Bismillah

640

۳تا۹شعبان المعظم ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۰تا۲۶اپریل۲۰۱۸ء

بیعت علی الجہاد (۲)

’’بیعت علی الجہاد‘‘ سیرت نبوی ﷺ کاروشن باب (۲)

 سیّد محمد شعیب بخاری

(شمارہ 626)

(۵)بیعت علی الاصلاح:

 جسکو بیعتِ تو بہ یا بیعتِ طریقت بھی کہتے ہیں رسول اللہ ﷺنے بعض اوقات صحابہ کرامؓ سے بعض گناہوں کے نہ کرنے پر بھی بیعت لی۔

(۶)بیعت علی السمع والطاعۃ: خلیفہ کی اطاعت و فرمان برداری پر بیعت لینا۔                                     

ہمارا موضوع بیعت علی الجہاد ہے۔ لہٰذا آنے والے اور اق میں اسی بیعت کا تذکرہ کیا جائے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ

بیعت علی الجہاد کی فضیلت:

بیعت علی الجہاد وہ عظیم و شان عمل ہے جسکو زندہ کرکے مسلمان اپنی امیر کی اطاعت میں مکمل اطمینان اور اتفاق کیساتھ پوری دنیا میں جہاد کے فریضہ کو زندہ کرسکیں گے۔ اس لیے قرآن وحدیث میں بیعت علی الجہاد کا تذکرہ بھی موجود ہے اور اسکی فضیلت بھی۔

 بیعت علی الجہاداورقرآن:

قرآن میںتین جگہ بیعت کا لفظ آیا ہے جو جہادکیلیٔ ہے۔ پہلامقام:فاستبشروا ببیعکم الذی بایعتم بہ(التوبہ) اس سے خریدوفروخت مراد ہے اورمعاہدہ بھی۔ یہ بھی جہاد کی بیعت ہے۔                                         

دوسر ا مقام ِ:ان الذین یبا یعونک انما یبا یعون اللہ ید اللہ فوق ایدیھم۔۔(الفتح)                                          

یہ آیت بیعت علی الجہاد کے بارے میں ہے جو بیعت رضوان کے نام سے مشہور ہے۔                                

تیسرا مقام:لقد رضی اللہ عن المؤمنین اذ یبا یعونک تحت الشجرۃ(الفتح)                                                

یہ بھی بیعت رضوان سے متعلق آیت ہے اس واقعہ کی تفصیل آ گے آ رہی ہے۔                           

بیعت علی الجہاد اور احادیث:

آئیں! بیعت علی الجہاد کے بارے میں چند احادیث مبارکہ پڑھ کر ایمان کا نور حاصل کرتے ہیں۔

اسلام اور جہاد پر بیعت:

عن مجاشعؓ قال اتیت النبی ﷺ بابن اخی فقلت بایعنا علی الھجرۃ فقال مضت الھجرۃ لاھلھا قلت علام تبایعنا؟ قال علی الاسلام والجہاد(بخاری)

ترجمہ: حضرت مجاشعؓ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺکی خدمت میں اپنے بھتیجے کو لیکر حاضر ہوا اور میں نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ ہمیں ہجرت پر بیعت فرما لیجیے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہجرت تو ہجرت والوں کیساتھ گزر گئی میں نے عرض کیا پھر آپ ﷺ ہمیں کس چیز پر بیعت فرمائیں گے۔ ارشاد فرمایا اسلام اور جہاد پر ۔

فائدہ: ہجرت سے مراد مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت ہے جو فتح مکہ کیساتھ ختم ہوگئی۔ لہٰذا آنے والی احادیث میں جہاں ہجرت کے ختم ہونے کا ذکر ہوگا اس سے یہی ہجرت مراد ہے البتہ مطلقا ہجرت قیامت تک جاری رہے گی۔

لڑائی (جہاد) پر بیعت:

عن عبادہ بن ولید عن ابیہ عن جدہ قال بایعنار رسول اللہ ﷺ بیعۃ الحرب (فتح الباری)

ترجمہ : ہم نے رسول اللہ ﷺسے لڑائی (یعنی جہاد) پر بیعت کی۔

خندق کی جہاد بیعت:

عن حمید قال سمعت انس بن مالکؓ یقول کانت الانصار یوم الخندق تقول نحن الذین بایعوا محمدا۔۔۔ علی الجہاد ماحیینا ابدا۔۔۔ فاجابھم النبی ﷺ فقال اللھم لاعیش الا عیش الاخرۃ۔۔۔ فاکرم الانصار والمھاجرۃ(بخاری)

ترجمہ: حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ غزوہ خندق کے مو قع پر انصار فرماتے تھے ہم نے مرتے دم تک حضرت محمد ﷺ سے جہاد پر بیعت کی ہے تو حضور اقدس ﷺ ان کے جواب میں فرماتے یا اللہ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے پس انصار اور مہاجرین پر کرم فرما۔

 مکی ہجرت منقطع مگر جہاد جاری :

عن امیۃ بن یعلی ان اباہ اخبرہ ان یعلی قال: کلمت رسول اللہﷺ وابی امیۃ یوم الفتح فقلت یا رسول اللہﷺ! بایع ابی علی الھجرۃ فقال رسول اللہ ﷺ بل ابایعہ علی الجہاد فقد انقطعت الھجرۃ۔

( السنن الکبری البیہقی)

حضرت یعلیؓ فرماتے ہیں میں نے فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرے والد کو ہجرت پر بیعت فرما لیجیے تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا نہیں بلکہ میں انکو جہاد پر بیعت کرتاہوں ہجرت تو ختم ہو چکی ہے۔

کلمہ طیبہ، نماز، روزہ ، زکوۃ ، حج اور جہاد پر بیعت:

حدثنا ابوالمثنی العبدی قال سمعت ابن الخصا صیۃ ؓ یقول اتیت رسول اللہ ﷺ لابایعہ علی الاسلام فاشترط علی ان تشھد ان لا الہ الا اللّٰہ وان محمد اعبدہ ورسولہ و تصلی الخمس وتصوم رمضان وتودی الزکاۃ وتحج البیت و تجاھد فی سبیل اللّٰہ قال قلت یا رسول اللّٰہ ﷺ اما اثنان فلا اطقیھا اما الزکوۃ فما لی الاعشر ذودھن رسل اھلی و حمولتھم واما الجہاد فیز عمون انہ من ولی فقد باء بغضب من اللّٰہ فاخاف اذا خضرنی قتال کرھت الموت وخشعت نفسی قال فقبض رسول اللہ ﷺ  یدہ ثم حرکھا ثم قال لاصدقۃ والا جہاد فبم تدخل الجنۃ ثم قلت یا رسول اللّٰہ ﷺ ابایعک فبا یعنی علیھن کلھن (السنن الکبری البیہقی،ص۲۰ج۹ـتفسیرابن کثیر ص۹۳ج۲)

ترجمہ: حضرت ابن الخصاصیہ (بشیر بن معبدؓ) فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اسلام کی بیعت کرنے حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے میرے سامنے یہ شرائط رکھیں۔

(۱)اس بات کی گواہی دو گے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمدﷺاللہ تعالیٰ کے بندے اور اسکے رسول ہیں۔

(۲)پانچ وقت کی نمازیں ادا کروگے ۔

(۳) رمضان کے روزے رکھو گے۔

(۴)زکوۃ ادا کرو گے۔

(۵) حج ادا کرو گے۔

(۶) جہاد فی سبیل اللہ کرو گے۔

میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ان میں سے دو چیزوں کی میں طاقت نہیں رکھتا ایک زکوۃ کی کیونکہ میرے پاس چند بکریاں اور تھوڑ ے سے مال کے سوا اور کچھ نہیں اور ان سے میں اپنے گھر کی ضروریات کا انتظام کرتا ہوں اور دوسری جہاد کی (استطاعت نہیں رکھتا) کیونکہ مسلمانوں کا خیال ہے کہ جو شخص جہاد میں پیٹھ پھیر کر بھاگ جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کا مستحق ہوتا ہے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ قتال کیو قت میں موت سے ڈرجائوں اور میرا نفس گھبرا جائے (اور میں بھاگ جائوں) فرماتے ہیں ( یہ بات سن کر) رسول اللہ  ﷺنے اُن کا ہاتھ پکڑا اور اسے ہلایا اور پھر ارشاد فرمایا نہ صدقہ کرو گے اور نہ جہاد تو پھر جنت میں کس چیز کے ذریعہ داخل ہوں گے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ(میں ان تمام چیزوں پر)  آپ ﷺ سے بیعت کرتا ہوں پس آپ ﷺ نے مجھے ان تما م چیزوں پر بیعت فرما لیا۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online