیت ہو، اسے اپنا بنا کر رجسڑی کروا لیتے ہیں اور یتیم بچوںکو گھٹیا مال دے دیتے ہیں۔

بعض مفسرین حضرات نے ’’وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِیْثَ بِالطَّیِّبِ‘‘ کا یہ معنیٰ بتایا ہے کہ اپنے حلال مال کو چھوڑ کر یتیموں کا مال نہ کھا جاؤ، جن کا کھانا تمہارے لیے حرام ہے، اگر ایسا کرو گے تو طیب کو چھوڑ کر خیانت کرکے دوسرے کا مال کھانے والے بن جاؤ گے اور یہ مال چونکہ تمہارے لیے حرام ہوگا اس لیے خبیث ہوگا۔

یہ معنی بھی لفظ قرآنی سے بعید نہیں ہیں، ظاہر ہے کہ جب اپنا گھٹیا مال یتیم کے حصے میں لگا کر اس کا اچھا مال لے لینا حرام ہے تو یہ بدرجہ اولیٰ حرام ہوگا کہ ان کا مال بالکل ہی بلا بدل کے کھا لیا جائے۔

یتیم کے مال کو ملاکر مت کھاؤ

سوم یہ ارشاد فرمایا کہ:

وَلَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَھُمْ اِلٰٓی اَمْوَالِکُمْ۔

(النساء)

ترجمہ: یتیموں کے مالوں کو اپنے مالوں کے ساتھ ملا کر نہ کھا جاؤ۔

یتیم بچے جن لوگوں کی پرورش میں ہوتے ہیں ان میں جن کا مزاج خیانت والا ہوتا ہے، ایسے لوگ مختلف طریقوں اور تدبیروں سے یتیموں کا مال اپنے مالوں میں ملاکر کھا جاتے ہیں، کچھ لوگ تو غفلت اور بے دھیانی میں ایسا کر گزرتے ہیں کہ گھر کی مشترکہ ضرورتوں میں مشترکہ مال خرچ کرتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ یتیم بچے پر اس کے اپنے ذاتی مال میں سے کتنا خرچ ہوا… کچھ لوگ قصداً ایسا کرتے ہیں کہ یتیم بچوں کے بالغ ہونے سے پہلے ہی ان کے مال کو کسی نہ کسی طرح اپنے نام میں یا اپنی اولاد کے نام میں لکھوا دیتے ہیں، پھر جب وہ بالغ ہو جاتا ہے تو اسے اپنے مال میں سے ذرا بہت ملتا ہے یا بالکل ہی محروم ہو جاتا ہے۔

نیزسورۃ نساء میں فرمایا:

وَابْتَلُوا الْیَتٰمٰی حَتّٰیٓ اِذَا بَلَغُوا النِّکَاحَج فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْھُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْٓا اِلَیْھِمْ اَمْوَالَھُمْط وَلَا تَاْکُلُوْھَآ اِسْرَافًا وَّبِدَارًا اَنْ یَّکْبَرُوْاط وَمَنْ کَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْج وَمَنْ کَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاْکُلْ بِالْمَعْرُوْفط فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَیْھِمْ اَمْوَالَھُمْ فَاَشْھِدُوْا عَلَیْھِمْ ط وَکَفٰی بِاللّٰہِ حَسِیْبًا۔

(النساء)

ترجمہ: اورتم یتیموں کو آزما لو، یہاں تک کہ جب  نکاح کے قابل ہوجائیں سو اگر تم ان کی طرف سے سمجھ داری محسوس کرو تو ان کے مال ان کو دے دو اور ان کے مالوں کو فضول خرچی کرتے ہوئے اور ان کے بڑے ہو جانے سے پہلے جلدی کرتے ہوئے مت کھا جاؤ، اور تم میں سے جو شخص صاحب مال ہو وہ  پرہیزکر ے، اور جو شخص تنگ دست ہو سو وہ مناسب طریقے پر کھا لے، سو جب ان کے مال ان کو دے دو تو اس پر گواہ بنالو اور اللہ تعالیٰ کافی ہے حساب لینے والا۔

فائدہ: اس آیت میں اول تو یہ حکم فرمایا کہ یتیموں کو آزمالو، جب وہ بالغ ہو جائیں تو دیکھو ان کے اندر سمھداری اور ہوش مندی ہے یا نہیں؟…

اگر ان کا مال ان کے سپرد کر دیا جائے تو حفاظت سے رکھتے ہوئے سلیقے سے اچھے چا چلن کے ساتھ زندگی گزارنے کا ذریعہ بنا سکیں گے یا نہیں؟… بے جا خرچ کرکے مال کو برباد نہ کر دیں؟… جب تم یہ محسوس کر لو مال کو ضائع نہیںکریںگے، خوب اچھے طریقے سے خرچ کریں گے تو ان کے مال ان کو دے دو، اس صورت میں بالغ ہو جانے کے بعد ان کے مال ان کے سپرد کرنے میں دیر نہ لگاؤ۔

دوسرا حکم یہ فرمایا کہ یتیموں کے مالوں کو فضول خرچی کرکے نہ کھا جاو،ٔ اوراس ڈرسے نہ اڑا دوکہ یہ بڑا ہو جائے گا تو اپنا مال مانگ لے گا اور ضابطے کے مطابق اس کو دینا پڑے گا، یہ سوچ کر اس کے بالغ ہونے سے پہلے ہی اپنی ذات یا اپنی اولاد پر یا احباب واصحاب پر خرچ نہ کر ڈالو۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online