Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اسلامی معاشرتی آداب

اسلامی معاشرتی آداب

از قلم: علامہ عبدالفتاح ابوغدہ رحمہ اللہ

ترجمہ: ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر مدظلہ

(شمارہ 686)

دین اسلام کے بہت سے آداب وفضائل ہیں اور ان کا تعلق زندگی کے ہر شعبہ سے ہے۔اس طرح ان کا تعلق ہر بڑے چھوٹے اور مرد و عورت سے ہے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

’’ان النساء شقائق الرجال‘‘۔

’’یعنی عورتیں مردوں کا جزء ہیں‘‘۔

لہٰذا جن اسلامی آداب کا مطالبہ مرد سے کیا جاتا ہے، ان کا مطالبہ عورت سے بھی کیا جائے گا۔

کیونکہ ان دونوں سے مسلمان معاشرہ وجود میں آتا ہے اور اسلام دونوں کو مخاطب بناتا ہے۔

یہ وہ آداب ہیں جن کی اسلام نے تلقین کی ہے اور جن کو اپنانے کی ترغیب اور ان پر عمل پیرا ہونے کی تاکید کی ہے… تاکہ ان کی برکت سے ایک مؤمن کی شخصیت اپنے کمال کو پہنچے اور لوگوں میں اتفاق اور محبت پیدا ہو… بے شک مسلمان جب ان آداب اور فضائل کو اختیار کرتا ہے اس کے حسنِ معاشرت میں اضافہ ہوتا ہے، اس کے محاسن کو قوت حاصل ہوتی ہے اور اس کی شخصیت محبوب بن جاتی ہے اور دوسروں کے دل و جان میں جگہ بنالیتی ہے۔

یہ آداب جو یہاں ذکر کئے گئے ہیں، یہ شریعت کی روح اور مقاصد میں سے ہیں اور ان کو آداب کے نام سے تعبیر کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان کا تعلق معمولات زندگی کے ان حصوں سے ہے جس میں کرنے اور نہ کرنے کا انسان کو اختیار ہے یا ان پر عمل کرنا صرف اولیٰ اور بہتر ہے۔

امام قرافی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب’’ الفروق‘‘ میں ادب اور عمل کی باہمی نسبت کو بیان کرتے ہوئے ادب کی عمل پر فوقیت کو یوں بیان فرمایا ہے:

’’جان لو! کہ تھوڑا سا ادب زیادہ عمل سے بہتر ہے‘‘۔

اس لئے حضرت رویم، جو ایک عالم اور صالح بزرگ گزرے ہیں، انہوں نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:

’’پیارے بیٹے! اپنے عمل کو نمک بناؤ اور اپنے ادب کو آٹا بناؤ‘‘

یعنی ادب پر اتنی کثرت سے عمل کرو کہ کثرت کے اعتبار سے اس کی حیثیت ایسی ہوجائے جیسے گوندھے ہوئے آٹے کی نمک کے مقابلے میں… اور ادب سے معمور تھوڑا سا عملِ صالح اس زیادہ عمل سے بہتر ہے جس میں ادب کی کمی ہو۔

میں کہتا ہوں کہ اگر ان آداب میں سے کسی ادب میں سادگی یا عمومیت نظر آئے تو اس پر تنبیہ کو تعجب سے نہ دیکھا جائے، کیونکہ ہم میں بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو ان آداب کے بارے میں غلطی کرتے ہیں اور آداب میں کوتاہی کرنے کی وجہ سے ایک مسلمان شخصیت بد نما نظر آتی ہے… جب کہ مسلمان سے مطلوب یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے جمال، کمال اور علامات کی وجہ سے ممتاز نظر آئے… جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا:

’’اِنکم قادمون علٰی اخونکم، فأحسنوا لباسکم، وأصلحوا رحالکم، حتیٰ تکونوا کأنکم شامۃ فی الناس۔ فان اللہ لایحب الفحش و لا تفحش‘‘۔

(ابوداؤد، امام احمد)

ترجمہ: ’’تم اپنے بھائیوں سے ملنے والے ہو،لہٰذا اپنے اچھے لباس پہن لو، اپنی سواریوں کے پالان درست کرلو، تاکہ تم مجلس میں ممتاز نظر آؤ… کیونکہ اللہ تعالیٰ کو بد زبانی اور بے حیائی پسند نہیں‘‘۔

لہٰذا ایک مسلمان کو چاہیئے کہ وہ اپنے عمدہ لباس، ظاہری حالت اور اچھی ہیئت سے مسلمان نظر آئے، اللہ تعالیٰ ہی سیدھی راہ دیکھانے والا ہے۔

ادب: ۱

جب آپ اپنے گھر میں داخل ہوں یا گھر سے باہر نکلیں تو زور سے دروازہ نہ بند کریں، اور نہ ہی اسے اس طرح چھوڑ دیں کہ وہ زور سے خود بند ہوجائے… کیونکہ یہ حرکت اس اسلام کی تعلیم کردہ نرم مزاجی کے خلاف ہے جس کی طرف آپ کو نسبت کا شرف حاصل ہے، بلکہ آپ کو چاہے کہ نہایت نرمی سے دروازہ بند کریں… شاید آپ نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی روایت سنی ہوگئی جس میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول نقل فرماتی ہیں کہ:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ان الرفق لا یکون فی شئی الا زانہ و لا ینزع من شئی الا شانہ‘‘۔

(صحیح مسلم)

ترجمہ: ’’نرمی جس چیز میں بھی پائی جائے وہ اسے خوب صورت بنادیتی ہے اور نرمی جس چیز سے نکال دی جائے وہ اسے بد صورت بنا دیتی ہے‘‘۔

ادب:۲

جب آپ اپنے گھر میں داخل ہوں یا گھر سے باہر نکلیں تو گھر میں موجود اپنے گھر والوںکو، چاہے مرد ہوں یا خواتین، مسلمانوں اور اسلام والا سلام کریں یعنی ’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘‘  کہیں۔

اسلام کے سلام کو چھوڑ کر… جو کہ اسلام کا شعار اور مسلمانوں کی پہچان ہے… دوسری قوموں کے سلام جیسے: ’’گڈ مارنگ‘‘ اور ’’ہیلو‘‘ وغیرہ کو اپنانا اسلام کے سلام کو ختم کرنے کے مترادف ہے… حالانکہ یہ وہ اسلام ہے جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و فعل سے اُمت کو تعلیم دی ہے اور جو سلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جلیل القدر خادم حضرت انس رضی اللہ عنہ کو سیکھایا تھا۔

چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’یا بنی اذا دخلت علٰی أھلک فسلم یکون برکۃ علیک وعلٰی أھلک‘‘۔

(صحیح مسلم)

ترجمہ: پیارے بیٹے! جب گھر میں داخل ہو تو گھر والوں کو سلام کرو، یہ سلام تمہارے اور تمہارے گھر والوں کے لیے برکت ہوگا‘‘۔

حضرت قتادہ رحمہ اللہ جو بہت بڑے فضلا تابعین میں سے ہیں فرماتے ہیں:

’’اذا دخلت بیتک فسلم علٰی أھلک فھم أحق من سلمت علیھم‘‘۔

ترجمہ: جب تو اپنے گھر میں داخل ہو تو اپنے گھر والوں کو سلام کروکیونکہ وہ سلام کے زیادہ حق دار ہیں۔‘‘

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’اذا انتھی أحدکم الی مجلس فلیسلم، ثم اذا قام فلیسلم، فلیست الأولیٰ بأحق من الاٰخرۃ۔‘‘

(جامع التزمذی)

ترجمہ: ’’جب تم میں سے کوئی مجلس میں جائے تو سلام کرے اور جب مجلس سے جانے کا ارادہ کرے تو سلام کرے، کیونکہ پہلا سلام دوسرے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔‘‘

ادب:۳

جب آپ اپنے گھر میں داخل ہونے لگیں تو گھر میں موجود افراد کو داخل ہونے سے پہلے اپنے آنے سے مطلع کریں تاکہ آپ کے یک دم داخل ہونے سے وہ گبھرانہ جائیں یا ایسا نہ ہو کہ گویا آپ ان کی کسی کمزوری کو تلاش کر رہے ہیں۔

حضرت ابو عبید اللہ عامر بن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، کہ میرے والد عبد اللہ بن مسعود جب گھر میں آتے تو پہلے مانوس کرتے یعنی گھر والوں کو مانوس کرنے کے لیے ان کو مطلع کرتے کوئی بات کرتے اور آواز بلند کرتے تاکہ وہ مانوس ہوجائیں۔

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہونا چاہے تو اسے چاہیے کہ کھنکھارے یا اپنے جوتوں کی آواز سنائے۔

امام احمد رحمہ اللہ تعالیٰ کے صاحبزادے عبد اللہ رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے والد صاحب مسجد سے گھر لوٹتے تو گھر میں داخل ہونے سے پہلے پیر زمین پر مارتے تاکہ گھر میں داخل ہونے سے پہلے ان کے جوتے کی آواز آئے اور کھبی کھنکھارتے تاکہ گھر میں موجود افراد کو اپنے اندر آنے کی اطلاع دے سکیں۔

یہی وجہ ہے کہ بخاری شریف اور مسلم شریف میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت آئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا:

’’کہ کوئی شخص سفر و غیرہ سے واپسی پر گھر والوں کو بتائے بغیر رات کو اپنے گھر میں لوٹے، یعنی سفر و غیرہ سے گھر والوں کو بغیر بتائے آجائے، تاکہ اس طرح ان کی خیانت یا کمزوریوں کو تلاش کرے۔

ادب:۴

جب آپ کے گھر کے افراد میں سے کوئی فرد علیحدہ کمرے میں ٹھہرا ہوا ہو اور آپ اس کے پاس جانا چاہتے ہوں تو اس سے پیشگی اجازت لیں، تاکہ آپ اسے ایسی حالت میں نہ دیکھیں، جس حالت میں وہ یا آپ خود دیکھنا ناپسند کرتے ہوں، چاہے وہ بیوی ہو یا محارم و غیرہ میں سے کوئی ہو، جیسے آپ کی والدہ، والد، بیٹیاں اور بیٹے۔

امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ نے ’’موطا‘‘ میں حضرت عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے مرسلاً نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ:

حضرت! کیا میں اپنی ماں سے بھی اجازت لوں؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں!

اس شخص نے عرض کیا:

میں تو ماں کے ساتھ گھر میں رہتاہوں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اجازت لے کر جاؤ، کیا تجھے یہ بات پسند ہے کہ تو اپنی ماں کو ننگی حالت میں دیکھے؟

 اس نے عرض کیا:

’’نہیں‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

پس! اجازت لے کر جاؤ۔

ایک شخص حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور آکر سوال کیا کہ:

اپنی ماں سے بھی اجازت لوں؟

انہوں نے فرمایا: تو ہر حالت میں اس کو دیکھنا پسند نہیں کرتا (لہٰذا اجازت لو)۔

حضرت عبد اللہ بن مسعو رضی اللہ عنہ کی اہلیہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ:

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب کسی کام سے گھر لوٹتے تو کھنکھارتے، تاکہ ہمارے کسی ایسی حالت پر نگاہ نہ پڑے، جسے وہ پسند نہیں کرتے۔

 ابن ماجہ میں ’’کتاب الطب‘‘ کے آخر میں ایک روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ جب گھر آتے تو پہلے کھنکھارتے اور آواز لگاتے۔

حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے سوال کیا:

کیا میں اپنی ماں سے بھی اجازت لوں؟

تو آ پؓ نے نے فرمایا: ہاں اگر تو اجازت نہیں لے گا تو اسے ایسی حالت دیکھے گا، جسے تو پسند نہیں کرتا۔

حضرت موسیٰ تابعی جو صحابی جلیل القدر حضرت طلحہ بن عبید اللہ عنہ کے صاحبزادے ہیں، فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد صاحب کے ساتھ والدہ صاحبہ کے پاس گیا، جب والد صاحب کمرہ میں داخل ہوئے تو میں بھی پیچھے پیچھے داخل ہوگیا تو والد صاحب نے اتنے زور سے میرے سینے سے دھکا دیا کہ میں زمین پر گر گیا اور کہنے لگے:

کیا بغیر اجازت داخل ہوتے ہو! ؟

حضرت نافع مولیٰ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی عادت مبارک تھی کہ ان کا کوئی صاحبزادہ بلوغت کو پہنچ جاتا تو اس الگ کردیتے… یعنی اپنے کمرہ سے الگ کردیتے اور اس کے بعد وہ بغیر اجازت ان کے کمرہ میںداخل نہ ہوتا تھا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor