Bismillah

627

۱تا۷جمادی الاولیٰ۱۴۳۹ھ   بمطابق ۱۹تا۲۵جنوری۲۰۱۸ء

آبِ زمزم ۔ تاریخ، فضائل، فوائد، احکام، آداب (۲۱)

آبِ زمزم ۔  تاریخ، فضائل، فوائد، احکام، آداب (۲۱)

محمد عبیدالرحمن

(شمارہ 626)

(۲۱) آبِ زمزم: جسم کو بھر پور قوت دینے والا

سیدنا حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

’’اہل مکہ کو کبھی گھنٹوں کی شکایت نہ ہوتی تھی اور وہ جس سے بھی مقابلہ کرتے جیت جاتے تھے، اور جس سے بھی کشتی کرتے اسے پچھاڑ دیتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے آبِ زمزم سے اعراض کرنا شروع کر دیا تو ان کی حالت بھی بدل گئی۔ (یعنی اب ان کے جسموں میں وہ طاقت و قوت باقی نہ رہی جو پہلے تھی)۔‘‘

(أخبار مکۃ للفاکھی ۲/ ۴۶، القِری للمحب الطبری۔ ص ۴۸۸، و عزاہ ھو و السیوطی فی الدر المنثور ۴/ ۱۵۶، لأبی ذر الھروی فی المناسک)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ اثر بتار ہا ہے کہ اہل مکہ اپنی بھرپور جسمانی صلاحیت و طاقت میں مشہور تھے اور اس بات میں بھی مشہور تھے کہ وہ جس سے بھی مقابلہ کریں اس سے جیت جاتے ہیں اور کشتی میں کوئی ان کو پچھاڑ نہیں سکتا… ان کی اس طاقت و صلاحیت کے جہاں اور بہت سے اسباب تھے وہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بقول ایک اہم ترین سبب کثرت سے زمزم پینا بھی تھا… چنانچہ جب تک اہلِ مکہ زمزم کے حریص رہے اور خوب پیتے رہے تو کوئی ان کا مقابلہ نہ کر سکا… اور ان کی صحتیں اور طاقتیں سدا بہار رہیں… اور جب انہوں نے زمزم کے بارے میں سستی اور اعراض کا رویہ اپنایا… تو ان کی حالت، ان کی صحت اور ان کی طاقت بھی پہلے جیسی نہ رہی۔

(۲۲) آب زمزم: سونے سے زیادہ محبوب

حضرت ابو حَصِین رحمہ اللہ، مشہور امام، شیخ القراء و المفسرین حضرت مجاہد بن جبر التابعی المکی (م: ۱۰۴ ھ) رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے (ایک بار اپنا واقعہ ذکر کرتے ہوئے) فرمایا:

’’ہم روم کے علاقے میں سفر کر رہے تھے، ایک رات ہم ایک راہب کے پاس جا ٹھہرے۔ اس نے پوچھا:

’’کیا تم میں کوئی مکہ کا رہنے والا ہے؟‘‘

میں نے کہا:

’’جی ہاں! (میں ہوں)۔‘‘

اس نے پوچھا:

’’زمزم اور حجر اسود کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟‘‘

میں نے کہا:

’’مجھے معلوم نہیں، مگر اندازہ کر کے بتا سکتا ہوں۔‘‘

اس نے کہا:

’’لیکن میں جانتا ہوں۔ زمزم حجرِ اسود کے نیچے سے بہتا ہے، اور مجھے ایک تھال زمزم کا بھرا ہوا مل جائے یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ مجھے سونے کا بھرا ہوا تھال ملے۔‘‘

(أخبار مکۃ للفاکہی ۲/ ۳۷، ۳۸)

(۲۳) سر پر زمزم ڈالنے والا کبھی رسوا نہ ہو گا

علامہ فاکہی رحمہ اللہ نے محمد بن حرب سے اور انہوں نے اس شخص سے روایت کیا جس نے (آنے والا واقعہ) ان کو بیان کیا، وہ کہتے ہیں:

’’میں روم کے علاقے میں گرفتار کر لیا گیا اور مجھے روم کے بادشاہ کے پاس لے جایا گیا، بادشاہ نے مجھ سے پوچھا:

’’تم کس شہر کے رہنے والے ہو؟‘‘

میں نے کہا:

’’مکۃ المکرمہ۔‘‘

اس نے کہا:

’’کیا تم مکہ میں موجود ’’ھَزْمَۃُ جِبْرِیْل‘‘ (یہ زمزم کا ایک نام ہے) کو جانتے ہو؟‘‘

میں نے کہا:

’’جی ہاں!‘‘

اس نے کہا:

’’کیا تم ’’بَرَّہ‘‘ (یہ بھی زمزم کا نام ہے) کو جانتے ہو؟‘‘

میں نے کہا:

’’بالکل جانتا ہوں۔‘‘

اس نے پوچھا:

’’کیا اس کا اور بھی کوئی نام ہے؟‘‘

میں نے کہا:

’’جی! آج کل وہ زمزم کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔‘‘

پھر بادشاہ نے اس کی برکت کا تذکرہ کیا اور کہا:

’’اگر تم یہ کہتے ہو تو بے شک ہم بھی اپنی کتابوں میں (یہ لکھا ہوا) پاتے ہیں…

’’ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ کوئی شخص اپنے سر پر زمزم کے تین چلو ڈالے اور پھر کبھی وہ ذلیل و رسوا ہو جائے۔‘‘

(أخبار مکۃ للفاکہی۔ ۲/ ۳۹)

زمزم کے بارے میں فقہی مسائل

قارئین کرام!

زمزم کے فضائل اور خصوصیات بالتفصیل آپ نے ملاحظہ فرما لئے… امید ہے کہ ایمان کو جلاء نصیب ہوئی ہو گی… بہت سے سر بستہ رازوں سے پردہ اٹھا ہو گا… بہت سے احباب نے عمل کر کے فائدہ بھی اُٹھایا ہو گا… اور زمزم کی حیثیت، مرتبہ اور مقام بھی خوب واضح ہوا ہو گا… آئیے! اب چلتے ہیں… زمزم سے متعلق احکام و مسائل کی طرف… تاکہ ان مسائل و احکام سے بھی ہم روشناس ہو جائیں… چنانچہ سب سے پہلے ہم وہ فقہی مسائل ترتیب وار نقل کرتے ہیں جو زمزم پینے کے بارے میں ہیں۔ 

(۱) ہر وقت اور ہر ایک کے لئے مستحب

زمزم پینا مستحب و مسنون ہے… ہر ایک کے لئے اور ہر حالت میں۔ یعنی زمزم کے بارے میں افراد و اوقات وغیرہ کی کوئی تعیین نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ زمزم کا پینا کچھ لوگوں کے لئے تو مستحب ہو اور کچھ کے لئے مستحب نہ ہو، یا بعض اوقات میں مستحب ہو بعض میں نہ ہو۔ نہیں، بلکہ ہر آدمی خواہ وہ حالت احرام میں ہو یا نہ ہو… وہ مکہ و مدینہ میں ہو یا اپنے علاقے اور ملک میں… وہ بیمار ہو یا صحتمند… وہ زمزم پی سکتا ہے… خواہ رات کو پئے، خواہ دن کو… صبح پئے یا شام کو… اس کے لیے کوئی وقت متعین نہیں ہے…

اس کی دلیل نبی کریم ﷺ کے اقوال و افعال ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے بغیر کسی قید اور شرط کے اپنی امت کو آبِ زمزم پینے کی ترغیب دی، اس کا حرص دلایا… اس کے فوائد، صفات اور خصوصیات بیان فرمائیں… اور اس کے فضائل گنوائے… اور خود عملاً بھی زمزم کے بارے میں حرص اور چاہت کا مظاہرہ فرمایا… چنانچہ آپ ﷺ بڑے اہتمام اور چاہت سے زمزم مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ لے جایا کرتے تھے۔

اس کے علاوہ حضرات صحابہ کرام و تابعین و تبع تابعین رضی اللہ عنہم… اور دیگر اسلافِ امت کا طرزِ عمل بھی اس بارے میں شاہد ہے۔

علاوہ ازیں! یہاں یہ بات بھی یاد رہنی چاہیے کہ جس طرح زمزم کا پینا مستحب ہے اسی طرح زمزم کا اتنا زیادہ پینا بھی مستحب و مسنون ہے کہ پینے والے کا پیٹ بھر جائے اور پسلیاں تن جائیں۔ فقہائے مذاہبِ اربعہ نے اس کی تصریح کی ہے…

(دیکھئے! مناسک ملا علی القاری۔ ص ۳۲۸، حاشیۃ ابن عابدین۔ ۲/ ۵۲۴، مواہب الجلیل۔ ۳/ ۱۱۵، الشرح الکبیر للدردیر ۲/ ۴۳، مناسک النووی۔ ص ۴۰۴، شرح منتہی الارادات۔ ۲/ ۶۵)

خلاصہ اور نچوڑ یہ نکلا…

(۱) زمزم کا پینا ایک مستحب و مسنون عمل ہے۔

(۲) زمزم کا پینا ہر وقت میں مسنون و مستحب ہے اور ہر شخص کے لئے ہے، شخص و وقت کی کوئی تحدید و تقید نہیں۔

(۳) زمزم اتنا پینا کہ پیٹ بھرجائے اور پسلیان تن جائیں یہ ایک مستقل مستحب و مسنون عمل ہے۔ واللہ اعلم

(ماخوذ از: فضل ماء زمزم۔ ص ۱۷۷ تا ۱۸۶)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online