Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

معاشرت و معاملات کے متعلق احکام و ہدایات(۱۳) ۔ محمد حق نواز

معاشرت و معاملات کے متعلق احکام و ہدایات(۱۳)

محمد حق نواز (شمارہ 546)

بڑوں اور چھوٹوں کے باہمی تعلقات

ہر معاشرے میں کچھ بڑے ہوتے ہیں اور کچھ ان کے چھوٹے۔ رسول اللہﷺ نے بڑوں کو چھوٹوں کے ساتھ اور چھوٹوں کو بڑوں کے ساتھ برتاؤ کے بارے میں بھی ہدایات فرمائی ہیں۔ اگر ان کا اتباع کیا جائے تو معاشرہ میں وہ خوشگواری اور روحانی سرور و سکون رہے جو انسانیت کے لئے نعمت عظمی ہے۔

حضرت عمر و بن شعیبؒ اپنے والد شعیب سے اور وہ اپنے دادا حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جو آدمی ہمارے چھوٹوں کے ساتھ شفقت کا برتاؤ نہ کرے اور بڑوں کی عزت کا خیال نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے‘‘۔

(جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بوڑھے بزرگ آئے، وہ رسول اللہﷺ کے پاس پہنچنا چاہتے تھے ، لوگوں نے (جو اس وقت حاضر تھے) ان کے لئے گنجائش پیدا کرنے میں دیر کی (یعنی ایسا نہیں کیا کہ ان کے بڑھاپے کے احترام میں جلدی سے ان کو راستہ دے دیتے اور جگہ خالی کر دیتے) تو حضورﷺ نے فرمایا: ’’جو آدمی ہمارے چھوٹوں پر شفقت نہ کرے اور ہمارے بڑوں کا احترام نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے‘‘۔

(جامع ترمذی)

یعنی جو شخص رسول اللہﷺ اور آپ کے دین سے وابستگی چاہے، اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ بڑوں کے ساتھ ادب و احترام کا برتاؤ رکھے اور چھوٹوں کے ساتھ شفقت کے ساتھ پیش آئے، جو ایسا نہ کرے اس کو حق نہیں ہے کہ وہ حضورﷺ کی طرف اور آپﷺ کی خاص جماعت کی طرف اپنی نسبت کرے۔

قریب قریب اسی مضمون کی ایک حدیث جامع ترمذی میں ہی حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت کی گئی ہے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا: ’’جو جوان کسی بوڑھے بزرگ کا اس کے بڑھاپے ہی کی وجہ سے ادب و احترام کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اس جوان کے بوڑھے ہونے کے وقت ایسے بندے مقرر کر دے گا جو اس وقت اس کا ادب و احترام کریں گے‘‘۔

(جامع ترمذی)

اسلامی برادری کے باہمی تعلقات

رسول اللہﷺ (اور اسی طرح آپﷺ سے پہلے تمام انبیاء علیہم السلام بھی) اللہ تعالیٰ کی طرف سے دین حق کی دعوت اور ہدایت لے کر آئے تھے، جو لوگ ان کی دعوت کو قبول کر کے ان کا دین اور ان کا راستہ اختیار کر لیتے تھے وہ قدرتی طور سے ایک جماعت اور امت بنتے جاتے تھے۔ یہی دراصل ’’اسلامی برادری‘‘ اور ’’امت مسلمہ‘‘ تھی۔

جب تک رسول اللہﷺ اس دنیا میں رونق افروز رہے یہی برادری اور یہی امت آپﷺ کا دست و بازو اور دعوت و ہدایت کی مہم میں آپﷺ کی رفیق و مدد گار تھی، اور آپﷺ کے بعد قیامت تک اسی کو آپﷺ کی نیابت میں اس مقدس مشن کی ذمہ داری سنبھالنی تھی۔ اس کے لئے جس طرح ایمان و یقین، تعلق باللہ اور اعمال و اخلاق کی پاکیزگی اور جذبہ دعوت کی ضرورت تھی، اسی طرح دلوں کے جوڑ اور شیرازہ بندی کی بھی ضرورت تھی، اگر دل پھٹے ہوں، اتحاد و اتفاق کے بجائے اختلاف و انتشار اور خود آپس میں جنگ پیکار ہو تو ظاہر ہے کہ نیابت نبوت کی یہ ذمہ داری کسی طرح بھی ادا نہیں کی جاسکتی۔ اس لئے رسول اللہﷺ نے اسلامیت کو بھی ایک مقدس رشتہ قرار دیا، اور امت کے افراد اور مختلف طبقوں کو خاص طور سے ہدایت و تاکید فرمائی کہ وہ ایک دوسرے کو اپنا بھائی سمجھیں، اور باہم خیر خواہ اور معاون و مدد گار بن کے رہیں۔ ہر ایک دوسرے کا لحاظ رکھے، اور اس دینی ناطہ سے ایک دوسرے پر جو حقوق ہوں ان کو ادا کرنے کی کوشش کریں۔

اس تعلیم و ہدایت کی ضرورت خاص طور سے اس لئے بھی تھی کہ امت میں مختلف ملکوں، نسلوں اور مختلف طبقوں کے لوگ تھے۔ جن کے رنگ و مزاج اور جن کی زبانیں مختلف تھیں اور یہ رنگا رنگی آگے کو اور زیادہ بڑھنے والی تھی۔ اس سلسلہ کی رسول اللہﷺ کی اہم ہدایات مندرجہ ذیل احادیث میں ملاحظہ فرمائیے۔

حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان سے تعلق ایک مضبوط عمارت کا سا ہے، اس کا ایک حصہ دوسرے کو مضبوط کرتا ہے‘‘۔ پھر آپﷺ نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر دکھایا (کہ مسلمانوں کو اس طرح باہم وابستہ اور پیسوتہ ہونا چاہئے)۔

(صحیح بخاری، صحیح مسلم)

یعنی جس طرح عمارت کی اینٹیں باہم مل کر مضبوط قلعہ بن جاتی ہیں اسی طرح امت مسلمہ ایک قلعہ ہے، اور ہر مسلمان اس کی ایک ایک اینٹ ہے، ان میں باہم وہی تعلق اور ارتباط ہونا چاہئے جو قلعہ کی ایک اینٹ کا دوسری اینٹ سے ہوتا ہے۔ پھر آپﷺ نے اپنے ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر دکھایا کہ مسلمانوں کے مختلف افراد اور طبقوں کو باہم پیوستہ ہو کر اس طرح امت واحدہ بن جانا چاہئے جس طرح الگ الگ دو ہاتھوں کی یہ انگلیاں ایک دوسرے سے پیوستہ ہو کر ایک حلقہ اور گویا ایک وجود بن گئیں۔

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا: ’’سب مسلمان ایل شخص واحد (مختلف اعضائ) کی طرح ہیں۔ اگر اس کی آنکھ دکھے تو اس کا سارا جسم درد محسوس کرتا ہے، اور اسی طرح اگر اس کے سر میں تکلیف ہو تو بھی سارا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے‘‘۔

(صحیح مسلم)

یعنی پوری امت مسلمہ گویا ایک جسم و جاں والا وجود ہے، اور اس کے افراد اس کے اعضاء ہیں۔ کسی کے ایک عضو میں اگر تکلیف ہو تو اس کے سارے اعضاء تکلیف محسوس کرتے ہیں۔ اسی طرح پوری امت مسلمہ کو ہر مسلمان فرد کی تکلیف محسوس کرنی چاہئے۔ اور ایک کے دکھ درد میں سب کو شریک ہونا چاہئے۔

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، (اس لئے) نہ تو خود اس پر ظلم و زیادتی کرے، نہ دوسروں کا نشانہ ظلم بننے کے لئے اس کو بے مدد چھوڑے (یعنی دوسروں کے ظلم سے بچانے کے لئے اس کی مدد کرے) اور جو کوئی اپنے ضرورت مند بھائی کی حاجت پوری کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی کرے گا۔ اور جو کسی مسلمان کو کسی تکلیف اور مصیبت سے نجات دلائے گا اللہ تعالی اس کو قیامت کے دن کسی مصیبت اور پریشانی سے نجات عطاء فرمائے گا۔ اور جو کسی مسلمان کی پردہ داری کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ داری کرے گا‘‘۔

(صحیح بخاری، صحیح مسلم)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے (لہذا) نہ خود اس پر ظلم و زیادتی کرے، نہ دوسروں کا مظلوم بننے کے لئے اس کو بے یار و مدد گار چھوڑے، نہ اس کی تحقیر کرے (حدیث کے راوی حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ اس موقع پر رسول اللہﷺنے اپنا سینہ مبارک کی طرف تین دفعہ اشارہ فرمایا) ’’تقویٰ یہاں ہوتا ہے‘‘۔ کسی آدمی کے لئے یہی برائی کافی ہے کہ وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے، اور اس کی تحقیر کرے۔ مسلمان کی ہر چیز دوسرے مسلمان کے لئے حرام ہے، اس کا خون بھی، اس کا مال بھی اور اس کی آبرو بھی‘‘۔

(صحیح مسلم)

اس حدیث مبارکہ میں رسول اللہﷺنے یہ ہدایت فرمانے کے ساتھ کہ کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کو حقیر و ذلیل نہ سمجھے اور اس کی تحقیر نہ کرے۔ اپنے سینہ مبارک کی طرف تین دفعہ اشارہ کر کے جو یہ فرمایا تقوی یہاں سینہ کے اندر اور باطن میں ہوتا ہے، اس کا مقصد اور مطلب سمجھنے کے لئے پہلے یہ جان لینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑائی، چھوٹائی، عظمت و حقارت اور عزت و ذلت کا دار و مدار ’’تقوی‘‘ پر ہے۔

قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے، ترجمہ: ’’اللہ کے نزدیک تم میں زیادہ معزز اور قابل اکرام وہ ہے جس میں تقویٰ زیادہ ہے‘‘۔

اور تقوی در حقیقت اللہ تعالیٰ کے خوف اور محاسبہ آخرت کی فکر کا نام ہے، اور ظاہر ہے کہ وہ دل کے اندر کی اور باطن کی کیفیت ہے، اور ایسی چیز نہیں ہے جسے کوئی دوسرا آدمی آنکھوں سے دیکھ کر معلوم کر سکے کہ اس آدمی میں تقوی ہے یا نہیں ہے، اس لئے کسی صاحب ایمان کو حق نہیں ہے کہ دوسرے ایمان والے کو حقیر سمجھے اور اس کی تحقیر کرے۔ کیا خبر جس کو تم اپنی ظاہری معلومات یا قرائن سے قابل تحقیر سمجھتے ہو اس کے باطن میں تقوی ہو اور وہ اللہ کے نزدیک مکرم ہو۔ اس لئے کسی مسلمان کے لئے روا نہیں کہ وہ کسی دوسرے مسلمان کی تحقیر کرے۔ آگے آپﷺ نے فرمایا کہ کسی آدمی کے برے ہونے کے لئے بس یہی ایک بات کافی ہے کہ وہ اللہ کے کسی مسلمان بندے کو حقیر سمجھے اور اس کی تحقیر کرے۔

 

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor