Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

آبِ زمزم ۔ تاریخ، فضائل، فوائد، احکام، آداب (۱۴)

آبِ زمزم ۔  تاریخ، فضائل، فوائد، احکام، آداب (۱۴)

محمد عبیدالرحمن

(شمارہ 617)

آب زمزم کا شہد اور دودھ وغیرہ بن جانا

ما قبل میں یہ بات تفصیل سے گذر چکی کہ اللہ تعالیٰ نے آبِ زمزم میں ایک خصوصیت یہ بھی رکھی ہے کہ وہ ’’کھانے‘‘ کے قائمقام ہے۔ یعنی جس طرح ’’کھانا‘‘ بھوک مٹاتا ہے اسی طرح زمزم بھی  بھوک مٹانے کا کام دیتا ہے۔ اور یہ بھی آپ پڑھ چکے کہ حضور اکرم ﷺ کے فرمان ’’ماء زمزم لما شرب لہ‘‘ کے تحت جس بھی نیت سے زمزم پیا جائے وہ کام پورا ہو جاتا ہے۔ ان دونوں باتوں کو ایک بار پھر توجہ سے پڑھ کر دل میں بٹھائیں… کیونکہ آج ہم آبِ زمزم کے بارے میں بہت عجیب بات اور قصے بتانے چلے ہیں… اور وہ یہ  کہ… زمزم جس طرح کھانے کے ’’قائم مقام‘‘ ہو جاتا ہے… اسی طرح بسا اوقات زمزم حساً اور ظاہراً کھانے پینے کی کوئی ایسی چیز بھی بن جاتا ہے جس کی پینے والے نے نیت کی… مثلاً زمزم پینے والے نے نیت کی کہ زمزم میرے لئے شہد بن جائے تو وہ اس کے لئے شہد بن گیا… اس نے نیت کی کہ یہ دودھ بن جائے تو وہ  دودھ بن گیا… آپ حیران تو نہیں ہو رہے؟… حیرانی کی کوئی وجہ نہیں… کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ’’فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْد‘‘ ہے… وہ جب چاہے، جو چاہے… جیسے چاہے، کرسکتی ہے… اس کے لئے کوئی نا ممکن، ناممکن نہیں… کوئی مشکل، مشکل نہیں… ذیل میں ہم اس کے چند واقعات نقل کرتے ہیں… اللہ تعالیٰ ہمیں یقینِ کامل کی دولت عطا فرمائیں۔ آمین

سیدنا سفیان ثوریؒ کا واقعہ

عبداللہ الھرویؒ، شیخ الاسلام، امیر المؤمنین فی الحدیث، سیدنا سفیان بن سعید ثوری (م: ۱۶۱ھ) رحمہ اللہ کا واقعہ نقل کرتے ہوئے   فرماتے ہیں:

’’میں سحری کے وقت زمزم پینے گیا… وہاں میں نے دیکھا کہ ایک بزرگ رکنِ حجر اسود کی سمت والے ڈول سے پانی نکال رہے ہیں۔ انہوں نے ڈول نکالا، اس سے پیا اور پھر ڈول اندر چھوڑ دیا۔ میں نے آگے بڑھ کر وہی ڈول نکالا اور اس میں سے شیخ کا بچا ہوا پیا، تو وہ بادام کا اتنا عمدہ ستو تھا کہ میں نے اس سے عمدہ بادام کا ستو کبھی نہیں پیا۔

اگلی رات میں ان بزرگوں کی تاک میں رہا۔ جب وہی گزشتہ کل والا وقت ہوا تو وہ بزرگ آئے، اپنے چہرے پر کپڑا لٹکایا، پھر رکن  حجر اسود کی جانب والا ڈول نکال کر اس سے پیا اور اسے کنویں میں ڈال کر چل دئیے۔ میں نے ان کا بچا ہوا پانی لے کر پیا تو وہ شہد کا شربت تھا اور شہد بھی ایسا عمدہ کہ میں نے اس جیسا شہد کبھی نہیں پیا۔ 

تیسری رات میں باب زمزم کے سامنے بیٹھ گیا۔ مقررہ وقت پر وہ بزرگ چہرے پر کپڑا ڈالے ہوئے تشریف لائے، میں بھی ان کے ساتھ ہو لیا۔ جب وہ زمزم پی کر جانے لگے تو میں نے ان کا پلو پکڑ لیا اور کہا:

’’میں آپ کو کعبہ شریف کے رب کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ آپ کون ہیں؟‘‘

انہوں نے فرمایا:

’’کیا وعدہ کرتے ہو کہ میری زندگی میں کسی سے تذکرہ نہیں کرو گے؟‘‘

میں نے کہا:

’’جی۔‘‘

انہوں نے فرمایا:

’’میں سفیان بن سعید (ثوری) ہوں۔‘‘

میں نے ان کا پلو چھوڑ دیا۔ اور ڈول سے ان کا بچا ہوا پیا تو وہ شکر ملا اتنا عمدہ دودھ تھا کہ میں نے ایسا عمدہ دودھ کبھی نہیں پیا۔

اور عجب تو یہ کہ ایک بار ان کا بچا ہوا زمزم (وہ جس بھی شکل میں ہوتا دودھ، ستو، شہد وغیرہ) پینے کے بعد اگلے دن دوبارہ پینے تک وہ مجھے کافی ہو جاتا۔ اس دوران نہ مجھے بھوک لگتی اور نہ پیاس۔‘‘

(حلیۃ الأولیاء لأبی نعیم۔ ۷/ ۷۳، ریاض النفوس فی طبقات علماء  القیروان۔ ۱/ ۳۰۵)

امام ابو بکربن عیاشؒ کا واقعہ

یحییٰ بن عبدالحمید الحِمَّانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں نے شیخ الاسلام امام ابو بکر بن عیاش المقری، الفقیہ، المحدث (م: ۱۹۳ھ) رحمہ اللہ سے سنا، وہ فرما رہے تھے:

’’میں نے آب زمزم سے دودھ اور شہد پیا۔‘‘

(اخبار مکۃ للفاکہی۔ ۲/ ۳۹، ۴۰… سیر اعلام النبلاء۔ ۸/ ۵۰۱)

عابد و زاہد چرواہے کا واقعہ

علامہ فاکھی رحمہ اللہ ابن ابی رواد کی سند سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’ایک عبادت گزار چرواہا جو بکریاں چرایا کرتا تھا، اس کا یہ حال تھا کہ جب اسے پیاس لگتی تو زمزم اس کے لئے دودھ بن جاتا اور جب وضو کرنا چاہتا تو اسے زمزم کے کنویں سے پانی ملتا۔‘‘

(اخبار مکۃ للفاکھی۔ ۱/ ۳۹، الأزرقی۔ ۲/ ۵۴)

رباح الأسودؒ کا واقعہ

علامہ ازرقی اور علامہ فاکہی رحمہما اللہ نے عبد العزیز بن ابی رواد سے رباح الأسود کا واقعہ نقل کیا ہے، وہ (رباح) فرماتے ہیں:

’’میں اپنے مولیٰ کے ساتھ دیہات میں رہا کرتا تھا۔ پھر مجھے مکہ مکرمہ میں بیچ دیا گیا اور وہیں آزاد بھی کر دیا گیا۔ آزاد ہونے کے بعد تین دن مجھ پر ایسے گذرے کہ مجھے کھانے کو کچھ نہ ملا، بس میں زمزم پی لیا کرتا تھا۔ ایک دن شدید بھوک کی حالت میں، میں زمزم کے کنویں پر گیا اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر بڑی مشقت سے آہستہ آہستہ ایک ڈول نکالا۔ اور پھر جب میں نے اسے پیا تو وہ بالکل تازہ دودھ تھا۔ میں نے کہا شاید میں نیند میں (خواب دیکھ رہا) ہوں۔ (لیکن وہ تو بالکل حقیقت تھی)۔ پھر میں نے وہ پانی اپنے چہرے پر ڈالا اور واپس چلا آیا۔ دودھ کی طاقت اور اس سے حاصل ہونے والی سیرابی کو میں بخوبی محسوس کر رہا تھا۔‘‘

(أخبار مکۃ للأزرقی۔ ۲/۵۳، ۵۴… الفاکہی۔ ۲/ ۳۸) 

رباح بن یزید اللخمیؒ کا واقعہ

امام ابوبکر عبد اللہ بن محمد المالکی (م: ۴۳۸ھ) رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’ریاض النفوس فی طبقات علماء القیروان و افریقیہ‘‘ میں ابو زید رباح بن یزید اللخمی رحمہ اللہ (م: ۲۷۲ھ) جو کہ بہت بڑے عابد اور زاہد تھے ان کا واقعہ ان الفاظ میں نقل کیا ہے۔

’’رباح فرماتے ہیں:

میں مکہ مکرمہ میں تھا۔ میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ جب طواف میں بھیڑ ہو جاتی تو وہ نماز میں مشغول ہو جاتے ہیں اور جب بھیڑ ختم ہو جاتی تو طواف میں لگ جاتے ہیں۔ میں بھی ان کے ساتھ ہو لیا اور ان کی اتباع شروع کر دی۔ رات کے وقت وہ زمزم کے کنویں پر تشریف لے گئے اور اس میں سے ایک ڈول نکالا، اس ڈول میں انتہائی عمدہ شہد تھا، ہم نے وہ شہد کھا لیا۔ انہوں پھر ایک اور ڈول نکالا تو وہ دودھ سے بھرا ہوا تھا۔ انہوں نے دودھ پیا اور مجھے بھی پلایا، پھر فرمایا:

’’اے مغربی! (یعنی مغرب کے رہنے والے) آپ کو اس ذات کے حق کی قسم! جس ذات کی خاطر تم مجھ سے محبت کرتے ہو، جب تک میں مکہ میں ہوں اس وقت تک اس چیز کا کسی سے ذکر کرنا۔‘‘

(ریاض النفوس فی طبقات علماء القیروان و افریقیۃ۔ ۱/  ۳۰۵) 

سمندری موجوں کا تھم جانا

حافظ ابن طولون الصالحی الدمشقی رحمہ اللہ نے اپنی سند سے عبد العزیز الھاشمی رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں:

’’میں مکہ مکرمہ میں تھا، وہاں سے براستہ جدہ میں نے سمندر کا سفر شروع کیا۔ میرے پاس آب زمزم بھی تھا۔ چنانچہ دورانِ سفر جب بھی موسم خراب ہوتا اور سمندر میں موجیں اٹھنے لگتیں تو مین ان موجوں پر آب زمزم چھڑک دیتا، جس سے موجیں تھم جاتیں۔ ‘‘

(التزام ما لایلزم۔ ’’مخطوط‘‘)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online