Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

سید بادشاہ۔۵

سید بادشاہ۔۵

(قطب الاقطاب ، امیر المجاہدین حضرت سید احمد شہیدؒ کی مفصل سوانح حیات)

انتخاب: مولوی محمد حق نواز

(شمارہ 686)

سید صاحبؒ نواب امیر خاں کے لشکر میں

سید صاحبؒ کا یہ سفر چونکہ اس عظیم مقصد (اقامت جہاد) کے ما تحت اور اشارہ غیبی سے تھا، اس لئے اگر چہ دہلی سے نواب صاحب کا لشکر بہت دور دراز فاصلے پر تھا، اور عام بد امنی اور بے نظمی کی وجہ سے راستے پر خطر اور سفر نہایت تکلیف دہ تھا، لیکن آپ نے یہ سفر نہایت سکون و اطمینان اور جمعیت خاطر کے ساتھ طے کیا، مولوی سید محمد علی ’’مخزن احمدی‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’اللہ پر توکل اور اس کی حفاظت پر اعتماد کرتے ہوئے اطمینان قلب کے ساتھ آپ تن تنہا، شاداں وفرحاں جیسے کوئی باغ کی سیر یا دوست کے گھر جاتا ہے، شہر دہلی سے روانہ ہوئے اور ایسی منزلیں اور مرحلے طے کرتے ہوئے کہ ہر مرحلہ رستم واسفند یار کے ہفت خواں سے کم نہ تھا، آپ نے لشکر کو اپنے شرف قدوم سے مشرف فرمایا۔‘‘

’’وقائع احمدی‘‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء میں اہل لشکر آپ سے نا واقف تھے ، بعض لوگ اس سے زیادہ نہیں جانتے تھے کہ آپ ایک مرد صالح اور شریف النفس شخص ہیں:

’’حضرت سید المجاہدین کے حالِ خیر مآل سے اس فوج ظفر موج میں کوئی آگاہ نہ تھا، بعض بعض جانتے تھے کہ یہ شخص سید آل رسول، پرہیز گار، نیک کردار ہے۔‘‘

لیکن یہ حالت زیادہ دنوں تک قائم نہیں رہی، بہت جلد آپ کی للہیت و پاک نفسی، عبادت و مجاہدہ، زہد و توکل اور قبولیت دعاء کا چرچا ہو گیا، لوگوں نے جب آپ کی مقبولیت کی علامتیں اور بزرگی کے واقعات دیکھے تو بہت سے لوگوں کو اعتقاد ہوا، بعض ان واقعات کو ان چیزوں پر محمول کرتے تھے، جن کا زمانے میں رواج تھا، سید صاحبؒ سے تذکرہ ہوتا تو آپ بے تکلفی سے اس کی حقیقت بیان فرما دیتے۔ ’’وقائع‘‘ میں ہے:

’’اس طرح کی جب کئی کرامتیں حضرت سے ظہور میں آئیں، تب لشکر کے اکثر لوگ معتقد ہوئے، بعض شخص کہتے تھے کہ یہ صاحبِ خدمت لشکرِ ظفر کے پیکر کے ہیں، اور بعض کہتے کہ مستجاب الدعوات اور صاحب کرامات ہیں، لشکر میں نواب صاحب کی کثرت سیر و اسفار کے سبب پیادے اور سواروں پر کھانے دانے کی تنگی اور تکلیف ہوتی تھی، مگر اللہ تعالیٰ کی عنایت بے نہایت سے حضرت سید المجاہدین کی جماعت میں سب طرح سے فراغت اور فراخی رہتی تھی، یہ حال خیال کرکے اکثر مردم ناداں گمان کرتے تھے کہ ان کو نواب صاحب شاید کچھ پوشیدہ بھیجتے ہیں، یا ان کو کیمیا (سونا بنانے کا ہنر) آتی ہے، یا دست غیب ہے، جو آپ کے یہاں تنگی و تکلیف نہیں، اور بعض یار و آشنا یہ بات آپ کے سامنے کہتے، آپ ان سے فرماتے کہ ان تینوں باتوں سے ایک بھی نہیں، میرا پروردگار محض اپنے فضل و کرم سے روزی پہنچاتا ہے، اور جس روز نواب صاحب سے کچھ عنایت ہوتا ہے، سب کو معلوم ہے کہ میں لوگوں میں اسی دم تقسیم کر دیتا ہوں۔‘‘

لشکر میں اصلاح و تبلیغ

آپ اپنی عبادات اور ریاضات اور لشکر کی سپاہیانہ زندگی کے ساتھ اصلاح و ارشاد میں بھی مشغول تھے، یہ لشکر جس میں ایک ایک وقت میں چالیس چالیس پچاس پچاس ہزار مسلمان سپاہی رہتے تھے، دعوت و تبلیغ کا ایک وسیع میدان تھا، سپاہی پیشہ لوگ ناخواندہ یا کم پڑھے، ضروریات دین سے نا واقف اور دینی و علمی ماحول کے اثرات سے دور ہوتے ہیں، آپ کی زندگی چونکہ خود سپاہیانہ تھی، اور آپ ان میں گھلے ملے رہتے تھے، اس لئے آپ کو اپنے ساتھیوں کی اصلاح و تربیت کے بہترین مواقع حاصل تھے، لشکر کے سپاہی اور شاگرد پیشہ آپ کو درویش با خدا سمجھ کر مختلف ضرورتوں اور پریشانیوں میں آپ کے پاس آتے اور دعاء کی درخواست کرتے، آپ سنت یوسفی کے مطابق ان کی دل جوئی اور کار برآری بھی کرتے اور عقیدہ صحیحہ کی تعلیم بھی کرتے، خلاف شرع امور سے توبہ کراتے اور ارکان و فرائض دین کی پابندی کا اقرار لیتے۔ یہاں ’’وقائع‘‘ سے چند واقعات نقل کئے جاتے ہیں، جن سے آپ کے طریقۂ تبلیغ اور اس کے اثرات کا اندازہ ہوگا:

’’ایک سپاہی جو نارو (جلدی بیماری، جلد پر زخم ہو جاتا ہے) مبتلا تھا، حضرت سید المجاہدین کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے فرمایا: ’’اگر تم سب بے کاموں سے توبہ کرو اور پانچوں وقت کی نماز پڑھنے کا اقرار کرو، تو میں اپنے شافی مطلق اور معبود بر حق سے دعاء کروں، وہ اپنی عنایت بے انتہاء سے سے شفاء بخشے۔‘‘ وہ سپاہی بیچارہ مصیبت کا مارا اسی دم تمام افعال شنیعہ سے تائب ہوااور ادائے نماز پنجگانہ کا اقرار کیا، آپ نے اسی طور اس کے زخم پر لعاب لگا دیا اور فرمایا: ’’جو کچھ دوا اس پر لگائی ہے، دور کر، اللہ تعالیٰ شفا دے گا۔‘‘ حکمت الٰہی سے کچھ روز میں اس کا زخم ٹھیک ہو گیا، یہ خبر لشکر میں مشہور ہوئی، ان دنوں لشکر میں کئی لوگوں کو نارو نکلا تھا، جو آپ کے پاس آتا، اس کے زخم پر اپنا لعاب لگاتے، اور فاسقوں بے نمازیوں سے وہی اقرار لیتے، دو چار روز میں اللہ کے فضل سے اچھا ہو جاتا۔‘‘

’’پنساری مدار بخش نے جس کے یہاں سے آپ کے گھوڑے کا مسالہ آتا، اپنی دکان میں برکت کی دعاء کی استدعاء کی، آپ نے فرمایا: ’’تمہارا نام کیا ہے؟ اور کہاں رہتے ہو؟‘‘ اس نے عرض کی، نام میرا مدار بخش، پھولا کیکڑی میں گھر ہے۔ آپ نے فرمایا: ’’جو ہم تم سے کہیں ، اس کو مانو تو ہم اپنے اللہ تعالیٰ سے دعاء کریں‘‘ اس نے کہا: ’’آپ جو ارشاد کریں گے ، بلا عذع قبول کروں گا۔‘‘ آپ نے فرمایا: ’’آج سے اپنا نام اللہ بخش رکھو، اور سب برے کاموں سے تائب ہو، پانچوں وقت نماز پڑھو،جھوٹ نہ بولو، دغا فریب جان بوجھ کر نہ کرو، اپنا مال کسی کو کم نہ دو اور کسی غیر کا زیادہ نہ لو۔‘‘ اس نے عرض کی: ’’یہ سب میں نے مانا، ان شاء اللہ تعالیٰ کسی امر میں قصور نہ ہوگا۔‘‘ آپ نے فرمایا: ’’اب جاؤ، اللہ تعالیٰ اپنا فضل کرے گا، تمہاری دکان میں برکت ہو گی۔‘‘ وہ اپنی دکان پر گیا، عنایت الٰہی سے اسے ترقی ہونی شروع ہوئی، پہلے تو اس کے پاس تین چار بیل لادنے اور ایک چھوٹا سا پال سایہ کرنے کو تھا، قریب دو سال کے عرصے میں حضرت کی دعاء سے نو دس بیل اور چار اونٹ اور چھ سات نوکر چاکر اور بڑا سا پال ہوا، ایک روز حضرت امیر المجاہدین کے پاس آ کر التماس کی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاء سے مجھ کو سب کچھ دیا، اب میری آرزو ہے کہ جو کچھ دواء، مسالہ وغیرہ حضرت کی سرکار میں درکار ہو، ہمیشہ بے داموں میری دکان سے آیا کرے، آپ نے فرمایا: یہ ہر گز نہ ہو گا، اس نے اس بات میں بہت مبالغہ کیا، آپ نے کسی طور نہ مانا اور اپنے ساتھیوں سے فرمایا: خبردار! جو کچھ ان کے یہاں سے آئے، کبھی بے قیمت نہ لینا۔

فائدہ

ایسے اور بھی بہت سے واقعات اس ضمن میں کتاب میں مذکور ہیں، کہ بہت سے لوگ حضرت امیر المجاہدین سید احمد شہیدؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور التجاء کی کہ حضرت فلاں مسئلہ ہے، یا فلاں بیماری ہے، دعاء فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صحت عطاء فرمائے۔ سید صاحبؒ کا معمول تھا کہ اول اس شخص کو توبہ کی تاکید فرماتے، جس طبقے سے ہوتا، اسی مناسبت سے قیمتی نصائح سے نوازتے، اور نماز پنجگانہ کی خوب تاکید فرماتے، پھر اس کے لئے دعاء فرماتے، تو اللہ تعالیٰ مسئلہ حل فرما دیتے۔ اصل چیز جو اس باب میں قابل غور ہے، وہ یہ کہ گناہوں سی سچی توبہ کر کے ، نماز اور دیگر فرائض کی ادئیگی کو لازم کر لیا جائے، تو اللہ تعالیٰ بڑی سے بڑی مشکل، اور بیماری چاہے کتنی ہی زیادہ اور خطرناک کیوں نہ ہو، سے نجات عطاء فرما دیتے ہیں۔ اصل طریقہ یہی ہے کہ انسان خود کو اول گناہوں سے بچائے، اور پھر کسی بزرگ سے دعاء کروائے تو اس کے حق میں بہتری ظاہر ہوتی ہے۔

اور دوسرا سبق جو اس واقعہ سے حاصل ہوا، وہ یہ کہ کسی عالم یا کسی پیر کو اپنے معتقد یا مرید سے کوئی چیز بے دام ہر گز نہ لینی چاہئے، اس سے اخلاص میں کمی اور دوسری بہت سی قباحتیں جنم لیتی ہیں، ہدیہ کا معاملہ الگ ہے کہ اگر مناسب ہو تو ضرور قبول کرنا چاہئے، لیکن اگر خود سے کوئی چیز درکار ہو تو قطعاً بے دام قبول نہ کرنی چاہئے۔ اولاً تو وہ خوشی خوشی دے گا، کچھ عرصہ بعد اسے ناگوار لگے گا۔ واللہ اعلم بالصواب (ناقل)

عملی شرکت و رفاقت

سید صاحبؒ کے کم از کم چھ سال نواب امیر خاں کی رفاقت اور ان کے لشکر میں گذرے، لشکر کی یہ رفاقت سخت مجاہدہ و جفا کشی اور بلند ہمتی کو چاہتی تھی، بیماری، فاقہ، تنگی، خطرہ، فتح و شکست، قلت و کثرت افواج، سب سے سابقہ تھا، سید صاحبؒ ان تمام حالات میں لشکر کے شریک حال رہے، آپ نازک موقعوں پر نواب کو صحیح مشورہ دیتے، اہل حاجت کی سفارش فرماتے، نواب صاحب کا معاملہ بھی آپ کے ساتھ برادرانہ اور مساویانہ تھا۔

آپ صرف ریاضت و مجاہدہ، دعاء خیر و برکت اور وعظ و نصیحت ہی پر اکتفاء نہ فرماتے، نازک موقعوں پر خود شریک جنگ ہوتے، فوج کا حوصلہ بڑھاتے، اور قائدین کو جنگ کی تدبیر اور صلاح بتلاتے، جے پور کی فوج کشی کے موقع پر ’’وقائع‘‘ میں آتا ہے کہ موتی ڈونگری کے ورے ایک نالہ تھا، اس میں کئی ہزار آدمی چھپے تھے، وہ وہاں سے بھاگ کر موتی ڈونگری کے پاس آ کھڑے ہوتے، نواب صاحب نے عمر خاں رسالے دار سے فرمایا: کہ تم اپنا مورچہ اس نالے میں کر دو، رسالے دار صاحب بے پس و پیش کیا کہ میرے ہمراہ سوار ہیں، اور نالے کی طرف سب پیادہ ہیں، ایسی صورت میں بڑا خطرہ ہے، وہ کچھ عذر سا کرنے لگے، سید صاحبؒ نے نواب صاحب سے فرمایا کہ اگر آپ مناسب سمجھیں تو مجھے عمر خاں کے ساتھ کر دیں، نواب صاحب نے کہا کہ ہم آپ کو اپنے ساتھ رکھیں گے، یہاں ہر گز نہ چھوڑیں گے، آپ نے عمر خاں رسالے دار سے فرمایا کہ بھائی صاحب! اللہ کو یاد کیجئے، کوئی بے موت نہیں مرتا، ان شاء اللہ تعالیٰ آپ کو فتح اور دشمن کو شکست ہے، نواب صاحب نے بھی رسالے دار موصوف کو بہت تسلی دی اور پیادوں کی فوج عطاء کی اور چند توپیں بھی دیں، وہ موتی ڈونگڑی کو داہنے طرف چھوڑ کر آگے بڑھے، اس عرصے میں مخبروں نے خبر دی کہ چاند سنگھ راجہ کا رسالے دار قریب تیس ہزار سواروں کے ساتھ ماجی کے باغ کو پشت دیے کھڑا ہے، آگے چل کر جو دیکھا تو رسالے دار مذکور کے سوار نمودار ہوئے، لشکر کے لوگ گھبرائے، سید صاحبؒ نے دعاء فرمائی اور نواب صاحب سے کہا کہ میں آگے چلتا ہوں، آپ لشکر کو ہمراہ لئے ہوئے میرے پیچھے پیچھے کچھ فرق سے آئیے، نواب صاحب نے کہا کہ آپ تنہا ہر گز نہ آئیں، آپ نے کچھ خیال نہ کیا اور چھ سواروں کے ساتھ آگے بڑھے، جب دشمن کے سوار ایک گولے کی زد پر رہے تو چاند سنگھ رسالے دار پیادہ و سوار کے ساتھ ماجی کے باغ میں چلا گیا، سید صاحبؒ نے رومال ہلا کر اشارہ کیا کہ آپ جلد فوج لے کر چلے آئیں، رسالے دار پسپا ہو کر شہر میں چلا گیا، سید صاحبؒ نے باغ کے برج پر چڑھ کر رومال کے اشارے سے نواب صاحب کو بلایا، نواب صاحب باغ میں داخل ہو کر ایک مکان کے گوشے پر چڑھ گئے اور دور بین لگا کر مخالف فوج کو دیکھنے لگے، سید صاحبؒ برج سے اتر کر ایک آم کے درخت کے سائے میں باغبان کے جھونپڑے کے قریب بائیس آدمیوں کے ساتھ جا بیٹھے، وہاں بنسبت اور جگہ کے زیادہ امن تھا، ہر طرف توپوں کے گولے اولوں کی مانند گرتے تھے، کچھ دیر میں شام ہوئی، سید صاحبؒ دوبارہ آدمیوں کے ساتھ پھر اسی برج پر تشریف لے گئے اور نماز مغرب وہیں ادا کی، نماز کے بعد لوگ آپس میں کہنے لگے کہ آج اللہ تعالیٰ نے بڑا فضل فرمایا ہم کو فتح عنایت کی اور چاند سنگھ با وجود اتنے سواروں کے ہمارے مقابلے سے ہٹ گیا۔ (وقائع احمدی باختصار)

٭…٭…٭

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor