Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

باب الفیض (قسط۴۳)

باب الفیض (قسط۴۳)

 مرشدنا و مولانا صاحبزادہ ابوالفیض محمد امیر صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ

(شمارہ 617)

انسان کے اندر دوقوتیں ہوتی ہیں۔ نظریہ اور عملیہ اور ان دونوں کی اصلاح کا نام ہدایت، نجات، سعادت اور فلاح ہے۔ لیکن ان قوتوں کی خرابی، کثاوت اور تاریکی کا نام شقاوت ہے، بدبختی، عذاب سرمدی، اَلمِ روحانی اور بربادی ہے۔

ان قوتوں کی اصلاح یہ ہے کہ اول ان امور کو جان لینے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے یہ قوتیں تباہ وبرباد ہوکر عذاب سرمدی، اَلمِ روحانی اور شقاوت میں مبتلاء ہوجاتی ہیں۔

ان قوتوں کی تباہی کے آٹھ اسباب ہیں۔

(۱) خدا کے وجود کا انکار یا اس کے صفات کمالیہ کا انکار یا کائنات میں سے کسی کو وجود میں مستقل اور خدا سے باغی جاننا اور یہ عقیدہ رکھنا کہ کائنات سے کوئی چیز بھی ازخود پیدا ہوتی ہے نہ کوئی اس کا محرک، نہ غافل، نہ کوئی خدا کی صفت العیاذ باللہ۔

(۲) خدا کے وجودکا اور اس کی صفات کا اقرار ہو اور یہ بھی عقیدہ ہو کہ خدا خالق ہے لیکن مخلوق کو پیدا کرنے کے بعد خالق کی ضرورت نہیں رہتی۔

(۳) خدا ضرور موجود ہے۔ واحد ہے۔ رازق ہے۔ خالق ہے سب کچھ ہے۔ ہمیں اس سے محبت ہے۔ لیکن اس کے بھیجے ہوؤں کو نہیں مانتے۔ العیاذ باللہ

(۴) خدا موجود ہے صفات کمال سے متصف بھی ہے لیکن بعض چیزیں ازلی اور ابدی ہیں مستقل وجود رکھتی ہیں۔ ان کو الوہیت کے کچھ اختیار حاصل ہیں۔ مثلاً آگ، پانی، ہوا، زمانہ، روح، مادہ، وغیرہ۔ ا لعیاذ باللہ

(۵) خدا وانبیاء کا اقرار ہو لیکن حشر،جسمانی عذاب، ثواب، اعمال کی جسمانی سزا، جزا کا انکار ہو۔ العیاذ باللہ

(۶) خدا، انبیاء، روز قیامت، سزا،جزا اور حشر جسمانی کا اقرار ہو لیکن بعض اشخاص کی نسبت یہ عقیدہ ہو کہ یہ خدا سے مقابلہ کرکے ہم کو نجات دلادیں گے، خدا کو عذاب نہ دینے دیں گے۔ اس لیے ہم ان کو خدا یا خدا کا بیٹا یا شریک کہتے ہیں۔ العیاذ باللہ

(۷) خدا کی توحید ورسالت کی حقانیت، قیامت، حشر نشر، جنت، دوزخ، حساب وکتاب کی صحت کا یقین ہو لیکن یہ عقیدہ ہو کہ ہماری زبان اور ہاتھ پاؤں احکام خدا کی تعمیل کرنے سے قاصر ہیں، ہم اپنی زبان اور اعضائے جسمانی سے مجبور ہیں۔

خدا نے کیوں ہم کو ایسے اعضاء دیے جو ہمارے قابو میں ہیں۔ ہم کو کیوں قوت غضبیہ اور شہوانیہ دی ہے جس کو ہم روک نہیں سکتے۔

(۸) خدا نے ہم کو سب کچھ درست اور ٹھیک عطاء کیا ہے۔ لیکن یہ قصور ہمارا ہے کہ زبان سے جھوٹ فحش اور کفریہ کلمات بکتے ہیں۔ ہاتھ پاؤں سے امور حرام یا مکروہ کا ارتکاب کرتے ہیں۔ یہ قوت نظریہ وعمل کی خرابی ہے۔

ان آٹھ خرابیوں کو دور کر لینے کے بعد انسان متقی ہوجاتا ہے۔ متقی اپنے رب کی عبادت حضور قلب سے کرتا ہے۔ عبادت مالی ہو یا بدنی یا قلبی سب کا مرجع خداوندتعالیٰ ہے۔ عالم غرور سے عالم سرور کی جانب اور انتقال خلق سے بارگاہ قدس کی جانب جانے کا نام عبادت ہے۔ عبادت صرف ذریعہ ہے اور عابد ومتقی کا مقصد اصلی صرف ذات باری تعالیٰ ہے۔

عبادت کے ثواب وجزا کا خیال درمیان میں رکاوٹ ہے۔ جب تک انسان عجزو انکسار کا مجسم نہ بنے اس وقت تک روحانی ارتباط ونیاز پیدا نہیں ہوتا اور بغیر نیاز کے عبادت ہیچ ہے۔ متقی کا معنی بچنے والا ہے یعنی خدا اور رسول اور خدا کے بندوں کو دکھ نہیں دیتا ہر خلاف شرع کام سے پرہیز کرتاہے اور خدا کے بندوں سے خوش خلق رہتا ہے کسی کو نہ زبان سے تکلیف دیتا ہے اور نہ جوارح سے ایذاء پہنچاتا ہے۔

حضرت بایزید بسطامیؒ ایک بہت بڑے عالم اور ولی ہوئے ہیں۔ ایک دفعہ وہ کہیں راستہ پر جارہے تھے اور راستہ پر کوئی شرابی شخص آرہا تھا، جس کے ہاتھ میں باجہ تھا اور وہ اپنے باجہ کو بھی  بجارہا تھا اور نشے کی حالت میں گالی گلوچ اور فحش کلامی بھی کررہا تھا۔ حضرت بایزید بسطامیؒ نے اس کو بطورِ نصیحت چند کلمات کہے۔ اس نے غصہ میں آکر حضرت کو گالیاں دیں اور ان کے سر پر باجہ دے مارا۔ حضرت کے سر سے خون کے فوارے  نکل پڑے، زبان سے کچھ بھی نہیں کہا اور خون پونچھتے ہوئے گھر کو لوٹ آئے۔

رات کو کچھ روپے اس کی جانب بھیج دئیے اور فرمایا کہ میرے سر نے تیرے باجے کو نقصان پہنچایا ہے، اس لیے میں اس کا تجھ کو تاوان دیتا ہوں اور کچھ مٹھائی بھی بھیجی اور فرمایا کہ کل تیری زبان کچھ تلخ تھی، یہ مٹھائی اس تلخی کو دور کرنے کے لیے ہے۔ اسے قبول کیجئے!

اُس شرابی پر یہ اثر ہوا کہ اس نے شراب پینا چھوڑ دی اور فحش کلامی سے توبہ کرلی اور حضرت بایزید بسطامیؒ کے ہاتھ پر بیعت بھی کرلی۔

تقوی تمام نیکیوں کی جڑ ہے۔ تقوی سے ہی انسان مدارج طے کرتا ہے۔ خدا کے نزدیک بھی مکرم شخص متقی ہے۔ فرمایا:’’ان اکرمکم عنداللہ اتقاکم‘‘ اللہ کے نزدیک صاحب کرامت وہ ہے جو زیادہ متقی ہے اور متقی وہ ہے جو اوامر اللہ کا پابند ہو سنت نبویہ کا پیروکار ہو۔ خدا کا طالب ہو۔ ذاکر ہو۔ دیندار ہو۔ صالح ہو۔ عقائد درست رکھے۔ اعمال صالحہ کرے۔ خدا کے ہاں ذات پاک کا سوال نہیں ہے۔ صرف اعمال کی پوچھ اور اعمال سے سزا اور جزا ملے گی۔

اعمال وعزائم کی اجازت

اعمال وعزائم کی اجازت کا ضروری ہونا واضح ہے اگرچہ قرآن حدیث سے اعمال کے لیے کسی خاص شخص کی اجازت سند نہیں ہے۔

 تمام امت مؤمنہ کے لیے خود خداتعالیٰ اور رسول اللہﷺکی طرف سے ان کی اجازت عام ہے۔

صحاح ستہ میں ایک حدیث حضرت ابوسعید خدریؓ سے مروی ہے کہ ایک قبیلہ کے سردار کو بچھو نے کاٹ ڈالا، ایک صحابیؓ کا اس کے پاس سے گزر ہوا تو انہوں نے سورۃ فاتحۃ پڑھ کر اس پر اس طریقہ سے دم کرنا شروع کیا جس میں اس پر کچھ لعاب کے چھینٹے بھی پڑتے تھے، اس عمل سے وہ صحت یاب ہوگیا۔ اس نے خوش ہو کر اس صحابی کو کچھ بکریاں بطور ہدیہ پیش کیں۔ جب حضور پاکﷺ کے پاس اس کا ذکر آیا تو آپﷺنے فرمایا:

’’انھا رقیۃ اصبتم اقسموا وضربوا لی معکم سھماً اوکما قال‘‘ کہ سورۃ فاتحۃ دم کی چیز ہے تم نے صحیح سمجھا انعام کو تقسیم کرلو اور میرا بھی حصہ رکھ لو۔

حافظ ابن قیمؒ فرماتے ہیں کہ سورۃ فاتحہ ہر مرض کی دوا ہے۔ میں نے سورۃ فاتحہ سے بخوبی امراض کا معالجہ کیا ہے تو شفاء ہوئی ہے۔ میں نے اس کی عجیب تاثیر مشاہدہ کی ہے۔ (ظہور المرقبہ ص۷ حافظ ابن قیمؒ)

حضرت امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ بنی امیہ میں سے ایک صاحب کے گھر سے چاندی کا مقفل ڈبہ ملا جس پر لکھا تھا کہ شفاء من کل داء، ہر مرض کی شفاء کا عمل۔ ڈبہ کھولا تو اس کے اندر یہ کلمات لکھے تھے۔ اس کے بعد تعویز کے کلمات ہیں۔

 باذن اللہ تعالیٰ وھو الشافی (ظہور المراقبہ ص۸)

 اعمال کے عوض میں ہدیہ نظرانہ وغیرہ لینا بشرطیکہ عمل خلاف شرع نہ ہو، اس میں الفاظ شرکیہ نہ ہوں، قرآنی آیات ہوں جائز ہے۔ اوپر والی حدیث اس پر شاہد اور دلیل ہے۔

ایک دوسری حدیث پاک میں رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا:

ان خیرمن استاجرتم علیہ کتاب اللہ تعالیٰ

 ترجمہ: بہتر وہ اجرت جو تم لیتے ہو، وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔

ایک حدیث شریف ابوداؤدشریف کی ہے کہ ایک آدمی نے ایک قبیلہ میں ایک دیوانہ دیکھا جو زنجیروں میں باندھ رکھا تھا۔ صحابیؓ نے سورۃ فاتحہ سے اس پر دم کیا وہ اچھا ہوگیا اور اس کو شفاء ہوگئی۔ ان لوگوں نے اس صحابی کو انعام میں سو۱۰۰ بکریاں دیں۔ جب رسول اللہﷺکی خدمت بابرکت میں اس نے حاضر ہوکر ذکر کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بس رقیہ تو یہ ہے۔

لعمری من اکل برقیۃ باطل فھو باطل۔

ترجمۃ: مجھے قسم ہے جو شخص باطل رقیہ سے معاوضہ لیتا ہے وہ باطل ہے۔

ہذا اکلت برقیقۃ حق۔

ترجمہ: تونے بیشک حق رقیقہ کا عوض لیا۔ (ظہور المراقبات ص ۱۰ حافظ ابن قیم جوزیؒ)

عامل کو چاہیے کہ عمل خالصتاً افادۂ خلق کے لیے کرے۔ اس میں حصول مال کی نیت نہ ہو اور پیسہ کمانا مقصود نہ ہو۔ فیس وعوض کو مقرر نہ کرے کوئی کچھ دے یا نہ دے اس پر قناعت رکھے اور اس فن کو اپنا پیشہ ومعاش نہ بنائے۔ اگر کوئی شخص اپنی خوشی سے کچھ ہدیہ وغیرہ پیش کردے تو اس کو قبول کرلے خود اعمال یاتعویذ کی کوئی قیمت مقرر نہ کرے اس سے اعمال کی برکت سلب ہوجاتی ہے اور روشنی چلی جاتی ہے۔

قال العینی تحتہ مطابقۃ للترجمہ من حیث ان فیہ جواز اخذ الاجرۃ لقرائۃ القرآن والتعلیم ایضاً وللرقیہ بہٖ ایضاً لعموم اللفظ۔ انتھیٰ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online