Bismillah

645

۸تا۱۴رمضان المبارک ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۵تا۳۱مئی۲۰۱۸ء

روزے کی حقیقت و مقاصد

روزے کی حقیقت و مقاصد

سلطان العلماء عبدالعزیز الدمشقی السُّلَمیؒ (متوفیٰ۶۶۰ھ)

(شمارہ 644)

روزے کی فرضیت:

اللہ تعالیٰ کا اِرشاد ہے:

یا ایہا الذین آمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون (البقرۃ:۱۸۳)

’’تاکہ تم بچ جاؤ‘‘: اس کامطلب یہ ہے کہ تم روزے کی وجہ سے جہنم کی آگ سے بچ جاؤ گے، کیوں کہ رمضان کے روزے اُن گناہوں کے لیے مغفرت کا سبب ہیں،جو گناہ جہنم لے جا تے ہیں۔

صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں یہ حدیث موجودہے کہ نبی کریمﷺ نے اِرشاد فرمایا:

بنی الاسلام علی خمس:علی ان تعبداللہ و تکفر بمادونہ و اِقام الصلاۃ و ایتاء الزکاۃ، و حج البیت ، و صوم ر مضان(بخاری، کتاب الایمان، مسلم، کتاب الایمان )

اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنااوراس کے ماسوا کا انکار کرنا، نماز قائم کرنا، زکوۃ اداء کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا، اور رمضان کے روزے رکھنا۔

روزے کے فضائل:

روزے کے متعدد (درج ذیل)فوائد ہیں:

درجات کا بلند ہونا

خطاؤں کا کفارہ بننا

شہوتوں کا ٹوٹنا

صدقات کا زیادہ ہونا

نیکیوں کی مقدار کا بڑھ جانا

اللہ تعالیٰ کا شکر اداء کرنا، جو تمام خفیہ باتوں کا بھی جاننے والا ہے

گناہوں اور نافرمانیوں کے خیالات وجذ بات سے سہم جانا، ڈر جانا

اب ان کی کچھ تفصیل ملاحظہ کیجیے:

روزے سے درجات بلند ہوتے ہیں۔ اس کی دلیل نبی کریمﷺ کا یہ فرمان مبارک ہے

جب رمضان شروع ہوتا ہے، تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور جہنم کی آگ کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں، اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے(بخاری، کتاب الصوم)

اس کی دوسری دلیل نبی کریمﷺ سے منقول یہ حدیث قدسی ہے:

ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہوتا ہے، سوائے روزے کے، کیوں کہ وہ میرے لیے ہوتا ہے، اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، اور روزہ ڈھال ہے۔ چنانچہ جب تم سے کسی دن کسی کا روزہ ہو، تو وہ اس دن گناہ کی بات کرے اور نہ ہی لڑائی جھگڑا کرے، اگر کوئی اور اس کے ساتھ گالم گلوچ کرے یا اس سے جھگڑا کرے تو یہ اسے کہہ دے: میں روزے سے ہوں، میں روزے سے ہوں۔

قسم اُس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں محمد(ﷺ) کی جان ہے: روزے دار کے منہ کی بو، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں مشک کی مہک سے بھی زیادہ پاکیزہ ہوگی۔

اور روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں:ایک خوشی اُسے تب ملتی ہے جب وہ روزہ اِفطار کرتا ہے اور دوسری خوشی تب ہوگی جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرے ، تو اپنے روزے پر اسے خوشی محسوس ہوگی۔ (صحیح البخاری، کتاب الصوم)

نبی کریمﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ:

ابن آدم کا ہر عمل بڑھایاجاتا ہے، ہر نیکی دس گناسے لے کر سات سو گناتک بڑھائی جاتی ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے روزے کو اس سے جدا رکھا ہے اور فرمایا ہے: وہ میرے لیے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، کیوں کہ وہ بندہ میرے لیے ہی اپنی شہوت اور اپنے کھانے پینے کو چھوڑتا ہے۔ (صحیح مسلم، باب فضل الصیام)

نبی کریمﷺ کی ایک اور حدیث میں یہ فضیلت بھی بیان ہوئی ہے کہ:

بے شک جنت میں ایک دروازہ ہے جس کا نام ’’رَیّان‘‘ ہے، قیامت کے دن اس میں سے روزے دار لوگ داخل ہوں گے، اوران کے علاوہ کوئی داخل نہیں ہوگا۔ اعلان کیا جائے گا: روزے دار لوگ کہاں ہیں؟ چنانچہ پھر وہ اس میں سے داخل ہونے لگیں گے، اور جب ان میں سے آخری آدمی وہاں سے داخل ہوجائے گا تو اسے بند کردیا جائے گااور اس میں سے کوئی ایک بھی اور داخل نہیں ہوگا۔ (صحیح البخاری، باب الریان للصائمین)

اسی سے ملتی جلتی ایک اور حدیث میں یہ مضمون یوں بیان ہوا ہے:

جنت میں ریان نام کا ایک دروازہ ہے جس سے روزے دار لوگوں کو بلایا جائے گا، چنانچہ جو روزے داروں میں سے ہوگا ، وہ اس میں سے داخل ہوجائے گا اور جو اس میں سے داخل ہوجائے گا، اُسے پھر کبھی بھی پیاس نہیں لگے گی۔ (سنن الترمذی، باب ماجاء فی فضل الصوم۔نسائی۔ ابن ماجہ)

نبی کریمﷺ کا یہ بھی فرمان ہے:

روزے دار کے پاس جب کچھ لوگ کھاپی رہے ہوں تو جب تک وہ کھانے میں مشغول رہتے ہیں تب تک فرشتے اس روزے دار کے لیے دعاء کرتے رہتے ہیں (مسند احمد۔ سنن دارمی۔ سنن ترمذی، باب ماجاء فی فضل الصائم اذا اکل عندہ)

فوائد احادیث:

(اوپر درج کردہ احادیث میں چند اہم اہم فوائد کی نشاندھی درج ذیل میں ملاحظہ کیجیے)

ان احادیث میں جہاں جنت کے دروازوں کا کھلنا مذکور ہے، تو اس سے مراد یہ ہے کہ (اس ماہ میں)نیکیوں کی فراوانی ہوتی ہے جس کے سبب جنت کے دروزے کھل جاتے ہیں۔

 اور جہنم کے دروزے کے بند ہونے کا جو ذکرتھا تو اس سے مراد گناہوں کا کم ہونا ہے اورگناہوں کا گھٹ جانا جہنم کے دروازوں کے بندہونے کا سبب ہے۔

اور شیاطین کے جکڑے جانے کا مطلب یہ ہے کہ روزے داروں پر اُن کے وسوسوں کا سلسلہ روک دیاجاتا ہے اور اس طرح یہ شیاطین انہیں گناہوں میں دھکیلنے سے مایوس ہوجاتے ہیں۔

اور حدیث شریف میں یہ جو فرمایا گیا تھا کہ ’’ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے، کہ وہ میرے لیے ہے‘‘، تو اس میں اللہ تعالیٰ نے روزے کی نسبت خاص اپنی طرف جو فرمائی ہے یہ اس کی عظمت و شرافت کو ظاہر کرنے کے لیے، کیوں کہ روزہ بذات خود ایسا پوشیدہ عمل ہے کہ اس میں ریاکاری کا دخل نہیں ہوتا، اور دوسری بات یہ بھی ہے کہ بھوکا اورپیاسا رہنا ایسا عمل ہے کہ مخلوق میں کوئی بھی کسی بادشاہ یا بتوں وغیرہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے اس عمل کو نہیں کرتا(تو اس طرح یہ عمل ایسا ہوا کہ خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہوا اور مخلوق کی مشابہت کا کوئی پہلو اس میں موجود نہ ہوا)

اور یہ جو فرمایا کہ ’’میں ہی اس کا بدلہ دوں گا‘‘، تو یہ بھی اس عمل کی خاص عظمت ظاہر کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے، کہ میں بذات خود اس کا بدلہ دینے کی سربراہی کروں گا، ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ ہر نیک عمل کا بدلہ اللہ تعالیٰ ہی دینے والے ہیں۔

یہ جوفرمایا کہ ’’فروزہ ڈھال ہے‘‘، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ روزہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کا سبب ہے۔

یہ جو فرمایا گیا کہ ’’جب کوئی روزہ دار سے جھگڑا وغیرہ کرنے لگے تو یہ کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں‘‘، توا س کا مطلب یہ ہے کہ ایسے موقع پر انسان اپنے آپ کو اپنا روزہ یاد دلائے تاکہ سامنے والے کے مقابلے سے باز رہے۔

یہ جو فرمایا گیا کہ ’’روزے دار کی منہ کی بو مشک سے پاکیزہ ہوگی‘‘اس کا مطلب یہ ہے کہ روزے دار اس کے بدلے میں جو ثواب ملے گا، وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مشک سے بھی زیادہ پاکیزہ اور اعلیٰ ہوگا۔

یہ جو فرمایاگیا کہ ’’روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں‘‘، تو ان میں سے ایک خوشی تو اس بات پر ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے روزے والی عبادت مکمل کرنے کی توفیق دی اور دوسری خوشی اس عظیم الشان جزاء پر ہوگی جو اللہ تعالیٰ اُسے عطاء فرمائیں گے۔

یہ جو فرمایا گیا کہ ’’ وہ میرے لیے اپنی شہوت اور اپنے کھانے پینے کو چھوڑ دیتا ہے‘‘، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بندے نے اپنی نفس کی طاعت کے بجائے اپنے رب کی فرماں برداری کو ترجیح دی، حالانکہ اس کی شہوت کا بھی زور تھا اور خواہشات کا بھی غلبہ تھا، تو اللہ تعالیٰ (اس کی اس کاوش اور صبر پر)اسے یہ ثواب عطاء فرماتے ہیں کہ اس کا بدلہ دینے کی ذمہ دار خود کو قرار دیا ، اور سچ یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ (کے احکام اوراس کی رضا) کو ترجیح دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے ترجیح دیتے ہیں، کیوں کہ جس طرح بندہ اپنے رب سے معاملہ کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ بھی اسے اسی طرح کا مقام و مرتبہ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی بُرائی کا ارادہ کرتا ہے مگر پھر اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے اس بُرائی سے رُک جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نگہبان فرشتوںسے فرماتے ہیں: میرے بندے کے لیے اسے نیکی بنا کر لکھ دو، کیوں کہ اس نے اپنی شہوت کو میری وجہ سے چھوڑ دیا ہے۔ (مسند احمد۔بخاری۔ مسلم)

پھر روزہ داروں کو الریان نام کے خاص دروازے سے داخل کرنے کی حکمت یہ ہے کہ جس طرح وہ خاص عمل میں ممتاز ہوئے اسی طرح ان کی جزاء میں بھی انہیں ایک امتیازی درجہ دیا جائے۔

پھر روزہ دار کے پاس جب کھانا کھایا جاتا ہے تو فرشتے اس کے لیے دعاء کرتے ہیں کیوں کہ باوجود کھانے سامنے ہونے کے نہ کھانا اعلیٰ درجہ کا مجاہدۂ نفس ہے، اس لیے اس عمل کی بدولت وہ فرشتوں کی دعاء کا مستحق بن جاتا ہے، اور فرشتوں کی دعائ، رحمت اور مغفرت کی دعاء ہوتی ہے۔

روزہ : خطاوں کا کفارہ بنتا ہے:۔

اس کی دلیل نبی کریمﷺ کا یہ فرمان ذیشان ہے:

رمضان الی رمضان مکفرات مابینہن اذا اجتنبت الکبائر (مسند احمد۔ مسلم)

اگر کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے تو ایک رمضان دوسرے رمضان تک کی درمیانی خطاوں کے لیے کفارہ بن جاتا ہے۔

دوسری دلیل نبی کریمﷺ کا درج ذیل فرمان ہے:

من صام رمضان ایمانا و احتسابا غفر لہ ما تقدم من ذنبہ (بخاری۔ مسلم)

جو شخص ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کے روزے رکھتا ہے، تو اس کے پہلے کے تمام گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔

’’ایمان‘‘ کامطلب یہ ہے کہ وہ ان روزوں کو ’’فرض‘‘ سمجھتا ہو، اور ’’احتساب‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس پر اپنے رب کے پاس اجر کی امید رکھتا ہو۔

٭…٭…٭

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online