Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

باب الفیض (قسط۲۴)

باب الفیض (قسط۲۴)

 مرشدنا و مولانا صاحبزادہ ابوالفیض محمد امیر صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ

(شمارہ 582)

مراقبۂ طریقت

خواجہ شاہ محمد سلیمان تو نسوی رحمۃ اللہ علیہ

خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسویؒ پیدائشی ولی تھے۔ نوعمری سے ہی آپ کے بلند روحانی مناصب کی بشارتوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ خواجگان چشتیہ نشانیوں کی مدد سے آپ کی تلاش کرتے رہے۔ خواجہ نور محمد مہارویؒ اس سلسلہ میں ہر برس اوچ شریف اور کوٹ مٹھن شریف سفر کرتے تھے۔ اکابر علماء اور مشائخ عظام کے مطابق خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسویؒ پیدائشی ولی تھے۔ ان کی پیدائش سے پہلے اور اوئل عمری میں ہی ان کے جلیل القدر ولی اللہ ہونے کی پیشن گوئی اور خوشخبریاں کی جانے لگی تھیں۔ خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسویؒ کے مرید خاص حاجی نجم الدین چشتیؒ اپنی کتاب ’’مناقب المحجوبین‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’منقول ہے کہ آپ کی پیدائش سے قبل آپ کی والدہ ایک چشمہ سے مشکیزہ بھر کر اپنے گھر کی طرف آرہی تھیں۔ ایک درویش جس کا لباس بھی ہندوستانی تھا اور زبان بھی ہندوستانی (دیگر روایات کے مطابق درویش راستے میں کھڑا تھا) جونہی اس کی  نظر آپ کی والدہ محترمہ پر پڑی کہنے لگا:

’’سبحان اللہ! اس شکم میں بادشاہ جہاں ہے۔ جو اپنے زمانہ میں سلیمان بنے گا۔ ہزار ہا مخلوق کو فیض پہنچائے گا اور تمام جن وانس اس کی تعظیم بجالائیں گے۔‘‘

اسی طرح سیرت اولیاء پر مشہور کتاب ’’منتخب شریف‘‘ میں منقول ہے:

’’آپ کی والدہ حضرت بی بی زلیخاؒ فرماتی ہیں کہ ہم گھر میں تھے کہ ایک فقیر سرخ وسفید منہ، قلندرانہ لباس میں دروازے پر آیا اور دستک دی۔ آپ کے والد سید زکریا بن عبدالوہاب باہر نکلے تو درویش نے پوچھا کہ یہ کس کا مکان ہے؟ سید زکریا نے مناسب جواب دیا۔ درویش نے کہا کہ تمہیں مبارک ہو، تمہارے ہاں ایک بیٹا پیدا ہونے والا ہے جو قطب اقطاب، بہت بابرکت اور صاحب لنگر ہوگا۔ دنیا اس کے ظاہر وطاطنی فیوض سے بہرہ یاب ہوگی اور قیامت تک اس کا فیض جاری رہے گا۔ جا اور جو کچھ حاضر ہے لے آ تاکہ میں بھی اس کے لنگر سے تبرک حاصل کروں۔ مبادا کہ ان کے ظہور سے پہلے میری زندگی کا چراغ گل ہو جائے۔ سید زکریا بن عبدالوہاب تازہ طعام پکوا کرلائے۔ اس بزرگ نے چند لقمے تناول فرمائے اور چلے گئے۔‘‘

ایک اور روایت کے مطابق سید سلیمان تونسویؒ کی ولادت سے قبل آپ کی والدہ نے خواب میں دیکھا کہ آفتاب آسمان سے اتر کر ان کی گود میں آگیا ہے اور تمام گھر منور ہوگیا ہے اور سیکنڑوں لوگ مبارک باد دے رہے ہیں۔

یہ واقعات خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسویؒ کی پیدائش سے قبل ہی عوام میں پھیل چکے تھے۔ تاہم خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسویؒ کے منصب عالی کے بارے میں بشارتوں کا سلسلہ ان کی پیدائش کے بعد بھی جاری رہا۔

مناقب المحجوبین میں منقول ہے:

’’خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسویؒ کی پیدائش کے بعد ایک فقیر آیا اورپوچھا کہ یہاں کس کے ہاں لڑکا پیدا ہوا ہے؟ لوگوں نے گھر کا بتادیا اور فقیر آپ کے گھر پہنچ گیا۔ اس نے نومولود خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسویؒ  کو ادب سے چوما اور کہنا لگا: مبارک ہو! یہ بچہ غوث زماں اور منبع انوار ہوگا۔‘‘

ایک اور روایت کے مطابق کوہِ درگ میں ایک صاحب کشف وکرامات بزرگ تھے۔ وہ بھی موضع گڑگوجی میں رہتے تھے اور قوم افغان جعفر تھے۔ انہیں جب کشف سے آپ کا احوال  معلوم ہوا کہ اس بچے پر وہ وقت آنا ہے کہ جب یہ غوث زماں ہوگا تو وہ اکثر گھی اور شکر ڈال کر چوری تیار کرتے تھے اور نوعمر خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسویؒ کی خدمت میں لے جاتے تھے اور آپ کے گیسو بھی اپنے ہاتھوں سے تراشتے تھے۔ آپ اپنی کم عمری کی وجہ سے اسے تنگ کرتے لیکن اس بزرگ کی ذرا بھی حوصلہ شکنی نہ ہوتی۔ ایک دن ایک شخص نے اس بزرگ سے کہا کہ تمہیں کیا فائدہ ہے کہ اسے چوری بھی کھلاتے ہو ان کی حجامت بھی کرتے ہو اور ان سے سخت سست سننے کے ساتھ پتھر بھی کھاتے ہو؟ ان بزرگ نے اس شخص کو جواب دیا: تم اس بچے کی حقیقت سے آگاہ نہیں ہو یہ مقبولان حق اور محبوبان خدا سے ہوگا۔ اس بچے پر ایک زمانہ آئے گا کہ تمام جہان اس کے نور سے منور ہوگا اور یہ بچہ فخر الاولین ولآخرین ہوگا۔

اسی طرح ایک روز آپ کے استاد محترم ولی کامل اور صاحب نسبت بزرگ میاں حسن علیؒ عرف حاجی صاحب نے آپ سے فرمایا: ’’مجھے کشف سے معلوم ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بلند مرتبہ اور اعلیٰ مقام عطاء کرے گا۔ تم پہلے  تونسہ میں جاکر علم حاصل کرو گے وہاں سے قصبہ لانکھ، وہاں سے کوٹ مٹھن جاکر مزید تعلیم حاصل کرو گے۔ وہاں مہار شریف سے ایک کامل بزرگ آئیں گے۔ آپ ان سے بیعت کریں اور وہ آپ کو نعمت وخلافت عطاء فرمائیں گے، اس کے بعد تم تونسہ آکر مخلوق خدا کو اللہ تعالی کا راستہ بتاؤ گے۔

میاں احمد کھوکھر سے منقول ہے کہ خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسویؒ کے استاد حاجی صاحب نے ایک کتاب لانے کے لیے آپ کو قصبہ سوکڑ بھیجا۔ جب آپ تونسہ شریف واپس آرہے تھے تو راستہ میں خواجہ نور محمد مہارویؒ کے خلیفہ مولانا نور محمد نارو والاؒ سے ملاقات ہوئی جو تونسہ شریف آرہے تھے۔ جب حضرت نارو والاؒ کی نظر نوعمر خواجہ سلیمان پر پڑی تو وہ گھوڑے سے اتر آئے اور آپ سے معانقہ کیا۔ حالانکہ اس سے قبل ملاقات نہ ہوئی تھی اور کوئی جان پہچان بھی نہ تھی۔ اس کے بعد  نارو والاؒ نے آپ کو بصد اصرار اپنے گھوڑے پر سوار کردیا  اور خود ضعیفی اور پیرانہ سالی کے باوجود پیادہ چلنے لگے۔

حضرت نارو والاؒ کے مریدوں نے اسے ناگوار محسوس کیا۔ جب نارو والاؒ کو اس کا علم ہوا تو فرمایا: ’’تمہیں اس نوجوان روہیلہ کے درجہ وشان سے واقفیت نہیں ہے کہ ملائکہ آسمانی اس کو سجدہ کرتے ہیں، اس کی پیشانی پر نور نازل کرتے ہیں اور اس کے گھوڑے کی باگ پکڑنے کے آرزو مند ہیں۔ پس وہ پیادہ چلے اور میں سوار، یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ یہ وہ شخص ہے کہ کچھ دنوں بعد تمام جہان اس کے فیض کے نور سے منور ہوگا۔‘‘

قطب الاقطاب حضرت موسیٰ تونسویؒ فرماتے ہیں کہ سید الانبیائ، آقائے دوعالم محمد مصطفیﷺنے خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ کے مرشد خواجہ عثمان ہارونیؒ (۶۱۷ھ۔۱۲۲۱ئ) کو اپنی زیارت سے مشرف فرمایا اور انہیں دو وصیتیں فرمائیں۔ ان میں سے ایک وصیت حضرت خواجہ نصیر الدین چراغ دھلویؒ سے متعلق تھی اور دوسری وصیت حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسویؒ کے بارے میں آئی کہ مغرب کے پہاڑوں میں سے (سلیمان نامی) ایسا شہباز عشق فلاں فلاں نشانیوں کے ساتھ ظاہر ہوگا۔ ان کو اپنے  جال میں لائیں اور شکار کریں یعنی اسے داخل بیعت کرکے راہ سلوک کی منزلیں طے کرا کے فیض یاب کریں اور رشد وہدایت کی راہ پر گامزن کریں۔

یہ وصیت سینہ بہ سینہ خواجگان چشتیہ میں منتقل ہوتی رہی اور حضرت خواجہ فخرالدین دہلویؒ تک پہنچی۔ انہوں نے اپنے خلیفہ حضرت خواجہ  نور محمد مہارویؒ کو وصیت فرمائی: ’’مغرب کے پہاڑوں سے ایک شہباز عشق آئے گا اسے جس طرح بھی ہوسکے اپنے دام میں لے آنا، وہ ہماری اور تمہاری نعمت کا وارث ہوگا اور اپنے زمانے میں مملکت ولایت کا سلیمان ہوگا۔‘‘

تمام تذکرہ نویسوں نے یہ روایت لکھی ہے کہ حضرت مولانا خواجہ فخر الدین دہلویؒ نے ا پنے خلیفہ اعظم حضرت خواجہ نور محمد مہارویؒ کو چند علامات بھی بتلا دی تھیں۔ چنانچہ حضرت قبلہ عالم مہارویؒ اس شہباز کی تلاش میں ہر سال اوچ شریف اور کوٹ مٹھن وغیرہ کی طرف سفر فرمایا کرتے تھے۔ البتہ یہ راز کسی کو نہیں بتاتے تھے۔ صرف مولوی محمد حسین چنڑؒ، جو حضرت قبلہ عالم  کے یاران مجاز میں سے تھے۔ اس راز کے محرم تھے۔ مخزنِ چشت میں لکھا ہے کہ مہارویؒ نے اپنے خلفاء نور محمد نارو والؒا (راجن پور) اور حافظ محمد جمال ملتانیؒ کو حکم دیا کہ ہر سال سنگھڑ (تونسہ شریف) کا چکر لگائیں اور جس شخص میں مطلوبہ علامات پائی جائیں، اسے یہاں لے آئیں۔ ادھر خواجہ سلیمان تونسویؒ کا یہ حال تھا کہ افغانی خون آپ کی رگوں میں ابل رہا تھا۔ جوش جوانی کے ساتھ دینی غیرت اور ایمانی جرأت کا یہ حال تھا کہ جہاں کہیں کوئی خلاف شریعت کام دیکھتے افضل امر معروف یعنی بزور طاقت اسے روکنے کے لیے چلے جاتے۔

اسی عرصہ میں ایک روز خواجہ نور محمد مہارویؒ نے ایک خواب دیکھا کہ مغرب سے ایک شہباز اڑتا ہوا آیا اور ان  کے دام میں پھنس گیا ہے۔ اس خواب کے بعد آپ اوچ شریف تشریف فرماہوئے۔ اس زمانہ میں سیدنا خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسویؒ کوٹ مٹھن میں قاضی محمد عاقلؒ اور ان کے صاحبزادے قاضی احمد علیؒ  کے  قائم کردہ دارالعلوم میں صرف ونحو، منطق وفلسفہ کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ خواجہ نور محمد مہارویؒ کی آمد کی خبر ملی تو قاضی محمد عاقل اور سب طلباء وفقراء ان کی زیارت کے لیے اوچ روانہ ہوئے۔ ادھر خواجہ سلیمان تونسویؒ نے سن رکھا تھا کہ قبلہ عالم خواجہ نور محمد مہارویؒ سماع سنتے ہیں اور ان کے بعض مرید ین وجد کی حالت میں رقص کرتے ہیں، خواجہ سلیمان تونسویؒ کو یہ بات نا پسند تھی (انہیں یہ گمان گزرا کہ شاید سماع مزامیر (آلات موسیقی) کے ساتھ ہوتا ہے۔ جبکہ خواجہ نور محمد مہارویؒ جملہ شرائط وآداب مشائخ کے ساتھ مجلس سماع سنتے تھے) خواجہ سلیمان تونسویؒ  نے یہ  موقع غنیمت جانا اور امر معروف کے ارادے سے اوچ روانہ ہوگئے مگر قدرتِ الٰہی اپنا فیصلہ کچھ اور رقم کرچکی تھی۔

حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسویؒ ۱۵برس کی عمر میں بیعت ہوئے۔ حضرت نور محمد مہارویؒ نے آپ کو جلال الدین بخاریؒ کے مزار پر سلسلۂ چشت میں داخل کیا۔

مرشد کی ہدایت پر عبادات وریاضت کے کڑے مراحل طے کئے۔ وصال سے قبل قبلہ عالم نے آپ کو اپنی خلافت کے مرتبے سے سرفراز کیا۔

 

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor