Bismillah

621

۱۹تا۲۵ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق۸تا۱۴دسمبر۲۰۱۷ء

آبِ زمزم ۔ تاریخ، فضائل، فوائد، احکام، آداب (۱۱)

آبِ زمزم ۔  تاریخ، فضائل، فوائد، احکام، آداب (۱۱)

محمد عبیدالرحمن

(شمارہ 613)

حضرات صحابہؓ و تابعینؒ اور اسلافِ امت کی نیتیں

گزشتہ کالم میں یہ بات چل رہی تھی کہ آنحضرت ﷺ نے آبِ زم زم کی ایک خاص خصوصیت یہ بیان فرمائی ہے کہ اسے جس بھی دینی، دنیاوی اور اخروی مقصد کے لئے پیا جائے وہ پورا ہوتا ہے، ان شاء اللہ۔ حضور اکرم ﷺ کی لسانِ نبوت سے زمزم کی اس خاصیت کو سننے کے بعد کون شخص ہو گا جو اس نعمتِ عظمیٰ سے خود کو محروم رکھے گا؟… اور کون بد نصیب اس بارے میں شک و تردد کا شکار ہو گا؟… لیکن افسوس! مادیت پرستی اور تعلق مع اللہ میں کمزوری نے آج ہمیں روحانیت اور یقین و توکل سے اتنا دور کردیا ہے کہ… ہم سنتے بھی ہیں… زبانی اقرار بھی کرتے ہیں… اور جب عمل اور یقین کا مرحلہ آتا ہے تو کمزور ہو جاتے ہیں… مثال کے طور پرکسی کو کوئی تکلیف آ جائے، بیماری لاحق ہو جائے تو وہ فوراً ڈاکٹر اور طبیب کی طرف بھاگے گا… نہ صلوٰۃ الحاجۃ… نہ اللہ تعالیٰ سے مدد، استعانت اور شفاء کا سوال… نہ مسنون علاج اپنانے کی فکر… بس سر پٹ دوائیوں اور ڈاکٹروں کی طرف بھاگ دوڑ شروع ہو جاتی ہے… دنیا دار تو اپنی جگہ… اچھے بھلے دین دار، باشعور اور سمجھ دار لوگ بھی اس خبط میں مبتلاء ہیں… اور اگر ایسے میں ان کی توجہ اس طرف دلائی جائے کہ گھر میں زمزم موجود ہے، اس سے شفاء کیوں نہیں حاصل کرتے؟ اسے کیوں نہیں استعمال کرتے تو عجیب حیران کن صورتحال سامنے آتی ہے… بے یقینی، عدم توکل اور مادیت پرستی کا عجیب منظر سامنے ہوتا ہے۔

آہ مسلمان بھائیو اور بہنو! کتنے افسوس کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمت، اور مرادوں کی بجا آوری کا ایک مضبوط و منصوص ذریعہ ہم میں سے اکثروں کے گھروں میں رکھا ہوتا ہے… اور ہماری بد قسمتی ہمیں در در کی ٹھوکریں کھلا رہی ہوتی ہے… کیا یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کی نا قدری نہیں؟… کیا ہمارا یہ طرزِ عمل ہمارے عقیدے اور یقین کے کمزور ہونے کی دلیل نہیں؟… کیا یہ ہماری بے وقوفی نہیں کہ مفت کی نعمت کو چھوڑ کر ہزاروں روپے برباد کرتے پھرتے ہیں؟… یاد رکھیں! مرادیں پوری کرنے والی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے… شفاء دینے والی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے… رزق دینے والی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے… مصائب و مشکلات سے نکالنے والی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے… سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مرضی اور مشیت سے ہوتا ہے… ان کی مرضی کے بغیر ایک پتہ بھی نہیں ہل سکتا … شفاء دوائی میں نہیں… ڈاکٹر یا حکیم کے ہاتھ میں نہیں… صحت و قوت خوراک میں نہیں… رزق تجارت و دوکان میں نہیں… سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت میں ہے… ہاں! اللہ تعالیٰ نے اسباب بنادئیے ہیں… اور ان اسباب کو اختیار کرنے کا حکم بھی دیا ہے… اور پھر ان اسباب مین سے بعض کو بعض پر فضیلت عطاء فرمائی ہے… اور بعض اسباب ایسے بنائے ہیں جن میں ایک گونہ آزمائش اور امتحان کا پہلو بھی ہے… انہی میں سے ایک سبب آبِ زم زم ہے… یعنی ان اسباب کے ذریعے ایک طرف ایک مؤمن کی مرادیں پوری ہوتی ہیں اور ساتھ ساتھ اس کے ایمان، یقین اور عقیدے کو بھی جانچا جاتا ہے کہ آیا وہ کس حالت میں ہے… مضبوط ہے یا کمزور؟ ہے بھی یا نہیں؟… مثلاً ایک آدمی کامل یقین کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی قدرت و طاقت کو سامنے رکھ کر مکمل اعتماد اور شرح صدر سے اپنے کسی مقصد کے لئے آب زمزم پیتا ہے… اور اس بارے میں اسے کوئی شک یا تردد لاحق نہیں ہوتا… تو ایک طرف اللہ تعالیٰ جلد یا بہ دیر (جیسے حکمت ومصلحت کا تقاضہ ہو) اس کی مراد پوری فرما دیتے ہیں… اور دوسری طرف یہ شخص اپنے ایمان و ایقان کی آزمائش میں بھی سرخرو ہوکر نکلتا ہے… اور دوسری طرف ایک شخص مانتا تو ہے لیکن اس کو ویسا یقین حاصل نہیں جیسا مطلوب ہے… اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کا گمان کمزور ہوتا ہے… وہ بھی آب زمزم پیتا ہے… لیکن نہ مراد پوری ہوئی… اور نہ یقین کی کسوٹی پر پورا اترا… اس کا شک و تردد… اور یقین کی کمزوری اسے محروم کر گئی…

یہاں پر یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اسباب کو اختیار کرنے میں ایک انسان اللہ تعالیٰ کے بارے مین جیسا گمان رکھتا ہے… اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ فرماتے ہیں… چنانچہ ایک حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

’’اَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِی بِی۔‘‘

’’میرا بندہ میرے بارے میں جیسا گمان رکھتا ہے میں اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں‘‘…

لہٰذا آبِ زمزم پیتے وقت اپنے ایمان و یقین کو ٹٹول کر اس کی اصلاح اور تجدید کر لی جائے… اللہ تعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان رکھا جائے… پھر دیکھئے مرادیں پوری ہوتی ہیں یا نہیں؟… بہرحال یہ ایک الگ اور مستقل موضوع ہے… بات یہ چل رہی تھی کہ زمزم کی ایک اہم خاصیت یہ ہے کہ اس کے ذریعے مرادیں پوری ہوتی ہیں…آئیے! اب ہم دیکھتے ہیں کہ حضرات صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم اور دیگر اسلاف و اکابر امت نے زمزم کی اس خاصیت سے کیسے فائدہ اٹھایا… اور حضور اکرم ﷺ کے اس فرمان پر یقین کر کے دین و دنیا کی کیسی کیسی نعمتیں اور خوبیاں سمیٹیں۔

ذیل میں زمزم پیتے وقت مذکورہ بالا حضرات کی کچھ نیتیں نقل کی جا رہی ہیں… ان نیتوں کو پڑھ کر اور سن کر اس بات کا بھی بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ یہ اکابرینِ امت جن بلندیوں کو پہنچے… ان تک پہنچنے کے اسباب میں سے اہم ترین اور بنیادی سبب ’’زمزم‘‘ ہے… اور ساتھ ہی ہمیں… کچھ مبارک نیتیں بھی معلوم ہو جائیں گی… جن کو اپنا کر ہم بھی دین و دنیا کی سعادتیں سمیٹ سکتے ہیں، انشاء اللہ۔ 

(۱) سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی نیت

سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جب زمزم پیا کرتے تو یوں دعا (نیت) فرماتے:

’’أَللّٰھُمَّ اِنِّیْ أَشْرَبُہٗ لِظَمَأِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ‘‘

یااللہ! میں روزِِ قیامت کی پیاس سے بچنے کے لئے زمزم پی رہا ہوں۔‘‘

(الجواہر المنظم۔ ص ۴۲، نقلاً عن ابن المُقری، نشر الآس، لوحہ: ۱۷، أ)

(۲) سیدنا حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی نیت

حبر الامۃ، ترجمان القرآن، رئیس المفسرین سیدنا حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جب زمزم پیتے تو یوں دعا فرماتے:

أَللّٰھُمَّ اِنِّی أَسْأَلُکَ عِلْماً نَّافِعاً، وَ رِزْقاً وَّاسِعاً، وَ شِفَائً مِّنْ کُلِّ دَائٍ۔

یااللہ! میں آپ سے علم نافع، وسیع اور کشادہ رزق اور ہر بیماری سے شفاء کا سوال کرتا ہوں۔

(المستدرک للحاکم ۱/ ۴۷۳، و قال: صحیح الاسناد، ان سلم من الجارودی۱لخ۔  قال الحافط الدمیاطی فی المتجر الرابح ص ۳۱۸: قد سلم منہ، و کذلک قال المنذری فی الترغیب والترھیب ۲/ ۲۱۰ : سلم منہ، فانہ صدوق۔ قالہ الخطیب البغدادی وغیرہ، لکن الراوی عنہ محمد بن ہشام المروزی لا اعرفہ، ۱لخ، مصنف عبدالرزاق ۵/ ۱۱۳، سنن الدارقطنی ۲/۲۸۸)

سبحان اللہ! کتنی جامع دعاء اور نیت ہے۔ اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو اس کا فیض نصیب فرمائیں، آمین۔ 

(۳) سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی نیت

علامہ زمزمی رحمہ اللہ نے ’’نشر الآس‘‘ میں شیخ غسان الواعظ الرومیؒ کی کتاب ’’قرۃ العین‘‘ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہؒ نے اس نیت اور مقصد سے زمزم پیا کہ وہ علماء میں سب سے زیادہ علم والے بن جائیں… چنانچہ پھر وہ بن بھی گئے۔  امام صاحب رحمہ اللہ کا علم و فضل ساری دنیا کو مسلَّم ہے۔

(نشر الآس۔ لوحۃ: ۱۶ب)

علامہ بوسنویؒ نے اپنے رسالے میں ذکر کیا ہے کہ ’’امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے علم و فقاہت حاصل کرنے کے لئے زمزم پیا، چنانچہ وہ اپنے زمانے کے سب سے بڑے فقیہ بن گئے۔ ‘‘

(نشر الآس۔ لوحۃ ۲۰ ب)

(۴) سیدنا حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کی نیت

سیدنا حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ (م: ۱۸۱) کے بارے میں نقل کیا گیا ہے کہ وہ زمزم کے کنویں پر تشریف لائے، اس میں سے پانی نکالا پھر قبلہ رو ہو کر فرمایا:

’’یااللہ! ہمیں ابن ابی الموالی نے محمد بن المنکدر اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’آب زمزم ہر اس (جائز) مقصد کی بجا آوری کے لئے کافی ہے جس کے لئے اسے پیا جائے۔‘‘ 

یااللہ! میں قیامت کے دن کی پیاس سے بچنے کے لئے یہ آبِ زمزم پی رہا ہوں۔ ‘‘

اس کے بعد انہوں نے زمزم پیا۔

(قال المنذری فی الترغیب و الترھیب ۲/ ۲۱۰: رواہ احمد باسنادہ صحیح ۱لخ، و قال الحافظ الدمیاطی فی المتجر الرابح ص ۳۱۸: اسنادہ جید، و قال الحافظ ابن حجر فی جزئہ عن زمزم ص ۲۷۴: اسنادہ مستقیم، و رواہ الخطیب فی تاریخ بغداد ۱۰/ ۱۱۶۔ )

(۵) حضرت سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کے شاگرد کی عجیب نیت

امام ابو بکر الدینوری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’المجالسۃ و جواھر العلم‘‘ میں امام حمیدی رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں:

ہم حضرت سفیان بن عینیہ رحمہ اللہ (م: ۱۹۸ھ) کے پاس بیٹھے تھے، انہوں نے ہمیں یہ حدیث سنائی:

ما ء زمزم لماء شرب لہ

حدیث سن کر ایک شخص مجلس سے اٹھ کر چلا گیا، پھر (تھوڑی دیر بعد) لوٹا اور کہا:

اے ابو محمد! (سفیان بن عینیہ کی کنیت) آپ نے ابھی زمزم کے بارے میں ہمیں جو حدیث سنائی تھی وہ حدیث صحیح ہے ناں؟‘‘

انہوں نے فرمایا:

’’جی بالکل۔‘‘

اس شخص نے کہا:

’’میں ابھی ابھی زمزم کا ایک ڈول اس نیت سے پی کر آیا ہوں کہ آپ مجھے ایک سو احادیث بیان کریں گے۔‘‘

حضرت سفیان رحمہ اللہ نے فرمایا:

’’بیٹھ جاؤ۔‘‘

وہ شخص سامنے بیٹھ گیا اور حضرت سفیان رحمہ اللہ نے اسے ایک سو احادیث سنادیں۔

(ذکرہ ابن حجر فی جزء ماء زمزم، ص ۲۷۱، وھو فی ’’المجالسۃ و جواھر العلم‘‘ ۲/ ۳۴۲ ( ۵۰۹) لاحمد بن مروان ابی بکر الدینوری القاضی الفقیہ المالکی العلامۃ المحدث، المتوفی سنۃ، ۳۳۰ ھج ، لہ ترجمۃ فی سیر اعلام النبلاء ۱۵/ ۴۲۷، الأعلام ۱/ ۲۵۶)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online