Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مفتاح القرآن۔۵

مفتاح القرآن۔۵

المعروف بہ تفسیر سورۃ الفاتحہ

مولانا صاحبزادہ ابوالفیض محمد امیر خسرو

(شمارہ 686)

حضرت مولانا صاحبزادہ ابوالفیض محمد امیر خسرو اشعری چشتی سجادہ نشین ترنوائی شریفؒ فاضل دارالعلوم دیوبندکی تصانیف میں سے (۱) باب الفیض (۲) عزیز العقائد (۳) تفسیر سورۃ فاتحہ۔ پہلے دو مکمل ہونے کے بعد اب تیسرا رسالہ تفسیر سورۃ فاتحہ شروع کیا جارہا ہے۔

ذکر ذات وصفات کے بعد ’’ایاک نعبد وایاک نستعین‘‘ فرمانا اشارہ کرتا ہے کہ اعتقاد عمل پر مقدم ہے اور عبادت کی مقبولیت عقیدے کی صحت پر موقوف ہے۔ ’’اھدنا الصراط المستقیم‘‘ میں حضرت باری تعالیٰ معرفت ذات وصفات کے بعد عبادت اوراس کے بعد دعا تعلیم فرمائی۔ ’’صراط المستقیم‘‘ سے  مراد اسلام یا قرآن یا اخلاق محمدیہ یا حضورﷺکی اہل واصحاب رضی اللہ عنھم مراد ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ صراط مستقیم طریق سنت ہے یا جن مسائل پر بزرگان دین کا عمل ہوا ہو۔ بزرگان دین سے  مراد حضرت محمدﷺاور ان کے اصحاب، تابعین ، تبع تابعین، خلفائے راشدین، صالحین، اولیائے امت محمد، آئمہ مجتہدین رحمہم اللہ تعالیٰ سے مراد ہیں۔ ’’ولالضالین‘‘ کے بعد ’’آمین‘‘ کہی جائے یہ سنت ہے۔ نماز کے اندر بھی اور باہر بھی اور ’’آمین‘‘ کلمہ قرآن نہیں ہے۔

مسئلہ: حضرت امام اعظمؒ کے نزدیک نماز میں ’’آمین‘‘ آہستہ پڑھی جائے تمام احادیث پر نظر اور تنقید سے یہی  نتیجہ نکلتا ہے۔ جہر کی روایتوں میں صرف حضرت وائل کی روایت صحیح ہے۔ اس میں’’مد بہا‘‘ کا لفظ ہے  جس کی ولادت جہر پر قطعاً نہیں جیسا جہر کا استعمال ہے ویسا ہی ہے بلکہ اس سے قوی مد ہمزہ کا احتمال ہے۔ اس لیے یہ روایت جہر کے لیے حجت نہیں ہوسکتی۔ دوسری روایت جن میں جہر ورفع کے الفاظ ہیں ان کی اسناد میں کلام ہے، لہذا آمین کا آہستہ پڑھنا درست ہے۔

 

یہ نقش سورۃ فاتحہ کا ہر حاجت کے لیے مجرب ہے۔دفع تنگی و فقرو فاقہ ، علوّقد ر و منزلت۔ حفا ظت دشمن ونظر وآسیب وام الصبیان کے لیے اس فقیر کے مجربات میں سے ہے۔

اذا ماکنت مُلسما برزق

ولحج القصد من عبد وحرّ

وتامن من مخالفۃ وغدر

ففاتحۃ الکتاب فان فیھا

تصاب وتبلغ الاٰمال حقّا

٭…٭…٭

فلاتنسہ درسھا عُقبیٰ عشائً

وفی صبح وّظُھر ثم عصر

تنُل ماشئت من عزّ وجاہ

وتوفیق وافراح دواما

عارفین فرماتے ہیں فاتحہ میں ایک ہزار ظاہر اور ایک ہزار باطنی برکتیں ہیں۔ جس مرض کے لیے اس کو لکھ کر پلایا جائے فائدہ ہوگا۔ سروردوعالمﷺنے فرمایا ہے کہ ہر مرض کے واسطے پانی پر سورۃ فاتحہ اور آیت کرسی (۷) سات بار اور آخر کی دو سورتیں سات سات بار پڑھ کر نہار منہ پی لیوے خدائے قدوس اس کو ہر بلا سے محفوظ رکھے۔

(دعاگوفقیر صاحبزادہ ابوالفیض محمد امیر خسرو اشعری وچشتی)

مسئلہ: ایک مرتبہ سورۃ فاتحہ اور تین مرتبہ سورۃ اخلاص پڑھنے سے پورے قرآن مجید کا ثواب ملتا ہے۔

فاتحہ قرآن کی آغاز ہے

فاتحہ یہ مومنوں کی ناز ہے

فاتحہ اک مایۂ تنویر ہے

فاتحہ قرآن کی تفسیر ہے

فاتحہ اتری برائے مصلحت

فاتحہ دے گی نجات آخرت

فاتحہ فضل جناب کبریا

فاتحہ فیض جناب مصطفیٰﷺ

فاتحہ کی سات ہی آیات ہیں

فاتحہ کی بہت ہی برکات ہیں

فاتحہ کی بہت اونچی شان ہے

فاتحہ ایک سورۃ ایمان ہے

فاتحہ پڑھ کر کرے کوئی دعا

جلد ہی حاصل کرے وہ مدعا

فاتحہ قرآن کی ہے ابتداء

فاتحہ دارو مریض لادوا

فاتحہ نور ہدایت کا چراغ

فاتحہ کنجی درفردوس باغ

فاتحہ ہر درد کی مشکل کشا

فاتحہ ہر رنج کی عقدہ کشا

فاتحہ فتح ہر اک انسان کی

فاتحہ کنجی میرے ایمان کی

فاتحہ پڑھ کر کرے خسرودعا

فاتحہ سے حل کرے وہ مدعا

(ازتصنیف: صاحبزادہ ابوالفیض محمد امیر خسرو اشعری چشتی قادری، مانسہرہ ہزارہ)

فائدہ عطیحہ

حضرت مولانا سیدنا شمس العارفین رئیس السالکین مجدد دوراں غوث الزمان مرشدنا خواجہ محمد عزیر صاحب المعروف فقیر صاحب ترنوائی شریفؒ میرے جد امجد چشتی فرماتے ہیں کہ سورۃ فاتحہ میں حروف ناریہ نہیں ہیں اور حروف ناریہ سات ہیں۔

(۱) ’’ث‘‘ اس حرف سے مراد ثبور ہے اور ثبور کا معنی ہلاکت ہے پس جس کسی نے فاتحہ کو پڑھا وہ جہنم میں داخل نہیں ہوگا۔

(۲) ’’ج‘‘ اس حرف سے مراد جہنم ہے، بس جس کسی نے فاتحہ کو پڑھا وہ جہنم میں داخل نہ ہوگا۔

(۳) ’’خ‘‘ اس حرف سے مراد خذلان ہے اور خذلان سے مراد شرمندگی ہے۔ پس جس کسی نے فاتحہ کو پڑھا وہ قیامت کے روز شرمندہ نہ ہوگا۔

(۴) ’’ز‘‘ اس حرف سے مراد زقوم ہے، زقوم ایک درخت کا نام ہے جو کہ جہنم کی آگ کے درمیان ہوگا اور دوزخیوں کی خوراک ہوگا جس کسی نے فاتحہ کو پڑھا وہ زقوم سے محفوظ رہے گا۔

(۵) ’’ش‘‘ اس حرف سے مراد شقاوت ہے اور شقاوت سے مراد بدبختی ہے پس جس کسی نے فاتحہ کو پڑھا وہ بدبخت نہ ہوگا۔

(۶) ’’ف‘‘ اس حرف سے مراد فراق ہے۔ فراق کے معنی جدائی ہے پس جس کسی نے فاتحہ کو پڑھا وہ خدا کے دیدار اور نعیم جنت ورضائے الٰہی سے جدا نہ ہوگا۔

(۷) ’’ظ‘‘ اس حرف سے مراد ظلم ہے پس جس کسی نے فاتحہ کو پڑھا قیامت کے روز اس پر ظلم نہ ہوگا۔ ویسے تو خدا کسی بندے پر ظلم نہیں کرتا چنانچہ وہ خود فرماتا ہے ’’وما انا بظلام للعبید‘‘ کہ میں بندوں پر ظلم نہیں کرتا لیکن اس ظلم سے مراد ظلمات حشر ہیں یعنی فاتحہ کا پڑھنے والا ظلمات حشر سے محفوظ رہے گا۔ (کتاب شجرۃ الیقین قلمی غیر چھاپہ ص۲۳)

میں کوشش کررہا ہوں اس کتاب کو طبع کرادوں خدا مجھے توفیق عطا فرمائے۔آمین

وجہ تسمیہ سورۃ فاتحہ

فاتحہ دیباچہ یا آغاز کلام یا ابتدائی کلام کو کہتے ہیں اس لیے سورۃ فاتحہ خلاصۃ القرآن ہے اور قرآن عزیز کا دیباچہ ہے۔اس سورت میں خداوندی یوم آخرت، مسئلہ توحید، طریقہ عبادت واستعانت وطریقہ دعا، خدا کے پیاروںکی راہ اور ان پر انعام خداوندی، خدا کے مغضوب علیھم بندے یہودونصاریٰ ومشرکین سب کا اجمالا ذکر ہے جو کہ باقی آیات قرآنیہ میں تفصیلا ذکر ہے۔ واللہ اعلم

ھٰذا مسئلۃ الفاتحہ خلف الامام

امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنے کا مسئلہ

امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنا امام شافعیؒ کے نزدیک لازمی اور ضروری ہے اور حضرت امام اعظمؒ کے نزدیک فاتحہ کو امام کے پیچھے نہ پڑھاجائے۔ دلائل ہر ایک کے علیحدہ علیحدہ ہیں اور اس مسئلہ میں علماء کرام سلف وخلف کا اختلاف چلا آیا ہے۔ سورۃ فاتحہ ہمارے نزدیک نماز کی رکن نہیں ہے چنانچہ صاحب ہدایہ فرماتے ہیں: ’’فقرأۃ الفاتحہ لاتتعین رکنا عندنا خلافا للشافعیؒ ‘‘ الحمد کا پڑھنا نماز میں ہمارے نزدیک رکن نہیں ہے اور امام شافعیؒ کے نزدیک فاتحہ رکن نماز ہے۔ امام شافعیؒ حضورﷺکی حدیث پیش کرتے ہیں ’’لا صلو ۃ الا بفاتحہ الکتاب‘‘ کہ نماز بجز فاتحہ کے نہیں ہوتی۔ حضرت امام اعظمؒ اس کے مقابل میں قرآن حکیم کی آیت پیش کرتے ہیں ’’فاقرؤا ماتیسر من القرآن‘‘ یہ آیت مطلقا علی الاعلان ہدایت کرتی ہے کہ قرآن کریم کا جو حصہ یا آیت بھی ہو بلاتخصیص فاتحہ وہ نماز کی صحت کے لیے کافی ہے اور یہ آیت کریمہ فاتحہ کی رکنیت کو باطل کر رہی ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor