Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

تحفۂ جہاد (قسط۴)

تحفۂ جہاد (قسط۴)

محمد ہارون

(شمارہ 626)

’’اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمتوں میں سے ’’ شہادت ‘‘ وہ نعمت ہے جوکہ …بے شمار نعمتوںکامجموعہ ہے …اگرکسی مسلمان کویہ اختیار دیا جائے کہ وہ  …صرف ایک ’’دعائ‘‘مانگ لے …ایک سے زیادہ نہیں …اوراس کی وہ ایک دعاء قبول ہوگی تو …اس مسلمان کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے ’’مقبول شہادت‘‘مانگ لے  …کیونکہ مقبول شہادت مل گئی تو سب کچھ مل گیا  …ایمان بھی،اچھا خاتمہ بھی… مغفرت بھی ،معافی بھی  …سکرات الموت سے حفاظت اور عذاب قبر سے نجات بھی  …اور جنت فردوس اعلیٰ بھی  …اور بھی بہت سی چیزیں  …مثلاًموت کے فوراً بعد ایک لذیذاور طاقتور زندگی …اللہ تعالیٰ کا رزق ،خوشیاں اور راحت ہی راحت  … اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی رضااور اس کا قرب… اسی لئے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے باربار شہیدہونے کی تمنا فرمائی  …حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام عالی شان  …شہداء کے مقام سے بہت اونچاہے …شہادت کے اسی مقام کی وجہ سے کئی اولیاء کرام کے بارے میں آتا ہے کہ … وہ اکٹھے ہوکر اللہ تعالیٰ سے شہادت کی دعاء مانگتے تھے …خاص اسی دعاء کے لئے جمع ہوتے اور صرف یہی ایک دعاء مانگتے …

شہید زندہ ہوتاہے …اسے شہادت کے بعد مردہ کہنا بھی حرام اور مردہ سمجھنابھی حرام … شہید کی حیات قرآن مجید کی نص قطعی سے بالکل واضح طور پر ثابت ہے … مگر یہ ’’حیات‘‘ایسی بلند اور اونچی ہے کہ …ہم لوگ اسے اس دنیا میں سمجھ نہیں سکتے …مگر جنت میں جانے کے بعدجب ہمارا شعور طاقتورہوجائے گا تو وہاں جاکر… شہداء کرام کی زندگی اور حیات ہمیں سمجھ آ جائے گی … ہم سب مسلمانوں کو چاہیے کہ  … شہادت کے قرآنی فضائل پڑھیں … احادیث مبارکہ میں شہادت کے فضائل کو سمجھیں … بزدلی اور نفاق سے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگیں …اور خاص اوقات ،خاص لمحات اور قبولیت کی امید کے ہر موقع پر … اللہ تعالیٰ سے مقبول شہادت کی نعمت مانگا کریں … او ر اس بات سے نہ ڈرا کریں کہ…شہیدہوکر ہم مرجائیں گے…نہیں ہرگز نہیں ،شہیدہوکر تومسلمان زندہ ہو جاتا ہے …اس پر موت ضرور آتی ہے مگروہ موت آکر چلی جاتی ہے …اور فوراًزندگی شروع ہوجاتی ہے … مسلمان اگر شہادت سے محبت کریں گے تو انہیں’’مسئلہ جہاد ‘‘آسانی سے سمجھ آجائے گا …اور جہاد کے بارے میں کوئی اشکال ان کے دل میں پیدا نہیں ہوگا…جہاد کے خلاف اکثر اعتراضات اور اشکالات کے پیچھے موت کا ڈر چھپاہوتا ہے  … اگر مسلمان قرآن مجید کو مانیں تو جان لیں گے کہ … شہادت موت نہیں ہے زندگی ہے … قرآن پاک پکار پکار کر فرما رہا ہے’’بل احیائ‘‘،’’بل احیائ‘‘ …وہ زندہ ہیں … وہ زندہ ہیں … ان کی زندگی اس دنیا کے جسم اور قبر سے لے کر برزخ تک اور جنت کے دروازے تک پھیلی ہوتی ہے  … مسلمان جب جہاد پر آجائیں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں عزت ،عظمت ،رعب ، خود داری اور مغفرت بھی عطاء فرمائے گا … اور انہیں کفر اورکفار کی غلامی سے بھی نجات ملے گی  …

شہداء کرام کی زندگی یقینی ہے  …مگر یہ بھی ساتھ فرمادیا گیا کہ ’’ولکن لاتشعرون‘‘ کہ تم اس زندگی کوسمجھ نہیں سکتے،محسوس نہیں کرسکتے  … وہ بڑی اعلیٰ اور ارفع زندگی ہے  …وہ زندہ ہیں مگر اب یہ زندگی ان سے کوئی چھین نہیں سکتا … وہ اب قتل نہیں ہوسکتے …قید نہیں ہوسکتے … بیمار نہیں ہوتے …پریشان اور غمزدہ نہیں ہوتے … پرانی زندگی میں جو کمزوریاں تھیں وہ شہادت کی زندگی میں ختم ہوگئیں  … شہید کی اس عجیب اور اعلیٰ یقینی زندگی کو ہم سمجھ نہیں سکتے مگر اللہ تعالیٰ کچھ علامات اور اشارات ایسے عطاء فرماتے رہتے ہیں جوایمان والوں کے ایمان کومزید مضبوط کرتے ہیں …ایسے واقعات کو ہم شہداء کرام کی کرامت اور ان کی نئی زندگی کے شواہد کہتے ہیں …‘‘

اس کے بعد حضرت  حفظہ اللہ نے حیات شہداء پرشواہد کے نام سے قرون اولیٰ سے ماضی قریب تک کے چیدہ چیدہ واقعات ذکر کیے ہیں جو ہم طوالت کے خوف سے چھوڑے دیتے ہیں،جو قاری ان کو پڑھنا چاہے  ہفت روزہ ’’القلم‘‘ کاشمارہ614میں ’’مقبول شہادت ‘‘کے نام سے پورا مضمون ملاحظہ فرما لے۔

(۷)جنت تلواروں کے سائے تلے ہے

۱۵)… حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ انہوںنے دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے فرمایاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:’’بے شک جنت کے دروازے تلواروں کے سائے تلے ہیں‘‘پس ایک پراگندہ حال آدمی کھڑاہوا اورپوچھا:اے ابو موسیٰ!کیا آپ نے یہ فرمان عالیشان نبی کریمﷺ سے سنا ہے؟انہوں نے فرمایا:ہاں،پس وہ آدمی اپنے ساتھیوں کے پاس لوٹا اور کہا:میں تمہیں سلام کرتا ہوں ،اس کے بعد اس نے اپنی تلوار کی میان توڑ ڈالی اور تلوار لے کر دشمن پر چڑھ دوڑااور ان سے جنگ شروع کردی یہاںتک کہ خودشہید ہو گیا۔(معالم السنن:رقم الحدیث۲۰۹۶)

٭ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ تلوار کو جہاد میں استعمال کرنے سے جنت ملتی ہے چونکہ ہر چیز کے ساتھ اس کا سایہ لازمی ہوتا ہے اس لئے تلوار کے سائے کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ جب مجاہد اللہ کے راستے میں تلوار اٹھاتا ہے یا جب دشمن کی تلوار اس پر اٹھتی ہے تو ان دونوں صورتوں میں تلوار کا سایہ اس پر پڑتا ہے بس حدیث شریف میں یہ بتلایا گیا ہے کہ جسے یہ سایہ نصیب ہوگیا گویا وہ جنت کے دروازے تک پہنچ گیا۔ اب اگر وہ ابھی شہید ہو گیا تو فوراً جنت میں داخل ہو جائے گا اور اگر بعد میں مرا تو اس وقت جنت میں پہنچ جائے گایعنی حقیقت میں جنت کے دروازے تلوار کے سائے کے نیچے ہیں جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن فرمایا : اٹھو اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمان وزمین جیسی ہے۔

(۸)شہادت تمام گناہوں کا کفارہ ہے سوائے قرض کے

۱۶)… حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:اللہ کی راہ میں قتل ہو جاناہر چیز کیلئے کفارہ بن جاتاہے سوائے قرض کے۔

اور ایک روایت میںہے کہ شہید کا ہر گناہ بخش دیا جاتا ہے سوائے قرض کے۔(معالم السنن:رقم الحدیث۲۰۹۷)

٭اس بارے میں علماء کے اقوال مختلف ہیں کہ شہید کو قرض معاف کردیا جائے گا یا نہیں؟صحیح رائے یہ ہے کہ جو قرضہ جنت میں جانے سے روکتا ہے یہ وہ قرضہ ہے جو کسی نے لیا ہو اور اس کے پاس ادائیگی کی گنجائش بھی ہو،مگر نہ وہ اسے اداء کرے اور نہ مرنے کے بعد اداء کرنے کی وصیت کرے،یاوہ قرضہ ہے جو بے وقوفی اور اسراف کے کاموں کیلئے لیا ہو اور پھر اداء کیے بنا مر گیا ہو،لیکن اگر کسی نے کوئی حق واجب کی ادائیگی کیلئے قرضہ لیا مثلاًفاقے سے بچنے کیلئے قرض لیا اور ادائیگی کیلئے کچھ نہ چھوڑا تو امید ہے کہ ان شاء اللہ یہ قرضہ جنت سے روکنے کا باعث نہیں بنے گا وہ مقروض شہید ہو یا غیر شہید،کیونکہ حاکم وقت پر اس طرح کے قرض کی ادائیگی اجتماعی مال سے لازم ہے۔رسول اللہﷺنے فرمایا:جس نے کوئی قرضہ یاحق چھوڑا،وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ذمہ ہے اور جس نے کوئی مال چھوڑا وہ اس کے ورثہ کیلئے ہے۔(بخاری)اور اگر حاکم نے اداء نہ کیا تو اللہ تعالیٰ خود قیامت کے دن قرض خواہوں کو راضی فرمالے گاکیونکہ رسول اللہﷺنے فرمایا:جس نے لوگوں سے مال لیا اور وہ ادائیگی کی نیت رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے اداء فرمادے گااور جس نے مال لیا اور اسے ضائع کرنے کی نیت رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ضائع کردے گا۔(بخاری)

اس رائے کی تصدیق حضرت جابربن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کے والد کے واقعہ سے بھی ہوتی ہے،کیونکہ جب وہ غزوہ احد میں نکلے تو ان پر قرضہ تھا اسی غزوہ میں وہ شہید ہوگئے۔بعد میں رسول اللہﷺنے حضرت جابررضی اللہ عنہ کو پریشان دیکھا تو فرمایا:تمہارے والد کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے بغیر پردے کے آمنے سامنے بات فرمائی ہے۔اب اگر ہر قرضہ جنت سے روکنے والا ہوتا توحضرت جابررضی اللہ عنہ کے مقروض والد کو یہ مقام کیسے ملتا؟اسی طرح حضرت زبیررضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے کہ شہادت کے وقت انہوں نے بائیس لاکھ کا قرض چھوڑا تھا۔ 

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online