Bismillah

660

۱۰تا۱۶محرم الحرام۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۲۱تا۲۷ستمبر۲۰۱۸ء

جواہرِ جہاد (قسط۶۱)

جواہرِ جہاد (قسط۶۱)

از: امیر المجاہدین حضرت اقدس مولانا محمد مسعود ازہر صاحب دامت برکاتہم العالیہ

(شمارہ 639)

گرفتاری ہی گرفتاری

گرفتاری جب دور دور تھی تو … باوجود کوشش کے بھی قریب نہ آتی تھی…تعلیم کے زمانے ہمارے جامعہ کے مہتمم …حضرت اقدس مفتی احمد الرحمن صاحبؒ اور کئی محبوب اساتذہ کرام گرفتار ہو گئے… اس وقت گرفتاری بہت مرغوب لگتی تھی کہ ان اساتذہ کرام کی خدمت کا موقع ملے… مگر نام نہ نکلا… میں اکثر جیل جاتا اور جالیوں کے پیچھے سے اپنے اساتذہ کرام کی زیارت کرتا… ایک اور بار استاذ محترم حضرت مفتی عبد السمیع صاحب شہیدؒ ایک مسجدکی آزادی کے لئے گرفتار ہوئے…میں نے بھی کوشش کی مگر گرفتاری نہ ملی… پھر جب ’’گرفتاری‘‘ کی ’’اجل مسمیّٰ‘‘ آ گئی تو میرے ساتھ ’’گرفتاری‘‘ نے وہ کیا جو شائد کسی کے ساتھ کم ہوا ہو… جو شخص بھی قید یا گرفتاری میں ہوتا ہے تو اسے یہی فکر رہتی ہے کہ… رہائی کب ملے گی؟ … جبکہ مجھے اپنی قید کے دوران کئی بار اس فکر سے گذرنا پڑا کہ…گرفتاری کے دوران مزید گرفتاری نہ آ جائے … کوٹ بھلوال جیل میں کچھ راحت ملی تو… حکومت نے ہمیں وہاں سے نکال کر ایک عقوبت خانے میں بھیجنے کی تدبیر کی…جیل میں اس بات پر لڑائی ہو گئی… اب حکومت ہمیں اپنی ہی جیل میں دوبارہ گرفتار کرنا چاہتی تھی…مگر کشمیری مجاہدین آہنی دیوار کی طرح رکاوٹ بن گئے… ایک ماہ سے زائد کا عرصہ اس طرح گذرا کہ جیل میں دن رات… مزید گرفتاری کا خطرہ مسلط رہا…حکومتی فورسز دوبار ناکام ہوئیں… تیسری بار انہوں نے سی آر پی ایف کی سات کمپنیوں کے ساتھ حملہ کیا … جیل میں شدید فائرنگ ہوئی… بھائی نوید انجم جام شہادت نوش فرما گئے… مزید ساتھیوں کے شہید ہونے کا اندیشہ تھا تو ہم نے گرفتاری دے دی… گرفتاری ہی گرفتاری…پھر یہ سلسلہ چل نکلا… جب بھی باہر کوئی بڑا واقعہ ہوتا … فوری طور یہ خبریں شروع ہو جاتیں کہ… اس واقعہ میں میرا ہاتھ ضرور ہو گا… چنانچہ پھر مزید گرفتاری ، تفتیش، تشدد اور منتقلی کی تلوار سر پر لٹکنے لگتی…

گرفتار آدمی ویسے ہی مظلوم اور بے بس ہوتا ہے… بڑی مشکل سے جیل میں سونے جاگنے کی ترتیب درست ہوتی ہے… ایسی حالت میں پھر اگر مزید گرفتاری اور تفتیش کا خطرہ آ جائے تو دل و دماغ پر کیا گذرتی ہو گی… اس کا تصور آسان نہیں ہے… دہلی کی تہاڑ جیل میں قیام کے دوران وہاں یو پی میں کچھ مجاہدین پکڑے گئے…فوراً میرا نام اخبارات میں آنے لگا…آس ہاس سے بھی اطلاعات ملیں کہ اب ’’یو پی‘‘ منتقل کیا جائے گا… دل پر پریشانی کا حملہ ہوا تو اسے دبانے کے لئے قرآن مجید لے کر بیٹھ گیا…مرنا ہے تو مرنے سے پہلے کچھ کام ہی کر لو… الحمدللہ سات دن رات محنت کر کے قرآن مجید کی آیات جہاد کو جمع کیا… ان کا ترجمہ اور مختصر تشریح لکھی… اور یوں تعلیم الجہاد کی چوتھی جلد تیار ہو گئی…امن کی حالت ہوتی تو شائد یہ کام مہینوں میں بھی نہ ہوسکتا…

یہود کی چالیس بیماریاں بھی اسی طرح کے ایک اور خطرے کے دوران لکھی گئی…جیل سے کچھ مجاہدین باحفاظت فرار ہو گئے…جن میں کمانڈر خالد شہیدؒ بھی تھے… اس کا الزام بھی مجھ پر لگا کہ ماسٹر مائنڈ اور سہولت کار میں ہوں…دہلی سے سی بی آئی کی خصوصی ٹیم تفتیش کے لئے پہنچ گئی … پاکستان کی حکومت کا میں نے کچھ نہیں بگاڑا تھا …مگر غیروں کے دباؤ میں انہوں نے بھی مجھ پر گرفتاری مسلط کی… اور پھر گرفتاری میں بھی مزید گرفتاری کی کوشش جاری رہی… بہاولپور سینٹرل جیل میں تھا تو وہاں کی انتظامیہ پر خوف مسلط ہو گیا کہ…میرے رفقاء ان پر حملہ نہ کر دیں…چنانچہ وہ دن رات اسی کوشش میں رہے کہ کسی طرح دوبارہ گرفتار کر کے …ڈیرہ غازیخان منتقل کر دیں… ان کو بار بار سمجھایا کہ یہ میرا اپنا ملک ہے…یہاں ہم نے کسی کو کنکر تک نہیں مارا… مگر پھر بھی ان کا خوف کم نہ ہوا… اللہ تعالیٰ نے آسانی فرمائی تو گھر کو سب جیل قرار دے کر وہاں بند کر دیا گیا… مجھے گرفتاری کی اس وفاداری پر حیرت ہوئی…کہ جب دور تھی تو افریقہ جیسے ملکوں میں بھی قریب نہ آئی…جہاں ایک قادیانی مبلغ نے بہت سے غنڈے جمع کر لئے تھے… اور جب قریب آئی تو اپنے گھر میں بھی مجھے آزاد نہ رہنے دیا… آٹھ ماہ تک یہ گرفتاری میرے ساتھ میرے گھر پر مقیم رہی … جہاں اپنے بوڑھے والدین کی زیارت بھی ہفتے میں دو بار نصیب ہو سکتی تھی… حالانکہ پورے پاکستان کے کسی تھانے میں مجھ پر کوئی ایک مقدمہ نہیں تھا… ملک میں کسی تخریب کاری کا کبھی سوچا تک نہیں تھا… بلکہ اس ملک پر آنے والے کئی طوفانوں کو اپنے سینے پر روکا… مگر ایک ہی جواب ملتا کہ کیا کریں …عالمی دباؤ ہے…

اللہ تعالیٰ کا شکر ہے

جب گرفتاری دور تھی تب بھی اللہ تعالیٰ کا شکر… اور جب گرفتاری قریب آئی تب بھی اللہ تعالیٰ کا شکر… اللہ تعالیٰ نے گرفتاری کے دوران بہت فضل فرمایا… ہر گرفتاری میں کوئی نہ کوئی قیمتی نعمت عطاء فرمائی…گرفتاری کے دوران خدمت دین کی توفیق بھی بخشی اور رزق بھی عطاء فرمایا… اور الحمد للہ اپنے سوا کسی کا محتاج نہیں فرمایا…ہم اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں… وہ ہمارا مالک اور رب ہے… اس کی مرضی ہمیںآزاد رکھے یا قید رکھے … پرویز مشرف کو شوق تھا کہ مجھے زیادہ سے زیادہ قیدمیں رکھے…پھر وہ بھی گرفتار ہوا ، قید ہوا اور اب تک نیم گرفتاری کی زندگی گزار رہا ہے… دین کی خاطر قید ہونا نعمت اور عبادت ہے… ہر مسلمان کو ذہنی طور پر اس کے لئے تیار رہنا چاہیے کیونکہ… حضرات انبیاء علیہم السلام اور حضرات صحابہ کرام نے دین کی خاطر جیلیں اور قیدیں کاٹی ہیں…وہ جو دین کا کام کر رہے ہیں، جہاد کی محنت کر رہے ہیں اور وہ آزاد ہیں…وہ جیل اور قید کے ڈر سے اپنا کام نہ روکیں…اگر ان کی قسمت میں جیل اور قید لکھی ہے تو وہ دینی کام کے بغیر بھی آ جائے گی… آپ کسی بھی جیل جا کر دیکھیں … ہزاروں افراد وہاں قید ہوں گے…کیا یہ سب جہاد کا کام کر رہے تھے؟… زرداری نے آٹھ سال جیل کاٹی… وہ دین یا جہاد کا مبلغ تو نہیں تھا… بس قسمت میں جو قید لکھی ہو وہ کاٹنی پڑتی ہے… یہ قید اگر دین کی نسبت سے مل جائے تو انسان کے لئے بڑی سعادت ہے… قید کی طرح رہائی کا وقت بھی مقرر ہے…وہ وقت جب آ جائے تو کوئی نہیں روک سکتا…ایک مومن کو قید اور رہائی کے بارے میں زیادہ سوچنے کی بجائے یہ سوچنا چاہیے کہ …وہ دنیا میں کس کام کے لئے بھیجا گیا ہے؟ … اس سے قبر میں کیا سوالات ہونے ہیں… اور اس نے عالم برزخ کے قید خانے ’’سجین‘‘ اور آخرت کے قید خانے ’’جہنم‘‘ سے کس طرح بچنا ہے…

یہ باتیں کیوں یاد آئیں

یہ ساری باتیں آج اس لئے یاد آئیں کہ … بھارت سے ہمارے بارے میں ایک ہی شور آ رہا ہے… پکڑو، مارو ، پکڑو، مارو… اور یہاں اپنے ملک کے حکمرانوں کو یہ صدمہ ہے کہ… شاید ہم نے ان کی یاری میں خلل ڈالا ہے… یہ چاہتے ہیں کہ قیامت کے دن یہ مودی اور واجپائی کے یاروں، دوستوں میں اٹھائے جائیں… ہمیں اپنے مرنے یا پکڑے جانے کی الحمد للہ کوئی فکر نہیں… ہمارے مرنے سے ہمارے دوستوں کو کوئی کمی محسوس ہو گی اور نہ ہمارے دشمنوں کو… الحمد للہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جو کچھ تھوڑا سا لکھا ہے اور جو تھوڑا سا بولا اور بنایا ہے وہ ان شاء اللہ دوستوں کو فائدہ پہنچاتا رہے گا… اور دشمنوں کے لئے الحمد للہ ایک ایسا لشکر تیار ہے جو موت سے عشق رکھتا ہے…اور اس لشکر کی جڑوں تک پہنچنا کسی دشمن کے بس میں نہیں ہے… ان شاء اللہ یہ لشکر دشمنوں کو زیادہ دن خوشی نہیں منانے دے گا… اور کمی تو بالکل محسوس نہیں ہونے دے گا… الحمد للہ دنیا کے بارے میں کوئی تمنا نہیں کہ…مرنے پر اس کی حسرت رہ جائے…

باقی رہے گھر والے اور بچے… تو ان کو آج بھی اللہ تعالیٰ پال رہے ہیں…اور کل بھی اللہ تعالیٰ ہی پالنے والے ’’رب العالمین ‘‘ ہیں… ہم نے پاکستان کے لئے ہمیشہ امن اور خیر خواہی کی سوچ رکھی ہے…اپنی جان اور چمڑی بچانے کے لئے نہیں… بلکہ امت مسلمہ اور جہاد کے مفاد میں …افسوس کہ یہاں کے حکمرانوں نے اس کی قدر نہیں کی… یہ غیروں کے اشاروں پر چلتے رہے …اور اپنے ہی ملک کو… آگ اور بارود کے ڈھیر میں تبدیل کرتے گئے… ان میں سے ہر ایک آتا ہے ملک میں آگ لگاتا ہے…اور پھر باہر بھاگ جاتا ہے… ہم نے بہت پہلے ’’کالی آندھی‘‘ کے نام سے ایک مفصل مضمون لکھ کر …حکومت اور عوام دونوں کو سمجھانے کی کوشش کی… مگر سمجھتا تو وہ ہے جو اپنے فیصلے خود کرتا ہو… مودی کو کیا ہمت تھی کہ وہ ان کو بہتّر گھنٹوں کی ڈیڈ لائن دیتا … کوئی غیرتمند انسان کس طرح سے یہ لہجہ برداشت کر سکتا ہے… حکمران جس راستے پر جا رہے ہیں وہ…اس ملک کے لئے سخت خطرناک ہے…ترقی تو دور کی بات ہے… مساجد، مدارس اور شرعی جہاد کے خلاف ان کے اقدامات…ملک کی سا لمیت کے لئے بھی خطرہ ہیں… الحمد للہ اسلام کا ماضی بھی تابناک ہے اور مستقبل بھی روشن…

مومن کی دنیا بھی کامیاب ہے…اور قبر اور آخرت بھی… موجودہ شور شرابے سے اہل دل ہرگز خوفزدہ نہ ہوں…بلکہ اپنی فرض اور مثبت محنت کو اور زیادہ بڑھا دیں …ایمان پر رہیں… ایمان پر جئیں اور ایمان پر مریں…رب کعبہ کی قسم کامیابی آپ کے لئے ہے…میں نہیں کہہ رہا … بلکہ آسمان و زمین کا مالک اللہ تعالیٰ اعلان فرما رہا ہے… وَأَنتُمُ الأَعْلَوْنَ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِین

 پٹھان کوٹ کے واقعہ نے ایسا ہنگامہ برپا کیا ہے کہ … کسی کو پتا نہیں چل رہا کہ وہ کیا کرے اور کیا کہے… ایک طرف انڈیا ہے وہ زخمی کتے کی طرح کوک رہا ہے… اور زخمی سانپ کی طرح پھنکار رہا ہے… انڈیا میں چونکہ ’’فلموں ‘‘ کا راج ہے… اس لئے وہاں کے حکمران ، وہاں کے صحافی اور وہاں کے سیاستدان … سبھی ’’ایکٹر‘‘ بننے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں… حالانکہ جنگ الگ چیز ہے اور فنکاری الگ چیز… فلموں کے وہ ہیرو جو فلموں میں کئی کئی لوگوں سے بیک وقت لڑتے ہیں…وہ عام زندگی میںچوہے کو دیکھ کر بھی بیت الخلاء میں  بھاگ جاتے ہیں… جنگ میں تو یہ ہوا کہ چار مجاہدین کا مقابلہ ہزاروں فوجیوں نے مشکل سے کیا… کئی مارے گئے کئی زندگی بھر کے لئے معذور ہوئے اور کئی زخمی… جبکہ میڈیا پر انڈین شیر دھمکیاں دینے سے نہیں تھک رہے…ادھر ہمارے حکمرانوں نے انڈیا کے درد کو اپنا درد بنا کر ظالمانہ حرکتیں شروع کر دیں ہیں… اور ہمارا میڈیا بھی اس موقع پر نہایت اَفسوسناک کردار ادا کر رہا ہے…جہاد اور مجاہدین پر ایسے حالات آتے رہتے ہیں …یہ حالات جہاد کے لوازمات میں سے ہیں…جو مسلمان بھی جہاد فی سبیل اللہ کے مبارک عمل کو اختیار کرتا ہے… وہ جانتا ہے کہ اس عمل میں شہادت بھی مل سکتی ہے اور زخم بھی… گرفتاری بھی ہو سکتی ہے اور معذوری بھی… پابندیاں بھی لگ سکتی ہیں اور بدنامیاں بھی… اسے معلوم ہوتا ہے کہ ’’بدر ‘‘ والے حالات بھی آ سکتے ہیں اور ’’اُحد ‘‘والے بھی… غزوہ احزاب والی صورت بھی بن سکتی ہے اور غزوہ حدیبیہ والی بھی… تبوک بھی آ سکتا ہے اور موتہ بھی… جہاد کا تو مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ…قربانی دو تاکہ اللہ تعالیٰ کا دین اور کلمہ بلند ہو…جان اور مال دو اور جنت لو… جہاد دنیا میں عیاشی اور ظاہری پُر امن زندگی کا نام تو ہے نہیں… یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہماری کمزوریوں پر رحم فرماتے ہوئے ہمیں طرح طرح کی آسانیاں عطاء فرمائی ہیں…ورنہ جہاد میں تو بس قربانی ہوتی ہے اور مشقت… کٹنا ہوتا ہے اور مرنا…ہجرت ہوتی ہے اور زخم … اس لئے موجودہ حالات ہمارے لئے حیرانی یا صدمے کا باعث نہیں ہیں… بس ضرورت صرف ایک بات کی ہے …وہ یہ کہ دیکھا جائے کہ سخت حالات ہمارے جہاد کی وجہ سے آئے ہیں…یا ہمارے کسی گناہ یا نافرمانی کی وجہ سے …غزوہ احد میں مسلمانوں پر جو سخت صدمات اور تکلیفیں آئیں… ان کی وجہ بعض افراد کی ’’نافرمانی ‘‘ تھی… حضرت آقا مدنی ﷺ کے حکم کی نافرمانی ہوئی… اور پھر میدان الٹ گیا… صرف ایک نافرمانی نے فتح کی خوشی کو کراہتے زخموں میں… بڑھتے ہوئے طوفانی لشکر کو لاشوں میں… اور للکارتے جذبات کو غموں میں بدل دیا… پھر تو مسلمانوں کی ایسی حالت ہوئی کہ ہر کتا ان پر بھونک رہا تھا… اور ہر گیدڑ ان پر دھاڑ رہا تھا… شیطان کو بھی موقع ملا اور اس نے مسلمانوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا…اور منافقین بھی ڈیڑھ گز کی زبانیں چلانے لگے… جہاد کے معاملات میں امیر کی نافرمانی سے یہی ہوتا ہے… اور یہی ہوتا رہے گا …مامورین کی فرمانبرداری سے امیر کو کچھ نہیں ملتا…خود مامورین کا سر بھی سلامت رہتا ہے اور تاج بھی… لیکن جب امیر کے حکم کو پاؤں کی جوتی بنا دیا جائے تو…پھر مامورین خود بے وزن ہو جاتے ہیں…صرف فخر ہوتا ہے کہ ہم کسی کی نہیں مانتے، اندر طاقت ختم ہو جاتی ہے… ابھری ہوئی جھاگ کی طرح… اڑتے ہوئے غبار کی طرح … جماعت کے رفقاء کو بار بار روکا گیا کہ… تصویر بازی اور ویڈیو بازی سے دور رہیں… خصوصاً عسکری شعبوں میں یہ زہر قاتل ہے… ذمہ دار افراد دوسرے ذمہ داروں کی غیبت نہ کریں …کل وقتی وقف ساتھی خود کو دنیاوی کاروباروں میں نہ لگائیں اور اسی طرح کے دیگر جماعتی احکامات … ان سب باتوں پر کون کتنا عمل کر رہا ہے … اور کون نہیں… اور عمل نہ کرنے کہ وجہ سے کیا کیا نقصانات سامنے آ رہے ہیں…ان سب پر غور کرنے کی سخت ضرورت ہے… اور وہ جن سے غلطیاں ہو چکیں…استغفار اور سچی توبہ کا دروازہ کھلا ہے اس میں داخل ہو کر اپنے جہاد کو عند اللہ مقبول بنا سکتے ہیں…

جہاد شریعت کا حکم ہے…اور شریعت کا حکم شریعت کے طریقے سے ہی ادا ہو تو مقبول ہوتا ہے …اس وقت کچھ مناظر احد والے ہیں اور کچھ مناظر احزاب والے… ان حالات اور مناظر میں مایوسی اور پسپائی جرم ہے… ایمان پر مضبوطی … جہاد پر ثابت قدمی …کثرت استغفار اور سچی توبہ … یہ چار ڈھالیں ہیں…ان کو تھام کر اس چومکھی حملے کو روکا جا سکتا ہے…اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے فتح حاصل کی جا سکتی ہے… ان شاء اللہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online