Bismillah

606

۲۵ذیقعدہ تا۱ذی الحجہ۱۴۳۸ھ  بمطابق    ۱۸تا۲۴ اگست ۲۰۱۷ء

فلسفۂ زکوٰۃ۔۲

فلسفۂ زکوٰۃ۔۲

از قلم: امام الاولیاء، شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ

(شمارہ 598)

کس شخص کے ذمہ زکوٰۃ لازم ہے

آزاد، عقل مند، بالغ مسلمان جب نصاب کا مالک ہو اور اس کی ملکیت میں مال کو ایک سال گزر جائے یعنی غلام، پاگل، نابالغ اور کافر کے ذمہ ذکوٰۃ نہیں۔

کس مال سے زکوٰۃ لی جاتی ہے

اسلامی شریعت میں پانچ قسم کے مالوں سے زکوٰۃ وصول کی جاتی ہے۔

۱۔ چوپاؤں سے جو سال کے اکثر حصہ میں جنگل میں چرنے والے ہوں۔

۲۔ کھیتی کی اس پیداوار سے جو سال بھر رہ سکتی ہے۔ مثلاً سبزیاں چونکہ خشک کر کے سال بھر رکھی نہیں جاتیں ان پر زکوٰۃ نہیں ہوگی اور ہر قسم کے اناج پر ہوگی کیونکہ وہ رکھا جاتا ہے۔

۳۔ مال تجارت۔

۴۔ دفن شدہ خزانہ اگر کسی کو مل جائے۔

۵۔ سونا اور چاندی سے سکہ یا زیور کی صورت میں ہوں یا ٹکڑے کی صورت میں۔

زکوٰۃ کب وصول کی جاتی ہے

چوپاؤں، مال تجارت اور سونے چاندی سے سال گزرنے کے بعد، کھیتی کی پیدا وار سے جب فصل اٹھائی جائے، دفینہ سے جب کسی کو ملے۔

نصاب زکوٰۃ سونے اور چاندی کا نصاب

چاندی کا نصاب ساڑھے باون تولے ہے۔ اس سے کم مقدار میں زکوٰۃ فرض نہیں ہے اور چاندی کی زکوٰۃ یہ ہے کہ ہر ساڑھے باون تولہ میں سے  ایک تولہ تین ماشے اور پانچ رتی چاندی دی جائے۔

سونے کا  نصاب ساڑھے سات تولے ہے اور زکوٰۃ میں چالیسواں حصہ دینے کا حکم ہے۔ یعنی ہر ساڑھے سات تولہ سے دوماشہ دورتی سونا دینا چاہیے۔

بکریوں کا نصاب

ان بکریوں پر زکوٰۃ ہوگی جو جنگل میں چرنے والی ہوں اور زکوۃ سال گزرنے کے بعد فرض ہوگی۔ چالیس بکریوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہوگی۔ پھر چالیس سے لے کر ایک سو بیس تک ایک بکری ادا کرنی ہوگی۔ ایک سو بیس سے دو سو تک دو بکریاں دینی ہوںگی۔ دو سو ایک سے تین سو نناوے تک تین بکریاں چارسو میں چار بکریاں۔ اس کے بعد ہر ایک سو پر ایک بکری بڑھتی جائے گی، بھیڑوں کا بھی یہی نصاب ہے۔

گائے کا نصاب

گائے کے مال میں زکوٰۃ تب ہوگی جب جنگل میں چرنے والی ہوں۔ ۳۰ سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے اور ۳۰ پر جب ایک سال گزرجائے تب ایک سال کا نر یا مادہ زکوٰۃ میں دیا جائے اور چالیس میں دوسال کا نر یا مادہ زکوٰۃ میں دیا جائے۔ ۴۰ سے ۵۹ تک امام ابو یوسف ومحمدؒ کے ہاں وہی ۴۰ والی زکوٰۃ ہی رہے گی۔ جب ۶۰ ہوجائیں  تب ایک سال کے دونر یا مادہ دی جائیں۔ ۷۰ میں ایک ایک سال کا اور ایک دو سال کا نر یاما دہ دی جائے۔ ۸۰ میں دو دو سال کے نر یا مادہ دی جائیں۔ ۹۰ میں تین ایک ایک سال کے  نر یا مادہ دی جائیں۔ ۱۰۰ میں دو ایک ایک سال کے نر یا مادہ اور ایک دو سال کا نر یا مادہ دیا جائے۔  اس کے بعد ہر دس عدد پر ایک سال یا دوسال کے نر یا مادہ کی مقدرار بڑھتی جائے گی۔ بھینس کا نصاب بھی گائے والا ہی ہے۔

اونٹ کا نصاب

پانچ اونٹ سے کم میں زکوٰۃ نہیں۔ پانچ اونٹ جنگل میں چرنے والوں پر سال گزرنے کے بعد ایک بکری زکوٰۃ ہو گی اور نو تک یہ رہے گی۔ ۱۰ سے ۱۴تک دو بکریاں رہیں گی۔ ۱۵ سے ۱۹ تک تین بکریاں ہوں گی۔ ۲۰ سے ۲۴ تک چار بکریاں ہوں گی ۲۵ سے ۳۵ تک ایک سال کی ایک اونٹنی زکوٰۃ میں دی جائے گی۔ ۳۶ سے ۴۵ تک ایک اونٹنی دوسال کی زکوٰۃ میں میں دی جائے گی۔ ۴۶ سے ۶۰ تک ایک اونٹنی تین سال کی زکوٰۃ میں دی جائے گی۔ ۶۱سے ۷۵ تک ایک اونٹنی چار سالہ زکوٰۃ میں دی جائے گی۔ ۷۶ سے ۹۰ تک دو اونٹنیاں دو سالہ دی جائیں گیں۔ ۹۱ سے ۱۶۰ تک دو اونٹنیاں دی جائیں گی۔ اس تعداد کے بعد پھر از سر نو نصاب شروع کیا جائے گا۔ یعنی اتنے اونٹوں کا تو یہی رہے گا جو زیادہ ہونگے ان کا نصاب پھرپانچ سے شروع ہوگا۔

گھوڑے کا نصاب

گھوڑے جب جنگل میں چرنے والے ہوں اور نر اورمادہ دونوں ملے جلے ہوں (کیونکہ محض نر یا محض مادہ پر زکوٰۃ نہیں ہے) مالک کو اختیار ہے چاہے تو ہر گھوڑے کی زکوٰۃ ایک دینار رائج الوقت دے یا قیمت کر کے چاندی کے نصاب کی زکوٰۃ ادا کردے۔

گدھے اورخچر کی زکوٰۃ

گدھے اور خچر میں کوئی زکوٰۃ نہیں ہے البتہ اگر تجارت کے لیے ہوں تو ان کی قیمت پر دوسرے مال تجارت کی طرح زکوٰۃ ہوگی۔

مال تجارت

مال تجارت خواہ کسی بھی قسم کا ہو اس پر تب زکوٰۃ لازم آتی ہے جب اس کی قیمت سونے چاندی کے نصاب زکوٰۃ کو پہنچ جائے اور مالک کے قبضہ میں ایک سال کا عرصہ بھی گزر گیا ہو۔ جس ماہ میں زکوٰۃ ادا کرنی ہو اس ماہ میں موجودہ مال کی قیمت پر زکوٰۃ دی جائے گی درمیان سال میں جو کمی بیشی ہوتی رہی ہے اس کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔

معدن (کانیں) اور دفینہ کی زکوٰۃ

معدن اور دفینہ میں سے فوراً (یعنی سال کی کوئی شرط نہیں ہے) پانچواں حصہ بیت المال میں بھیج دیا جائے گا۔

زمین کی پیداوار کی زکوٰۃ

بارانی پانی کی کاشت سے دسواں حصہ زکوٰۃ نکالی جاتی ہے اور کنویں سے کھینچ کو جو پانی کھیت کو دیا جائے اس سے بیسواں حصہ پیداور کا زکوٰۃ ادا  کی جائے۔ اس مسئلہ کی مزید تفصیلات مقامی محقق علماء سے معلوم کی جائیں۔

مصارف زکوٰۃ

اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے:

انما الصدقٰت للفقراء والمساکین والعٰلمین علیھا والمؤلفۃ قلوبھم وفی الرقاب والغارمین وفی سبیل اللہ وابن السبیل فریضۃ من اللہ واللہ علیم حکیم۔

ترجمہ: زکوٰۃ جو ہے سو وہ حق ہے مفلسوں کا اور محتاجوں کا اور زکوٰۃ کے کام پر جانے و الوں کا اور جن کی دل جوئی کرنا (منظور) ہے اور گردنوں کے چھڑانے میں اور قرض داروں کے قرضہ میں اور جہاد میں اور مسافروں میں فرض ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔

زکوٰۃ کے آٹھ مصارف ہیں

اول: فقراء جن کے پاس کچھ نہ ہو۔

 دوم: مساکین جن کی ضرورت کے مطابق رزق مسیر نہ ہو۔

 سوم:عاملین جو مسلمان بادشاہوںکی طرف سے صدقات وٖغیرہ وصول کرنے پر مامور ہوں۔

چہارم:مؤلفۃالقلوب جن کے اسلام لانے کی امید ہو یا اسلام میں کمزور ہوں، اکثر علماء کرام کے نزدیک رسول اللہﷺکے بعد یہ مد اب نہیں رہی۔

پنجم: قیدیوں کو فدیہ دے کر آزاد کرانا، غلاموں کو خرید کر آزاد کرانا یا غلاموں کا بدل کتابت ادا کرکے آزادی دلانا۔

ششم:مقروض کا قرض ادا کرنا یا جوشخص کسی ضمانت میں پھنس گیا ہو اس کی زر ضمانت ادا کر دینا۔

ہفتم:فی سبیل اللہ جہاد میں جانے والوں کی اعانت کرنا۔

ہشتم:مسافر جو حالت سفر میں مالک نصاب نہ ہو خواہ اپنے گھر میں دولت مند ہی ہو۔

ضروری انتباہ

احناف کرام کے ہاں تملیک (مالک بنادینا) ہر صورت میں ضروری ہے اور فقر شرط ہے۔

فلسفہ زکوٰۃ کی تمہید

برادران اسلام! جس خدا تعالیٰ نے اس چرخ نیلگوں اور قطعات ارضیہ بوقلموں کو پردہ عدم سے صفحۂ ہستی پر جلوہ نما فرمایا وہ بے نظیر و بے مثال ہے، وہ اکیلا ہے، نہ اس کا ماں باپ، نہ اس کے بیٹے بیٹیاں، نہ کوئی اس کا بھائی، نہ بہن چنانچہ اس کی شان ذی شان کا قرآن میں یہ بیان ہے:

قل ھو اللہ احد۔ اللہ الصمد۔ لم یلد ولم یولد۔ ولم یکن لہ  کفوا احد۔

مگر اس کی مخلوق کی اتنی جنسیں، انواع اور اصناف ہیں جن کی تعداد وشمار سوائے خدا تعالی کے اور کوئی نہیں جانتا اور پھر ہر قسم کی مخلوقات کی طاقتیں تاثیریں اور خاصیتیں جدا جدا ہیں۔ چنانچہ انسان بھی اس قاعدہ کلیہ سے مستثناء نہیں ہے۔ اول تو اس کی بھی دوقسمیں ہیں عورت اور مرد۔ دونوں میں سے ہر ایک کے  جزبات اور ملکات علیہدہ علیہدہ ہیں اور جس طرح  مردوں میں اپنی اپنی استعداد کے لحاظ سے غیر متناہی درجے ہیں اسی طرح عورتوں میں بھی بے انتہا قسمیں ہیں۔  مردوں میں ایک طرف مثلاً عالی دماغ بادشاہ، قابل ترین وزیر، بہادرترین سپہ سالار، اعلیٰ درجہ کے مقنن، سحر بیان شاعر اور محنت کے پتلے پائے جاتے ہیں اور دوسری طرف شرارت پسند، مفسد، خطرناک چور، بے رحم ڈاکو، انتہادرجہ کے کمینہ، اعلیٰ درجہ کے نکھٹو بھی دیکھے جاتے ہیں۔

نتیجہ عمل

اس نظام عالَم کا بغور مطالعہ کیا جائے تو اس امر میں شک نہیں رہتا کہ ہر عمل کا اثر اس کے عامل پر ضرور پڑتا ہے اور واقعی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ مثلاً جو شخص اپنی حلال کی  کمائی کو نہایت ہی کفایت شعاری سے خرچ کرتا ہے اسے آپ عموماً خوشحال دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بے نیاز، لوگوں کی نظروں میں معزز پائیں گے بخلاف اس کے محنت سے جی چرانے والے اور جو ہاتھ آئے اسے بے طرح اڑانے والے کو ہمیشہ تنگ دست، فاقہ مست، دست سوال دراز کرنے والا اور ذلیل دیکھیں گے۔ لہٰذا یہ تو خلاف انصاف ہے کہ اعلیٰ درجہ کے محنتی لوگ جو کمائیں انہیں مجبور کیا جائے کہ بدمحنت اور نکھٹوؤں کو برابر حصہ بانٹ دیں۔ ان سے زائد ایک کوڑی نہ لیں۔ اس سے نظام عالم میں سخت برہمی ہوگی کہ سست مزاج، نکھٹو اور بد محنتوں کو اور ڈھارس مل جائے گی بلکہ آہستہ آہستہ کئی آدمی اس طریق زندگی کو اختیار کرنا شروع کردیں گے۔ چنانچہ آج کل دیکھ لیجئے چونکہ مسلمان صدقہ وخیرات عام طور پر دیتے ہیں اس لیے بیسیوں کی تعداد میں عیال دار مسلمان بڑے بڑے شہروں میں ایسے ملیں گے جو محنت اور کمانے سے گریز کرتے ہیں اور ان کا زریعہ معاش ہی گدا گری ہے۔ انہیں مزدوری کی لیے ترغیب دی جائے تو انکار کرتے ہیں کیونکہ ایک مزدور کی یومیہ مزدوری سے وہ زیادہ پیسہ مانگ کر جمع کرلیتے ہیں۔

دفعات فلسفہ زکوٰۃ

دفعہ اول

زکوٰۃ دینے والے کے اخلاق کی اصلاح

(الف) برادران اسلام! انسان کا ہر عمل دو چیزوں سے  مرکب ہے۔ صورت عمل، روح عمل۔ صورت عمل کے ساتھ روح عمل نہ پائی جائے تو وہ انسان بے  جان کی طرح مردہ ہے۔  روح کی زکوٰۃ یہ ہے کہ انسان اپنے گاڑھے پسینے کی کمائی جو ایک لحاظ سے اس کی جان کا عرق ہے رضائے مولیٰ کے لیے قربان کرکے یہ ثبوت دیتا ہے کہ اے میرے مولا! تو مجھے اس  محبوب مال سے بھی زیادہ محبوب ہے۔ اس جزبۂ صادقہ کا پیدا ہونا تمام اخلاق کا سنگ بنیاد ہے کیونکہ مال اگر اللہ تعالیٰ سے زیادہ محبوب ہو اورمال دار اپنے فرائض کو انجام نہ دے تو خطرہ ہے کہ اسی بدخلقی کے باعث جہنم میں جائے۔

ویل لکل ھمزۃن الذی جمع مالا وعددہ۔

لہٰذا رضائے مولا کے لیے خرچ کرنے والا اللہ تعالیٰ کا شکر گزار کہلائے گا اور شکر گزاری بااخلاق انسان کا تمغۂ امتیاز ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو یہ نعمت نصیب فرمائے۔ آمین

(ب) زکوٰۃ اداء کرنے میں دل کو بخل کی پلیدی سے پاک کرنا مقصود ہے۔ جس طرح ناپاک کپڑا یا بدن پانی کے سوا پاک نہیں ہوسکتا اور پاک کیے بغیر نماز نہیں ہوسکتی اسی طرح جب دل بخل کی پلیدی سے پاک نہ ہو تو بارگاہ الٰہی میں مقبول نہیں ہوسکتا۔ گویا زکوٰۃ اور صدقات کے پانی سے بخل کی پلیدی کو دل سے دھویا جاتا ہے۔ اسی لیے زکوٰۃ رسول اللہﷺاور آپﷺکی اولاد پر حرام ہے اور بخل بیسیوں بداخلاقیوں کا موجب بن سکتا ہے۔ لہٰذا زکوٰۃ اور صدقات دینے والا تمام ان بد اخلاقیوں سے محفوظ ہوگا بلکہ اخلاق عالیہ کا علَم بردار ہوگا۔

دفعہ دوم

زکوٰۃ دینے والے کے لیے دنیاوی برکات

بعض احادیث میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

یا ابن آدم انفق انفق علیک

ترجمہ: ’’اے اولاد آدم! تو خرچ کر تو میں تم پر خرچ کروں گا۔‘‘

یعنی انسان جتنا زیادہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرے اللہ تعالیٰ اتنی ہی زیادہ برکت عطا فرماتے ہیں۔ اس کے علاوہ جن حاجت مندوں کی حاجت روائی کرے گا ان کے دل سے دعا نکلے گی اور ہر شخص اس کی تعریف سے رطب اللسان ہوگا۔ (اگرچہ اسے دنیاوی تعریف مقصود نہیں ہوگی مگر یہ چیز خود رو گھاس کی طرح خود بخود پیدا ہوجاتی ہے)

دفعہ سوم

زکوٰۃ دینے والے پر آخرت کی رحمت

یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَیَخَافُوْنَ یَوْمًا کَانَ شَرُّہٗ مُسْتَطِیْرًا۔ وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّاَسِیْرًا۔ اِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اللّٰہِ لَانُرِیْدُ مِنْکُمْ جَزَآئً وَّلَا شُکُوْرًا۔ اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا۔ فَوَقٰھُمُ اللّٰہُ شَرَّ ذٰلِکَ الْیَوْمِ وَلَقّٰھُمْ نَضْرَۃً وَّسُرُوْرًا

ترجمہ: (اللہ تعالیٰ کے بندے) منت پوری کرتے ہیں اور ایسے دن سے ڈرتے ہیں جس کی سختی عام ہوگی اور محض خدا کی محبت سے غریب اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ ہم تمہیں محض خدا کی رضا مندی کے لیے کھانا کھلاتے ہیں۔ ہم تم سے نہ بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ۔ ہم اپنے رب کی  طرف سے ایک سخت اور تلخ دن کا اندیشہ رکھتے ہیں سو اللہ تعالیٰ انہیں (اس اطاعت اور اخلاص کی برکت سے) اس دن کی سختی سے محفوظ رکھے گا اور انہیں تازگی اور خوشی عطا فرمائے گا۔ (یعی چہروں پر تازگی اور قلوب میں خوشی دے گا۔)

دفعہ چہارم

زکوٰۃ لینے والوں کی اخلاقی اصلاح

یہ ٹھیک ہے کہ بعض انسان پیدائشی خبیث الطبع واقع ہوتے ہیں اور اپنے خبث طبعی کے باعث بلاوجہ بھی لوگوں کو نقصان پہنچادیتے ہیں۔ مگر عام قاعدہ یہ ہے کہ انسان افلاس سے تنگ آکر طرح طرح کے جرائم کا عادی ہوجاتا ہے۔ چوری کرنا، ڈاکہ ڈالنا، قرضہ لے کر واپس نہ دینا، کئی طرح کے مکروفریب اور حیلہ سازیوں سے لوگوں کا  مال کھانا، یہ سب ناداری اور بے کاری کے  نتائج ہیں۔ اگر امراء باقاعدہ مستحقین پر زکوٰۃ تقسیم کریں تو ان شاء اللہ بہت سے جرائم پیشہ لوگ یقیناً اپنے جرموں سے باز آجائیں۔

دفعہ پنجم

زکوٰۃ لینے والوں کی معاشی اصلاح

نادار آدمی مخلوق خدا کے حقوق ادا کرنے سے عاجز ہوتا ہے اس لیے سارے حق دار اس سے ناراض ہوتے ہیں اور بے چارہ حق ادا کرنا بھی چاہے تو ادا نہیں کرسکتا۔ مد زکوٰۃ میں جب اسے روپیہ مل جائے گا، ماں باپ کی خدمت کرے گا وہ اس سے راضی ہونگے۔ بیوی کی ضروریات مہیا کردے گا وہ بھی دل سے دعادے گی۔ بچوں کی ضروریات پوری کرے گا وہ اس سے خوش ہونگے اور جب تمام حق داروں کے حق ادا کرے گا تو سابقہ تمام اعتراضات اور تمام کشیدگیاں کافور ہوجائیں گی۔

دفعہ ششم

زکوٰۃ لینے والوں کی اقتصادی اصلاح

امراء اپنے مال کی زکوٰۃ جب غرباء پر تقسیم کریں گے اور جب اتنا روپیہ غرباء کو بطور اعانت ہر سال تقسیم کیا جائے تو کیا پھر ممکن ہے کہ ان کی اقتصادی حالت کی اصلاح نہ ہو بالخصوص جبکہ وہ خود بھی نان شبینہ کے لیے ہاتھ پاؤں مار کر ’’قوت لایموت‘‘ روزانہ کمالائیں۔

دفعہ ہشتم

زکوٰہ سے سیاسی فائدہ

مجاہدین اسلام کی حرارت ایمانی حمیت اسلامی اور سرفروشی کا عشق ہی اسلام کی عزت کا محافظ اور اس کے وقار کا پاسبان ہے۔ اسلام نے جس دن سے دنیا میں جنم پایا، اسی دن سے مجاہدین اسلام کی مسلمانوں میں خدا کے فضل سے کبھی کمی نہیں ہوئی ہے۔ سب سے زیادہ ضرورت فقط اسی چیز کی ہے کہ مجاہد کی روٹی، کپڑے اور دوسری ضروریات جنگی کا انتظام کردیا جائے۔ چنانچہ مسلمانوں کی زکوٰۃ کا بیت المال جب ان چیزوں کا کفیل ہوجائے گا تو آپ دیکھیں گے کہ مجاہدین اسلام  کے جھنڈ در جھنڈ پرندوں کی طرح قطاریں باندھ کر میدان جہاد میں امنڈ کر آئیں گے۔ ادھر سے خدا تعالیٰ اس توحید پرست محافظ اسلام فوج کی پشت پناہی کے لیے زمین وآسمان کی تمام قوتوں کو مدد کے لیے میدان میں لا اتاریں گے۔

نتیجہ

سوائے اس کے اورکوئی نہیں نکل سکتا کہ اس سرفروش جماعت کے سرپرست پر خدا تعالیٰ کے حکم سے فتح کا سہرا باندھا جائے اور دشمن ناکام ونامراد ہوکر میدان سے شکست کھاکر منہ چھپا کرجائے گا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online