Bismillah

621

۱۹تا۲۵ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق۸تا۱۴دسمبر۲۰۱۷ء

جواہرِ جہاد (قسط۳۶)

جواہرِ جہاد (قسط۳۶)

از: امیر المجاہدین حضرت اقدس مولانا محمد مسعود ازہر صاحب دامت برکاتہم العالیہ

(شمارہ 613)

مجاہد اور امانت

اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے مالی معاملات کو’’امانت‘‘ پر لانے کے لئے قرآن مجید میں… آیتوں پر آیتیں اتاریں… مجاہدین کے زیادہ پھسلنے کا خطرہ ہوتا ہے… دووجہ سے… ایک یہ کہ وہ روئے زمین کے سب سے افضل اور مقبول بندے ہوتے ہیں تو شیطان اْن پر زیادہ زورمارتاہے… اور دوسرا اس لئے کہ یہ خیال دل میں جگہ پکڑتا ہے کہ جہاد میں ترقی کے لئے ڈنڈی مارنے میں کوئی حرج نہیں… قرآن مجید میں جہادکے حکم کے ساتھ… جوئے اور شراب کی بْرائی کا مسئلہ ذکر فرمادیا… اب جہاد کا جوئے اور شراب سے کیا تعلق؟… حضرت لاہوریؒ نے سمجھایا کہ جہاد کرنے والے یہ سوچ سکتے ہیں کہ جہاد کے لئے اموال کی بہت ضرورت ہوتی ہے… مال کی کمی کی وجہ سے کہیں ہمارا جہاد بند نہ ہوجائے تو ہم’’جوئے‘‘ کے ذریعہ مال حاصل کر لیتے ہیں… جوئے، لاٹری اور اس طرح کے ذرائع سے موٹی رقمیں حاصل ہوتی ہیں… اسی طرح اگر عین لڑائی کے وقت شراب پینے کی کچھ اجازت ہو جائے تو… جم کر  لڑنے میں آسانی ہو گی… شراب کا نشہ حواس کی لطافت کو کم کر دیتا ہے  کہ… ہر دیکھی سنی چیز کا انسان  اثر نہیں لیتا توبہادری سے لڑسکتا ہے… جواب دیا گیا کہ… جہاد تمہارا ذاتی کام نہیں ہے کہ ہر حال میں ہر حرام اور حلال ذریعے سے تم نے ضرور کرنا ہے… یہ جہاد تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اوراللہ تعالیٰ کا حکم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے طریقے سے ہی کرنا ہو گا… تب قبول ہو گا… اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کے مالی معاملات کو امانت پر لانے کے لئے… سورۃ انفال نازل فرمائی اور بہت سخت تنبیہ فرمائی… غزوۂ احد کے موقع پر ایسی شدید ڈانٹ پلائی کہ آئندہ کے لئے مال ہمیشہ اْن کے قدموں میں رہا کبھی اْن کے دل میں نہیں آیا… اور وہ سمجھ گئے کہ مال ہماری مجبوری نہیں ہے… مال ہو یا نہ ہو جہاد چلتا ہے اور خوب چلتا ہے… مگر جب خیانت ہو یا حرام مال ہو توجہاد… جہاد ہی نہیں رہتا… بس اس بارے میں امانت اْن کا حتمی شعار بن گئی۔

(مقامات/ مفتاح الرزاق)

’’اللہ‘‘ مسلمانوں کا وکیل

غزوہ اْحد کا زخمی لشکر… غمزدہ ، ٹوٹا پھوٹا، زخموں سے چور لشکر ابھی سنبھلا نہ تھا… اللہ اللہ! غزوہ اْحد کا درد اور اْس واقعہ کے زخم بہت گہرے تھے… ایسی کمزوری کی حالت میں تو انسان’’ہمت‘‘ سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے… تب اطلاع آگئی … بہت پکی خبر کہ ایک بہت بڑا لشکر پھر واپس پلٹ کر حملہ آور ہونے کو ہے… حضرات صحابہ کرامؓ نے فقیرانہ شان سے کہا…

’’حسبنا اللہ ونعم الوکیل‘‘

لشکر آرہاہے تو کیا ہوا؟ اللہ تعالیٰ موجود ہے… اور وہ ہمارا ہے، ہاں وہ ہمارا ہے… کیا کوئی لشکر اس سے طاقتور ہو سکتا ہے؟… وہ آسمان و زمین کو ایک کلمہ سے پیدا فرمانے والا ہمارا’‘وکیل‘‘ ہے… زخموں سے چور چور لشکر نے جب اللہ تعالیٰ کو اپنا ’’وکیل’’ بنا لیا تو طاقتور دشمنوں کے دل خوف اوررعب سے بھر گئے… زمین کے تمام قرینے بدل گئے… کائنات کے مالک نے عمومی قوانین کو وقتی طو پر تبدیل فرما دیا… اور غزوہ حمراء الاسد کے زخمی مجاہدین خوشیوں، نعمتوں اور رحمتوں سے مالا مال ہو کر واپس مدینہ پہنچ گئے… اس واقعہ کی تفصیل بڑی شاندار ہے، دل چاہتا ہے بار بار لکھی جائے، پڑھی جائے اور سنی جائے… اور پھر ہر مجاہد کے دل میں یہ دوکلمے ایسے بیٹھ جائیں کہ… ساری دنیا کے کافر لرز اٹھیں…

’’حسبنا اللہ ونعم الوکیل‘‘

مگر آج اس داستان کو چھوڑتے ہیں… اور انہی دو کلموں میں آگے بڑھتے ہیں… مگر پہلے آپ ایک بات بتائیں!… اگر اللہ تعالیٰ کسی انسان کو کوئی خوشی دے تو اسے محسوس کرنا چاہئے یا نہیں؟…

شکرانے کے نوافل، شکرانے کے الفاظ، تشکر کے آنسو اور دل میں اپنے رحیم و کریم مالک کی محبت… عربی زبان کا ایک مقولہ ہے…

’’یَا ظالم! لَکَ یومٌ‘‘

اے ظالم! تیرے لئے بھی ایک دن ہے…

یعنی ظلم پائیدار نہیں ہوتا، ایک دن ختم ہوجاتا ہے… اورپھرظالم کی طرف ہمیشہ ہمیشہ کے لئے لوٹ جاتا ہے… اے ظالم! تیرے لئے بھی ایک ایسا دن آنے والا ہے جب یہ ظلم واپس تجھ پر لوٹے گا… اچھا چھوڑیں اس بات کو آپ سب لوگ خبریں پڑھتے اور سنتے ہیں… یہ بتائیں کہ پرویز مشرف آج کہاں ہے؟… اور وہ آج کیا ہے؟… وہ جس کی’’ میں میں‘‘ نہ تھمتی تھی … وہ جو جیلیں بھرنے کاعادی تھا… وہ جس کے کالے دور کے آپریشنوں سے شہر جلتے تھے… وہ جو’’کالعدم‘‘ قرار دینے کا شوقین تھا… وہ جو بسے بسائے گھروں کو’’سب جیل‘‘ قرار دے کر آہیںکماتاتھا… آج وہ کہاں ہے؟…

’’یَا ظالم! لَکَ یومٌ‘‘

وہ آج ’’کالعدم‘‘ ہو چکا… ملک کے کسی بھی حلقے سے انتخابات لڑنے کے لئے نااہل اور کالعدم… وہ آج خود آپریشن کی زد میں ہے… وہ آج دھمکیاں نہیں صفائیاں دے رہا ہے… مگر کوئی نہیں سنتا… اْس کا شاندار محل آج ایک’’سب جیل‘‘ ہے… اور جیل پولیس کے حوالدار آج اْس کے’’سر‘‘ ہیں… وہ فرعون کی طرح’’غرق‘‘ ہو جاتا یہ بھی اچھا تھا مگر فرعون نے اپنی زندگی میں اپنی ذلت صرف چند لمحات دیکھی… اور پھر برزخ کی آگ میں جا گرا…وہ ابو جہل کی طرح مارا جاتا تب بھی بہت اچھا تھا… مگر ابو جہل نے اپنی ذلّت کا منظر اپنی زندگی میں تھوڑی دیر دیکھا جب وہ زخمی ہو کر گرا… اورسیدنا عبداللہ بن مسعودؓ اْس کے سینے پر جا بیٹھے… مگر’’پرویز مشرف‘‘ اپنی زندگی میں رات، دن ذلت دیکھ رہا ہے… نہ حکومت رہی نہ اقتدار، نہ فوج رہی نہ پولیس… نہ’’میں میں‘‘ رہی اور نہ آرڈر آرڈر… ساری دنیا کا کفر آج بھی اْس کے ساتھ ہے مگر کوئی بھی اْسے ذلت سے نہیں نکال پا رہا… اب نکال بھی لیں تو کیا فائدہ؟ممکن ہے وہ اْسے بھگا کر لے جائیں مگر قدرت نے تو آنکھوں والوں کے لئے عبرت کی مثال قائم فرما دی ہے… پرویز مشرف نے اس زمانے میں روئے زمین کی واحد اسلامی حکومت کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا… محض اپنی بزدلی اور اپنے حرص کی تکمیل کے لئے… آہ! امارتِ اسلامیہ، آہ! امارتِ اسلامیہ… پرویز کا یہ جْرم اْس کے تمام جرائم سے بھاری ہے…اس جرم کی تفصیل لکھوں تو قلم اور کاغذ بھی رو پڑیں… آہ!امارتِ اسلامیہ… بیس لاکھ شہداء کرام کے خون سے قائم ہونے والی دنیا کی وہ واحد حکومت جہاں قرآن مجید کی روشنی میں فیصلے ہوتے تھے… وہ خوشبودار وہ امن و امان اور انوارات والی حکومت… قندھار سے کابل تک گاڑی دوڑاتے تھے نہ خوف نہ کوئی خطرہ… ڈرائیور بھی اونگھتے رہتے تھے کہ فضائیں بھی ایمان والوں کے ساتھ تھیں… وہ بت شکن اسلامی حکومت، وہ مسلمانوں کے لئے پرسکون گہوارہ… ہاں! ماں کی گود جیسی اسلامی حکومت…وہ مہمان نواز… وہ غیرت مند… وہ بہادر اسلامی حکومت…

سبحان اللہ! ملک کے حکمران، عوام کے خادم اور نوکر تھے… اور امیر المؤمنین ہر طرح کے ظلم، حرص، لالچ او رگندگی سے پاک اسلام اور مسلمانوں کے مخلص خادم! صدیوں بعد مسلمانوں نے وہ مناظر دیکھے ، جنہیں دیکھنے کے لئے چار سو سال سے آنکھیںترستی ترستی روتی بلکتی… بند ہوجاتی تھیں… شیخ موسیٰ روحانیؒ  جیسے زندہ دل ولی نے ایک نظر امارتِ اسلامیہ کو دیکھا تو بے اختیار پکار اٹھے… ارے یہ تو خلافت راشدہ کے دور کا نمونہ ہمارے زمانے میں رب کریم نے عطاء فرما دیا ہے… ہم قندھار کے ایک مکان میں بیٹھے تھے کہ ایک گاڑی اندر آکر رْکی… گاڑی میںصرف ایک آدمی تھا وہی خود ڈرائیور!وہ گاڑی سے اْتر کر ہماری طرف آیا، کسی نے کان میں بتایا کہ ملکِ افغانستان کا ’’چیف جسٹس‘‘ ہے… سبحان اللہ! تھوڑی دیر بعد اْس خوش جمال، خوش خصال قاضی کو دیکھا کہ دو زانوں بیٹھا علماء سے درخواست کر رہا ہے کہ … اسلامی عدالتی نظام کے بارے میں میری مزید رہنمائی فرمائیں تاکہ اس ملک میں ہر فیصلہ اللہ تعالیٰ اور اْس کے رسولﷺ کے حکم کے مطابق ہو… سات سال کی حکومت میں ڈاکو گم ہو گئے، لٹیرے غائب ہو گئے یا شاید تائب ہوگئے… قتل و غارت بند ہوگئی… اور چور اچکے ڈھونڈنے سے بھی نہ ملتے… آہ! وہ عید کا پْرشکوہ اجتماع… تاحد نظر پھیلے عماموں والے اونچے سر… آہ! وہ اسلام کی قوت اور شوکت کے عجیب مناظر… ہمارے بڑوں نے چار صدیاں ایسے مناظر دیکھنے کے لئے طرح طرح کی محنتیں کیں… وہ بامیان کے بتوں کا ایک دھماکے کے ساتھ اْڑجانا… وہ قندھار کے ایئر پورٹ پرمشرک جسونت سنگھ کا سرنگوں ہونا… وہ دنیا بھرکی سعید روحوں کا کھنچ کھنچ کر افغانستان کی طرف آنا… پرویز مشرف نے ایک ٹیلیفون پر غلامی کی کالک منہ پر ملی اور امارتِ اسلامیہ کے پاکیزہ عمامے کو خاک و خون میں تڑپا دیا… اور جب وہاں سے آہیں بلند ہوئیں تو ان کی گرمی سے پاکستان کا امن و سکون بھی جل کر راکھ ہو گیا…آج پاکستان میں جتنی بدامنی اور قتل و غارت ہے یہ سب اْسی گناہ کی نحوست ہے… خونخوار بزدل پرویز مشرف نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ پاکستان کو… اسلام سے محروم کرنے کے لئے اْس نے بڑے بڑے ظالمانہ اقدامات کئے… آہ ! لال مسجد، آہ! جامعہ حفصہ رضی اللہ عنہا!… ایک ایسی داستان جو نئے پرانے سارے زخموں کے منہ کھول دیتی ہے… اور پھر جاتے جاتے ایسے افراد کے ہاتھوں میں حکومت دے گیا جنہوں نے اْس کے ہر ظلم اور ہر گناہ کو جاری رکھا… آج پرویز مشرف قدرت کے انتقام میں ہے… یقینا زخمی دل مسلمان خوش ہیں… کوئی مٹھائی بانٹتاہے تو کوئی شکرانے کے نوافل پڑھتا ہے… ہاں! مسلمانوں کو خوش ہونا چاہئے… خواہ یہ خوشی چند دن کی عارضی ہی کیوں نہ ہو…مشرف کے ظلم سے تڑپنے والے کتنے مسلمان اس وقت کہتے تھے…

’’حسبنا اللہ ونعم الوکیل‘‘

(مقامات/ میٹھے الفاظ)

رمضان اور جہاد

بے شک جن کا رْخ سیدھا ہے وہ تو بس نیکیوں کی تلاش اور جستجو میں رہتے ہیں… کتنے لوگ چپکے سے روتے ہوئے مانگتے ہیں کہ یا اللہ! رمضان المبارک میں جمعہ کے دن کی شہادت عطاء  فرما…

سبحان اللہ! ایک توشہادت، پھر رمضان المبارک کا مہینہ اور پھر جمعہ کا دن… غزوہ بدر کے شہداء کو یہ تینوں نعمتیں اکٹھی نصیب ہو گئیں…

بے شک وہ ان نعمتوں کے مستحق تھے… سترہ رمضان المبارک جمعہ کے دن اسلام کا یہ عظیم الشان معرکہ پیش آیا اوراس نے دنیا کے رنگ کو ہی بدل ڈالا… ہاں بے شک! دنیاکا رنگ تبھی بدلتا ہے جب  مسلمان کا رخ سیدھا اللہ تعالیٰ کی طرف ہو جاتا ہے… اور وہ اللہ تعالیٰ کے لئے مر مٹنے کو ہی زندگی سمجھتا ہے… اور وہ اسلام کے لئے اپنا سب کچھ لٹا دینا اپنی کامیابی سمجھتا ہے… غزوہ بدر یہی تو تھا… مکہ مکرمہ اور پورے عرب پر مشرکین کا ایسا سکّہ جما ہو اتھا جس طرح آج کل دنیا پر امریکہ، ورلڈ بینک اور یورپ کا دجّالی سکّہ جما ہوا ہے…

عربوں کے ’’ورلڈ بینک‘‘ کا تجارتی قافلہ ملک شام سے مکہ مکرمہ کی طرف جا رہا  تھا تو  مسلمانوں نے… حضرت آقامدنیﷺ کی قیادت میں شرک کی جڑ کاٹنے کا عزم کر لیا… اور بھوکے، پیاسے میدان بدر کی طرف دوڑ پڑے… نشانہ’’ورلڈ بینک‘‘ تھا مگر شکار’’سپر پاور‘‘ ہو گئی… بے شک مؤمن اخلاص پر آئے تو زمین و آسمان سب اْس کے ہو جاتے ہیں…

بات غزوۂ بدر کی چل رہی تھی کہ مسلمانوںنے عرب کے ورلڈ بینک کو اکھاڑنے کے لئے رمضان المبارک میں جہاد کے لئے کوچ کیا… آپ سورہ انفال میں یہ سارا منظر پڑھ سکتے ہیں… اللہ تعالیٰ مجاہدین سے محبت فرماتے ہیں اور اہل بدر تو مجاہدین کے امام ہیں… قرآن مجید نے کس طرح سے تفصیل کے ساتھ اس غزوہ کو بیان فرمایا… اور تو اور محاذ جنگ کا پورا نقشہ قرآن مجید میں مذکور ہے… مشرکین مکہ جو عرب کی نام نہاد سپر پاور اور ظاہری طور پر ناقابل شکست تھے… جب انہوں نے دیکھا کہ’’ورلڈ بینک‘‘ ہی جاتا ہے تو وہ سب لڑنے کے لئے نکل آئے… بے شک مشرکین کی جان ان کے مال میں ہوتی ہے… اور ورلڈ بینک مکہ کی مشرک حکومت کے لئے شہہ رگ کی طرح تھا… وہ سب اس کے تحفظ کے لئے نکل آئے… قرآن پاک اْن کے نکلنے کا منظر بھی دکھاتا ہے کہ… کیسا غرور تھا، کیسا فخر اور کیسی جنگی تیاری… اْدھر شیطان نے صورتحال پر گہری نظر رکھی ہوئی تھی… عرب میں شیطانیت کا مکمل نیٹ ورک خطرے میں نظر آیا تو شیطان بھی اپنے لشکروں کے ساتھ میدان میں نکل آیا… سبحان اللہ! تین سو تیرہ نہتے فدائی مسلمان… کسی کے پاؤں میں جوتا اور کسی نے کپڑے کے چیتھڑے پاؤں سے لپیٹ رکھے تھے… چند کے پاس تلواریں اور باقی سب کے پاس لاٹھیاں، پتھر اور کھجوروں کی ٹہیناں… یہ تین سو تیرہ نکلے تو ہر طرف بھونچال آگیا… شیطان اور اس کے لشکر… ابوجہل اور اس کا لشکر اور اہل مکہ کے نامور سردار… سب جنگجو اور جنگ آزما میدان میں آپڑے… مقابلہ ہوا اور اپنے ورلڈبینک کو بچانے کی کوشش کرنے والوں کی اپنی دنیا یعنی ورلڈ ہی ڈوب گئی… آج اگر مسلمانوں کو غزوہ بدر دیکھ کر بھی جہاد سمجھ نہیں آتا تو بہت افسوس کا مقام ہے… چند مسلمان شہید ہوئے وہ آج بھی میدان  بدر میں آسودہ ہیں… آج ان شہداء بدر کے مبارک تذکرے کے خوشبودار ماحول میں… ہم بھی اللہ تعالیٰ سے شہادت مانگ لیں… مغفرت مانگ لیں…

(مقامات/ ’’مہمان خصوصی جاتے ہیں‘‘)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online