Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

تصوف اور جہاد (۹)

تصوف اور جہاد (۹)

محمد عبید الرحمن

(شمارہ 576)

اقدامی جہاد کے آداب و احکام

جمہور فقہاء رحمہم اللہ کے مذہب کے مطابق اقدامی جہاد کا اقدام اگر ان کافروں پر ہے جن تک دین کی دعوت نہیں پہنچی تو ان پر حملہ کرنے سے پہلے انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دینا لازم ہے، اگر وہ اسلام قبول نہ کریں تو ان سے جزیہ کا مطالبہ کیا جائے، اور اگر جزیہ دینے سے بھی انکار کر دیں تو اب ان سے قتال کیا جائے گا۔ اور اگر ان تک اسلام کی دعوت پہنچ چکی ہے تو پھر حملے سے پہلے ان کو دعوت دینا مستحب ہے لازم نہیں۔

علامہ کاسانی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

فان کانت الدعوۃ لم تبلغھم فعلیھم الافتتاح بالدعوۃ الی الاسلام باللسان… و لایجوز لھم القتال قبل الدعوۃ۔

’’اگر ان کفار کو دعوت نہ پہنچی ہو تو لشکر مسلمین پر لازم ہے کہ انہیں دعوت دے… اور دعوت دئیے بغیر ان سے قتال کرنا جائز نہیں۔‘‘

(بدائع الصنائع/ کتاب السیر/ ج۶/ ص ۶۱/ ط، رشیدیہ کوئٹہ)

کچھ آگے چل کر لکھتے ہیں:

 فان کانت قد بلغتھم جاز لھم ان یفتتحوا القتال من غیر الدعوۃ… لکن مع ھذا الافضل ان لایفتتحوا القتال الا بعد تجدید الدعوۃ۔ و قد روی ان رسول اللہ ﷺ: ’’لم یکن یقاتل الکفرۃ حتی یدعوھم الی السلام فیما کان دعاھم غیر مرۃ۔‘‘

اور اگر انہیں دعوت پہنچ چکی ہو جائز ہے کہ تجدیدِ دعوت کے بغیر قتال کا آغاز کر دیں۔ البتہ پھر بھی افضل یہ ہے کہ قتال سے پہلے دعوت کی تجدید کر لیں۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم قتال سے پہلے ان کافروں کو بھی دعوت دیا کرتے تھے جنہیں پہلے دعوت دی جا چکی ہوتی تھی۔

(بدائع الصنائع/ کتاب السیر/ ج۶/ ص ۶۲/ ط، رشیدیہ کوئٹہ)

اقدامی جہاد کی حکمت اور فائدہ

اقدامی جہاد کی بدولت وہ کافر جو مسلمانوں کے خلاف کاروائی کا ارادہ رکھتے ہوں دب جاتے ہیں۔ اور مسلمانوں کے دشمن خوف زدہ اور مرعوب ہو کر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں نہیں کرتے۔ اس لئے کافروں کو مرعوب رکھنے اور انہیں اپنے غلط عزائم کی تکمیل سے روکنے اور دعوتِ اسلام کو دنیا کے ایک ایک چپے تک پہنچانے اور دعوت کے راستے سے رکاوٹیں ہٹانے کے لئے اقدامی جہاد فرض کیا گیا ہے۔ اور مسلمانوں کے امام کی ذمہ داریوں میں پوری تاکید کے ساتھ یہ ذمہ داری شامل کر دی گئی ہے کہ وہ زیادہ نہیں تو کم سے کم سال میں ایک یا دو  مرتبہ اقدامی جہاد کا فریضہ اداء کرے اور دشمنوںکے ملکوں اور علاقوں پر چڑھائی کرے تاکہ وہ سکون کی نیند نہ سو سکیں اور انہیں جنگ اور جنگ کے مابعد پیش آنے والے حالات اور تباہ کاریوں سے نمٹنے میں اتنی فرصت ہی نہ ملے کہ اسلام اور مسلانوں کے خلاف سازشیں کریں۔ اور مسلمان عوام پر لازم ہے کہ اس کام میں اپنے امیر اور امام کا مکمل تعاون کریں۔ اگر امام ایسا نہیں کرے گا تو گناہ گار ہو گا۔

فتا ویٰ شامی میں ہے:

فیجب علی الامام أن یبعث سریۃ الی دار الحرب کل سنۃ مرۃ أو مرتین، و علی الرعیۃ اعانتہ… فان لم یبعث کان کل الاثم علیہ۔

’’ مسلمانوں کے امام کے لئے ضروری ہے کہ وہ دارالحرب کی طرف ہر سال ایک یا دو مرتبہ لشکر بھیجے اور عوام پر ضروری ہے کہ وہ اس میں اپنے امام کی مدد کریں، اگر امام لشکر نہیں بھیجے گا تو گناہ گار ہوگا‘‘۔

 (فتاویٰ شامی/ کتاب الجہاد/ مطلب: المرابط لایسأل فی القبر کالشہید/ ج۶/ ص ۱۹۵/ ط، رشیدیہ کوئٹہ)

نبی کریم ﷺ کے زمانے کا اکثر جہاد ’’اقدامی‘‘ تھا، اور قرآن مجید نے بھی مسلمانوں کو اقدامی جہاد کی تلقین فرمائی ہے۔  اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر اقدامی جہاد ہوتا رہے تو دفاعی جہاد کی ضرورت ہی پیش نہ آئے… لیکن جب مسلمان اقدامی جہاد کے فریضے سے غفلت کرتے ہیں تو انہیں دفاعی جہاد پر مجبور ہونا پڑتا ہے، جیسا کہ اس دور میں ہو رہا ہے۔

شرائط جہاد

(۱) اسلام: کیونکہ تمام نصوص میں اہل ایمان کو خطاب کر کے جہاد کا حکم دیا گیا ہے اور اس لئے بھی کہ جہاد عبادت ہے اور عبادت کے مکلف صرف اہل ایمان ہیں۔

(۲) بالغ ہونا:

(۳) عاقل ہونا: کیونکہ تمام تکالیفِ شرعیہ عاقل، بالغ مسلمان پر ہیں اور جہاد بھی انہیں تکالیف شرعیہ اور احکام شرعیہ میں سے ہے۔

(۴) مرد ہونا: بخاری شریف کی روایت ہے، حضرت اماں عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے جہاد میں نکلنے کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تم عورتوں کا جہاد حج ہے۔‘‘

(۵) آزاد ہونا: غلام پر اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکلنا فرض نہیں۔

(۶) قدرت ہونا: اس کے دو پہلو ہیں۔

(الف) بدن کی سلامتی: ایسا شخص جو جسمانی معذوری کی وجہ سے جہاد میں شرکت سے قاصر ہو وہ جہاد کا مکلف نہیں، مثلاً اندھا، لنگڑا، اور ایسے مرض کا شکار جو چلنے پھرنے سے معذور کردے۔ معمولی مرض یا ایسا عذر جو جہاد میں مانع نہ ہو مستثنیٰ نہیں۔

(ب) زادِ راہ کا ہونا: البتہ جب حکومت یا مسلمانوں کی جماعت اسباب کی فراہمی کی ذمہ داری لے لے تو یہ ان کے ذمہ ہونے کی وجہ سے شرط سے ساقط ہو جاتا ہے۔

(وضاحت: آخری شرط کے دو جزوں کو بعض حضرات نے الگ الگ کر کے مستقل شرط شمار کیا ہے، یوں ان کے نزدیک شرائطِ جہاد کی تعداد سات ہو گئی۔)

اسلام میں جہاد کے فرض ہونے کے لئے صرف یہی شرائط ہیں جو اوپر نقل کی گئیں۔ ان کے علاوہ اور کوئی شرط اہل السنۃ و الجماعۃ کے نزدیک جہاد کے فرض ہونے کے لئے نہیں ہے۔ جس جس میں یہ شرطیں مکمل ہوتی جائیں گی اس پر جہاد فرض ہوتا چلا جائے گا، خواہ ’’فرض عین‘‘ ہو کر فرض ہو… خواہ ’’فرض کفایہ‘‘ ہو کر۔ نفسِ فرضیت ان شروط سے ہو جائے گی۔ فرض عین اور فرض کفایہ کا فیصلہ ان تفصیلات اور شرائط کی روشنی میں ہو گا جن کا تذکرہ پہلے ہو چکا۔

جہاد کی یہ شرائط تقریباً تمام کتب فقہ میں پوری صراحت اور وضاحت کے ساتھ مختلف پیرایوں میں موجود ہیں۔ اوپر جو کچھ نقل کیا گیا وہ فقہاء کرامؒ کی انہی تصریحات کا خلاصہ تھا۔ ذیل میں ان عبارتوں میں سے کچھ عبارتیں بغیر ترجمے کے نقل کی جاتی ہیں۔

٭ یشترط لوجوب الجھاد سبعۃ شروط: الاسلام، و البلوغ، و العقل، و الحریۃ، والذکورۃ، و السلامۃ من الضرر، و وجود النفقۃ۔

فاما الاسلام و البلوغ و العقل فھی شروط لوجوب سائر الفروع الشرعیۃ، و اما الحریۃ، فلأن النبی کان یبایع الحر علی الاسلام و الجھاد، و یبایع العبد علی الاسلام دون الجھاد و اما الذکورۃ فلحدیث عائشۃؓ عند البخاری وغیرہ: ’’قلت:  یا رسول ﷺ! نری الجھاد افضل الأعمال، أفلانجاھد؟ فقال: لکن افضل الجھاد: حج مبرور‘‘ و اما السلامۃ من الضرر ای العمی و العرج و المرض، فلقولہ تعالیٰ:  {لیس علی الاعمی حرج، ولا علی الاعرج حرج، ولا علی المریض حرج}۔ (النور۲۴/ ۶۱) و اما وجود النفقۃ فلقولہ تعالیٰ: {لیس علی الضعفاء و لا علی المرضی و لا علی الذین لایجدون ما ینفقون حرج اذا نصحوا للہ و رسولہ}۔ (التوبۃ ۹/۹۱) و لأن الجھاد لایمکن الا بآلۃ، فتطلب القدرۃ علیھا۔ و ھذا فی الماضی، و اما فی عصرنا فالدولۃ تمد المجاھد بالسلاح و النفقۃ۔

(الفقہ الاسلامی و أدلتہ للزحیلی/ ص ۵۸۵۱/ ج ۸/ فصل اول/ ط، رشیدیہ کوئٹہ)

(جاری ہے)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online