Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

عزیز العقائد (قسط۱۴)

عزیز العقائد (قسط۱۴)

تحریر:حضرت مولانا صاحبزادہ ابو الفیص محمد امیرؒ

تسہیل از:مولانا مفتی محمد اشرف بالاکوٹی

(شمارہ 675)

جنگ وقتال کے جھنڈے چڑھاتے ، کپڑوں کو خون میں رنگتے اور ان پر نوحہ کرتے ہیں۔ اسی طرح دیگر خرافات ہوتی ہیں جیسا کہ ہر وہ شخص آگاہ ہے جس نے ہمارے ملک میں ان کی حالت دیکھی ہے۔ مولانا کی اردو عبارت کی اصل عربی یہ ہے:

قیام کی یہ وجہ بیان کرنا کہ روح شریف عالم ارواح سے عالم شہادت کی جانب تشریف لاتی ہے۔ پس حاضرین مجلس اس کی تعظیم کو کھڑے ہوجاتے ہیں۔ پس یہ بھی بیوقوفی ہے کیونکہ یہ وجہ نفس ولادت شریفہ بار بار ہوتی نہیں پس ولادت شریفہ کا اعادہ یا ہندوؤں کے فعل کے مثل ہے کہ وہ اپنے معبود کنھیا کی اصل ولادت کی پوری نقل اتارتے ہیں یا رافضیوں کی مشابہ ہے کہ ہر سال شہادت اہل بیت کی قولا وفعلا تصویر کھینچتے ہیں، پس معاذ اللہ بدعتیوں کا یہ فعل واقعی ولادت شریف کی نقل بن گیا اور یہ حرکت بے شک وشبہ ملامت کے قابل اور حرمت وفسق ہے بلکہ ان کا یہ فعل ان کے فعل سے بھی بڑھ گیا کہ وہ تو سال بھر میں تو ایک ہی بار نقل اتارتے ہیں اور یہ لوگ اس فرضی خرافات کو جب چاہتے ہیں کر گزرتے ہیں  اور شریعت میں اس کی کوئی نظیر موجود نہیں کسی امر کو فرض کر کے اس کے ساتھ حقیقت کا سا برتاؤ کیا جائے بلکہ ایسا فعل شرعا حرام ہے۔ (الخ)

پس اے صاحبان عقول! غور فرمائیے ! شیخ قدس سرہُ نے تو ہندو جاہلوں کے اس جھوٹے عقیدے پر انکار فرمایا ہے کہ جو ایسے واہیات فاسد خیالات کی بناء پر قائم کرتے ہیں اس میں کہیں بھی مجلس ذکر ولادت شریفہ کو ہندو یا رافضیوں کے فعل سے تشبیہ نہیں دی گئی۔ حاشا کہ ہمارے بزرگ ایسی بات کہیں، ولیکن ظالم لوگ اہل حق پر افتراء کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کا انکار کرتے ہیں۔

تیسواں سوال:

کیا علامہ زماں مولوی رشید احمد گنگوہی نے کہا ہے کہ حق تعالیٰ نعوذ باللہ جھوٹ بولتا ہے اور ایسا کہنے والا گمراہ نہیں ہے، یا یہ ان پر بہتان ہے؟ اگر بہتان ہے تو بریلوی کی اس بات کا کیا جواب ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میرے پاس مولانا مرحوم کے فتوے کا فوٹو ہے جس میں یہ لکھا ہوا ہے۔

جواب: علامہ زماں یکتائے دوراں شیخ اجل مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی کی طرف سے مبتدعین نے جو یہ منسوب کیا ہے کہ آپ نعوذ باللہ حق تعالیٰ کے جھوٹ بولنے اور ایسا کہنے والے کو گمراہ نہ کہنے کے قائل تھے۔ یہ بالکل آپ پر جھوٹ بولاگیا اور منجملہ انہیں جھوٹے بہتانوں کے ہے جن کی بندش جھوٹے دجالوں نے کی ہے پس خدا ان کو ہلاک کرے، جہاں جاتے ہیں جناب مولانا اس زندقہ والحاد سے بری ہیں اور ان کی تکذیب خود مولانا کا فتویٰ کررہا ہے جو جلد اول فتاویٰ رشیدیہ کے صفحہ نمبر ۱۱۹ پرطبع ہوکر شائع ہوچکا ہے۔ تحریر اس کی عربی میں ہے، جس پر تصحیح مشاہیر علماء مکہ مکرمہ نے ثبت کی ہیں۔

سوال کی صورت یہ ہے:

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

آپ کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ اللہ تعالیٰ صفت کذب کے ساتھ متصف ہوسکتا ہے یا نہیں اور جو یہ عقیدہ رکھے کہ خدا جھوٹ بولتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟ فتویٰ دو، اجر ملے گا۔

جواب: بے شک اللہ تعالیٰ اس سے منزہ ہے کہ کذب کے ساتھ متصف ہو۔ اس کے کلام میں ہرگزکذب کاشائبہ بھی نہیں جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے ’’اور اللہ سے زیادہ سچا کون‘‘ اور جو شخص یہ عقیدہ رکھے یا زبان سے نکالے کہ اللہ تعالیٰ جھوٹ بولتا ہے وہ کافر، قطعی ملعون اور کتاب وسنت واجماع امت کا مخالف ہے۔ ہاں اہل ایمان کا یہ عقیدہ ضرور ہے کہ حق تعالیٰ نے قرآن میں فرعون وہامان وابولہب کے متعلق جو یہ فرما ہے کہ وہ دوزخی ہیں تو یہ حکم قطعی ہے اس کے خلاف کبھی نہ کرے گا لیکن اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں داخل کرنے پر قادر ضرور ہے عاجز نہیں۔ ہاں البتہ اپنے اختیار سے ایسا کرے گا نہیں۔ وہ فرماتا ہے:

’’اگر ہم چاہتے تو ہر نفس کو ہدایت دے دیتے لیکن میرا قول ثابت ہوچکا کہ دوزخ ضرور بھروں گا، جن وانس دونوں سے‘‘

پس اس آیت سے ظاہر ہوگیا کہ اگر اللہ چاہتا تو سب کو مومن بنادیتا لیکن وہ اپنے قول کے خلاف نہیں کرتا اور یہ سب باختیار ہے مجبوری نہیں کیونکہ وہ فاعل مختار ہے، جو چاہے کرے۔ یہی عقیدہ تمام علماء امت کا ہے جیسا کہ بیضاوی نے قول باری تعالیٰ ’’وان تغفرلھم‘‘ کی تفسیر کے تحت میں کیا ہے کہ مشرک کا نہ بخشنا وعید کا مقتضیٰ ہے پس اس میں لذاتہ امتناع نہیں ہے‘‘

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ احقر رشیداحمد گنگوہی عفی عنہ

مکہ مکرمہ زاد اللہ شرفہا کے علماء کی تصحیح کا خلاصہ یہ ہے:

’’حمد اسی کو زیبا ہے جو اس کا مستحق ہے اور اسی کو زیبا ہے جو اس کا مستحق ہے اور اسی کی کی اعانت وتوفیق درکار ہے۔

علامہ رشید احمد کا جواب مذکورہ حق ہے جس سے مفر نہیں ہوسکتا۔

وصلی اللہ علیٰ خاتم النبین علی آلہ وصحبہ وسلم

لکھنے کا امر فرمایا خادم شریعت امیدوار لطف خفی محمد صالح خلف صدیق کمال مرحوم حنفی مفتی مکہ کان اللہ لھما نے لکھا۔ امیدوار کمال نیل محمد سعید بن بصیل نے،حق تعالیٰ ان کو اور ان کے مشائخ کو اور جملہ مسلمانوں کو بخش دے۔

امیدوار عفو واہب العطیہ محمد عابد بن شیخ حسین مرحوم مفتی مالکیہ

درود وسلام کے بعد، جو کچھ علامہ رشید احمد نے جواب دیا ہے،کافی ہے اور اس پر اعتماد ہے بلکہ یہی حق ہے جس پر مفر نہیں۔

لکھا حقیر خلف بن ابراہیم حنبلی خادم افتاء مکہ مشرف نے۔

اور یہ جو بریلوی کہتا ہے کہ اس کے پاس  مولانا کے فتویٰ کا فوٹو ہے جس  میں ایسالکھا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ مولانا قدس سرہُ پر بہتان باندھنے کو یہ جعل سازی ہے جس کو گھڑ کر اپنے پاس رکھ لیا ہے اور ایسے جھوٹ اور جعل سازی آسان ہیں کیونکہ اس میں وہ استادوں کا استاد ہے اور زمانہ کے لوگ اس کے چیلے کیونکہ تحریف وتلبیس ودجل ومکر کی اس کو عادت ہے۔ اکثر مہریں بنالیتا ہے، مسیح قادیانی سے کچھ کم نہیں، اس لیے کہ وہ رسالت کا کھلم کھلا مدعی تھا اور یہ مجددیت کو چھائے ہوئے ہے۔ علمائے امت کو کافر کہتا رہتاہے، جس طرح محمد بن عبدالوہاب کے وہابی چیلے امت کی تکفیر کیا کرتے تھے خدا اس کوبھی انہیں کی طرح رسوا کرے۔

چوبیسواںسوال:

کیا تمہارا یہ عقیدہ ہے کہ حق تعالیٰ کے  کسی کلام میں وقوع کذب ممکن ہے؟ یا کیا بات ہے؟

جواب: ہم اور ہمارے مشائخ اس کا یقین رکھتے ہیں کہ جوکلام بھی حق تعالیٰ سے صادر ہوا یا آئندہ ہوگا وہ یقیناً سچا اور بلاشبہ واقع کے مطابق ہے اس کے کسی کلام میں کذب کا شائبہ اور خلاف کا واہمہ بھی بالکل نہیں اور جو اس کے خلاف عقیدہ رکھے یا اس کے کسی کلام میں کذب کا وہم رکھے وہ کافر، ملحد، زندیق ہے۔ اس میں ایمان کا شائبہ بھی نہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor