Bismillah

656

۲۸ذوالقعدہ تا ۴ ذوالحجہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۷تا۳۰اگست۲۰۱۸ء

تحفۂ جہاد (قسط۱۵)

تحفۂ جہاد (قسط۱۵)

محمد ہارون

(شمارہ 644)

(۱۹)آداب جہاد کیلئے امام کی وصیت کا بیان

۳۱)…سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کو امیر مقرر کرتے لشکر یا سریہ پر،تو خاص اس کو حکم کرتے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا اور اس کے سا تھ والے مسلمانوں کو حکم کرتے بھلائی کرنے کا۔

پھر فرماتے: ’’جہاد کرو اللہ تعالیٰ کا نام لے کر، اللہ کے راستہ میں لڑو اس سے جس نے نہ مانا اللہ کو، جہاد کرو اور چوری نہ کرو غنیمت کے مال میں اور اقرار نہ توڑو اور مثلہ نہ کرو (یعنی ہاتھ پاؤں ناک کان نہ کاٹو) اور مت مارو بچوں کو (جو نابالغ ہوں اور لڑائی کے لائق نہ ہوں) اور جب اپنے دشمن سے ملو تو بلاؤ ان کو تین باتوں کی طرف، پھر ان تین باتوں میں سے جو مان لیں اس کو قبول کرو اور رُکے رہو ان سے (یعنی ان کو مارنے اور لوٹنے سے)

پھر دعوت دو ان کو اسلام کی طرف اگر وہ مان لیں تو قبول کرلو اور باز رہو ان سے، پھر ان کو اپنے ملک سے نکل کر مہاجرین مسلمانوں کے ملک میں آنے کی طرف بلاؤ اورخبردے دو ان کوکہ اگر وہ ایسا کریں گے یعنی دالخلافہ کی جانب ہجرت کریں گے تو جو مہاجرین کے لیے ہے وہ ان کے لئے بھی ہو گا اور جو مہاجرین پر ہے وہ ان پر بھی ہو گا (یعنی نفع اور نقصان دونوں میں مہاجرین کی مثل ہوں گے) اگر وہ اپنے ملک سے نکلنا منظور نہ کریں تو کہہ دو ان سے کہ وہ اعرابی مسلمانوں کی طرح رہیں اور جو مسلمانوں پراللہ کا حکم چلتا ہے وہ اُن پر بھی چلے گا اور اُن کوغنیمت اور صلح کے مال سے کچھ نہیں ملے گا مگر اس صورت میں کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر(کافروں سے)لڑیں ( تو حصہ ملے گا)

اگر وہ اسلام لانے سے انکار کریں تو ان سے جزیہ وصول کرو۔ اگر وہ جزیہ دینا قبول کریں تو مان لو اور باز رہو ان سے، اگر وہ جزیہ بھی نہ دیںتو اللہ سے مدد مانگو اور لڑو ان سے

اور جب کسی قلعہ والوں کو گھیرے میں لواور وہ تم سے اللہ یا اس کے رسول کی پناہ مانگیں تو اللہ اور رسول کی پناہ نہ دوبلکہ اپنی اور اپنے ساتھیوں کی پناہ دے دو۔ اس لیے کہ تم سے اپنی اور اپنے ساتھیوں کی پناہ کاٹوٹ جانا زیادہ آسان ہے اس بات سے کہ تم سے اللہ اور اس کے رسول کی پناہ ٹوٹے ۔

اور جب کسی قلعہ والوں کو گھیرلو اور وہ تم سے یہ چاہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر تو ان کو باہر نکال دے تو ان کو اللہ کے حکم پرمت نکالو بلکہ ان کو اپنے حکم پرنکالو اس لیے کہ تمہیں معلوم نہیں کہ تم اس امر میں اللہ تعالیٰ کے حکم کو پہنچے بھی یا نہیں ۔‘‘(معالم السنن:رقم الحدیث۲۱۱۲)

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شام کو لشکر بھیجا تو یزید بن ابی سفیان کے ساتھ پیدل چلے اور وہ حاکم تھے ایک چوتھائی لشکر کے، توحضرت یزیدرضی اللہ عنہ نے امیر المؤمنین حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ سے کہا: آپ سوار ہو جائیں نہیں تو میں اُترتا ہوں،حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہ تم اُترو اور نہ میں سوار ہوں گا ، میں ان قدموں کو اللہ کی راہ میں ثواب سمجھتا ہوں، پھرفرمایا: تم پاؤ گے کچھ لوگ ایسے جو سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنی جانوں کو روک رکھا ہے اللہ کے واسطے، سو چھوڑ دے ان کو اپنے کام میں اور کچھ لوگ ایسے پاؤ گے جو بیچ میں سے سر منڈاتے ہیں تو مار ان کے سر پر تلوار سے اور میں تجھ کو دس باتوں کی وصیت کرتا ہوں:

 (۱) کسی عورت کو قتل نہ کرنا (۲) کسی بچے کو قتل نہ کرنا (۳) بوڑھے کو بھی قتل نہ کرنا (۴) پھل دار درخت نہ کاٹنا (۵) آبادی کو خراب نہ کرنا (۶)کسی بکری یااونٹ کی کونچیں (یعنی ایڑیوں کے اوپر موٹے پٹھے)نہ کاٹناصرف کھانے کے لیے کاٹنی ہوں تو اجازت ہے (۷) کھجور کے درخت نہ اُکھاڑنا (۸)نہ ہی انہیں جلانا (۹) خیانت نہ کرنا (۰۱) کہیں بھی بزدلی نہ دکھانا۔‘‘

٭اسلام نے اپنی بعثت کے بعدحقیقت جنگ کو بدل کر بالکل جداگانہ نظریہ پیش کیا جس سے اُس وقت تک دنیا نا آشنا تھی، وہ نظریہ یہ تھا کہ جنگ وقتال فی الاصل ایک معصیت ہے جس سے ہر انسان کو اجتناب کرنا چاہیے… لیکن جب اس سے بڑی معصیت یعنی ظلم وطغیان، کفر وشرک اور فتنہ وفساد پھیل جائے اور سرکش لوگ خلق خدا کے امن وسکون اور ایمان و دین کو خطرے میں ڈال دیں تواس وقت جنگ و قتال فی سبیل اللہ اہم ہی نہیں بلکہ فرض ہوجاتا ہے۔

اس پاکیزہ تصور کے تحت اسلام نے جنگ کا ایک مکمل ضابطہ قانون وضع کیا جس میں جنگ کے آداب، اس کی اخلاقی حدود، محاربین کے حدودوفرائض، مقاتلین وغیرمقاتلین کا امتیاز ، اسیران جنگ کے حقوق وغیرہ تفصیل سے بیان کیے اور پھر اس قانون سازی کا مقصد صرف اتنا نہ تھا کہ دوسرے ضابطوں کے مقابل ایک ضابطہ قوانین آجائے بلکہ اصل مقصود یہ تھا کہ عملی خرابیوں کی اصلاح کی جائے۔ اس کے لئے سب سے پہلے اس غلط تصور کو دلوں سے محو کرنے کی ضرورت تھی جو صدیوں سے جما ہوا تھا کہ جنگ صرف مال و دولت کے حصول،ملک و زمین کے حصول، شہرت وناموری یا حمیت وعصبیت کے لئے ہی کی جاتی ہے۔ اس لیے نبی کریمﷺ نے پہلا کام یہ کیا کہ جہاد فی سبیل اللہ کے معنی اور وہ حدود جو اسے جہاد فی سبیل الطاغوت سے ممتاز کرتے ہیں پوری طرح واضح فرمادیئے اور مختلف طریقوں سے اس کا پاک مقصد لوگوں کے دل و دماغ میں جمادیا کہ جنگ اعلاء کلمۃ اللہ اور اسلامی شریعت کے اصول و مقاصد کے مطابق ہوگی، اس کے علاوہ شریعت اسلامی کے خلاف کسی اور مقصد سے کی جانی والی خون ریزی بالکل ناحق اور فعل باطل ہے۔

مقصد کی اصلاح کے ساتھ ساتھ نبی کریم ﷺ نے طریقِ حصولِ مقصد کی بھی اصلاح فرمائی اور جاہلیت میں روا رکھی جانے والی تمام وحشیانہ حرکات سے روک دیا۔ایسے امتناعی احکامات مجموعاً اور منفرداً بکثرت احادیث کے ذخیرے میں مل جاتے ہیں اسی سلسلہ کی مذکورہ روایت میں وہ احکامات ہیں جو آپﷺ اپنے ہر فرستادہ امیر لشکر کو ارشاد فرمایا کرتے تھے ، فوجوں کی روانگی کے وقت جنگی برتائو کے متعلق ہدایات دینے کے طریقے سے ساری دنیا نابلد تھی نبی کریمﷺ نے یہ طریقہ ارشاد فرمایا۔

 آپﷺ کسی امیر لشکر کو روانہ فرماتے تو اسے اور اس کی فوج کو پہلے تقویٰ اور خشیتِ الہٰی کی نصیحت فرماتے۔اس کے بعد فوج کو ہدایت فرماتے کہ:

ہر منکر خدا سے جنگ کرو لیکن اس جنگ میں بھی تمہاری حدودمقرر ہیں اُن سے تجاوز مت کرنا ورنہ تم ظالموں میں شمار ہو گے،جہاد کرو فساد مت پھیلاؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ مفسدین کو پسند نہیں فرماتا۔

چوری نہ کرو،غنیمت کے مال میںخیانت مت کرو،اقرار مت توڑو ا ورکسی کو مثلہ نہ کرو

جنگ ِموتہ کے لئے لشکر اسلام کوروانہ کرتے ہوئے درج ذیل ہدایات دیں:

’’بدعہدی نہ کرنا، خیانت نہ کرنا، کسی بچے بوڑھے اور درویش کو قتل نہ کرنا، کھجور یا کوئی دوسرا درخت نہ کاٹنا، کسی عمارت کو منہدم نہ کرنا" (رحمۃ للعالمین از قاضی سلیمان منصور پوری: ۲/۱۷۲)

(جاری ہے)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online