Bismillah

581

 ۱۹تا۲۵جمادی الاولیٰ۱۴۳۸ھ   ۱۷ تا۲۳فروری۲۰۱۷ء

باب الفیض (قسط۲۲)

باب الفیض (قسط۲۲)

 مرشدنا و مولانا صاحبزادہ ابوالفیض محمد امیر صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ

(شمارہ 576)

عالم برزخ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام وحضرت امام غزالیؒ

حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانویؒ نے فرمایا کہ بحالتِ مکاشفہ عالَم برزخ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفیﷺکی ملاقات ہوئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت محمد مصطفیﷺسے فرمایا کہ اے سید الانبیاءﷺ! آپ نے فرمایا ہے کہ’’علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل‘‘ میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے پیغمبروں کی طرح ہیں۔ آپ نے اپنی امت کے علماء کو اتنی شان اور اتنا درجہ کیوں دیا؟ سیدالانبیاءﷺنے فرمایا کہ اے موسیٰ کلیم اللہ! اگر تم میری امت کے کسی عالم کو دیکھنا چاہتے ہو تو میں تمہیں دکھا دوں؟ خود بخود معلوم ہوجائے گا کہ میری امت کے  باعمل علماء کا کیا درجہ ہے اور کیا شان ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ حضورﷺ! میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ وہاں  ابوحامد امام غزالیؒ آگئے اور امام غزالیؒ نے فرمایا: ’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام  نے فرمایا کہ ’’اے ابو حامد! اتنا لمبا کلام کیوں کیا؟ صرف السلام علیکم کہہ دینا کافی تھا۔‘‘ حضرت امام غزالیؒ نے فرمایا: ’’اے موسیٰ علیہ السلام! جب آپ کو کوہ طور پر تجلی ہوئی تو خدائے برتر نے فرمایا تھا ’’وماتلک بیمینک یا موسیٰ‘‘ تو اس کا جواب اتنا ہی کافی تھا ’’ھی عصای‘‘ لیکن آپ نے خدا کے سامنے لمبا کلام کیوں کیا؟ ’’ھی عصای اتوکؤ علیھا واھش بھا علی غنمی ولی فیھا ماٰرب اُخریٰ‘‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام خاموش ہوگئے۔ اس کے بعد سردار دوجہاں ﷺ نے فرمایا: ’’یاغزالی! احفظ الادب ھٰذا نبی من الانبیاء۔‘‘ اے غزالی! ادب کر! یہ موسیٰ خدا کے انبیاء میں سے ایک نبی ہیں۔‘‘

الوسیلہ

وسیلہ معنیٰ ذریعہ یعنی ہر وہ چیز جو کسی شئے کے حاصل کرنے کا سبب اور ذریعہ بنے، اس کو وسیلہ کہتے ہیں۔ وسیلہ کے بھی معنیٰ امام راغبؒ ودیگر ائمۂ لغت نے کیے ہیں اور وسیلہ نام ہے مقام قرب الٰہی (جو رسول اللہﷺکو روز قیامت عطا ہوگا) کابھی ہے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہے:

’’واسئلواللہ الی الوسیلۃ فانھا درجۃ فی الجنۃ لاتنبغی لعبد من عباداللہ وارجو ان اکون انا ذالک العبد فمن سأل اللہ لی الوسیلہ حلت لہ شفاعتی یوم القیٰمۃ‘‘

یعنی میرے لیے وسیلہ طلب کرو اور وہ جنت میں ایک درجہ ہے۔ جو اللہ کے بندوں میں سے سب کو حاصل نہ ہوگا بلکہ ایک بندہ کو حاصل ہوگا اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ بندہ میں ہی ہوں۔ جس نے میرے لیے وسیلہ طلب کیا اس کے لیے قیامت میں میری شفاعت ہوگی۔

قرآن عزیز میں دومقام پر لفظ وسیلہ آیا ہے۔ ایک تو سورۃ مائدہ میں’’یٰایھاالذین اٰمنو اتقو اللہ وابتغو الیہ الوسیلہ‘‘ اے ایمان والو ڈرو اللہ سے اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔

اور دوسرا سورۃ بنی اسرائیل میں ’’اولٰئک الذین یدعون یبتغون الی ربھم الوسیلۃ ایھم اقرب ویرجون رحمتہ ویخافون عذابہ‘‘

جنہیں یہ پکارتے ہیں خودہی اپنے رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں کہ کونسا ان  میں سے زیادہ نزدیک ہے اور اس کی رحمت کی امید کرتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔

توسل کی تین قسم ہیں:

(۱) توسل بالاعمال (۲) توسل بالانبیاء (۳) توسل بالاولیاء والصلحاء

پس وہی اعمال وافعال واقوال جن کو حضرت محمد مصطفیٰﷺنے یا صحابہ یا تابعین یا تبع تابعین یا سلف صالحین نے قوم کے سامنے  پیش کیے ہیں، وہ تقرب اور قضائے حاجت کے لیے ذریعہ ہیں۔ مثلاً اللہ تعالی کی یاد اور تقرب کے لیے اعمال ظاہری میں نماز، روزہ، زکوۃ، صدقات وخیرات، حج تلاوت قرآن، ہر وقت ذکر الٰہی، طلب زرق حلال، مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت اور ان کے ساتھ نیک برتاؤ، امر بالمعروف نہی عن المنکر اور اتباع سنت ہے اوریہی اعمال ظاہری کے دس اصول ہیں۔

اعمال باطنی جس سے قلب اور روح اعمال ذمیمہ سے پاک ہوکر ان کو مقام قرب الٰہی حاصل ہوجائے۔ مثلاً زیاہ کھانے اور حرص غذا سے پرہیز ہے جو بیسیوں گناہ کی جڑ ہے۔ کثرت کلام اور فضول گوئی۔ غصہ، حسد، بخل اور محبت مال، شہرت وجاہ اور عزت کی محبت، دنیا کی محبت، تکبر، خود پسندی یعنی اپنے نفس کو پاک وصاف اور اچھا سمجھنا اور ریا وغیرہ ان سے پرہیز اور اپنے آپ کو مکمل بچانا ہے۔ یہی دس اصول اعمال باطنی میں سے ہیں۔

اسی طرح قلب اور روح کو اخلاق محمودہ کے ساتھ مزین و آراستہ کرنا اس کے بھی دس اصول ہیں۔ توبہ، حق تعالی کا خوف، زہد، صبر، شکر، اخلاق اور صدق، توکل، محبت، رضا برقضا، فکر موت، یہ سب مجموعہ مل کر تیس اصول بن جاتے ہیں۔

بعض مشائخ نے توسل پانچ قسم بنایاہے۔

(۱) ’’ توسل بالدعاء‘‘

یعنی کسی مقبول درگاہ سے دعا کرائی جائے۔

(۲) ’’توسل بالاعمال‘‘

یعنی کسی عمل صالح کو  وسیلہ قضائے حاجات بنایا جائے۔

(۳) ’’توسل بالقول‘‘

یعنی وہ کلام پڑھا جائے جس سے یہ ظاہر کرنا ہو کہ یا اللہ! یہ کلام ودعا آپ کے مقبول وبرگزیدہ بندے کا ہے۔ جس پر آپ کی رحمت ہے جس کے پڑھنے سے آپ نے دعائیں قبول فرمائیں، لہٰذا اس کے وسیلہ سے میری بھی دعاء قبول فرمائیں۔

(۴)’’توسل بالفعل‘‘

کسی فعل کو وسیلہ بنایا جاوے قبولیت دعا کے لیے۔

(۵)’’توسل بالذات‘‘

کسی کی ذات بابرکات کا توسل دعا میں کیا جاوے۔

توسل بالدعاء کے ثبوت میں کافی روایات موجود ہیں۔ من جملہ ایک حدیث جس کو امام بخاریؒ نے روایت کیا ہے وہ یہ ہے:

’’فاتاہ ابو سفیان فقال یامحمد انک تأمر بطاعۃ اللہ وبصلۃ الرحم وان قومک قد ھلکوا فادع اللہ لھم‘‘

حدیث بہت لمبی ہے مختصر لکھی گئی ہے۔ قحط اور تنگی کا زمانہ تھا حضرت ابو سفیان رسول خداﷺکے پاس آئے۔ عرض کیا: ’’یا رسول اللہﷺ! آپ صلہ رحمی کا امر فرماتے ہیں۔ آپ کی قوم قحط سالی کی وجہ سے ہلاک ہورہی ہے۔ پس چاہیے کہ آپﷺان کے حق میں دعا فرمادیں تاکہ آپ کی دعاء سے قحط اور تنگی دور ہوجائے‘‘

اور ایک اعرابی نے ایک دفعہ قحط سالی سے تنگ آکر رسول خداﷺکے سامنے چار شعر پڑھے تھے آخری شعر یہ ہے:

ولیس لنا الا الیک فرارنا

واین فرار الناس الا الی الرسل

یعنی ہماری دوڑ آپ ہی تک ہے۔ کیونکہ مصیبت کے وقت لوگوں کا بھاگنا پیغمبروں کی طرف ہی ہوتا ہے۔

جب شعر ختم کرچکا تو جناب رسولﷺچادر مبارک کھینچتے ہوئے منبر پر چڑھے۔ اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء کی، اللہ تعالی سے بارش کی دعاء مانگی۔ اللہ تعالیٰ نے اس قدر بارش نازل فرمائی کہ پھر لوگ آئے اور عرض کرنے لگے’’الغرق الغرق‘‘ یاحضرت بارش کی وجہ سے لوگ غرق ہورہے ہیں۔ جناب رسول خداﷺ ہنس پڑے۔ (بیہیقی،عینی،شرح صحیح بخاری ص۳۱ ج۷)

مسلم شریف کی حدیث ہے:

’’خیر التابعین اویس قرنیؒ فمروہ فلیستغفی لکم‘‘ اوکما قال علیہ الصلوۃ والسلام‘‘

تابعین میں سے بہتر اویس قرنیؒ ہیں اس کو امر کرو کہ تمہارے لیے خدا سے بخشش کی دعاء مانگے۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی صالح بندے سے بخشش کی دعا بہتر ہے۔

توسل بالاعمال الصالحہ کا بھی ثبوت ملتا ہے۔ اصحاب رقیم کا مشہور قصہ ہے جس کو احادیث میں بیان کیا گیا ہے کہ تین شخص غار میں تھے، انہوں نے بارش سے بچنے کے لیے غار میں پناہ لی تھی۔ غار کے منہ پر چٹان آگئی، اس کا ہٹانا ناممکن ہوگیا۔ اس وقت انہوں نے اعمال صالحہ کے توسل سے دعاء کی۔ ایک نے اپنے والدین کی اطاعت کا وسیلہ پیش کیا۔ دوسرے نے اپنے کامل عفت اور زنا سے بچنے کا وسیلہ پیش کیا۔ تیسرے نے اپنی امانت ودیانت و احسان کا واسطہ دیا۔ سب نے کہا کہ اے اللہ! یہ سب اعمال ہم نے آپ ہی کی رضا وخوف سے کیے تھے۔ تو ہمیں اس مصیبت سے نجات دے۔ چنانچہ اللہ تعالی نے ان کی دعاء سے اس چٹان کو آہستہ آہستہ ہٹا دیا۔

توسل بالقول کابھی ثبوت ملتا ہے۔ کتاب انجاح الحاجۃ میں بعد تصحیح حدیث عثمان بن حنیف جس کو آگے بھی ذکر کیاجائے گا اور طبرانی نے کبیر میں عثمان  بن حنیف سے روایت کیا ہے کہ ’’ایک شخص حضرت عثمان بن عفانؓ کے پاس کسی کام سے جایا کرتا تھا وہ اس کی طرف التفات نہ فرماتے۔ اس نے عثمان بن حنیف سے کہا۔ انہوں نے فرمایا کہ وضو کرکے مسجد میںجا اور وہی دعاء جو عثمان بن حنیف کو سرور دو عالمﷺنے سکھلائی تھی، سکھلا کر کہا یہ پڑھ! چنانچہ اس نے یہی کیا اور حضرت عثمان کے پاس جو پھر گیا تو انہوں نے بڑی تعظیم وتکریم کی اور کام پورا کردیا۔‘‘ بیہقی نے اس کو دو طریق سے بیان کیا ہے اور طبرانی نے کبیر اور اوسط میں ایسی سند سے نقل کیا ہے جس میں روح  بن صلاح بھی ہے۔ جس میں ایک گونہ ضعف ہے مگر جلیل القدر محدثین نے مثلاً ابن حبان وحاکم رحمھم اللہ نے اس کی توثیق کی ہے۔ اگرچہ ایسا ضعف ایسے باب میں مضر نہیں ہے خصوصاً جب اور طریق صحیحہ سے اور توثیق محدیثین کے ساتھ نقل کی گئی ہو، وہ دعاء یہ ہے:

’’اللھم انی اسئلک واتوجہ الیک بنبیّک محمد نبی الرحمۃ یامحمد انی توجھت بک الی ربی لیقضی لی حاجتی ھٰذا اللھم اشفعہ فیّ‘‘

اے اللہ! میں آپ سے درخواست کرتا ہوں اور آپ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں بوسیلہ محمدﷺ نبی الرحمت کے۔ اے محمدﷺ میں آپ کے وسیلہ سے اپنی اس حاجت میں اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں تاکہ وہ پوری ہوجائے۔ اے اللہ! حضرت محمدﷺ کی شفاعت میرے حق میں قبول کیجیے۔

علامہ الخفاجی اپنی شرح ’’نسیم الریاض فی شرح القاضی عیاض‘‘ میں لکھتے ہیں:’’وکان ابن حنیف وبنوہ یعلمونہ الناس وقد حکی فیہ حکایات فیھا اجابۃ الدعا، من دعا بہ من غیر تأخر‘‘

ابن حنیف اور ان کے بیٹے یہ دعا لوگوں کو سکھلاتے تھے اور اس میں بہت سی حکایات منقول ہیں جس میں اسی دعا کی فی الفور قبولیت کا ذکر ہے۔

اس روایت سے توسل بعدالوفات ثابت ہوا کیونکہ جناب رسول اللہﷺجہاں میں اپنے جسد ظاہری سے رونق افروز نہ تھے ورنہ جناب رسول اللہﷺ اب بھی عالم برزخ میں روح وجسد دونوں کے لحاظ سے رونق اور زندہ بحیات قویہ ہیں۔

توسل بالفعل کا ثبوت یہ ہے کہ دارمی میں ابو الجوزاء سے روایت ہے کہ مدینہ منورہ میں سخت قحط ہوا۔ لوگوں نے حضرت عائشہؓ سے شکایت کی۔ آپؓ نے فرمایا کہ سرور دوعالمﷺکی قبر کو دیکھ کر اس کے مقابل آسمان کی طرف اس میں ایک سوراخ کردو یہاں تک کہ اس کے  اورآسمان کے درمیان حجاب نہ رہے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا تو بہت زور کی بارش ہوئی۔

اس توسل کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ! یہ آپ کے نبیﷺکی قبر ہے جس کو ہم تلبس جسد نبوی کی وجہ سے متبرک سمجھتے ہیں اور نبی کی ملابس چیز کو متبرک سمجھنا بوجہ اس کے کہ علامت ہے اعتقاد وعـظمت نبوی کی، پس ہم پر رحم فرما۔

صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین اپنی دعاؤں میں خواہ وسیلہ دعاء کا ہو یا اعمال صالحہ کا ہو یاقول وفعل کا ہو ہر ایک کو اپنے موقع پر وسیلہ بناکر سوال کیا کرتے تھے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online