Bismillah

645

۸تا۱۴رمضان المبارک ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۵تا۳۱مئی۲۰۱۸ء

جواہرِ جہاد (قسط۶۶)

جواہرِ جہاد (قسط۶۶)

از: امیر المجاہدین حضرت اقدس مولانا محمد مسعود ازہر صاحب دامت برکاتہم العالیہ

(شمارہ 644)

ہر آدمی کا اپنا ذہن ہوتا ہے اور اپنا مزاج … اپنا حلقہ ہوتا ہے اور اپنی کمزوریاں… اسی لئے اکثر جانشین اپنے پیش رو کی مسند اُلٹ دیتے ہیں … اس کے کام کا رنگ اُجاڑ دیتے ہیں… اور اُس کے نظریات کو بھی اُس کے ساتھ دفن کر کے اپنے اختیارات کے مزے لوٹنے میں لگ جاتے ہیں … وہ وفا کی جگہ عقل استعمال کرتے ہیں اتباع کی جگہ اجتہاد سے کام لیتے ہیں … اورجانشینی کو جانشینی نہیں اپنا مستقل کمال سمجھتے ہیں …یہ ایک بہت لمبی اور مفصل داستان ہے … اس امت میں ’’جانشینی‘‘ کا یہ سلسلہ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے شروع ہوا…اور تاقیامت جاری رہے گا … ہر جانے والے کے پیچھے دوسرے نے آنا ہے … یہ سلسلہ اس وقت تک عمومی رہتا ہے… جب تک امت میں کوئی بڑی شخصیت پیدا نہیں ہوتی… لیکن جب کوئی بڑی شخصیت آ جائے …اور وہ امت کے لئے کوئی مفید کام شروع کرے تو …اب جانشینی کا معاملہ بہت اہم ہو جاتا ہے… ماضی میں کئی بڑے کام ، کئی بڑی تحریکیں… اور کئی بڑے ادارے … اچھے جانشین نہ ملنے کی وجہ سے اُلٹ گئے…یہ معاملہ امت مسلمہ کی قسمت سے بھی تعلق رکھتا ہے … خیر اس مفصل داستان میں اترنے کا تو اس وقت موقع نہیں …تحریک طالبان یا امارت اسلامی افغانستان…امت مسلمہ کے لئے ایک نعمت عظمیٰ ہے… اور اس تحریک کے بانی حضرت مُلّامحمد عمر مجاہدؒ اس امت کے محسن ایک عظیم شخصیت تھے … ایسے بھر پور اور منفرد شخص کی جانشینی بڑا مشکل اور خطرناک کام تھا… یعنی اگر اچھا جانشین بننا چاہو تو یہ بہت مشکل… اور اگر اُس کے راستے سے ہٹ جانے والا جانشین بنو تو یہ بہت خطرناک…کیونکہ یہ امت مسلمہ کے ساتھ خیانت ہے… ہر وہ شخص جس نے مُلّااختر محمد منصور کو قریب سے دیکھا ہے … وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ… ایسی کھلی ڈلی طبیعت کا مالک یہ بے پرواہ سا شخص… اتنی بڑی امانت اور جانشینی کو اتنے احسن طریقے سے سنبھال لے گا… مگر مُلّامنصور شہید نے یہ کارنامہ کر دکھایا … اور یہ ان کے دل میں اُترے ہوئے ایمان کی قوت تھی کہ انہوںنے … مُلّامحمد عمر مجاہدؒ کے کام کو  نہ پھیکا پڑنے دیا …اور نہ اس کام کے رخ میں کوئی تبدیلی لائی … اور نہ دشمنوں کو مُلّامحمد عمر کے جانے کی خوشی منانے دی… مُلّااختر محمد منصور ایک انچ بھی مُلّامحمد عمر مجاہد کے راستے سے نہ ہٹے… بلکہ اُسی راستے پر چلتے ہوئے کام کو مزید بلندی اور وسعت پر لے گئے…مُلّااختر محمد منصور شہید کا یہ وہ کارنامہ اور عمل ہے…جو ان شاء اللہ خود ان کے بھی بہت کام آئے گا اور امت مسلمہ کے لئے بھی ایک بہترین مثال بنا رہے گا…لیکن اگر وہ ’’امارت‘‘ کے مزے لوٹنے میں لگ جاتے… اپنی مستقل شناخت بنانے کے دھوکے میں پڑ جاتے …یا اپنی دنیا کو سرسبز اور پُر امن بنانے کے فریب میں مبتلا ہو جاتے تو…مسلمانوں کی یہ عظیم تحریک برباد ہو جاتی… اور مُلّامنصور تب بھی اتنی ہی زندگی پاتے جتنی اب انہوں نے پائی ہے… مگر اس وقت وہ اپنے ساتھ کیا لے کر جاتے؟… اسلام اور مسلمانوں کی لاج رکھنے ، اتنی بڑی اسلامی تحریک کو سنبھالنے…اور حضرت امیر المومنین کی بہترین جانشینی کا حق ادا کرنے پر…مُلّااختر محمد منصور شہید کو سلام… اللہ تعالیٰ اُن کو امت مسلمہ کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے… آمین

بابرکت تحریک

اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے ساتھ نصرت کا وعدہ فرمایا ہے…اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا اور برحق ہے…

ایک بات پکی ہے

ان شاء اللہ’’کشمیر‘‘نے ضرور آزاد ہونا ہے … یہ مبارک تحریک اپنے اُن تمام امتحانات سے گذرچکی ہے جو کسی بھی تحریک کو ختم کرنے کے لئے کافی ہوتے ہیں… مگر تحریک کشمیر ختم نہ ہوئی…آج کل کے دور میں کوئی تحریک دس سال تک چل جائے تو بڑی بات ہوتی ہے… مگر اہل کشمیر تقریباً تیس سال سے اپنا لہو اس تحریک کو دے رہے ہیں… جہاد افغانستان کی روشنی سے آنکھیں کھولنے والی تحریک کشمیر… طوفانوں اور اندھیروں کے کئی سمندر عبور کرچکی ہے …نائن الیون کے بعد جب ’’جہاد‘‘ کے خلاف ساری دنیا متحد ہوگئی تو… جہاد کشمیر کو مٹانے کی بڑی مؤثر چال چلی گئی…یہ چال ایسی خطرناک تھی کہ ’’جہاد کشمیر‘‘واقعی ڈوبتا محسوس ہوا… مگر اچانک تہاڑ جیل سے ایک آئینہ سورج کی طرح چمکا… اور پوری وادی’’الجہاد الجہاد‘‘ کے نعروں سے گونج اُٹھی… اور پھر جہاد کشمیر نے اپنے شعلے دوردور تک برسا دئیے … واقعی یہ عجیب تحریک ہے…بابرکت غزوہ ہند … اس تحریک کی گود میں…معلوم نہیں کتنے افضل گرو…کتنے غازی بابا…کتنے سجاد افغانی اور کتنے برہان وانی…پل رہے ہیں… ایسی تحریک کے بارے میں کون کہہ سکتا ہے کہ … یہ ناکام ہوگی … آسمان سے برسنے والا پانی …اور شہید کی گردن سے بہنے والا خون… اپنے نتائج حاصل کر کے رہتا ہے…

مجھے یقین ہے… سوفیصدیقین کہ… یہ تحریک ضرور کامیاب ہوگی ان شاء اللہ ، ان شاء اللہ، ان شاء اللہ

قریب کے مناظر

الحمدللہ میں نے کشمیر اور تحریک کشمیرکو قریب سے دیکھا ہے… اس تحریک کی خوبیاں بھی اور خامیاں بھی… الحمدللہ خوبیاں زیادہ ہیں اور خامیاں کم … ہر جگہ جب عزیمت چمکتی ہے تو نفاق بھی سراُٹھاتا ہے … مگر کشمیر میں عزیمت زیادہ ہے اور نفاق کم… چودہ صدیاں پہلے عزیمت اور نفاق کا مقابلہ مدینہ منورہ میں ہوا تھا …عزیمت جیت گئی تھی اور نفاق ہار گیا تھا… الحمدللہ کشمیر والے مدینہ منورہ کے عاشق ہیں… اخوان کی نفاقی یلغار کتنی سخت تھی… صرف تصور کریں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے… مگر آج اخوان کا وہاں نام نشان تک نہیں…جبکہ عزیمت ہر آئے دن یوں مسکراتی ہے کہ…دل جھوم اُٹھتا ہے… انڈیا نواز وزیر اعلیٰ کے جنازے میں…چند سو افراد… اور ایک نو خیز مجاہد کے جنازے میں کئی لاکھ…یہ افسانہ نہیں حقیقت ہے… سچی بات یہ ہے کہ اگر پاکستانی حکومت کے ارادوں میں سوراخ نہ ہوتے تو تحریک کشمیر مشرقی پنجاب سے آگے تک بڑھ چکی ہوتی… مگر یہ بھی اس تحریک کی حقانیت ہے کہ جب …پاکستان کا صدر اس تحریک سے ہاتھ دھوچکا تھا …اور وہ اپنی نگرانی میں انڈیا کو باڑ لگانے کی سہولت دے رہا تھا… اور مجاہدین کے لئے آمد ورفت کے تمام دروازے وہ بند کر چکا تھا …تب بھی ایک اللہ تعالیٰ کے سہارے یہ تحریک چلتی رہی… اور ایک دن کے لئے بھی نہ رکی …میں نے قریب سے دیکھا کہ کشمیر کا محاذ… دنیا کا مشکل ترین محاذ ہے… اور شاید دنیا کا سب سے اونچا محاذ بھی…یوں سمجھ لیں کہ پورا کشمیر انڈین فوج کی ایک چھاؤنی ہے… آپ کشمیر کا کل رقبہ دیکھیں اور پھر انڈین آرمی اور فورسزکی تعداد … آپ مان جائیں گے کہ کشمیر ایک فوجی چھاؤنی ہے… ہر موڑ پر مورچہ ،ہر چوک پر بینکر … ہر گلی میں پہرہ اور ہر سڑک پر گشت…آپ دنیا بھرکے عسکری ماہرین کو … کشمیر کی یہ صورتحال دکھائیں وہ بیک آواز کہیں گے کہ… یہاں چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی… مگر اسی چھاؤنی کے اندر ستائیس سالوں سے جہاد جاری ہے… اور جہاد بھی معمولی نہیں … بھرپور جہاد…زوردار جہاد اور فدائی جہاد … میں نے اس چھاؤنی میں خوشی اور اطمینان کے ساتھ گھومتے مجاہد دیکھے اور اسی چھاؤنی میں ہانپتے کانپتے خوف سے لرزتے انڈین فوجی بھی بارہا دیکھے …ان فوجیوں کے خوف بھرے تبصرے، اپنی حکومت کو دی جانے والی غلیظ گالیاں … اور جلد ازجلد کشمیر سے واپسی کی آرزو…

میں نے کشمیر کے عقوبت خانوں اور جیلوں میں … وہ بوڑھے کشمیری بزرگ بھی دیکھے… جن کی ہڈیاں تشدد سے چٹخ چکی تھیں… مگر ان کے عزائم کپواڑہ کے پہاڑوں سے بلند تھے… اور سب سے بڑھ کر کشمیری مسلمان مائیں اوربہنیں…ان کی ہمت، جرأت اور عزیمت کی داستانیں … ہزاروں صفحات کی کتابیں بھی نہیں سمیٹ سکتیں…

ہم جب عقوبت خانوں اور جیلوں میں تھے تو ان مائوں نے…ہمارے لئے اپنے سگے بیٹوں سے بھی زیادہ اچھے کپڑے اور کھانے بھجوائے او راپنی ایمان افروز دعائوں سے ہمارا حوصلہ بڑھایا…دور سے بیٹھ کر تبصرے اور فتوے داغنا اہل ایمان کو زیبا نہیں… کشمیر پر بات کرنے سے پہلے ذرا کشمیر میں جھانک کر تو دیکھو…تب اپنا ایمان بہت کمزور نظر آئے گا … اپنا قد بہت چھوٹا نظر آئے گا… اور اپنی آنکھیں اس نیم نابینا کشمیری خاتون سے بھی کمزور نظر آئیں گی جو اپنے گھر مجاہدین کو بیٹا بنا کر رکھتی تھی … پھر ایک دن اُس کے یہ بیٹے قریب کے کھیت میں مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوگئے تو وہ چلّاتی ہوئی دیوار سے کود گئی کہ… میرے بیٹوں کی بندوقیں مشرک نہ لے جائیں…وہ برستی گولیوں کے درمیان کھیت میں اُتری… اور چار کلاشنکوفیں اُٹھا لائی… تاکہ دوسرے مجاہدین تک پہنچا سکے…ارے ستائیس سال کا عرصہ مذاق نہیں ہوتا… یہ جہاد ہے، عزیمت ہے کہ اتنے عرصہ گزرنے کے باوجود انڈیا ابھی تک اپنی فتح کا اعلان نہیں کر سکا … اور ہر دن اسے اپنے فوجیوں کی لاشیں ڈھونی پڑتی ہیں… جہاد کشمیر پر آوازے کسنے والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو… ہاں! اللہ تعالیٰ سے ڈرو…اپنی ان مسلمان مائوں سے شرم کرو جن کے چار چار لخت جگر اس تحریک میںقربان ہو چکے ہیں…اور کچھ نہیں اپنے کلمے کا تو شرم کرو … وہاں ایک طرف کلمہ طیبہ پڑھنے والے ہیں اور دوسری طرف بتوں کے پجاری مشر ک … کیا کلمہ پڑھنے والے تمہارے یہ بھائی… تمہاری دعاء اور تمہاری تائید کے بھی مستحق نہیں ہیں؟…

آنکھیں ہوں تو نظر آئے

یہ بات درست ہے کہ ستائیس سال کی لڑائی کے باوجود…کشمیر آزاد نہیں ہوا… مگر یہ ناکامی کی بات نہیں ہے… اگر کشمیر آزاد نہیں ہوا تو انڈیا کو بھی فتح نہیں ملی… باقی رہے جہاد کشمیر کے نتائج… اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کو بصیرت والی آنکھیں دی ہوں تو …جہاد کشمیر کے حیر ت انگیز نتائج کھلی آنکھوں سے نظر آتے ہیں … پاکستان کے حکمرانوں کی… کمزوری، بزدلی اور وطن دشمنی کی وجہ سے انڈیا کے حوصلے بہت بلند ہوگئے تھے…وہ پاکستان کو ختم کر کے اکھنڈبھارت کے خواب اور منصوبے جوڑ رہا تھا …جہاد کشمیر نے انڈیا کو کشمیر کی چڑھائیوں، ڈوڈہ کی کھائیوں اور جموں راجوری کی اُترائیوں میں پھنسا دیا … انڈیا کا بے حیا فلمی کلچر جس تیزی سے کشمیر کی خوبصورتی کو فحاشی اور بددینی میں دھکیل رہا تھا… جہاد کشمیر نے کشمیر کو غازیوں،شہیدوں اور اولیاء کی سرزمین بنا دیا … اس تحریک کی برکت سے وہاں اہل ایمان اور اہل ولایت کی ایسی کھیپ تیار ہوئی کہ… صدیوں کی محنت بھی ایسے اولیاء پیدا نہیں کر سکتی … میں نے کشمیر میں کم سن نوجوان اولیاء کرام کے منور چہرے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں… جہاد کشمیر کی برکت سے پاکستان کے کتنے گھرانوں اور کتنے نوجوانوں کو ایمان ،جہاد اور توبہ کی نعمتیں نصیب ہوئیں…یہ ایک مستقل دلکش داستان ہے… جہاد کشمیر کی برکت سے پاکستان ، ہندوستان، بنگلہ دیش اور دور قریب کے کئی علاقوں میں ایمان اور دین کی ہوائیں چلیں… اور بے شمار مسلمانوں کو… سچا مسلمان بننے کی توفیق ملی…

ہاں بے شک…جہاد کشمیر کے مثبت نتائج بے شمار ہیں… مگر یہ اُنہیں کو نظرآتے ہیں جن کی آنکھیں سلامت ہوں…

شرم آتی ہے

جہاد نہ ہماری دکانداری ہے اور نہ ہی ہمارا پیشہ … ہم جہاد میں اس وجہ سے نہیں آئے کہ روٹی کی کمی تھی یا گاڑیوں کی ضرورت… اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر کہ الحمدللہ یہ سب کچھ میسر تھا … یہ منافقین کا پروپیگنڈہ ہے کہ لوگ بیروزگاری اور جہالت کی وجہ سے جہاد میں آتے ہیں…یہ جھوٹ ہے…بیروز گاری اور جہالت کی وجہ سے تو لوگ چور بنتے ہیں، ڈاکو بنتے ہیں، میراثی اور فنکار بنتے ہیں …شوبزاور بے حیائی کے پیشوں میں جاتے ہیں… سیاستدانوں کے کن ٹٹے بدمعاش اور وڈیروں ،جاگیرداروں ، چودھریوں اور خانوں کے غلام بنتے ہیں… جہاد میں توعلم والے آتے ہیں … جن کے پاس عرش سے اُتر نے والے نورانی علم کی روشنی ہوتی ہے … جہاد میں تو وہ اُترتے ہیں جو کمانے کی بجائے لگانے پر یقین رکھتے ہیں… جہاد میں درد دل والے اُترتے ہیں جو اپنی ذات کے خول میں قید نہیں ہوتے بلکہ… اسلام اور مسلمانوں کا سوچتے ہیں…

ایک بارکسی مؤثر ہستی نے مجھے کہا … مولانا! اب تو جہاد چھوڑو کچھ علمی کام کرو … تمہارے اندر علمی استعداد موجود ہے… بندہ نے ان سے عرض کیا: جناب والا! جہاد چھوڑتے ہوئے شرم آتی ہے… مسلمان ہر طرف مظلوم ہیں… اُن پر ظلم کرنے والوں سے کوئی پوچھنے والا نہیں… ظالموں کو تو روکنے والا کوئی نہیں …ہم چند لوگ جہاد میں چلے گئے تاکہ مظلوم مسلمانوں کو ڈھار س ملے کہ وہ لا وارث نہیں … پھر یہ ہوا کہ ہم جو چند افراد جہاد کے لئے کھڑے ہوئے تو ہمارے کئی رفقاء شہید ہوگئے … وہ آگے نکل گئے… ان کے جانے کے بعد ہم پیچھے ہٹ جائیں اور راستہ بدل لیں تو بہت شرم آتی ہے… بہت شرم… یا اللہ!خاص اپنے فضل سے استقامت عطا ء فرما…

جہاد کشمیر کی تازہ لہر

افغانستان میں علماء اور طلبہ کی کثرت تھی… وہاں جہاد شروع ہوا تو’’مہاجرین کرام‘‘میں بڑی تعداد علماء اور طلبہ کی بھی تھی…یہ حضرات جہاد کو سمجھتے بھی تھے اور سمجھا بھی سکتے تھے… چنانچہ جہاد افغانستان کو پاکستان اور دنیا بھر میں اچھا تعارف اور اچھی پذیرائی ملی… کشمیر کا معاملہ البتہ ایسا نہ تھا … کشمیریوں نے بہت ظلم دیکھا اور بہت خوفناک غلامی … پھر بھی کرامت ہے کہ … وہ اسلام پر رہے… مگر نہ اُن میں زیادہ علماء تھے اور نہ دینی طلبہ… ابتداء میں جہاد کشمیر کی پکار لے کر جو حضرات پاکستان آئے اُن کا حلیہ اور لباس پاکستان کے دینی طبقے کے لئے اجنبی تھا… وہ انگریزی سے آلودہ اردو میں جہاد کی ٹوٹی پھوٹی بات کر سکتے تھے… مجھے یاد ہے ۱۹۹۰؁ میں وہاں سے ایک دانشور تشریف لائے… اقبالیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری ان کے پاس تھی

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online