Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

تاجرو! جنت کیسے جاؤ گے؟ (قسط۱۷)

تاجرو! جنت کیسے جاؤ گے؟  (قسط۱۷)

انتخاب: شفیق الرحمن

(شمارہ 581)

ہاتھ کی کمائی افضل ترین کمائی ہے

عن رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال قیل یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم ای الکسب اطیب قال: ’’عمل الرجل وکل بیع مبرور‘‘۔ (مشکٰوۃ شریف، مسنداحمد)

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سی کمائی بہتر ہے… آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ آدمی کے ہاتھ کی کمائی… اور ہر وہ بیع جو نیکی کے ساتھ ہو…

فائدہ: آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ہاتھ کی کمائی کی بڑی تعریف کی ہے… اس کی اہم وجہ اختیاری کام ہے… جب دل کرے، کرلیا… جب جی نہ چاہئے، بند کر دیا… اس کام میں انسان مجبور اور ملازم نہیں ہوتا کہ نماز کا وقت ہوگیا ہے اب اجازت لے پھر نماز کے لئے جائے… اس کام میں بہت ہی آسانی ہے… دوسرے گھر یلو کام اور ذکر، تلاوت ، نماز، تسبیحات کا وقت آسانی سے نکل سکتا ہے…

ہاتھ کی کمائی سے بہتر کمائی کوئی نہیں ہے

عن مقدام رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال: ’’ قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم ما اکل احد طعاماً قط خیراً من ان یاکل من عمل یدہ وان نبی اللہ داؤد علیہم السلام کان یاکل من عمل یدیہ ‘‘۔ (بخاری شریف)

حضرت مقدام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جناب بنی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ اس آدمی سے بہتر کسی نے نہیں کھایا، جس نے اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھایا… اللہ کے نبی حضرت داؤد علیہم السلام اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے…

فائدہ: مطلب یہ ہے کہ ہاتھ سے کوئی کام کرتے اسی سے اپنا گذر کرتے تھے… نہ کسی کی ملازمت کرتے تھے اور قوم کے ہدایا اور تحائف پر گذر کرنا پسند نہیں کرتے تھے… جیسا کہ آج کل بعض مشائخ نے پیری مریدی کو حصول رزق کا ذریعہ بنا رکھا ہے… اسی وجہ سے ان کے تعلقات زیادہ تر مالداروں سے ہوتے ہیں… زیادہ آنا جانا انہیں کے پاس ہو تا ہیں…

اپنی کمائی کی برکت سے آدمی ہر طرح اپنے تقویٰ اور زہد کی حفاظت کرسکتا ہے… پس اپنے ہاتھ سے کمائی کرو، اور اللہ پاک کے برگزیدہ بندے بن جاؤ… اور اپنی کمائی سے اپنی ضرورت پوری کرو، یہی طریقہ اچھا ہے، گو دنیا ا سے اچھا نہ سمجھے… مگر اللہ پاک کے نزدیک تو پسندیدہ ہے…

اپنی ضرورت کیلئے کمائی

کرنا سنت ہے

عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قالـ ’’ قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کان زکریا علیہم السلام نجاراً ۔ (مسلم شریف، ابن ماجہ)

حضرت ابی ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’حضرت زکریا علیہم السلام بڑھئی کا کام کیا کرتے تھے‘‘…

بوجھ اٹھائی کا پیشہ

حضرات صحابہ سے ثابت ہے

عن ابی مسعود الانصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال: ’’ کان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اذا امرنا لصدقۃ انطلق احدنا الی السوق فیحامل فیصیب اللہ‘‘۔ (بخاری شریف)

حضرت ابو مسعود الانصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم جب ہم لوگوں کو صدقہ کا حکم دیتے تو ہم میں سے بعض، (جس کے پاس مال نہ ہوتا اور صدقہ کا شوق ہوتا) وہ بازار جاتا اور بوجھ لادتا اس کی اجرت میں ایک مد غلہ پاتا( اور اسے صدقہ کردیتا…

فائدہ: دیکھئے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے جذبہ خیرات کو آپ نے جب صدقہ وخیرات کی ترغیب دی اور ان کے پاس مال وزر نہیں تھا تو صرف صدقہ خیرات کے لئے مزدوری اور بوجھ اٹھانے جاتے تھے… اور اس سے حاصل ہونے والے مال کو راہ خدا  میں خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے خرچ کر دیتے تھے…

اس سے معلوم ہوا کہ مزدوری کرنا خواہ اس میں جو کام بھی ہو بلا قیاحت کے جائز ہے… مزدوری اور ملازمت کرنا جو شریعت کے مطابق ہو جائز ہے… اس میں کوئی حرج نہیں…

تلاش رزق کے لئے صبح کا وقت بابرکت ہے

عن عائشۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہا قالت: ’’ قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم باکرو طلب الرزق فان الغدو برکۃ ذو نجاح‘‘۔ (مجمع الزوائد)

 حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’رزق کے حاصل کرنے میںدن کے شروع وقت کا اختیار کرو کہ دن کے شروع وقت میں برکت ہے اور کامیابی ہے‘‘۔

فائدہ: مطلب یہ ہے کہ صبح کا وقت دن کا اول وقت برکت والا ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے:

’’البرکۃ فی بکورھا‘‘

فرمایا: برکت دن کے شروع کے حصہ میں ہے…

پس فجرکی نمازکے بعد ترتیب یہ ہے کہ تلاوت، ذکر میں مصروف رہے یہ وقت عبادت کے اعتبار سے بہت قیمتی ہے… پس اس وقت میںسونا اور دیگر تمام دنیاوی مشاغل بہتر اور اچھا نہیں… صبح کی نماز کے بعد سے سورج نکلنے تک کا وقت عبادت، ذکر، تلاوت، اور تسبیحات وغیرہ کا ہے… یہ وقت اللہ کا ہے جو خالق ومالک ہے، اس کا بھی تو حق بندے پر ہے کہ اسی نے ہی پیدا کیا ہے اسی نے رزق کا فیصلہ بندے کے حق میں کیا ہے… یہ تقسیم رزق کا وقت ہے… اس وقت اللہ سے رزق حلال مانگے، اور پھر دن بھر شریعت کے اندر رہتے ہوئے رزق حاصل کریں…

 اللہ تعالیٰ ہم سب کو رزق حلال عطا فرمائے، آمین…

تجارتی اور دکانداری کے سلسلے میں کہیں جانا ہوتو صبح کے وقت جانا اچھا ہے

عن صخربن وداعۃ، ان رسول اللہﷺقال اللھم بارک لا متی فی بکورھا وکان اذا بعث سریۃ او جیشاً بعثھم من اول النھار وکان صخر تاجراً فکان یبعث تجارتہ من اول النھار فاثری وکثرمالہ۔ (ترغیب /۵۲۹)

حضرت صخر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپﷺنے دعا فرمائی تھی، کہ اے اللہ! ہماری امت کو دن کے اول حصہ میں برکت عطا فرما، آپﷺجب کوئی جماعت یا لشکر روانہ فرماتے تو دن کے اول حصہ میں روانہ فرماتے اور حضرت صخر (جو اس روایت کے نقل کرنے والے ہیں) تاجر تھے، جب تجارتی سامان بھیجتے تھے تو دن لے اول حصہ میں روانہ کرتے تھے تو اس سے نفع بہت ہوتا تھا اور مال زائد ملتا تھا۔

ف: دیکھئے آپ کی دعا کی وجہ سے یہ شروع دن میں تجارت کا سامان بھیجتے تھے اور اس کو صبح میں روانہ کرتے تھے۔ خوب نفع ہوتا تھا، جس کی وجہ سے یہ مالدار ہوگئے۔ پس صبح میں برکت ہے۔ اس وقت کا کام اچھا ہوتا ہے۔ لہٰذا جب سفر کرنا اور کہیں جانا ہوتو شروع دن ہی میں جائے۔

پس اے تاجرو اور بیچنے والو، نکلنا ہوجانا ہوتو صبح کے وقت نکل جائو بیچ دن میں اور شام کو نہ نکلو، برکت اور سہولت بھی رہے گی اور فراغت کے بعد واپسی میں بھی سہولت رہے گی جلد جانے سے کام جلد ہوگا دیر سے جانے سے کام دیر سے ہوگا۔

صبح کے وقت رزق کی تقسیم ہوتی ہے سوکر رزق کا نقصان نہ کرو

عن فاطمہ بنتِ محمدﷺورضی اللہ عنہا قالت مربی رسول اللہﷺوانا مضتجعۃ فحرکنی برجلہ ثم قال یابنیۃ قومی اشھدی رزق ربک ولاتکونی من الغافلین فان اللہ عزوجل یقسم ارزاق الناس مابین طلوع الفجر الی اطلوع الشمس (ترغیب ۲/۵۳)

آپﷺکی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں صبح کے وقت لیٹی ہوئی تھی آپ مرے پاس سے گزرے تو اپنے پیرو مبارک سے مجھے ہلایا اور فرمایا، اے بیٹی اٹھو اپنے رب کے تقسیم رزق کے پاس حاضر رہو۔ غافل رہنے والوں میں نہ ہو۔

اللہ پاک صبح صادق اور سورج نکلنے کے درمیان لوگوں کے رزق تقسیم فرماتے ہیں۔

ف: دیکھئے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی نماز کے بعد لیٹی ہوئی تھیں تو آپﷺنے پیر سے حرکت دے کر اٹھا دیا، آپ کو اس وقت سونا پسند نہیں تھا۔ چونکہ ایک جانب عبادت کا دوسری جانب تقسیم رزق کا۔ اس وقت غفلت برتنا، سونا محرومی کی علامت ہے۔

اب اس حدیث پاک کو دیکھئے اور امت مسلمہ کا عمل دیکھئے، امت کے اکثر افراد سوئے رہتے ہیں۔ ہم نے جس نبی پر ایمان لایا ان کی باتوں پر عمل ہے؟ پھر ایسی غفلت پر اگر روزی کی پریشانی ہوتو اس کا کیا علاج ہے۔

آج امت مسلمہ کا ایک اچھا خاصہ طبقہ رزق اور روزی میں پریشان ہے، مگر پھر بھی اپنے نبی کی تعلیم پر نہ عمل ہے نہ فکر اے مال حاصل کرنے والو اور اللہ کی روزی کو تلاش اور حاصل کرنے والو صبح کے وقت ہرگز مت سوئو یہ تقسیم رزق کا وقت ہے۔ اسی وجہ سے آپﷺسے صبح کی نماز کے بعد رزق کی سہولت اور وسعت کی دعا منقول ہے۔ چنانچہ آپ صبح کی نماز کے بعد یہ دعا فرماتے، اے اللہ سوال کرتا ہوں نفع دینے والے علم کا، مقبول عمل کا پاکیزہ رزق کا اللھم انی اسئلک علماً نافعاً وعملا متقبلاً ورزقاً طیباً

پس صبح کی نماز کے بعد رزق اور اس کی وسعت وسہولت کی دعا کرنی چاہیے ان میں یہ دعا کرنی مسنون ہے۔ پس اس سے یہ معلوم ہوا کہ روزی کی تنگی اور پریشانی اچھی بات نہیں کہ بسا اوقات ایمان میں خلل اور عبادت میں نقصان ہوجاتا ہے اور فرائض اللہیہ کی ادائیگی میں کوتاہی ہوجاتی ہے۔ اسی وجہ سے آپ نے رزق کی دعا فرمائی ہے، رزق اور وسعت رزق کی دعائیں ’’دعائوں‘‘ کے ذیل میں دکھیئے، اس کا معمول رکھئے۔ دین و دنیا کے فوائد حاصل ہونگے۔

 

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor