Bismillah

652

۶ تا۱۲ذوالقعدہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۲۰تا۲۶جولائی۲۰۱۸ء

باب الفیض (قسط۵۴)

باب الفیض (قسط۵۴)

 مرشدنا و مولانا صاحبزادہ ابوالفیض محمد امیر صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ

(شمارہ 638)

فضائل درویشی

رسول خداﷺنے فرمایا کہ ’’اللہ تعالیٰ پارسا عیال دار درویش کو دوست رکھتا ہے اور فرمایا کہ میری امت کے درویش پانچ سو سال امیروں سے پہلے بہشت میں جائیں گے۔‘‘

اور فرمایا کہ:

میری امت کے بہترین لوگ درویش ہیں۔

حضرت کعب الاحبار کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی آئی کہ جب تیرے پاس کوئی درویش آئے تو کہنا مرحبا بشعائر الصالحین۔ تجھے صالحین کا طریقہ مبارک ہو۔

حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب لوگ دنیا اور اس کی دولت کو جمع کرنے لگ جائیں گے اور فقیروں کو دشمن جانیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو چار چیزوں میں مبتلا کرے گا:

۱۔ زمانہ کا قحط

۲۔ بادشاہ کا ظلم

۳۔ کافروں اور دشمنوں کی قوت اور طاقت

۴۔ قاضیوں کی خیانت

رسول خداﷺ نے فرمایا کہ:

الدنیا ملعون ومافیھا الا عالم او متعلم او من والاہ۔

دنیا اور دنیا کی سب چیزیں ملعون ہیں سوائے عالم یا اس کے شاگرد یا اس کے دوست کے۔

علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ درویش صابر زیادہ افضل ہے توانگر شاکر سے یا توانگر شاکر زیادہ افضل ہے درویش صابر سے۔ درست یہ ہے کہ درویش صابر توانگر شاکر سے زیادہ افضل ہے۔

اہل بصیرت کو کشف ہوا ہے کہ عابدوں کے سوا تمام دنیا ہلاک ہے اور عالموں کے سوا تمام عابد ہلاک ہیں۔ مخلصوں کے سواتمام ہلاک ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ سلسلہ نبوت تو ہمارے آقا نامدار حضرت محمد مصطفےﷺپر ختم ہوچکا ہے اور سلسلہ ولایت ہمارے پیغمبرﷺکے بعد تا قیامت جاری وساری ہے۔ آخر کار اس نے بھی ختم ہونا ہے۔ جب یہ ختم ہوجائے گا اور اولیاء کا وجود باقی نہ رہے گا تو پھر تمام دنیا ومافیھا کی ہلاکت ہے۔

حضرت امام مہدی بھی ایک ولی اور بزرگ ہوں گے جو آخر زمانہ میں ظاہر ہونگے۔ ہوسکتا ہے کہ ان کے آنے کے بعد سلسلہ ولایت ختم ہوجائے اور سلسلہ ولایت ختم ہوجانے کے بعد یہ جہان اور اس کی زیبائش اہل جہاں اور ان کا کر وفر،یہ زمین وآسماں کی سب اشیاء بجز رب العالمین کے فناہوجائیں گی۔

کل من علیھا فان ویبقیٰ وجہ ربک ذی الجلال والاکرام۔

اولیاء اور علماء زمین کے ستارے ہیں۔ درجات میں مختلف ہیں۔ بعض سورج ہیں۔ بعض چاند ہیں۔ بعض سہیل بعض مشتری بعض زہرہ بعض مریخ ہیں۔ علماء اور اولیاء کی توہین وتحقیرکفر ہے۔ اولیاء اللہ کا وجود دنیا میں باعث رحمت وبرکت ہے۔ اولیاء اللہ سے عداوت رکھنا یا بعض وعناد رکھنا یا ان کی کرامات کا انکار کرنا کفر ہے۔ ولی اللہ سے خوارق عادت کا صادر ہونا کرامت ہے۔ ہر ایک فرد سے خوارق عادت صادر نہیں ہوتیں۔

پس اے میرے مخلص مرید! جو لوگ ظاہر وباطن سے پاک ہیں، نیک ہیں، صالح ہیں، عابد ہیں، زاہد ہیں، عالم ہیں، پابند شرع ہیں، پابندصوم وصلوۃ ہیں، پیروکار سنت نبویﷺہیں ان کے وجود کو غنیمت سمجھا کر! ان کی خدمت میں ملازم رہ، ان کی صحبت کو اختیار کر، ان کی ہدایات پر چل، ان سے رہنمائی حاصل کر، ان کو اپنا پیشوا اور رہنما جان، یہی سعادت ہے اور یہی نیک بختی ہے اور یہی نجات ہے اور یہی نور ہے اور یہی روحانیت ہے۔ موجودہ دور میں دنیا مادیات کی طرف جارہی ہے اور روحانیت کی متلاشی نہیں ہے۔ حالانکہ روحانیات کے مقابلہ میں مادیات لاشئے ہیں۔

روحانیات کی قوت سے ہی انسان زمین وآسمان اور علویات وسفلیات، عرش وکرسی، لوح محفوظ، بیت المعمور، سدرۃ النتہیٰ، جنت دوزخ کی سیر کرسکتا ہے اور ایسا دنیا میں ہوتا رہا ہے۔ آنا فانا ایسے مقامات تک اللہ کا بندہ ترقی کرسکتا ہے اور صرف ایک منٹ یا ایک سیکنڈ میں وہاں تک اللہ کے بندے کی رسائی ہوسکتی ہے لیکن یہ سب کچھ کسی نیک ولی اللہ کے طفیل ہی حاصل ہوسکتا ہے۔ یہ مزہ تب ہی آتا ہے جب طریقت میں قدم رکھا جائے اور طریقت کے منازل کو طے کیا جائے۔ بس سب سے اول علم دین کا حصول اور بعد ازں تصوف کا راستہ تلاش کیا جائے۔ علم ظاہری اور علم باطنی دونوں قسم کے علوم حاصل کرلینا ضروری اور لازم ہے۔

وما علینا الاالبلاغ وما توفیقی الا باللہ العلی العظیم۔

حضرت سیدنا ومرشدنا ومولانا صاحبزادہ ابوالفیض محمد امیر خسرو چشتیؒ کے مجرب اعمال، اوراد، وظائف

حضرت رحمہ اللہ کی مبارک عادات میں سے ایک یہ تھی کہ مبارک (ایام ولیالی) دن اور رات سال بھر میں جو بھی نصیب ہوتے ان کو قیمتی بناتے تھے۔ سب سے اول شب جمعۃ المبارک اور پیر کی رات بعد از عشاء تا سحری نماز تہجد کلمہ طیبہ اور اسم ذات یااللہ ھو اور مراقبہ میں ساری رات بیٹھ کر اسی عشاء کے وضو کے ساتھ تہجد اور فجر ہر جمعہ اور ہر پیر کی رات کا یہ معمول مبارک آخر مرض الوفات تک جاری رہا ہے اور تہجد اشراق اور چاشت اور بعد ازمغرب کبھی چھ رکعات اوابین اور کبھی بیس رکعات اوابین ادافرماتے تھے۔

روزانہ بعد از فجر تلاوت قرآن مجید اور پھر اشراق اور اشراق کے بعد طویل دعا فرماتے تھے۔ اللہ پاک کی یاد اور حضرت رسول اکرم شفیع اعظمﷺکی یاد مبارک کے وقت مبارک آنکھوں سے موتی کی طرح آنسو جاری ہوجاتے مگر حضرت کمال اخفا فرماتے تھے۔

کبھی حضرت فرمایا بھی کرتے تھے کہ لوگ جب اپنی ماں کو یاد کرتے ہیں یا اپنے کسی بچے، بچی جو گزر چکا ہو یاد کرتے ہیں تو ان کی آنکھیں گواہی دے رہی ہوتی ہیں کہ واقعی یہ اپنے کسی کو دل سے یاد کر رہے ہیں اور جب خدا تعالیٰ اور اس کے پیارے حبیبﷺکو یاد کرتے ہیں تو یہ حالت نہیں ہوتی تعجب کی بات ہے اور ہر جمعۃ المبارک کے دن سورۃ الکھف، سورۃ یٰسین، سورۃ الصافات تلاوت فرماتے جب اس آیت پر پہنچتے:’’الامن اتی اللہ بقلب سلیم۔‘‘ تین بار پڑھ کر دعافرماتے کہ الٰہی مجھے قلب سلیم عطاء فرما۔

ہر رات سورۃ ملک اور شب جمعہ میں الم سجدہ اور سورہ ملک تلاوت فرماتے اور اپنے مریدین متعلقین کو بھی ان اعمال کی تاکید فرماتے رہتے تھے۔ عصر وعشاء سے قبل چار رکعت سنت ادافرماتے پاس جو بھی حاضر ہوتا اسے بھی فرماتے سنت پڑھ لو یہ وقت پھر ہاتھ نہ آئے گا۔

جمعۃ المبارک کے دن قبل از نماز جمعہ صلاۃ التسبیح ادافرماتے اور اپنے مریدوں کو تاکید فرماتے کہ پڑھاکرو۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online