Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

انفاق فی سبیل اللّٰہ (۳)

انفاق فی سبیل اللّٰہ (۳)

انتخاب: مولوی محمد حق نواز

(شمارہ 694)

آخرت میں بخل کا نقصان

درج ذیل احادیث میں آخرت میں بخل کے نقصان کا بیان کیا گیا ہے:

(۱) ارشاد فرمایا: ’’جو بھی سونا یا چاندی رکھتا ہے (یعنی جس شخص کے پاس بھی مال ہے)، اگر وہ اس کا حق ادا نہیں کرتا، تو جب قیامت کا دن آئے گا اس کے لئے اس سونے چاندی سے آگ کی تختیاں بنائی جائیں گی۔ پھر ان سے اس کے پہلو، پیشانی اور پیٹھ کو داغا جائے گا، جب بھی وہ ٹھنڈی پڑیں گی، دوبارہ تپائی جائیں گی۔ یہی عذاب اس کو قیامت کے پورے دن ہوتا رہے گا، جو کہ پچاس ہزار سال کے برابر ہے۔ یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا۔ پس وہ اپنی راہ لے گا، جہنم کی طرف یا جنت کی طرف۔‘‘ (مشکوٰۃ: حدیث ۱۷۷۳) اس سزا کا تذکرہ سورۃ التوبہ آیات ۳۴ و ۳۵ میں بھی آیا ہے۔ حدیث شریف میں اس کی وضاحت ہے۔

(۲) ارشاد فرمایا: ’’جس آدمی کو اللہ تعالیٰ نے دولت عطا فرمائی ہو، پھر اس نے اس کی زکوٰۃ ادا نہ کی ہو، تو وہ دولت قیامت کے دن اس آدمی کے سامنے ایسے زہریلے سانپ کی شکل میں آئے گی، جس کے انتہائی زہریلے پن کی وجہ سے سر کے بال جھڑ گئے ہوں گے، اور اس کی آنکھوں کے اوپر دو سفید نقطے ہوں گے، (ایسا سانپ انتہائی زہریلا ہوتا ہے) پھر وہ سانپ اس کے گلے کا ہار بنا دیا جائے گا۔ اور وہ اس کی دونوں باچھیں پکڑے گا، اور کہے گا: میں تیری دولت ہوں! میں تیرا خزانہ ہوں۔‘‘( مشکوٰۃ: حدیث ۱۷۷۴) اس سزا کا تذکرہ بھی سورۃ آل عمران آیت ۱۸۰ میں آیا ہے۔

سخی اور بخیل میں موازنہ

حدیث میں ہے کہ: ’’سخی اللہ سے نزدیک، جنت سے نزدیک، لوگوں سے نزدیک، جہنم سے دور ہے۔ اور بخیل اللہ سے دور، جنت سے دور، لوگوں سے دور، جہنم سے نزدیک ہے۔ اور جاہل سخی یقینا اللہ تعالیٰ کو زیادہ پیارا ہے عابد بخیل سے۔‘‘ (مشکوٰۃ: حدیث ۱۸۶۹)

تشریح

اس حدیث شریف میں چار طرح سے سخی اور بخیل کے درمیان موازنہ کیا گیا ہے۔ اور اس کا لازمی نتیجہ جنت سے نزدیک ہونا اور دور ہونا بیان کیا گیا ہے۔ تفصیل درج ذیل ہے:

(۱) ’’سخی اللہ سے نزدیک اور بخیل دور ہے‘‘ ہر عبادت خواہ بدنی ہو یا مالی، اس کا بنیادی مقصد معرفت الٰہی کی کوشش اور کشف حجاب کی محنت ہے۔ پس جو بندہ اللہ کی خوشنودی کے لئے خرچ کرتا ہے، وہ اللہ کو پہچاننے کی اور ان سے پردہ ہٹانے کی تیاری میں لگا ہوا ہے، جلد یا بدیر، وہ ضرور وصل کی دولت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ اور بخیل کو تو اس کی فکر ہی نہیں، اور مانگے بنا تو کچھ بھی نہیں ملتا، پھر اس کو وصل کی دولت کہاں نصیب ہو گی؟۔

(۲) ’’سخی جنت سے نزدیک اور بخیل دور ہے ‘‘ سخی جنت کی تیاری میں لگا ہوا ہے، اور بخیل اس سے غافل ہے۔ اور جنت کی تیاری یہ ہے کہ انسان اپنے اندر ملکوتی صفات پیدا کرے ، اور رذائل کا قلع قمع کرے۔ نفس میں سے نکمی ہیئات کو دور کرے تاکہ بہیمیت پر ملکیت کا رنگ چڑھے۔ اور انسان جنت والے اعمال کرے۔ سخی یہ محنت کررہا ہے اس لئے وہ جنت مین پہنچ کر دم لے گا۔ اور بخیل اس محنت سے دور ہے، اس لئے وہ جنت سے دور ہوگا۔

(۳)’’سخی لوگوں سے نزدیک اور بخیل دور ہے‘‘ لوگ سخی سے محبت کرتے ہیں اور بخیل سے نفرت۔ اور سخی سے لوگ مناقشہ بھی نہیں کرتے، اور بخیل کو کوئی نہیں بخشتا! سخی کی کوتاہیاں لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں اور بخیل کی خردہ گیری کرتے ہیں۔ اور موت کے بعد لوگ سخی کو روتے ہیں اور بخیل پر لعنت بھیجتے ہیں۔

اور لوگ سخی سے منازعت اس لئے نہیں کرتے اور بخیل سے اس لیے الجھتے ہیں کہ جھگڑوںکی جڑ خود غرضی اور انتہائی درجہ کا حرص ہے۔ سخی اس سے پاک ہے۔ وہ عالی ظرف اور دریا دل ہوتا ہے اور دوسروں کا بھلا چاہتا ہے۔ اس لئے اس سے مناقشہ کی نوبت نہیں آتی۔ اور بخیل کا معاملہ برعکس ہے۔ وہ اپنا ہی بھلا چاہتا ہے، اس لیے ہر کوئی اس سے تکرار کرتا ہے۔

حدیث شریف میں ہے کہ خود غرضی اور انتہائی حرص سے بچو اسی نے گذشتہ امتوں کو تباہ کیا ہے۔ کیونکہ جب معاشرہ میں یہ رذیلہ پیدا ہوتا ہے تو لوگ ناحق خون کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ نہ جائز ناجائز میں امتیاز کرتے ہیں۔

جاہل سخی عابد بخیل سے اللہ تعالیٰ کو زیادہ پیارا ہے۔ یہاں جاہل سے مراد وہ شخص ہے جو بدنی عبادت نافلہ کے فوائد سے آشنا نہیں۔ اس لئے وہ اس میں حصہ کم لیتا ہے۔ البتہ وہ مالی عبادت نافلہ کے فوائد سے واقف ہے، اس لئے وہ خیرات کا خوگر ہے۔ اور عابد سے مراد بدنی عبادات نافلہ میں دلچسپی رکھنے والا شخص ہے، کیونکہ اس میں خرچ نہیں ہوتا۔ اور وہ انفاق کے فضائل سے واقف نہیں ہوتا، اس لئے مال خرچ کرنا اس پر شاق پوتا ہے۔ اور جب فطرت میں فیاضی ہوتی ہے تو آدمی جو بھی عبادت کرتا ہے دل کے داعیہ سے کرتا ہے، اس لئے وہ اتم واکمل ہوتی ہے۔ اور جودوں ہمت ہوتا ہے۔ وہ جو بھی کام کرتا ہے، طبعیت پر جبر کرکے کرتا ہے، اس لئے وہ کچھ زیادہ سود مند نہیں ہوتا۔

غرض مذکورہ دو شخصوں میں سے ہر ایک کے اندر ایک خوبی ہے اور ایک کمی۔ حدیث شریف میں دونوں کے مجموعہ کا لحاظ کرکے موازنہ کیا گیا تو جاہل سخی کا پلہ عابد بخیل سے بھاری رہا۔ اس لئیوہ اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے۔ اور جاہل سخی کا پلہ بھاری اس لئے رہا کہ وہ خیر لازم میں اگرچہ کوتاہی کرتا ہے مگر خیر متعدی میں کوشاں ہے۔ اور عابد بخیل کا معاملہ اس کے بر عکس ہے۔ اور اللہ پاک کو خیر لازم سے متعدی زیادہ پسند ہے۔

سخی کا سینہ خرچ کے لئے کھلتا ہے اور بخیل کا دل بھچتا ہے

حدیث شریف میں ہے کہ: ’’بخیل کا اور خیرات کرنے والے کا حال ان دو شخصوں جیسا ہے، جنہوں نے لوہے کی زِرہیں پہن رکھی ہوں۔ اور ان کے دونوں ہاتھ ان کی چھاتیوں اور چنبروں (ہنسلی کی ہڈیوں) سے چمٹے ہوئے ہوں۔

پس جب بھی خیرات کرنے والا خیرات کرنا چاہتا ہے تو وہ زرہ کشادہ ہوتی ہے اور بخیل جب بھی خیرات کرنے کا ارداہ کرتا ہے تو وہ زرہ مل جاتی ہے۔ اور اس کے حلقے اپنی جگہ پر بھچ جاتے ہیں۔‘‘(مشکوٰۃ المصابیح:)

تشریح: اس تمچیل میں انفاق اور امساک کی حقیقت اور ان کے جوہر کی طرف اشارہ ہے اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب کسی انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کرنے کا داعیہ پیدا ہوتا ہے اور وہ تقاضا اس کا احاطہ کر لیتا ہے اور آدمی وہ کام کرنا چاہتا ہے۔ تو اگر وہ فیاض طبعیت سخی دل ہوتا ہے تو اس کو روحانی انشراح حاصل ہوتا ہے اور وہ مال پرٹوٹ پڑتا ہے اور مال اس کو حقیر وذیل نظر آنے لگتا ہے۔ اور اس کو اپنی ذات سے جدا کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ اور اگر وہ شخص انتہائی حریص ہوتا ہے تو اس کا دل مال کی محبت میںڈوب جاتا ہے۔ اور مال کی رعنانی اس کی نگاہوں کے سامنے گھومنے لگتی ہے۔ اور وہ اس کے دل پر قبضہ جمالیتی۔ پس مال کی دل فریبی سے اس کا دل ہٹ نہیں سکتا۔ اور وہ مال خرچ کرنے سے رک جاتا ہے اور سارا مدار انہی خصال پر ہے۔ فیاض آدمی کا نفس خسیس ہیئات سے سخت جھگڑا کرتا ہے اور حریص کا نفس ان ہیئیوں کے ساتھ گتھ جاتا ہے۔ اس تحیق سے درج ذیل دو حدیثوں کا مطلب بھی جانا جاسکتا ہے

حدیث شریف میں ہے کہ:’’ مکار، بخیل اور احسان جتلانے والے جنت میں نہیں جائیں گے۔‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح)

کیونکہ یہ خصال بد، نفس کو نکمی ہیتیوں سے پاک ہی نہیں ہونے دیتیں۔

حدیث شریف میں ہے کہ:’’خود غرضی اور ایمان کسی بندے کے دل میں کبھی اکٹھا نہیں ہوتے۔‘‘ (نسائی شریف)

کیونکہ یہ دونوں متضاد کیفیات ہیں اور ضدین کا اجتماع ناممکن ہے۔

خرچ کرنے والوں کے لئے جنت کا مخصوص دروازہ

حدیث شریف میں ہے’’ جو شخص فی سبیل اللہ (یعنی جہاد میں استعمال کے لئے) کسی بھی چیز کا جوڑا(یعنی ایک سی دو چیزیں) خرچ کریگا، اس کو جنت کے کسی دروازے سے بلایا جائے گا۔ اور جنت کے متعدد دروازے ہیں۔ پس جو نماز والوں میں سے ہو گا (یعنی نوافل بہت پڑھتا ہو گا یا فرض اچھی طرح سے ادا کرتا ہو گا) اس کو نماز کے دروازے سے بلایا جائے گا۔ اور جو جہاد والوں میں سے ہوگا، اس کو جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا ۔ اور جو صدقہ والوں میں سے ہو گا، اس کو صدقہ کے دروازے دروازہ سے بلایا جائے گا، اور جو روزے والوں میں سے ہوگا اس کو سیرابی کے دروازے سے بلایا جائے گا ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : جو کسی بھی دروازے سے بلایا جائے اس کے لئے وہ کافی ہے، مگر کیا کوئی ایسا شخص بھی ہو گا جس کو سبھی دروازوں سے بلایا جائے ؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ہاں ایسے بھی ہوں گے ، اور میں امید کرتا ہوں کہ آپ ان لوگوں میں سے ہیں!۔‘‘ (مشکوٰۃ : حدیث ۱۸۹۰)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor