Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

رمضان المبارک (آخری قسط)

رمضان المبارک (آخری قسط)

حضرت ڈاکٹر عبدالحئی عارفی رحمۃ اللہ علیہ

انتخاب:سعید الاسلام مدانی

(شمارہ 694)

کلام پاک پڑھنے سے کئی فائدے نصیب ہو جاتے ہیں، تین چار عبادتیں اس میں شریک ہوتی ہیں اور بہت باعثِ برکت ہیں، یعنی دل میں عقیدت ، عظمت ومحبت اور یہ خیال کرکے پڑھنے سے کہ اللہ پاک سے ہم کلامی کی سعادت حاصل ہو رہی ہے، یہ دل کی عبادت ہے، زبان بھی تکلم کرتی ہے، یہ زبان کی عبادت ہے، کان سنتے جاتے ہیں اور آنکھیں کلام الہی کی عبارت کے نقوش کی زیارت کرتی ہیں تو ان تمام اعضا کو عبادات میں الگ الگ ثواب ملتا ہے، ان اعضا کا اس سے زیادہ اور کیا صحیح مصرف ہو سکتا ہے اور یہ سعادتیں ہی نہیں، بلکہ ان میں تجلیات الہٰی مضمر ہیں، نور حاصل ہوتا ہے او رنور کے معنی روشنی کے نہیں، بلکہ طمانینتِ قلب ہے اور اللہ تعالیٰ کا قرب ورضا ہے۔

جب تلاوت سے تھکان ہو نے لگے تو بند کر دیں اور پھر چلتے پھرتے ،اٹھتے بیٹھتے کلمہ طیبہ کا ورد رکھیں۔ دس پندرہ بارلا الٰہ الا اللّٰہ  تو ایک بار محمد رسول اللّٰہصلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے رہیں، ان متبرک ایام میں اگر ذکر اللہ کی عادت ہو گئی تو پھر ہمیشہ اس میں آسانی ہو گی۔ ان شاء اللہ

اسی طرح درود شریف کی بھی کثرت رکھیے، ان محسن اعظم صلی اللہ علیہ وسلم پر، جن کی بدولت ہمیں یہ سب دین ودنیا کی نعمتیں مل رہی ہیں، استغفار جی بھر کر تو کر چکے، پھر بھی جب یاد آجائے چند بار کر لیا کریں، ماضی کے پیچھے زیادہ نہ پڑیے اب مستقبل کو سوچیے، مستقبل یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طاعات وعبادات میں زیادہ سے زیادہ وقت گزاریے، اس طرح ایک مومن روزہ دار کی ساری ساعتیں عبادت ہی میں گزرتی ہیں۔ الحمدللہ علی ذالک۔

مجرب عمل

 اگر توفیق وفرصت مل جائے تو بڑے کام کی بات بتا رہا ہوں تجربہ کی بنا پر کہہ رہاہوں کہ نماز عصر کے بعد مسجد ہی میں بیٹھے رہیں اور اعتکاف کی نیت کر لیں قرآن شریف پڑھیں، تسبیحات پڑھیں، غروب آفتاب سے پہلے سبحان اللّٰہ وبحمدہ سبحان اللّٰہ العظیم اور کلمہ تمجید سبحان اللّٰہ والحمد للہ ولا الہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر پڑھتے رہیں اورافطاری کے وقت خوب اللہ پاک سے مناجات کریں او راپنے حالات ومعاملات پیش کریں، دنیا کی دعائیں مانگیں، آخرت کی دعائیں مانگیں ، فراغت قلب وعافیت کاملہ کی دعائیں مانگیں۔

 یہ بات اچھی نہیں ہے

روزہ داروں کے بارے میں کہتے ہیں کہ بات بات پر غصہ آتا ہے، گھر کے اندر یاگھر کے باہر کہیں بھی ہو یہ بات اچھی نہیں ہے، روزہ تو بندگی وشکستگی پیدا کرتا ہے، عجز ونیاز پیدا کرتا ہے۔ پھر یہ روزہ کا بہانہ لے کر بات بات پر غصہ اور لڑنا جھگڑنا کیسا؟ روزہ درماندگی کی چیز ہے، اس میں تواضع پیدا ہونی چاہیے، جھک جانے میں بڑی فضیلت ہے، تیس دن تک یہ کر لیجیے اس میں نفس کا بڑا مجاہدہ ہوتا ہے، جو تمام عمر کام آتا ہے۔ یہ عادت بڑی نعمت ہے، جو ان دنوں میں بڑی آسانی سے ہاتھ آجاتی ہے۔

خواتین کے لیے

اکثر دین دار عورتیں اس بات کی شکایت کرتی ہیں کہ ان کو روزہ افطار کرنے سے قبل عصر او رمغرب کے درمیان تسبیحات پڑھنے یا دعائیں کرنے کا موقع نہیں ملتا ،کیوں کہ یہ وقت ان کا باورچی خانے میں صرف ہو جاتا ہے، کھانا تیار کرنے میں مشغول رہتی ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کا یہ وقت بھی عبات میں گزرتا ہے، روزہ رکھتے ہوئے وہ کھانا تیار کرنے کی مشقت گوارہ کرتی ہیں، جو اچھا خاص مجاہدہ ہے، پھر روزہ داروں کے افطار اورکھانے کا انتظام کرتی ہیں، جس میں ثواب ہی ثواب ہے او ر وہ جن عبادات میں مشغول ہونے کی تمنا کرتی ہیں ان کی تمنا خود ایک نیک عمل ہے، اس پر بھی ان شاء اللہ ثواب ملے گا، پھر یہ بھی ممکن ہے کہ غروب آفتاب سے آدھ گھنٹہ قبل انتظامات سے فارغ ہونے کا موقع مل سکتا ہے اور اگر نہ بھی ملے تو ثواب ان شاء اللہ ضرور مل جائے گا، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ شریعت وسنت کے مطابق اپنی زندگی بنائیں ،صرف نماز روزہ ہی اللہ کے فرائض نہیں ہیں اور بھی فرائض ہیں اوربھی احکامات ہیں، ان کا پورا کرنا بھی ضروری ہے، مثلاً وضع قطع، لباس وپوشاک سب شریعت کے مطابق ہو، پردہ کا خاص اہتمام ہو ، بے پردہ باہر نہ نکلیں اور ویسے بھی شریعت نے جن کو نامحرم بتایا ہے ان سے بے تکلف ملنا جلنا بھی گناہ ہے، اس میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے، آپس میں جب ملیں، بات چیت کریں تو فضول تذکرے نہ چھیڑیں ایسے تذکرے میں عورتیں ضرور غیبت کے سخت گناہ میں مبتلا ہو جاتی ہیں، نام ونمود کے لیے کوئی بات نہ کریں، یہ بھی گناہ ہے، اگر ان باتوں کا اہتمام نہ کیا تو باقی اور عبادات سب بے وزن ہو جاتی ہیں اور اس سے مواخذہ کا قوی اندیشہ ہے۔ خوب سمجھ لیں۔

اس ماہ مبارک میں ہر عمل نیک کا ستر گناہ ثواب ملتا ہے، چناں چہ جہاں اور عبادات وغیرہ ہیں، وہاں اس ماہ مبارک میں صدقہ وخیرات خوب کرنا چاہیے، اپنی حیثیت کے مطابق جس قدر ممکن ہو یہ سعادت بھی حاصل کر لیں، یہ بھی خوب سمجھ لیجیے، اس ماہ مبارک میں جس طرح نیک اعمال کا بے حد وحساب اجر وثواب ہے اسی طرح ہر گناہ کا مواخذہ وعذاب بھی بہت شدید ہے۔العیاذ باللہ

قلبی ذوق

اپنے مرحوم اعزہ ،آباو اجداد او راحباب کے لیے ایصال ثواب کرنا بھی بہت بڑے ثواب کا کام ہے او ربہترین صدقہ ہے، میں اپنے ذوق قلبی کے تقاضے سے ایک بات کہتا ہوں جس کا جی چاہے عمل کرے یا نہ کر ے۔ ہم پر اللہ تعالیٰ نے اپنے حقوق کے بعد والدین کے حقوق واجب فرمائے ہیں، انہوں نے پالا، پرورش کیا، دعائیں کیں، راحت پہنچائی اور جب تک تم بالغ نہیں ہوئے تمہارے کفیل رہے او رجب بالغ ہوئے تو تم نے ان کی کیا خدمت کی ہو گی تو دیکھو جتنا سرمایہ ہے اپنے زندگی بھر کے اعمال حسنہ کا اور طاعات نافلہ کا سب نذر کر دو اپنے والدین کو، ان کا بہت بڑا حق ہے، کیوں کہ والدین کو اللہ تعالیٰ نے مظہر ربوبیت بنایا ہے اس عمل خیر کا ثواب تمہیں بھی اتنا ہی ملے گا جتنا دے رہے ہو، بلکہ اس سے بھی زیادہ، کیوں کہ یہ ایثار ہے اور اس کا بہت بڑا ثواب ہے۔ میں تو اپنی ساری عمر کی تمام عبادات وطاعات نافلہ اوراعمال خیر اپنے والدین کی روح کو بخش دیتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ اب بھی حق ادا نہیں ہوا اللہ تعالیٰ اپنی رحمت واسعہ سے قبول فرمالیں، اپنی عبادات نافلہ کا ثواب احیاء واموات دونوں کو منتقل کیا جاسکتا ہے۔

 ہر ایک رات شب قدر ہے

اس ماہ مبارک میں لیلۃ القدر ہے، لیلۃ القدر کیا چیز ہے ؟کلام پاک میں ہے کہ ’’ تم کیا جانو، لیلۃ القدر کیا چیز ہے؟ہزار مہینوں سے بہتر رات ہے۔‘‘کہاں پاؤ گے ہزار مہینے جہاں خیر ہی خیر ہو ! اللہ تعالیٰ کا یہ ہم پر انعام عظیم ہے او رانہیں کے خزانہ لامتناہی میں اس خیر کا سرمایہ ہے، رمضان شریف کے مہینہ کا ہر دن تو شب قدر کے انتظار میں ہے، ہر شب شب قدر است گرقدر بدانی او راس انتظار میں او راس کے اہتمام میں وہی ثواب ہر روز ملے گا۔ جو شب قدر میں ہے، اگر شب قدر 27 رمضان کو ہے تو جو روزہ پہلے رکھا۔ وہ شب قدر ہی کی جانب تو ایک قدم ہے، اسی طرح دوسرا رکھا یہ سارے شب قدر سے قریب ہونے کا ذریعہ ہیں یا نہیں ؟ جس طرح مسجد میں جانے پر ہر قدم پر ثواب ملتا ہے، اسی طرح پہلے روزے سے شب قدر تک ہرلمحہ پر ان شاء اللہ ثواب ملے گا، بشرطے کہ ہم اس کے حریص ہوں، اب ہم لوگوں کی ایک ایک رات شب قدر ہے او را س کی قدر کرنی چاہیے۔

شب قدر کے متعلق یہ بات بھی ہے کہ اس کا وقت غروب آفتاب سے طلوع فجر تک رہتا ہے، اس لیے اس کا ضرو راہتمام رکھنا چاہیے، جس قدر ممکن ہو نوافل وتسبیحات اور دعاؤں میں کچھ اضافہ ہی کر دینا چاہیے، ساری رات جاگنے کی بھی ضرورت نہیں، جس قدر تحمل ہو بہت ہے، اللہ پاک نے فرمایا کہ یہ مہینہ میرا ہے تو یہ ایک ذریعہ ہے، اپنے بندوں کو اپنا بنانے کا، اب ہم لوگ بھی اس محبت کا حق ادا کریں اور یہ امید رکھیں کہ ہمارا تعلق اللہ تعالیٰ سے قوی ہو جائے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

 مطالبات او ربھی ہیں

یہ تو خلاصہ ہے ، اور یہ تو ذاتی طور پر آپ کی عبادات ہوئیں، اب دین کے مطالبات او ربھی ہیں۔ تمام مومنین، مومنات، مسلمین ومسلمات کے لیے دعائیں کرو۔

حدیث شریف میں ہے کہ اگر کوئی مسلمان روزانہ ستائیس دفعہ تمام مسلمانوں کے لیے دعائے مغفرت ورحمت کرے تو اس کی ساری دعائیں قبول ہوتی ہیں، ایمان پر خاتمہ ہوتا ہے، رزق میں فراغت ہوتی ہے اور نہ جانے کتنی برکتیں حاصل ہوتی ہیں۔

مطالبات ایمانیہ کچھ اور آگے جاتے ہیں، وہ یہ کہ جو مسلمان اس زمانہ میں زندقہ والحاد کی طرف جارہے ہیں، ان کی ہدایت کے لیے بھی دعائیں مانگیں۔ اس لیے کہ یہ بھی تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں دین کی عظمت اور دین کا فہم عطا فرمائیں اورصحیح وقوی ایمان او راسلام عطا فرمائیں، پاکستان او راہل پاکستان کی سلامتی کے لیے بھی خوب دعائیں مانگیں۔

ایک لطیف نکتہ

 رمضان المبارک کے تین عشرے اس دعاء کے مصداق ہیں۔ {رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّار}

پہلا عشرہ رحمت کا{ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً} ( اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما۔)

دوسرا عشرہ مغفرت کا{وَّ فِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً} ( اور آخرت میں بھلائی عطا فرما۔)

تیسرا عشرہ جہنم سے نجات کا{وَّقِنَا عَذَابَ النَّار} (اورجہنم کے عذاب سے ہمیں بچا۔)

دامن پھیلائیں

 یا اللہ! آپ نے اس متبرک ماہ میں جتنے وعدے فرمائے ہیں اور آپ کے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنی بشارتیں دی ہیں ، یا اللہ! ہم ان سب کے محتاج ہیں، آپ ہم کو سب عطا فرما دیجیے۔

یا اللہ! ہم لوگ جو توبہ استغفار کریں وہ سب قبول کر لیجیے ہمارے متعلقین ، دوست احباب کو توفیق دیجیے کہ وہ آپ کی عبادات وطاعات میں مشغول ہوں۔ ہمارے اندر جوخامیاں ہیں سب کو دور کر دیجیے، ہمیںقوی سے قوی ایمان عطا فرمائیے، زیادہ سے زیادہ اعمال صالحہ کی توفیق دیجیے۔ یا اللہ! ہماری آنکھوں ، کانوں زبان اور دل کو لغویات سے پاک رکھیے، یا اللہ! ان میں اپنے ایمان کا نور عطا فرمائیے۔

یا اللہ! سب مسلمین ومسلمات پر رحم فرمائیے، تمام مملکتوں میں جہاں جہاں مسلمان بے راہ روی میں پڑگئے ہیں، ان کے دلوں میں نفاق پیدا ہو گیا ہے، اس کو دور فرمائیے ان کو اتباع شریعت اور سنت کی توفیق عطا فرما دیجیے، ان کو توبہ واستغفار کی توفیق عطا فرما دیجیے۔

یا اللہ! خصوصاً پاکستان میں جو زندقہ اور الحاد کا بڑھتا ہوا سیلاب ہے یا اللہ! اس کو دور فرما دیجیے او راس سیلاب کی بلا سے ہمیں نجات عطا فرما ئیے! آئندہ نسلیں نہ جانے کہاں سے کہاں پہنچ جائیں۔ یا اللہ! ان کی حفاظت فرمائیے ان کے دلوں میں دین کی عظمت اور آخرت کا خوف پیدا کیجیے یا اللہ! ان میں انسانیت اور شرافت کے احساسات وجذبات پیدا فرمادیجیے۔

یا اللہ! ہر طرح کی برائیوں سے تباہ کاریوں سے بچا لیجیے۔ یا اللہ! ہمارے ملک میں جومنکرات وفواحشات عام ہو رہے ہیں، آپ کی حرام کی ہوئی چیزیں حلال ہو رہی ہیں، ہم مسلمانوں کو اس تباہی وبربادی سے بچا لیجیے، جو لوگ حواس باختہ ہیں ،ان کی بھی رہ نمائی فرمائیے۔

یا اللہ! پاکستان کو قمار خانے ، شراب خانے ، نائٹ کلب، ریڈیو ٹیلی وییژ ن کی لغویات سے ، سینما گھروں، جن سے روز وشب ہماری اخلاقی اور معاشرتی اور اقتصادی زندگی تباہ وبرباد ہو رہی ہے ان تمام فواحشات سے ہم کو پاک صاف فرما دیجیے اور یا اللہ! ارباب حل وعقد کو توفیق دیجیے اور اس کا احساس دیجیے کہ وہ اپنے اختیارات سے ان منکرات کو مٹائیں اور آپ کی رضا جوئی کے لے دین کی اشاعت کریں۔

یا اللہ! امن وامان کی صورت پیدا کر دیجیے، بیرونی سازشوں ،دشمنوں کی نقصان رسانی سے ہماری مملکت اسلامیہ کو بچا لیجیے، ہمارے دین کی حفاظت فرمائیے۔

یا اللہ! ہم یہ دعائیں آپ کی بارگاہ میں پیش کرتے ہیں، اس ماہ مبارک کی برکت سے قبول فرما لیجیے، یا اللہ! جو مانگ سکے وہ بھی دیجیے او رجونہ مانگ سکے وہ بھی دیجیے۔ جس میں ہماری بہتری ہو دین ودنیاکی فلاح ہو، یا اللہ! وہ سب ہمیں عطا کیجیے، نفس وشیطان سے ہمیں بچائیے، اپنی رضائے کاملہ عطا فرمائیے۔

یا اللہ! آپ کا وعدہ ہے کہ یہ مہینہ آپ کا ہے، اس ماہ مبارک میں ہم کو اپنا بنا لیجیے، یا اللہ! آپ مربی ہیں، رحیم ہیں، غفور ہیں، ہماری پرورش کرنے والے ہیں، ہمارے رزاق ہیں۔ اپنا صحیح تعلق عطا فرمائیے ہمارے سارے معمولات دین کے ہوں یا دنیا کے، یا اللہ! سب آسان کر دیجیے، مرنے کے بعد برزخ کے تمام معاملات آسان کر دیجیے، یوم حساب کا معاملہ آسان کر دیجیے او راپنی رضائے کاملہ کے ساتھ جنت میں داخل کر دیجیے۔

یا اللہ! اپنے محبوب ،شفیع المذنبین رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کی حیثیت سے حشر میں ہم پر اپنی رحمتیں نازل فرمائیے، ہمارے ظاہر کو بھی پاک کر دیجیے اور باطن کو بھی پاک کر دیجیے۔

یا اللہ! ہمیں رمضان المبارک کے ایک ایک لمحے کے انوارو تجلیات ، چاہیے ہم محسوس کریں یا نہ کریں آپ سب عطا فرما دیجیے، یا اللہ! ہمارے روزے اور عبادت، چاہے ناقص ہوں، آپ اپنے فضل سے قبول فرما لیجیے اورکامل اجر عطا فرمائیے۔

یا اللہ! دشواریاں، بیماریاں، پریشانیاں جس میں ہم مبتلا ہیں اورجو آنے والے خدشات ،آفات ہیں، ان سب سے ہم کو محفوظ رکھیے، یا اللہ! کھانے پینے کی چیزوں میںمہنگائی روز افزوں ہوتی جارہی ہے ملاوٹ ہو رہی ہے، وبائیں آرہی ہیں، بیماریاں پھیل رہیں ہیں، سب سے حفاظت فرمائیے۔ہم کو پاکیزہ اور سستی غذائیں عطا فرمائیے۔ یا اللہ! ایمان والوں کے لیے آج کل کا معاشرہ تہذیب وتمدن کی لعنتوں کا ماحول، جہنم کدہ بنا ہوا ہے، اس کو گلزار ِابراہیم بنا دیجیے۔ ہماری تمام حاجات پوری فرمائیے۔ ہم کو اسلام پر قائم رکھیے او رہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائیے۔ آمین۔ بحق سید المرسلین، صلی اللہ علیہ وسلم والہ واصحابہ اجمعین

اللھم صلی علی سیدنا محمد وعلی اٰل سیدنا محمد وبارک وسلم

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor