Bismillah

640

۳تا۹شعبان المعظم ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۰تا۲۶اپریل۲۰۱۸ء

نہ تخت و تاج نے وہ لشکر و سپاہ میں ہے

نہ تخت و تاج نے وہ لشکر و سپاہ میں ہے

جو بات مردِ قلندر کی بارگاہ میں ہے

مفکر اسلام جناب حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمۃُ اللہ علیہ سابق ناظم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کی شاہ فیصل سے ملاقات اور عجیب

(شمارہ 639)

مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی علیہ الرحمہ شاہ فیصل سے ملاقات کیلئے جب ان کے محل تشریف لے گئے، تو محل کی خوبصورتی، اس کی سجاوٹ اور اس کی آرائش و زیبائش دیکھ کر شاہ فیصل سے یوں گویا ہوئے:

میں سوچ رہا ہوں اور مجھے یاد آرہا ہے کہ ہمارے ہندوستان میں بھی ایک بادشاہ گذرا ہے-

اس کی سلطنت آج کے پورے ہندوستان اور پاکستان پر نہیں بلکہ نیپال، سری لنکا اور افغانستان تک پھیلی ہوئی تھی، اس نے 52سال اتنی بڑی سلطنت پر حکومت کی، مگر اقتدار کے 52سالوں میں سے 20سال گھوڑے کی پیٹھ پر گذارے، اس کے دور میں مسلمان آزاد تھے، خوشحال تھے-

ان کیلئے ہر قسم کی آسانیاں تھیں لیکن بادشاہ کا حال یہ تھا کہ وہ پیوند لگے کپڑے پہنتا تھا، قرآن مجید کی کتابت کر کے اور ٹوپیاں سی کر اپنا خرچ چلاتا تھا، خزانے کو ﷲکی اور اس کی مخلوق کی امانت سمجھتا تھا، وہ خود روکھی سوکھی کھاتا، مگر دوسروں کیلئے لنگر چلاتاتھا، وہ خود تنگ دست تھا مگر دوسروں کیلئے موتی لٹاتا تھا، وہ فقیر تھا مگر دل کھول کر غریبوں کی مدد کرتا تھا۔ عیاشی کے تمام سامان اس کے ایک اشارے پر فراہم ہو سکتے تھے-

مگر وہ آخرت کو یاد کرکے روتا تھا۔ راتوں کو پروردگار کے حضور میں کھڑا رہتا تھا، اور اپنی کوتاہیوں پر رو رو کر معافی مانگتا تھا، اپنے دربار میں وہ بادشاہ تھا، لیکن اﷲکے دربار میں فقیر بن کر کھڑا رہتا، اور آنسوؤں کا نذرانہ پیش کرتا، اس وقت مسلم حکمراں غریب اور سادہ تھے۔مگر عوام خوشحال اور آسودہ تھے۔

آج آپ کا یہ محل دیکھا تو خیال آیا کہ سب کچھ کتنا بدل گیا ہے، آج ہمارے بادشاہ خوشحال ہیں اور عوام غریب و  محتاج۔

بادشاہ شاندار محلوں میں رہتے ہیں، مگر رعایا کو جھونپڑی بھی میسر نہیں۔ پہلے کے بادشاہ پوری قوم کیلئے درد مند تھے مگر اب بادشاہوں کو کسی کا کوئی خیال ہی نہیں۔ اپنی عیاشی میں مست ہیں۔

فلسطین کے عربوں کو دیکھئیے کہ کیا حال کر دیا ہے ان کا یہودیوں اور نصرانیوں نے، فلسطین میں مسلمان بے گھر ہیں، کشمیر میں ان کا لہو ارزاں ہے، وسط ایشیاء میں وہ اسلام کی شناخت سے محروم ہیں۔ آج میں نے آپ کے محل میں قدم رکھا تو اسلام کی پوری تاریخ میری نظر میں گھوم گئی اور پہلے کے اور اب کے بادشاہوں کے تقابل میں کھوگیا۔

جب مولانا خاموش ہوئے تو شاہ فیصل کا چہرہ آنسوؤں سے تر ہوچکا تھا، اب ان کی باری تھی لیکن وہ زار و قطار رو رہے تھے، رونے کی آواز سن کر محافظ دوڑتے ہوئے آئے ، تو شاہ فیصل نے ہاتھ کے اشارے سے باہر جانے کیلئے کہا اورمولانا سے مخاطب ہوکر بولے:

وہ بادشاہ اس لئے تھے کہ انہیں آپ کے جیسے بے باک اور مومنانہ شان رکھنے والے ناصح میسر تھے۔

آپ تشریف لاتے رہیں تاکہ ہم کمزوروں کو نصیحت ملتی رہے۔

آئینِ جواں مرداں حق گوئی و بیباکی

اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online