Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

محمد عبید الرحمٰن(شوق شہادت(۱۵۸)

شعلۂ جوّالہ

شوق شھادت:محمد عبید الرحمٰن(۱۵۸)

(شمارہ 546)

حضرت سائب بن عثمان جُمحَی رضی اللہ عنہما

ہجرت مدینہ کے بعد سرور دوعالمﷺکا معمول تھا کہ جب آپﷺکسی مہم پر مدینہ منورہ سے باہر تشریف لے جاتے تو اپنے کسی جانثار کو شہر میں اپنا قائم مقام بنا کر چھوڑ جاتے۔ عام طور پر اس شرف سے کئی ا یسے صاحب ہی بہرہ مند ہوتے تھے جن کو بارگاہ نبوت میں درجہ اختصاص حاصل ہوتا۔ علامہ ابن ہشام کا بیان ہے کہ ربیع الاول ۲  ھ؁ سروردوعالمﷺغزوۂ بواط کے لئے تشریف لے گئے تو مدینہ منور میں اپنی نیابت کے لئے جن صاحب کو منتخب فرمایا وہ بیس اکیس سال کے مہاجرنوجوان تھے۔ اگرچہ ان کا جوش ایمان اور ولولہ شباب میدان جہاد میں حضورﷺکی ہمرکابی کا تقاضا کرتا تھا۔ لیکن اپنے آقا ومولا کے حکم کی تعمیل میں انہوں نے مدینہ منورہ میں رہ کر ہی حضورﷺکی نیابت کا فرض انجام دیا۔ یہ جوانِ رعنا جن کو عنفوان شباب ہی میں اتنا عظیم شرف حاصل ہو گیا، حضرت سائب بن عثمان رضی اللہ عنہما تھے۔

سیدنا حضرت سائب رضی اللہ عنہ قریش کے خاندان بنو جُمَح کے چشم و چراغ تھے اورجلیل القدر صحابی حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے فرزند سعادت مند تھے۔ سلسلۂ نسب یہ ہے۔

سائب بن عثمان بن مظعون بن خبیب بن وہب بن خدافہ بن جمح بن عمرو بن منہیص بن کعب بن لؤیّ بن غالب۔

والدہ کا نام خولہ بنت حکیم تھا۔ وہ بنو سلیم سے تھیں۔ نسب نامہ یہ ہے:

خولہ بنت حکیم بن امیّہ بن اوقص بن مرہ بن ہلال بن فالح بن ذکران بن ثعلبہ بن بہشہ بن سُلیم۔

حضرت سائبؓ ابھی کم سن ہی تھے کہ افق مکہ سے خورشید رسالت کا طلوع ہوا۔ ان کے والد حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ اور والدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا دونوں کو اللہ تعالٰی نے فطرت سلیم سے نوازا تھا۔ رحمت عالَمﷺنے دعوت حق کا آغاز فرمایا تو ان دونوں نے بلا تأمل اس پر لبّیک کہا اور ’’السابقون الاولون‘‘ کی مقدس جماعت میں داخل ہوگئے۔ کم سن سائب رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے سعید الفطرت والدین کی پیروی کی۔ اس زمانہ میں اسلام قبول کرنا کوئی آسان کام نہ تھا بلکہ شہادت گاہ عشق میں قدم رکھنے کے مترادف تھا۔ جو شخص سعادت اندوز ایمان ہوتاکفار کے قہر و غضب کا نشانہ بن جاتا۔ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا بھی یہی حال ہوا۔ جب مکہ میں اہل حق کے لئے حالات سخت نامساعد ہوگئے  تو ۵  ؁ بعد بعثت سرور عالَمﷺنے ستم زدہ مسلمانوں سے فرمایا:

لوخرجتم الٰی الارض الحبشۃ فان بھا ملکا لا یظلم عندہ احد وھی ارض صدق حتی یجعل اللہ لکم فرجا مما انتم فیہ۔

ترجمہ: بہتر ہو کہ تم لوگ نکل کر حبش چلے جاؤ، وہاں ایک ایسا بادشاہ ہے جس کے ہاں کسی پر ظلم نہیں ہوتا اور وہ بھلائی کی سرزمین ہے جب تک اللہ تعالیٰ تمہاری اس مصیبت کو دور کرنے کی کوئی صورت پیدا نہ  کرے تم لوگ وہیں قیام کرو!

حضورﷺکے ارشاد کے مطابق سب سے پہلے گیارہ مردوں اور چار عورتوں نے حبشہ کی راہ لی۔ ان اولین مہاجرین حبشہ میں حضرت عثمان بن مظعون بھی شامل تھے۔ انہوں نے اپنی بیٹی اور بیٹے کو مکہ میں خدا کے سپرد کیا اور حبشہ کے دارالغربت میں پہنچ گئے۔ تھوڑے ہی عرصہ بعد ان مہاجرین کو خبر ملی کہ رسول اکرمﷺاور کفار کے درمیان صلح ہوگئی ہے کیونکہ کفار نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ یہ خبر سن کر سب کے سب یا ان میں سے کچھ مہاجرین عازم مکہ ہوگئے۔ شہر کے قریب پہنچ کر معلوم ہوا کہ یہ خبر غلط تھی۔ باہم مشورے کے بعد انہوں نے یہ طے کیا کہ واپس جانا مناسب نہیں چناچہ ان میں سے ہر ایک کسی نہ کسی کی پناہ لے کر شہر میں داخل ہوگیا۔ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے ولید بن مغیرہ کی پناہ لی لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ دوسرے مسلمان بدستور مشرکین کا ہدف ستم بنے ہوئے ہیں تو انہوں نے ولید کی پنا ہ واپس کر دی اور پہلے کی طرح بلاکشان اسلام میں شامل ہوگئے۔ جب مشرکین کا ظلم شدید سے شدید تر ہوگیاتو  ۶؁ بعد بعثت میں حضورﷺنے پھر ہدایت فرمائی کہ یہ مظلوم لوگ حبش ہی کی طرف ہجرت کر جائیں چناچہ تقریباً ایک سو مرد وعورتوں پر مشتمل ایک قافلہ عازم حبشہ ہوگیا۔ اس قافلہ میں حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ اور ان کے فرزند سعید حضرت سائب رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ اللہ کے یہ پاک باز بندے کئی سال تک حبشہ میںغریب الوطنی کی زندگی گزارتے رہے۔ ا ن میں سے باختلاف روایت ۲۳یا ۳۸ صحابہ رضی اللہ عنہم وصحابیات رضی اللہ عنہم سرور عالمﷺکی ہجرت مدینہ سے کچھ عرصہ قبل یا کچھ عرصہ بعد حبشہ سے واپس مکہ معظمہ آگئے اور پھر سوائے ان حضرات کے جنہیں اہل مکہ نے زبردستی وہاں روک لیا  باقی سب وہاں سے ہجرت کرکے مدینہ منوّرہ پہنچ گئے۔ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ بھی اپنے فرزند اور بھائیوں کے ساتھ ارضِ مکہ کو ہمیشہ کے لئے الوداع کہہ کر مدینہ منوّرہ آگئے۔ ابن سعدؒ کا بیان ہے کہ حضرت سعد بن مظعون رضی اللہ عنہ مکہ سے اس طرح رخصت ہوئے کہ ان کے خاندان کا ایک بھی فرد وہاں نہ رہا اور ان کے مکانوں میں تالے پڑ گئے۔

ہجرت الیٰ المدینہ کے وقت حضرت سائب رضی اللہ عنہ کی عمر انیس برس کے لگ بھگ تھی۔ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے اپنے فرزند ارجمند کی تربیت ایسے عمدہ انداز سے کی تھی کہ وہ اعلی درجہ کے قدر انداز اور شمشیر زن بن گئے تھے۔ مدینہ منورہ میںاس خاندان کو حضرت عبداللہ بن سلمہ عجلانی رضی اللہ عنہ نے اپنا مہمان بنایا۔ کچھ عرصہ بعد سرور عالمﷺنے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائیوں کو مکانات کی تعمیر کے لئے وسیع قطعات زمین مرحمت فرمائے۔ حضورﷺنے ہجرت کے چھٹے یا ساتوں مہینے مہاجرین وانصار کے مابین مواخاۃ قائم فرمائی تو حضرت سائب رضی اللہ عنہ کو حضرت حارثہ بن سراقہ رضی اللہ عنہ کا دینی بھائی بنایا۔ ربیع الاول ۲ ؁ میں حضورﷺغزوۂ بواط کے لئے تشریف لے گئے تو حضرت سائب کو مدینہ منورہ میں اپنا قائم مقام بنایا۔ یہ روایت ابن ہشام کی ہے بعض روایات میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا بھی نام آتا ہے۔

رمضان المبارک ۲؁ ہجری میں حق و باطل کا معرکۂ اول بدر کے میدان میں پیش آیا تو حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ اور حضرت سائب  رضی اللہ عنہ دونوں نے بڑے جوش اور جذبے کے ساتھ رحمت عالمﷺکی ہمرکابی کا شرف حاصل کیا۔ ارباب سیر کا بیان ہے کہ دونوں باپ بیٹے سر پر کفن باندھ کر لڑے اور شجاعت وبسالت کا حق ادا کر دیا۔ غزوۂ بدر کے چند دن بعد حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ سخت علیل ہوگئے۔ ان کے انصاری بھائی اور اہل خاندان نے بڑی دلسوزی کے ساتھ تیمار داری کی لیکن ان کا مرض روز بروز شدت اختیار کرتا گیا۔ یہاں تک کہ اخیر ۲ ہجری میں انہوں نے پیک اجل کو لبّیک کہا۔ حضورﷺکو ان کی وفات کی خبر سن کر سخت صدمہ ہوا۔ آپﷺبادیدۂ گریاں حضرت ام العلاء انصاریہ  رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے جہاں حضرت عثمانؓ نے وفات پائی تھی۔ حضورﷺنے تین مرتبہ میت کی پیشانی کو جھک کر بوسہ دیا اور فرمایا:

’’ابو السالب! میں تم سے جدا ہوتا ہوں، تم دنیا سے اس طرح رخصت ہوئے کہ تمہارا دامن ذرہ برابر اس سے آلود نہ ہونے پایا۔‘‘

شفیق باپ کی جدائی سے حضرت سائب رضی اللہ عنہ پر کوہِ غم ٹوٹ پڑا لیکن انہوں نے بڑی ہمت اور حوصلے سے کام لیا اور پہلے سے دوچند جو ش کے ساتھ اپنے آپ کو اسلام کی خدمت کے لئے وقف کر دیا۔ حافظ ابن عبد البرؒنے ’’الاستیعاب‘‘ میں لکھا ہے کہ حضرت سائب رضی اللہ عنہ نے احد، احزاب اور دوسرے تمام معرکوں میں بڑے جوش اور ولولے کے ساتھ داد شجاعت دی اور اپنی قدر اندازی کی دھاک بٹھادی۔

۱۱ہجر؁ی میں آفتاب رسالت اللہ تعالیٰ کی شفقِ رحمت میں غروب ہوا اور حضرت ابوبکرصدیق  رضی اللہ عنہ مسند نشین خلافت ہوئے تو دفعۃً سارے عرب میں فتنۂ ارتداد کے شعلے بھڑک اٹھے۔ اس موقع پر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے بے مثال عزم وہمت اور قوت ایمانی کا مظاہرہ کیا اور مرتدین کے مقابلے میں ڈٹ گئے۔ فتنہ ردّہ کے ارتداد کے سلسلے میں بہت سے معرکے پیش آئے۔ ان میں سب سے زیادہ خون ریز یمامہ کی لڑائی تھی جو مسیلمہ کذّاب کے خلاف لڑی گئی۔ طبریؒ نے جنگ یمامہ کی بابت لکھا ہے:

لم یلق المسلون حرباً مثلھا قط

(مسلمانوں کو اس سے زیادہ سخت معرکہ کبھی پیش نہیں آیا)

 اس معرکے میں مسلمانوں کی قیادت حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ  کر رہے تھے اور حضرت سائب بھی ان کے لشکر میں شامل تھے۔ وہ اس شان سے لڑے کہ شجاعت بھی آفرین پکار اٹھی۔ عین معرکہ کار زار میں شدید زخمی ہوکر گر پڑے۔ مسلمان انہیں اٹھا کر خیمہ میں لے گئے اورعلاج معالجہ میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی لیکن زخم بگڑتا ہی چلا گیا اور چند دن بعد وہ خالق حقیقی کے حضور پہنچ گئے۔ اس وقت ان کی تیس سال سے کچھ اوپر عمر تھی۔

 

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor