Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

جواہرِ جہاد (قسط۴۸)

جواہرِ جہاد (قسط۴۸)

از: امیر المجاہدین حضرت اقدس مولانا محمد مسعود ازہر صاحب دامت برکاتہم العالیہ

(شمارہ 626)

آج وہ مظلوم شہید کتنے یاد آتے ہیں جنہیں شبرغان اور قندوز میں کنٹینروں میں بند کر کے شہید کیا گیا…اور وہ جو قلعہ جنگی کی جیل میں بمباری سے شہید ہوئے…آج ان شہداء کی ارواح کتنی خوش ہو ںگی کہ…ان  کے سپہ سالار حضرت ملا فضل اخوند فاتحانہ رہائی پا چکے ہیں…اس وقت کے دردناک اور خون آشام حالات میں کون اس فتح کا تصور کر سکتا تھا؟؟…مگر اللہ تعالیٰ کے وعدے سچے ہیں…اور اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے ساتھ دنیا اور آخرت کے جو وعدے کئے ہیںوہ ضرور پورے ہوں گے…

اللہ تعالیٰ کے غضب کے خوف سے ساری مخلوق تھر تھر کانپتی ہے… ایک مسلمان اگر اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچ کر اسکی رحمت میں آجائے تو اُسے اور کیا چاہیے… اسی لیے بار بار آواز لگائی جارہی ہے کہ… سورۂ فاتحہ کو حاصل کرلیں، سورۂ فاتحہ کو پالیں… یہ جو اس زمانے کے فدائی مجاہدین ہیں… اللہ تعالیٰ اُن کو مزید کامیابیاں عطاء فرمائے… اور سورۂ فاتحہ کی برکت سے اُن کو اور زیادہ فتوحات عطاء فرمائے… سورۂ فاتحہ اور فدائی مجاہدین میں کیا جوڑ ہے یہی بات عرض کرنی ہے… سورۂ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات ہے… بندہ پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ سنتے ہیں… اور ہر جملے کا جواب عنایت فرماتے ہیں…

بندے نے کہا… الحمدللہ ربّ العالمین… اللہ تعالیٰ جواب میں فرماتے ہیں حمدنی عبدی… میرے بندے نے میری حمد کی… یہ سلسلہ سورۂ فاتحہ کے آخر تک چلتا رہتا ہے… اُدھر فدائی مجاہدین ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے شوق میں جیتے اور مرتے ہیں…

اللہ تعالیٰ کا ایک سچا بندہ کہہ رہا تھا… بس یہی تمنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائوں اور میرے جسم کو جانور کھالیں… ہاں! وہ سچ کہہ رہا تھا اور آج خبر آئی ہے کہ وہ شہید ہو گیا ہے… دیوانہ عاشق اپنے محبوب سے مل چکا ہے

الحمدللہ ربّ العالمین

میں کبھی سوچتا ہوں کہ ان فدائی مجاہدین کا کتنا اونچا مقام ہے؟… اور ان حضرات کا پوری اُمت مسلمہ پر کتنا بڑا احسان ہے؟… یہ نہ ہوتے تو آج دشمنان اسلام مسلمانوں کو کچھ بھی نہ سمجھتے… اور انہیں کافی حد تک مٹا دیتے… جس طرح تاتاریوں نے علاقوں کے علاقے  مسلمانوں سے خالی کرا دئیے تھے… اور اُن کا سیلاب روکے نہیں رکتا تھا…

آج کے دشمنان اسلام نے مسلمانوں کے خلاف ایسی جنگی طاقت بنا لی ہے کہ… بظاہر اُس کا مقابلہ ممکن نظر نہیں آتا… ایسے وقت میں تن آسان لوگ دینی کتابوں سے وہ عبارتیں ڈھونڈ لاتے ہیں کہ… جب مقابلے اور مقاومت کی طاقت نہ ہو تو جہاد فرض نہیں ہوتا… تب اللہ تعالیٰ کا ایک سچا عاشق، اللہ تعالیٰ کا فدائی بن کر اُٹھتا ہے اور ایسا کام کرتا ہے کہ… کفار کہنے لگتے ہیں کہ ہمارے پاس ان کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیںہے… سبحان اللہ! ایٹم بموں اور ہائیڈروجن میزائلوں کے مالک… سیاروں، سیارچوں اور بحری بیڑوں کے مالک خود کو… ایک فدائی مجاہد کے سامنے بے بس محسوس کرتے ہیں… تب قرآن مجید کی جہادی آیات مسکرانے لگتی ہیں کہ… اے مسلمانو! جان تو لگا کر دیکھو! جہاد تب بھی ممکن تھا جب بدر کے میدان میں تمہارے پاس مکمل تلواریں نہ تھیں… اور جہاد آج بھی ممکن ہے جب تمہارے پاس غزوہ بدر کے جوان اور کڑیل بیٹے موجود ہیں… ارے جان تو لگائو، اپنے محبوب رب سے ملاقات کا شوق تو دل میں اٹھائو… یہ وہ شوق ہے جو تمہیں پاک کر دیتا ہے… یہ وہ جنون ہے جو تمہیں بہت طاقتور بنا دیتا ہے

الحمد للہ ربّ العالمین…

تحریک کشمیر کامیاب ہوگی

کتنے عظیم لوگ اس تحریک کی ہجرت گاہوں میں دفن ہوگئے  …کیسے کیسے البیلے جانباز اس تحریک میں ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے …کیسی کیسی رشک بتاں جوانیاں اس تحریک کے دوران سایوں میں ڈھل گئیں  …مگربے عزم اوربے ضمیر حکمرانوں نے کبھی بھی اس مبارک تحریک کے ساتھ وفاداری نہیں کی …ہاں یہ ضرور ہے کہ  … اس تحریک کے ساتھ غداری اور ظلم کا معاملہ کرنے والے  … خود قدرت کے انتقام کانشان بن گئے  … اور آج جو غداری پر تلے ہیں ان کے دن بھی کچھ زیادہ باقی نہیں ہیں … مجھے یقین ہے کہ شہداء کاخون رائیگاںنہیں جاسکتا …ان شاء اللہ یہ تحریک  … کامیابی پائے گی،بلکہ ہماری توقع سے بھی زیادہ بہتر اس کے نتائج نکلیں گے …ہاں شرمندگی ہے کہ ہم مولانا عبدالعزیز اوران جیسے مہاجرین فی سبیل اللہ کوان کی زندگی میں کشمیر کی اسلامی فتح کامژدہ نہ سنا سکے …مگر پہاڑوں کے اوپر سورج چمک رہا ہے  …اور اس سے بھی اوپر شہداء کاخون چمک اور مہک رہا ہے … یہ افسانہ نہیں اور نہ ہی لفاظی  …کل تک ہم جو کچھ عراق کے بارے میں کہتے تھے وہ مذاق کانشانہ بنایاجاتاتھا …مگرآج عراق کاکانٹاہردشمن اسلام کے حلق میں اٹکا ہوا ہے  …ممکن ہے مجاہدین کوپھروقتی طور پرپسپاہوناپڑے …اوریہ بھی ممکن ہے کہ ان کی پیش قدمی جاری رہے  …مگر یہ توسوچاجائے کہ اتنے سارے مجاہدین کہاں سے آگئے؟ …عراق میں عشروں تک جہادکانام لیناجرم تھا …اورپھربتیس ممالک نے مکمل طاقت کے ساتھ عراق کووحشی کتوں کی طرح بھنبھوڑا …اوروہاں اپنی پسند کی حکومت بٹھادی …اور اس حکومت کوپیسے اور اسلحے سے لیس کردیا ۔…توپھرمجاہدین کے اتنے بڑے لشکر کہاں سے آگئے  ؟…سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم …جہاد ایک حقیقت ہے ،جہاد اللہ تعالیٰ کا نہ مٹنے والاحکم ہے  …جہاد اللہ تعالیٰ کی ابدی اور دائمی کتاب قرآن مجیدکاموضوع ہے …جہاد میرے آقامدنی صلی اللہ علیہ وسلم کا محبوب عمل ہے  …ارے جس جہاد میں حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک خون لگا ہو… اس جہاد کو کون روک سکتا ہے؟ …اس جہاد کو کون شکست دے سکتا ہے؟

جنگ کا فیصلہ کن مرحلہ اور علماء و مجاہدین کے لئے دو اہم کام

اس وقت کفر و اسلام کا معرکہ اب اپنے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہورہا ہے …اور ان شاء اللہ اگلے دس سال میں جہادکامیدان بہت وسیع …اورجہاد کے محاذبہت دور تک پھیل جائیں گے …دشمنان اسلام نے تقریباًیہ تو طئے کرلیاہے کہ …اب خودمسلمانوں کے سامنے نہیں آنا …بلکہ مسلمانوں کو آپس میں لڑا کرمارنا ہے …اسی منصوبے کے تحت طرح طرح کے مضحکہ خیز’’انتخابات‘‘ہورہے ہیں  … مصر کا دم کٹافرعون ’’السیسی ‘‘صرف آٹھ فیصدووٹ لیکر مصرکاصدر بن چکا ہے  … اورحیرت یہ کہ ساری دنیا نے اس کی حکومت اور صدارت کو تسلیم کرلیا ہے  … دشمنوں کا یہ قدم مصر ،وادی سینااوردور افریقہ تک جہاد کے نئے محاذ کھولنے کا ذریعہ بنے گا …ادھرشام کابھورادجال’’بشارالاسد‘‘ …اپنے سرکاری اہلکاروں کے ووٹ لیکر تیسری بار اس مقدس سرزمین پرطاعون کا چوہا بن کر ابھرا ہے  …امید ہے کہ ا ن شاء اللہ یہ اس کی آخری مدت ہوگی …اور شام کامحاذگولان کی پہاڑیوں سے اترتاہوا … مسجداقصیٰ کے مجاہدین سے جاملے گا …الحمدللہ  … آج مسلمانوں کے وجود کوتسلیم کیاجارہا ہے  …دشمنان اسلام نے بے پناہ جنگی اورسائنسی طاقت بناکریہ سمجھ لیا تھا کہ  …وہ دنیا سے اسلام اورمسلمانوں کا خاتمہ کردیں گے…مگر جب وہ اس امت کے سامنے زمین پر اترے تو …ماشاء اللہ منظر ہی کچھ اور تھا …سبحان اللہ!بیس سال سے جگہ جگہ مسلمانوں پر حملے کئے جارہے ہیں  … اور حملے بھی اتحادی …مگرآج تک ایک فتح بھی ان کے کاغذوں میں جگہ نہ پاسکی …شکست جمع شکست جمع ذلت جمع ناکامی …نتیجہ بھاگواور مسلمانوں کو آپس میں لڑاؤ …اب مجاہدین اورعلماء کرام کا یہ کام ہے کہ ایک طرف تووہ خالص شرعی جہادفی سبیل اللہ کی دعوت تیز کردیں …کیونکہ جنگ فیصلہ کن مرحلے میں جانے کو ہے  …اوردوسراکام یہ کہ اپنی دعوت میں اس بات کو بھی بیان کریں کہ  … مسلمانوں کا خون ایک دوسرے پرحرام ہے …ہاں بیشک  …مسلمان کے خون کی حرمت کعبہ شریف کی حرمت سے بھی زیادہ ہے …

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online