Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

باب الفیض (قسط ۳)

باب الفیض (قسط ۳)

 (شمارہ 546)

بیعت اور حصول نعمت روحانی

حضرت شیخؒ نے اپنے والد ماجد حضرت غوث الزمان حضرت مولانا خواجہ محمد حسین صاحبؒ کے ہاتھ پر بیعت کی اور سلسلۂ چشتیہ، قادریہ، سہروردیہ، نقشبندیہ میں سلوک کی منازل طے کرنی شروع کیں اورعلم وتصوف کے اصول کے مطابق مجاہدات و ریاضتِ نفس میں مشغول ہوگئے اور سیاسیات اور مناظروں کو بالکل ترک کردیا اور گوشہ نشینی میں ذکر وفکر اور مراقبوں میں روحانی منازل طے کرتے گئے، عجیب عجیب حالات آپ پر پیش آتے تھے جس کی وجہ سے آپ  کے طلباء اور دوست و احبا ب حیرت میں پڑ جاتے تھے۔

آخر وہ وقت آگیا کہ خزینۂ محمدﷺکے امین اس بھاری امانت کو آپ کے حوالہ کریں جس کے لئے اللہ پاک نے آپ کو  پسند فرمایا ہے یعنی اصلاح نفوس اور احیاء ملت کی ذمہ داریوں کے بھاری بوجھ کے لئے آپ کی روحانی تربیت کی گئی۔ حضرت والد ماجد حضرت مولانا خواجہ محمد حسین صاحبؒ نے کافی زمانہ اپنی زیر نگرانی ذکر و مراقبات اور امتحانوں کے بعد چاروں سلسلوں کی خلافت آپ کو دی اور مزید روحانی ترقی کے لئے آپ نے حضرت مولانا خلیل خالدی دمشقیؒ اور حضرت حاجی عباد اللہؒ اور حضرت خواجہ گل الرحمٰنؒ بٹدودیؒ جیسے صوفیاء کر ام کی صحبت بھی اختیار فرمائی اور مزید روحانی ترقی حاصل فرمائی ۔

قیام

حضرت شیخ ؒ کے والد ماجد حضرت خواجہ محمد حسین صاحب ؒ قلندرآباد سے اوپر گاؤں ترنوائی شریف سے مانسہرہ تشریف لائے اور بمقام ڈَبْ نمبر۱ میں زمین خرید کر ایک مسجد بنام حضرت امیر حمزہؓ اور ساتھ اپنا مکان بنایا۔ ڈب آج مانسہر شہر کا ایک گنجان آبادی والا محلہ ہے جب حضرت مولانا خواجہ محمد حسین صاحبؒ یہاں قیام پزیر تھے تو اس وقت آبادی بالکل نہ ہونے کے برابر تھی ہر طرف سرسبز کھیت نظر آتے تھے۔ اس جگہ  حضرت شیخ  ؒنے پرورش پائی آخر وقت تک اسی جگہ رہے حتی کہ وصال مبارک بھی اسی مکان اسی خانقاہ شریف میں ہوا۔

سرحد حکومت میں سیکٹری زراعت و جنگلات کے عہدہ پر متمکن رہے ہیں۔ صوم وصلوۃ کے پابند رہے ہیں۔ ۲۰۰۴ ء میں وصال ہوا۔

 حضرت مرشد ؒ کے والدماجد حضرت مولانا محمد حسین چشتی قادری نقشبدی سہروردیؒ ۱۹۴۱؁ء کو اس دنیا فانی سے عالم جاودانی کو تشریف لے گئے ان کے وصال مبارک کے بعد حضرت مرشدنا صاحبزادہ اشعری ؒ مسندخلافت پر متمکن ہوئے اور مندرجہ ذیل شعبوں میں قابل قدر دینی خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔

درس و تدریس

آپ دینی طالب علمو ںکو فارسی صرف و نحو فقہ حدیث شریف اور تفسیر قرآن پاک کی کتابیں بلامعاوضہ پڑھاتے رہے ہیں۔ مختلف علاقوں کے طلباء نے آپ سے استفادہ کیا ہے اور آخر زمانہ تک جنّات کو مستقل حدیث اور فقہ کا درس ارشاد فرماتے رہے ہیں۔ جنات میں حضرت کے بہت مریدین اور خلفاء بھی ہوئے ہیں۔

تبلیغ اسلام

حضرت سید نا ومرشدناؒ درس قرآن پاک، احادیث مبارکہ اور بیانات وعظ و نصیحت کے ذریعہ اسلام کے تبلیغ فرماتے رہے ہیں اور دور دراز علاقوں کا سفر فرماتے رہے ہیں۔ دین اسلام کی تبلیغ کے لئے احیاء سنت اعمال صالحہ کی پابندی اور شرک وبدعت اور رسومات جاہلیہ کے خلاف سخت لہجہ میں آپ کا بیان ہوتا تھا۔

تصوف اور سلوک

آپ بیعت ہر آدمی کو نہ فرماتے تھے اور نہ یہ خواہش فرماتے تھے کہ یہ ضرور بیعت ہوجائے۔ جو آدمی مقصد بیعت کو سمجھ کر دلی محبت اور شوق سے بیعت ہونا چاہے اس کو بیعت فرماتے تھے جو بیعت ہوجاتا وہ آپ کا گرویدہ بن جاتا تھا اور الحب للہ کا نمونہ بن جاتا تھا۔ آپ کے مریدین میں علماء قراء عظام کی بڑی تعداد رہی ہے اور تمام دینی خدمات میں مصروف ہیں۔

خلفاء

آپ کے مریدین میں سے جن حضرات نے ذکرو اشغال مکمل فرماکر اجازت حاصل کی ان میں بندہ راقم الحروف کے قریبی عزیز:

(۱) حضرت صوفی میاں غلام جیلانی صاحبؒ بمقام ڈبریاں بالاکوٹ۔ ڈاکٹر بختیار احمد صاحب اور حکیم مختار احمدصاحب مانسہرہ والوں کے والد محترم ہیں۔

(۲) حضرت مولانا سید مقبول شاہ گیلانی ڈھاکہ بنگلہ دیش۔

(۳) حضرت مولانا الحاج نور حسین صاحبؒ پاک پٹن شریف ضلع ساہیوال۔ ان کا انتقال کراچی میں ہوا جامعہ عثمانیہ سعید آباد اپنے مدرسہ میں مدفون ہوئے اور حضرت مولانا سالک ربانی صاحب کے والد محترم ہیں۔

(۴) حضرت مولانا عبدالقیوم صاحبؒ خطیب جامع مسجد جبوڑی۔ حضر ت شیخ کے سامنے ہی انتقال فرمایا حضرت شیخؒ نے خود ہی خطیب صاحب کی نمازہ جنازہ جبوڑی ضلع مانسہرہ میں پڑھائی۔

(۵) حضرت مولانا محمد افضال الحسینی چشتی ؒ شنکیاری ضلع مانسہرہ۔ حضرت شیخ کے وصال کے کچھ عرصہ بعد وفات پاچکے۔

(۶) حضرت مولانا محمد امان اللہؒ صاحب میلسی وہاڑی۔ حضرت شیخؒ کے وصال کے کچھ عرصہ بعد وفات پاچکے۔

حضرت مرشدناؒ کے بڑے صاحبزادے عنایت الرحمٰن عرف شہزادہ باوجود کوشش کے پڑھ نہ سکے بیماری میں دنیا سے رخصت ہوئے حضرت ان سے بہت دکھیا بھی رہتے تھے اور چھوٹے صاحبزادے حضرت سخاوت الرحمٰن عرف جوّاد صاحب دامت برکاتہم اپنی دینی و دنیاوی تعلیم میں مصروف رہے۔ آخری زمانہ میں حضرت سے بیعت و منازل سلوک طے فرمائیں اور اپنے آپ کو دنیاوی رنگ میں چھپایا ہوا تھا۔ اپنے اشغال و مراقبات جاری رکھے اور حضرت شیخ نے آخر میں چاروں سلسلوں کی اجازت فرماکر سلسلہ کو جاری کرنے کا حکم فرمایا۔

(۷) حضرت صاحبزادہ سخاوت الرحمٰن جوّاد صاحب دامت برکاتہم العالیہ ۔

(۸) اس بندہ گناہ گار سیاہ کار اور عاجز کو بھی حضرت شیخ نے فرمایا کہ اس وقت کوئی آپ کو مجبور کرے کہ مجھے بیعت کرو تو کردینا، مگر جب آپ کی داڑھی اکثر یا مکمل سفید ہو جائے تو اس وقت یہ بیعت والا کام اچھا لگے گا۔ اجازت تو آپ کو میری طرف سے ہوگئی ہے مگر مجھے یہ بات اچھی لگتی ہے سفید داڑھی والا پیر ہی اچھا معلوم ہوتا ہے اور فارسی زبان میں پیر سفید ریش بزرگ آدمی کو کہتے ہیں پھر اس عاجز راقم الحروف کو حضرت  مولانا محمد امان اللہ صاحب نے اپنے شیخ حضرت مولانا نجم الدین صاحبؒ نقشبندی فاضل دیوبند ڈیرہ غازی خان اور میرے حضرت کی اجازت بھی مجھے عنایت فرمائی اور ۲۳فروری بروز منگل ۲۰۱۶؁ء کو اپنے حضرت شیخ کے چھوٹے صاحبزادے حضرت سخاوت الرحٰمن جوّاد صاحب دامت برکاتھم کے ہاں غازی ٹاؤن مانسہرہ حاضر ہوا انہوں نے ساری تفصیل بیان فرمائی۔ بندہ نے تجدید کی درخواست کی تو جوّاد صاحب نے بندہ کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں قبول فرماکر فرمایا کہ میرے پردادا حضرت خواجہ محمد عزیزؒ نے جس طرح میرے دادا جان حضرت خواجہ محمد حسینؒ کو چاروں سلسلوں (چشتیہ، قادریہ، نقشبندیہ، سہر وردیہ) میں اجازت وخلافت عطا فرمائی انہوں نے میرے والد صاحب حضرت صاحبزادہ ابو الفیض صاحبؒ کو یہ نعمت واجازت عطاء فرمائی اورمیرے والد صاحبؒ نے مجھے اسی طرح چاروں سلسلوں میں اجازت خلافت عطاء فرمائی۔ اسی طرح میں نے آپ کو ان چاروں سلسلوں میں اجازت و خلافت دی آپ قبول فرمائیں اور جس طرح آپ کو حضرت والد صاحبؒ نے ہدایات دی ہیں لوگوں کو شرک وبدعت سے بچانا اور صحیح صراط مستقیم پر لوگوں کی رہنمائی کرنا اور حضرت جواد صاحب نے اپنے  لئے انتہائی عاجزی کے الفاظ فرمائے کہ میں ایک دنیا دار سا آدمی ہوں دعا میں یاد رکھنا۔ اسلام کی اور دین کی خدمت پر زور دار ارشاد فرمایا۔ شرک وبدعت سے دور رہنے کی تاکید فرمائی ذکرو فکر و مراقبہ کی پابندی کو فرمایا اور فرمایا کہ میری طرف سے وہی ہدایات واصول ہیں جو آپ حضرت والد صاحبؒ سے سن چکے ہیں اور بار بار دیکھ چکے ہیں اور آخر میں دعائے خیر کے ساتھ بندہ کو رخصت فرمایا اور حضرت شیخ کے سلسلہ کو منظم طریقہ سے چلانے پر خوشی کا اظہار بھی فرمایا اور دعائیں دیں۔

(جاری ہے)

 

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor