Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

جواہرِ جہاد (قسط۴۰)

جواہرِ جہاد (قسط۴۰)

از: امیر المجاہدین حضرت اقدس مولانا محمد مسعود ازہر صاحب دامت برکاتہم العالیہ

(شمارہ 617)

امام مہدی علیہ السلام کی رفاقت میں جہاد

دین اسلام الحمد للہ مکمل ہو گیا… اب نہ اس میں کوئی کمی ہوگی نہ اضافہ…ہر مسلمان کو اس کی ذمہ داریاں بتا دی گئیں کہ… تم پر کیا فرض ہے اور کیا حرام؟… جو مسلمان جس زمانے میں بھی دین پر عمل کرے وہ کامیاب ہے… خواہ وہ قرون اولیٰ کا زمانہ ہو… فتنے کا دور ہو… فتوحات کا زمانہ ہو… یا آزمائش اور مغلوبیت کا دور… فرما دیا گیا کہ… اپنا کام کرو اور کامیاب ہو جاؤ… اپنی ذمہ داری پوری کرو اور نتائج کی فکر نہ کرو… پھر تلاش، جستجو، تخمینے اور جھگڑے بحثیں کس لئے؟؟؟ ہاں اگر کوئی مسلمان اپنے دل میں اس کی تمنا رکھے کہ حضرت امام مہدیؓ  تشریف لے آئیں اور میں اْن کی قیادت میں جہاد کروں… پھر اس کی دعاء بھی کرے… اور خود کو جہاد کے لئے قلبی، ذہنی اور جسمانی طور پر تیار بھی کرے… اور اپنے زمانہ کے عملی جہاد میں بھی شریک رہے… تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں… بلکہ یہ اْس کی عالی ہمتی کی دلیل ہو گی… اور اللہ پاک بعض انسانوں کو اونچی اورمضبوط ہمت عطاء فرماتے ہیں… وہ جتنا بھی کام کرلیں اْسے تھوڑا سمجھتے ہیں اور مزید کام، مزید ترقی اور مزید دینی ترقی کی جستجو میں رہتے ہیں… لیکن جو مسلمان کمزور ہیں… اْن کے لئے تو یہی اچھا ہے کہ وہ امام مہدیؓ  کی رفاقت کی تمنا سے پہلے… خود کو تھوڑا ساتول لیا کریں کہ… آیا ہم اس قابل ہیں بھی یا نہیں؟… اْن  جیسے عالی مقام اور عظیم الشان’’امیر‘‘ کی نہ تو رفاقت آسان ہو گی اور نہ اطاعت… اور ان کی نافرمانی کی سزا دنیا اورآخرت میں بہت سخت ہو گی… اور یہ سزا کھلی آنکھوں سے نظر آئے گی… ہاں! ثقہ اہلِ علم کو چاہیے کہ ہر زمانہ میں حضرت امام مہدی ؓ اور ان کی برحق علامات کا تذکرہ زندہ رکھیں… اس کے فوائد بے شمار ہیں…

(مقامات/ ’’مسنون دعاء کی طاقت‘‘)

یہ کوشش کبھی کامیاب نہیں ہوگی

1995ء کو کتنے سال ہو گئے؟… اٹھارہ سال پہلے تہاڑ جیل میں کچھ وقت گزرا… وہاں ایک نامی گرامی مجرم سے اس لئے دوستی ہوئی کہ شاید وہ ’’اسلام‘‘ قبول کر لے… ویسے’’دوستی‘‘ بھی نہیں… بس پڑوس کا تعلق… اسلام نے پڑوسی کے ساتھ اچھے سلوک کا حکم دیا ہے… بشرطیکہ پڑوسی جنگ نہ چھیڑے… جہاد میں پہلا حق’’پڑوسی‘‘ کا ہے… اگر پڑوسی ملک کافر، اسلام دشمن اور جنگجو ہو… پہلے اس سے قتال کیا جائے گا… قرآن مجید میں واضح حکم موجود ہے…

اس شخص نے کہا کہ … آپ لوگ کیوں لڑتے ہیں؟… ٹوٹی پھوٹی لغت میں اسے جہاد اور جہادی تحریکوں کے بارے میں سمجھایا… اس نے درخواست کی کہ اس بارے میں آپ کتاب لکھیں… میں اس کا انگریزی، فرانسیسی ترجمہ کراؤںگا… کاغذ،قلم اس نے مہیا کئے… ڈیڑھ سال بعد قلم،ہاتھ میں آیا تو فرّاٹے بھرنے لگا دو تین دن میں فل اسکیپ کے دوسو کاغذ لکھ دیئے…

اس وقت جہاد کا’’کام‘‘ کافی محدود تھا… بس چند محاذ تھے… افغانستان،کشمیر،فلسطین،تاجکستان وغیرہ… مگر پھر بھی ہر طرف شورتھا کہ…دنیا کو اسلامی اتنہا پسندی اور بنیاد پرستی سے خطرہ ہے…اْن دو سو اوراق میں یہ بات زور دے کر لکھی تھی کہ… چند ایک جائز اسلامی تحریکوں کو جس سختی کے ساتھ روکنے کی کوشش کی جارہی ہے… اس کے نتیجے میں’’جہاد‘‘ بے قابو ہو جائے گا… اور جنگ پوری دنیا میں پھیل جائے گی… اور دنیا تب اپنی آنکھوں سے اصل’’شدّت پسندی‘‘ دیکھے گی… فی الحال تو میٹھا میٹھا سا جہاد ہے… اصولوں اور قواعد میں بندھا ہوا اور مخصوص علاقوں تک سمٹا ہوا… مگر اسے بہت بے رحمی سے ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے… یہ کوشش کامیاب نہیں ہو گی… اور ساری دنیا جنگ کی لپیٹ میں آجائے گی…

(مقامات/ ’’ممکن ہی نہیں‘‘)

مجاہدین کے لئے ایک انتہائی نقصان دِہ چیز

مجاہدین کو جن چیزوں نے سخت نقصان پہنچایا ہے… ان میں سے ایک یہ ہے کہ… جہاد شروع کرتے ہی اسلام نافذ کرنے کی بہت جلدی کی جاتی ہے… اور اسلام کے بھی صرف وہ احکامات نافذ کرنے میں تیزی دکھائی جاتی ہے جو فرائض کے درجہ میں نہیں آتے… اسلام میں سب سے پہلے کلمہ طیبہ… یعنی ایمان اور عقیدہ کی اہمیت ہے… اس کے بعد فرائض کا درجہ آتا ہے… اقامت صلوٰۃ، زکوٰۃ، حج، رمضان المبارک کے روزے… اور جہاد فی سبیل اللہ… اگر کوئی مسلمان ان دو میں پختہ ہو جائے یعنی کلمہ اور فرائض… تو پھر اس کے لئے باقی احکام پر عمل آسان ہو جاتا ہے… مگر دیکھا یہ گیا کہ… اسلام نافذ کرنے کا کام نائیوں، حجاموں کی دکانوں پر بم پھاڑنے، یا ویڈیو کی دکانوں کو اڑانے سے ہوتا ہے… اگر آپ عوام کے ساتھ جوڑ، محبت اور حسن سلوک کے ساتھ پیش نہیں آتے تو پھر آپ کا جہاد زمین پر نہیں جم سکتا… کچھ کم علم لوگ جن کو دین کی بنیادی باتوں کو بھی علم نہیں ہے… وہ جو مسئلہ بھی سنتے ہیں بس وہی ان کے نزدیک دین اور علم کی ’’انتہا‘‘ ہوتا ہے… داڑھی کا سنا تو اب داڑھی منڈانے والوں کے لئے گولی… پردے کا سنا تو اب بے پردہ عورتوں کے لئے تیزاب… فلموں کا سنا تو اب ویڈیو والوں کے لئے سزائے موت… یہ بہت خطرناک صورتحال ہے… اسی طرح مال غنیمت کے مسائل میں بھی بہت غلطی ہے… لوگوں سے زبردستی چندہ، تاوان، یا زکوٰۃ وصول کرنے سے جہاد کو بے حد نقصان پہنچا ہے… ایک زمانہ کشمیر کے ہر پہاڑ پر ایک’’امیر المومنین‘‘ بیٹھا تھا… بکروال اپنے ریوڑ لیکر نکلتے تو ہر پہاڑ پربیٹھایہ’’حاکم‘‘ بکریاں گن کر’’زکوٰۃ‘‘ نکال لیتا… اور یوں جہاد کے اہم ترین معاونین ’’بکروال برادری‘‘ مجاہدین سے بدظن ہو گئی… بے شک داڑھی منڈانا گناہ ہے… بے شک ویڈیو کی دکانیں اسلامی معاشرے کے لئے خطرناک ہیں… بے شک اسلام میں پردہ کا حکم ہے… لیکن یہ وہ احکامات نہیں ہیں کہ جن سے… نفاذ اسلام کا آغاز کیا جائے اور انہی مسائل کو سب کچھ سمجھا جائے… اورا ن غلطیوں پر قتل جیسے بھیانک فیصلے کئے جائیں… یا اسکولوں کو اڑانا ہی جہاد سمجھا جائے… مجاہدین کو چاہئے دین کا پختہ علم حاصل کریں یا پختہ علم والے علماء کرام کی اتباع کریں… اپنی توجہ جنگ پر رکھیں ان احکامات کو نافذ کرنے کا وقت بعد میں آئے گا… اپنے اعمال کا بھی محاسبہ کریں کہ دوسروں کو جن چھوٹی باتوں پر قتل کرتے ہیں کہیںخود اْن سے بڑی غلطیوں میں تو مبتلا نہیں… اور یہ مسئلہ بھی یاد رکھیں کہ زمین پر غلبہ قائم ہونے کے بعد احکامات کو قوت سے نافذ کیا جا سکتا ہے… یہ نہیں کہ جہاد شروع کرتے ہی عوام پر قوت آزمانا شروع کر دیں… اور یہ کہ عوام کے دلوں کو جیتنے اور ان کی دینی اصلاح کرنے کی کوشش کریں نہ کہ اْن کے خلاف  جنگ چھیڑ دیں… یہ بہت اہم موضوع ہے بس بطور اشارہ چند باتیں عرض کر دی  ہیں…

(مقامات/ ’’ممکن ہی نہیں‘‘)

جہاد کو مٹانا ممکن ہی نہیں

اٹھارہ سال پہلے جو باتیں اْن صفحات پر لکھی تھیں وہ آہستہ آہستہ زمین پر نمودار ہوتی گئیں… نائن الیون کا واقعہ پیش آیا اور پھر جنگ دنیا بھر میں پھیل گئی اور اب مزید پھیلتی جارہی ہے… اور یہ بات یاد رکھیں کہ یہ جنگ اب اور زیادہ پھیلے گی… کیونکہ دنیا میں اس وقت جو ’’طاقتور‘‘ ممالک اور لوگ ہیں وہ مسلسل اسی راستے کی طرف جارہے ہیں جس میں جنگ ہی جنگ ہے… ان سب کا ایک ہی موؤقف ہے کہ…

(۱)اسلامی شدت پسندی کو سختی سے کچل دیا جائے…

(۲)اسلامی جہاد کا نام و نشان مٹا دیا جائے…

(۳)اسلامی بنیاد پرستی کی جڑ ہی کاٹ دی جائے…

(۴)مجاہدین کی کمر ہمیشہ کے لئے توڑ دی جائے…

یہ ہے چار نکاتی فارمولہ… ساری دنیا کے انسان غربت، بھوک، ایڈز کینسر اورکرپشن سے مررہے ہیں… مگر دنیا بھر کے حکمران… صرف اسی ایک’’صفر‘‘ پر کھڑے ہیں کہ دنیا سے اسلامی انتہا پسندی اور جہاد کا خاتمہ کیسے ہو؟… ان سب کی یہی فکر مندی… اوراس فکر مندی سے پھوٹنے والے ظالمانہ اقدامات ہی دنیا بھر میں’’جنگ‘‘ کا سب سے بڑا سبب ہیں… چنانچہ  یہ اس سمت میں جتنا بھی آگے بڑھیں گے دنیا اسی قدر جنگ کی لپیٹ میں آتی جائے گی… یہ لوگ نہ تو اسلام کے مزاج سے واقف ہیں… اور نہ ہی یہ حقیقی مسلمانوں کی سوچ کو سمجھتے ہیں… چنانچہ یہ ’’ظلم‘‘ میں تیزی کرتے ہیں… اور ظلم میں تیزی کے جواب میں جہاد اور زیادہ مضبوط، مستحکم اور وسیع ہوتا ہے… یہ فارمولہ دنیا میں کیا گْل کھلائے گا؟… بس اتنی بات یاد رکھیں کہ… جہاد کو اللہ تعالیٰ نے ایسی جگہ لکھ دیا ہے جہاں سے اسے مٹانا ممکن نہیں… جی ہاں! ممکن ہی نہیں…

 

(مقامات/ ’’ممکن ہی نہیں‘‘)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online