Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

باب الفیض (قسط۲۳)

باب الفیض (قسط۲۳)

 مرشدنا و مولانا صاحبزادہ ابوالفیض محمد امیر صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ

(شمارہ 581)

مراقبۂ طریقت

تنبیہ

کسی نیک بندے کی قبر پر جانا منع نہیں ہے البتہ وہاں پر بدعات یاشرک کرنا منع ہے۔ قبر کو سجدہ کرنا، قبر کا طواف کرنا، قبر پر رسومات یا میلہ لگانا منع ہے۔

ولی اللہ کی قبر پر جو لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اے صاحب قبر! میں تیرے پاس فلاں حاجت لے کر آیا ہوں تو میری مراد  کو پورا کر! یہ شرک ہے اور منع ہے۔ قبر پر جاکر یہ سوال کرنا کہ اے اللہ! یہ تیرا بندہ ہے، اس کی برکت یا وسیلہ سے تو میرے رب! میری دعاء یاسوال کو پورا کر! یہ جائز ہے۔ قبر والے سے یہ کہنا کہ اے صاحب قبر! تو خدا سے دعاء کر! کہ میری یہ بات خدا پورا کردے یہ بدعت ہے۔

مردوں کے سننے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کا اختلاف ہے بعض سماع موتیٰ کے قائل ہیں اور بعض نہیں۔ بس اس مسئلہ میں بحث کو طول دینا یا کسی ایک بات پر یقین کرنا ٹھیک  نہیں ہے۔ یہ معاملہ خدا کے سپرد ہی کردینا چاہیے۔ کیونکہ مردے عالم برزخ میں ہیں۔ ان کا سننا یا نہ سننا یہ خدا کو معلوم ہے۔ ہمارے علم میں یقینی بات نہیں ہے۔ اگر کوئی یقینی بات ہوتی تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کا ہی اس مسئلہ میں اختلاف نہ ہوتا۔

توسل بالذات

یہود کا ذکر آیا ہے کہ حضرت محمدﷺکے آنے سے پہلے یہود جب کافروں سے مغلوب ہوجاتے تھے تو نبی آخرالزمانﷺکی ذات مبارکہ کا وسیلہ پکڑتے تھے کہ اے اللہ! اس نبی اُمی کے وسیلہ  اور برکت سے ہمیں کافروں پر فتح ونصرت نصیب فرما۔

روایات میں آیا ہے کہ یہود کہتے تھے:’’ اللھم انصر علیھم بالنبی المبعوث فی آخرالزمان الذی نجد صفتہ فی التوراۃ‘‘

ترجمہ: اے اللہ! ہمیں کافروں پر اس نبی مبعوث کے ذریعے سے جو آخری زمانہ میں آئے گا اور جس کی صفت کو ہم تورات میں پاتے ہیں، فتح ونصرت عطاء فرما۔

امام رازیؒ نے تفسیر کبیر میں اور علامہ ابی مسعودؒ نے اپنی تفسیر میں تحریر فرمایا ہے:

’’ان الیھود من قبل بعث النبیﷺونزول القرآن کانو یستفتحون ای یسألون الفتح والنصرۃ بالنبی الامیّ‘‘

ترجمہ: یہود رسول خداﷺکے آنے سے پہلے اور نزول قرآن سے پہلے فتح ونصرت نبی امیﷺکے زریعے سے مانگا کرتے تھے۔

تفسیر مظہری جلد۱ص۹۴ میں قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ (خلیفہ حضرت شاہ ولی اللہؒ) کا بھی اس طرح ارشاد تحریر ہے۔ اسی طرح علامہ شیخ اسماعیل حقیؒ اپنی تفسیر روح البیان میں حضرت حضرت محمد مصطفےﷺکے یہود کو وسیلہ بنانے کا ذکر کیا ہے۔اسی طرح ابو القیمؒ نے دلائل میں حضرت ضحاکؒ اور حضرت عطائؒ کے طریق سے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے۔

علامہ ابن قدامہؒ فرماتے ہیں کہ جو شخص صالح اور نیک ہو مستحب ہے کہ اس کی ذات برکات کو استسقاء کے لیے وسیلہ بناکر خدا سے بارش کے لیے دعاء مانگی جائے کیونکہ حضرت ابن عمرؓ  نے ایک بار قحط کے زمانہ میں حضرت عباسؓ کی ذات ببرکات کو وسیلہ بناکر بارش کی طلبی کے لیے دعاء فرمائی تھی اور فرمایا تھا  کہ ’’اللھم ان ھٰذا عم نبیکﷺ نتوجہ الیک بہ فاسقنا فما برحوا حتی سقاھم اللہ عز وجل‘‘ تو اللہ تعالیٰ نے بارش  کو نازل فرمادیا۔ (کتاب المغنی ص۴۳۹)

بخاری شریف میں ’’انا نتوسل الیک بعم نبیک فاسقنا‘‘ آیا ہے کہ اے اللہ! ہم تیری طرف تیرے نبیﷺکے چچا حضرت عباسؓ کو وسیلہ لاتے ہیں تو ہمیں بارش نصیب فرما۔

المہند علی المفندص۱۲پر دارالعلوم دیوبند کا فتوی ہے۔ سائل کا سوال ہے:

’’ھل للرجل ان یتوسل عندکم بالسلف الصالحین من الانبیاء والصدیقین والشھداء واولیاء رب العالمین ام لا؟‘‘

ترجمہ: اے دیوبندیو! تمہارے نزدیک رسول خداﷺکا وسیلہ بعد ان کی وفات کے اور وسیلہ سلف صالحین وانبیاء صدیقین وشہداء واولیاء کا جائز ہے یا نہیں؟

اس کا جواب تھا۔

الجواب عندنا وعند مشائخنا یجوز التوسل فی الدعوات بالانبیاء والصالحین من الاولیاء والشھداء والصدیقین فی حیاتھم وبعد وفاتھم۔

ہمارے نزدیک اور ہمارے مشائخ کے نزدیک وسیلہ پکڑنا اپنی دعاؤں میں انبیاء اور صلحاء اور شھداء اور صدیقین کا ان کی زندگی اور ان کی وفات کے بعد جائز ہے۔

وسیلہ کی مکمل بحث اور اس کا جواز اور وسیلہ کے اقسام اور علماء امت کے اس بارہ میں اقوال پر حضرت مولانا بادشاہ گل صاحب بخاریؒ جامعہ اسلامیہ پاکستان اکوڑہ خٹک نے ایک کتاب موسومہ بنام کتاب الوسیلہ بھی لکھی ہے۔ من شاء فلیرجع الیہ

حضرت شاہ عبدالعزیزصاحبؒ محدث دہلویؒ اپنے فتاویٰ عزیزی میں ص۲۶۰ جلد۱ پر تحریر فرماتے ہیں کہ کوئی صاحب باطن یاصاحب کشف کسی صاحب باطن یاصاحب کشف کی قبر کے پاس مراقبہ کرکے باطن سے فیض حاصل کر سکتا ہے۔

دوسرے مقام پراسی جلد کے ص۲۲۶ میں فرماتے ہیں کہ اور اگر منجملہ اولیاء اور صلحاء کے کسی بزرگ کی قبر کی زیارت کے لیے جاوے تو چاہیے کہ اس بزرگ کے سینہ کی طرف منہ کر کے بیٹھے اور اکیس مرتبہ چار ضرب سے پڑھے: ’’سبّوح قدوس ربنا ورب الملٰئکۃ والروح اور سورۃ انا انزلناہ تین مرتبہ پڑھے اور دل سے خطرات د ور کرے اور دل کو اس بزرگ کے سینہ کے سامنے رکھے تو اس بزرگ کی روح کے برکات زیارت کرنے والے کے دل میں پہنچیں گی۔

توسل بالصلحاء فی الحیات وبعد از وفات باتفاق دیوبندیہ وبریلویہ جائز اور مستحب ہے۔ ہاں اولیاء اللہ کو مستقل طور پر حاجت روا، مشکل کشا سمجھنا یہ جائز نہیں ہے۔ صرف ان کی ذات کو بطور وسیلہ جان اور مان کر اپنے رب سے التجا کرنا کہ اے اللہ! فلاں بزرگ کے طفیل اور لحا ظ سے مجھ پر رحم فرما! یا میرا فلاں کام آسان فرما! یہ جائز ہے۔

حضرت امام شافعیؒ حضرت امام ابوحنیفہؒ کو وسیلہ بناکر خدا سے توسل کیا کرتے تھے۔

حضرت شیخ الہندؒ، حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ، حضرت گنگوہیؒ، حضرت علامہ زرقانیؒ، حضرت امام شافعیؒ، حضرت علامہ تستریؒ، حضرت معروف کرخیؒ، ابوبکر بن خطیبؒ، علامہ شامیؒ، علامہ طحاویؒ، علامہ ابن حجرؒ  وغیرہ سب کے سب توسل کے قائل ہیں۔

مزید معلومات کے لیے فتاویٰ رشیدیہ، شرح مواہب لدنیہ۔ فتاویٰ عزیزی، الشھاب، نیل الشفا بنعل المصطفے، غایۃ المامول، فیوض الحرمین، فوائد شیخ الھند، روح المعانی، بیضاوی، مراقی الفلاح، مدارک، مفردات امام راغب، نسیم الریاض، البدایہ والنہایہ، المناسک ملاعلی قاریؒ، کلیات امدادیہ، نشر الطیب وغیرہ میں  وسیلہ بالصالحین وبالانبیاء وغیرہ کا ذکر موجود ہے۔ مفصل طور پر لکھنا ذرا طول پکڑ جاتا ہے۔ بنا براں مختصر لکھ دیا گیا ہے۔

 

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor