Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اِن بیچاریوں کو گناہوں سے بچائیں!(۲)(محمد عبید الرحمٰن)

اِن بیچاریوں کو گناہوں سے بچائیں!(۲)

محمد عبید الرحمٰن

(شمارہ 544)

(۱۱) عموماً عورتیں زیورات کی وجہ سے صاحب نصاب ہوتی ہیں۔ اس کے باوجود زیوروں کی زکوٰۃ نہیں نکالتیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ ان کے ہاتھ میں نقد روپیہ نہیں ہوتا۔ یہ عذر شرعاً معتبر نہیں۔ اس اہم فریضہ کی ادائگی کے لیئے یا تو شوہر سے مانگ لیں یا ان سے کہہ دیں کہ وہ اتنی رقم زیورات کی زکوۃ کی مد میں نکال دیں۔ جس طرح اور چیز حسب ضرورت مانگ کر پوری کر لیتی ہیں اسی طرح یہ شرعی ضرورت بھی تقاضہ اور مطالبہ کرکے پورا کرلیا کریں۔ اگر شوہر نہ دھیان دے تو اس فرض کو ادا کرنے کے لیئے اور گناہ سے بچنے کے لئے کچھ زیوروں کو فروخت کر کے زکوٰۃ ادا کر دیں یا زیورات کی مقدار نصاب سے کم کر لیں یا بیٹی وغیرہ کو دے دیں یا فروخت کرکے اپنی ضرورت میں خرچ کر لیں۔

(۱۲) مال یا زیور کی وجہ سے عورتیں صاحب نصاب ہونے کے باوجود قربانی نہیںکرتی ہیں۔

حالانکہ صاحب نصاب ہونے سے قربانی فرض ہوجاتی ہے۔ اس کوتاہی کی وجہ بھی یہی ہے کہ ان کے ہاتھ میںنقد روپیہ نہیں ہوتا۔ اس سے نہ زکوٰۃ اور نہ قربانی ساقط ہوتی ہے یا تو شوہر سے مطالبہ کرکے اپنے نام کی قربانی کرائے یا پھر زیور کی کچھ مقدار فروخت کر کے قربانی کرے اسی طرح ہمیشہ کرنا ہوگا۔ یہاں تک کہ نصاب سے کم ہو جائے۔

(۱۳) حیض ماہواری اور استحاضہ جو حیض کے علاوہ خون ہوتا ہے۔اس کے متعلق مسائل نہ جاننے کی وجہ سے بھی بڑی کوتاہی ہوتی ہے۔ حیض کے علاوہ استحاضہ (بیماری کی وجہ سے) کاجو خون نکلتا ہے۔ اس میں اکثر عورتیں نماز نہیں پڑھتی ہیں۔ استحاضہ میںبھی ماہواری کے خون کی طرح نماز چھوڑدیتی ہیں۔ اس طرح کتنی فرض نمازوں کی تارک ہوجاتی ہیں۔ حالانکہ حیض ماہواری کے علاوہ اگر کسی وجہ سے خون نکلے تو اس سے نماز ساقط نہیں ہوتی، پڑھنی پڑتی ہے۔ اس کے مسائل بھی باریک ہیں بہشتی زیور میں دیکھ کر عمل کریں یا کسی عالم سے معلوم کر لیا کریں۔ اس میںشرمائیں نہیں۔ یہ شرم جہنم میں جانے کا باعث ہے۔

(۱۴) عورتیں غسل جنابت میں اکثر تاخیر کردیتی ہیں۔ یہاں تک کہ نماز قضا ہو جاتی ہے۔ چناچہ اگر رات میںکسی وجہ سے ناپاک ہوگئیں غسل کی ضرورت پڑگئی تو علی الصبح غسل کرکے صبح کی نماز نہیں پڑھتی ہیں بلکہ دن چڑھے غسل کرتی ہیں اور کسی بھی نماز کا قضاء کردینا وقت پر نہ پڑھنا گناہ کبیرہ ہے۔ غسل کی ضرورت پر علی الصباح ٖغسل کر کے صبح کی نماز کو  وقت پر پڑھ لے۔ غسل کا انتظام رکھنا واجب ہے۔ اس وقت ٹھنڈے پانی سے نقصان ہوتا ہو تو گرم پانی کا انتظام رکھنا واجب ہے تاکہ نماز وقت پر ادا کر سکے۔

(۱۵) عموماً جب چند عورتیں جمع ہوتی ہیں تو ایک دوسرے کی غیبت، چغلی، شکایت، بے جا نامناسب باتیں کرتی ہیں۔ جو گناہ کی بات ہے۔ کسی کے متعلق ایسی بات جو اس کے سامنے نہ کہہ سکے پیٹھ پیچھے ذکر کرنا غیبت ہے۔ عموماً غیبت کا احساس نہیں ہوتا۔ یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ قرآن پاک میںاسے اپنے مُردار بھائی کا گوشت کھانا قرار دیا ہے۔ ماں کے ساتھ زنا کرنے سے بھی بدتر گناہ ہے۔ عورتوں کو چاہیے کہ اپنی مجلس میں غیبت چغلی شکایت کی باتیں نہ کریں اور نہ ہونے دیں۔ کوئی دوسری عورت کرے تو اٹھ جائے۔ ان امور سے بہت زیادہ احتیاط کرے کہ یہ جہنم کے اعمال ہیں۔

(۱۶) لڑنے اور جگھڑنے کا مادہ عورتوں میں بہت زیادہ ہوتا ہے۔ ذرا سی معمولی بات کا بتنگڑ بنا کر لڑنے لگ جاتی ہیں۔ لڑنا جھگڑنا اچھی بات نہیں ہے چاہیے کہ برداشت کرے۔

(۱۷) شوہر جس کی ماتحتی اور نگرانی میں زندگی وابستہ ہے۔ جس کا اکرام اس کے ذمہ واجب ہے۔ اس سے بھی منہ پھلالیتی ہیں اور سوال جواب ہی نہیں جھگڑنے لگ جاتی ہیں۔ حالانکہ شوہر اگر نامناسب بات کہہ دے تب بھی جھگڑنا نہیں چاہیے سن کر برداشت کرے۔ ہاں سنجیدگی اور ادب و اکرام سے یہ کہہ دے کہ آپ کا یہ کہنا مناسب نہیں۔ آپ کی بات بظاہر صحیح نہیں۔ ویسے آپ کی بات تسلیم ہے مگر میری رائے یہ ہے۔ اس طرح بات نہیں بڑھے گی ایک دوسرے کے دل میں عناد پیدا نہیں ہوگا۔ شوہر کے دل میں بھی اکرام ولحاظ ہوگا اور باہمی تعلقات کی خوشگواری بھی باقی رہے گی۔

(۱۸) اکثر عورتوں کو دیکھا گیا ہے کہ شروع عمر اور جوانی میں نماز نہیں پڑھا کرتی ہیں۔ عمر کا ایک حصہ گزارنے کے بعد نماز پڑھتی ہیں۔ ایسا ماحول جہالت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ نماز تو بالغ ہونے سے پہلے شروع کردینا لازم ہوتی ہے۔ وہ سفر کے موقع پر نمازوں کو چھوڑ دیتی ہیں یا قضا کردیتی ہیں۔ سفر میں نماز کا وقت آجاتا ہے تو پڑھتی ہی نہیں۔ خیال رہے نماز کا قضا کرنا درست نہیں۔ پردہ کا لحاظ کر کے  وضو کرلیں۔ گاڑیوں پر باتھ روم میں وضو بخوبی کیا جاسکتا ہے۔ بلا کسی شدید عذر کے قضا کرنا گناہ کبیرہ ہے۔

(۲۰) عورتوں میں بخل بہت ہوتا ہے۔ کپڑے، روپیہ وٖغیرہ رکھے رہتے ہیں۔ مگر کسی ضرورت مند، فقیر، مسکین، سائل کو اپنی چیز نہیں دیتی ہیں۔ حسب موقع وسعت کی رعایت کرتے ہوئے صدقہ خیرات کرتے رہنا چاہیے۔ ایسا نہ کرنا بخل ہے جو جہنم کے اعمال اور اسباب میں سے ہے۔

(۲۱)  اگر غلطی اور کسی کی حق تلفی ہو جائے تو اسے معاف نہیں کراتیں، شرم کرتی ہیں۔ کسی انسان کو تم سے تکلیف پہنچی، اس کی حق تلفی ہوئی، تو فوراً زبان سے معافی مانگ لو۔ تاکہ کل قیامت میں نہ پھنسو۔

(۲۲) کوئی گناہ یا اللہ کی نافرمانی ہونے پر نہ ندامت کا احساس ہوتا ہے اور نہ استغفار اور صلٰوۃ توبہ پڑھ کر خدا سے معافی مانگتی ہیں۔ یاد رکھو! کوئی گناہ ہو جائے خدا کی نافرمانی ہوجائے فوراً توبہ کرو! نماز توبہ پڑھ کر معاف کرالو! تاکہ کل قیامت میں اس کی سزا سے بچاؤ ہو سکے کہ کبیرہ گناہوں پر توبہ نہ ہونے کی شکل میں جہنم کی سزا کا استحقاق ہوجاتا ہے۔

مکتوب خادم

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ

اللہ تعالی! مجھے اورآپ سب کو حسن خاتمہ نصیب فرمائیں۔۔۔ اور برے خاتمہ سے ہم سب کی حفاظت فرمائیں۔۔۔ ماشاء اللہ ، عشرمہم بھی جاری ہے ۔۔۔ عصابہ مہم بھی شروع ہے۔۔۔ نصرت مہم بھی چل رہی ہے۔۔۔ اور بھی بہت سے کام۔۔۔ یہ سب اللہ پاک کافضل ہے۔۔۔ وہ چاہیں تو گھر بٹھادیں۔۔۔ معذور کرکے بستر پر لٹا دیں۔۔۔ جیل یا ہسپتال میں قید کرادیں۔۔۔ اورچاہیں تو اپنی رضا والے کاموں میں ۔۔۔ ایسا جوڑیں کہ قیامت تک صدقات جاریہ کے اندر لگ جائیں۔۔۔ بھائیو! جو کچھ ہو رہا ہے  یہ صرف اور صرف اللہ پاک کا فضل ہے۔۔۔ اور ابھی مزید کام اور محنت کی ضرورت ہے۔۔۔ المومنات مہم۔۔ ماشاء اللہ بہت اچھی اور مبارک جارہی ہے۔۔۔ آج چھٹا دن ہے۔۔۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے تنبیہ فرمائی کہ: خبردار! دوسروں کے عیبوں کے پیچھے نہ پڑو۔۔۔ عیبوں کے پیچھے پڑنے کامطلب عیب تلاش کرنا۔۔۔ ڈھونڈنا۔۔۔ اور پھر پھیلانا۔۔۔ اگر تم دوسروں کے عیبوں کے پیچھے پڑو گے ۔۔۔ تو اللہ پاک تمہیں گھر بیٹھے رسوا کردیں گے۔۔۔ مدینہ منورہ میں ایک بزرگ تھے۔۔۔ پرانے زمانے کی بات ہے۔۔۔ ان کی ایک بہن کا انتقال ہو گیا۔۔۔ تدفین کے بعد کسی ضرورت سے قبر دوبارہ کھولنی پڑی۔۔۔ دیکھا کہ وہ آگ کے شعلوں میں جل رہی ہے۔۔۔ بظاہر نیک تھی۔۔۔ بھائی حیران۔۔۔ والدہ سے پوچھا کہ کیا گناہ تھا اس میں۔۔۔ بتایا: نماز سستی سے ادا کرتی تھی۔۔۔ اورکان لگاکر عورتوں کی باتیں سنتی اور پھر ان کو پھیلاتی تھی۔۔۔ بھائیو! غیبت، چغلی، جھوٹ، بہتان اور فحش باتیں۔۔۔۔ زبان کے یہ گناہ کتنے عام ہو گئے ۔۔۔ کبھی آپ نے اپنے گھروںکی فکر کی؟۔۔۔ دوسروں کو حقیر سجھنے کا مرض ۔۔۔ اور اپنی ذات  کا تکبر اور فخر۔۔۔ یہ سب ناپاک چیزیں ہیں۔۔۔ انسان کے انجام اور خاتمہ کو خراب کرنے والی۔۔۔ اور اللہ بچائے خاتمہ خراب ہوگیا تو کیا بنے گا؟۔۔۔ اگر ہم نے اپنی خواتین کوذکر میں لگایاہوتا۔۔۔ تلاوت میں لگایا ہوتا۔۔۔ دعوت میںکھپایاہوتا۔۔۔ توان میں زبان کی یہ مہلک بیماریاں اتنی عام نہ ہوتیں۔۔۔ مسلمان عورت تو ماننے والی ہے۔۔۔ میں نے ایک خاتون کاواقعہ پڑھا وہ حج ادا کرکے بحری جہاز پر واپس اپنے ملک جارہی تھی۔۔۔ راستہ میںجہاز غرق ہونے لگا۔۔۔ اس وقت کسی کوہوش نہیںتھا۔۔۔ سب چیخ چلا رہے تھے۔۔۔ مگر اس خاتون کواتنے سخت لمحات میںصرف دو باتوں کی فکر تھی۔۔۔ ایک تو یہ کہ پردہ اور حجاب پورا ہو۔۔ اوردوسرا یہ کہ میرا خاوند مجھ سے راضی ہے کہ نہیں۔۔۔ لوگ جانیں بچا رہے تھے ۔۔۔ وہ  اللہ کی بندی ایمان کی فکر میں تھی۔۔۔ اس نے اطمینان سے حجاب اوڑھا۔۔۔ اپنے خاوند سے پوچھا: آپ مجھ سے راضی؟ جب دونوں کاموں کا اطمینان ہو گیا۔۔۔ توذکر کرتی۔۔۔ ہنستی مسکراتی۔۔۔ اپنے  رب سے جاملی۔۔۔ دنیا سے جان چھوٹی اور جنت کی ملکہ بن گئی۔۔۔ کیسا اچھا خاتمہ ہے۔۔۔ عورت کے لئے پردہ عجیب شان ہے۔۔۔ عجیب عزت ہے۔۔۔ عجیب نور ہے۔۔۔ عجیب لذت ہے۔۔۔ عجیب طاقت ہے۔۔۔ عجیب وقار ہے۔۔۔ بلکہ اس کے ایمان کا حصہ۔۔۔ اور اس کی بلندشخصیت کی تکمیل ہے۔۔۔ عورت کو جب پردہ کی حقیقت سمجھ آجاتی ہے ۔۔۔ تواس کی قلبی تمنا یہ  ہوتی ہے کہ مرنے کے بعد بھی۔۔۔ کوئی غیرمحرم مجھ پر نظرنہ ڈالے۔۔۔ پردہ عورت کی وہ سلطنت ہے۔۔۔ جس میں بیٹھ کر وہ بڑے بڑے عظیم الشان کام کرتی ہے۔۔۔ اورایک الگ دنیا کی حکومت چلاتی  ہے۔۔۔ شرط یہ کہ پکا اور پورا پردہ ہو۔۔۔ مجبوری سمجھ کر نہیں ۔۔۔ بلکہ دل کی خوشی سے ہو۔۔۔ اور ہر مسلمان عورت پردے کو اپنے اوپراللہ پاک کا انعام اور احسان سمجھے۔۔۔ آپ یقین کریں! جس عورت کوپردے سے قلبی محبت ہو۔۔۔ وہ ایمان کی ایسی لذت، حلاوت اور سکینت پاتی ہے ۔۔۔ کہ بے پردہ یا پردے میں خیانت کرنے والی عورتیں اس کا تصور بھی نہیں کر سکتیں۔۔۔ تمام بہنوں کو سمجھا دو کہ اپنے اچھے خاتمہ کی فکر کریں۔۔۔ اور ہر نماز کے بعد حسن خاتمہ کی دعا مانگا کریں۔۔۔

والسلام

خادم

لاالہ الااللہ محمدرسول اللہ

 

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor