Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

وصیت اور میراث کے احکام۔۸

وصیت اور میراث کے احکام۔۸

مولانا عاشق الٰہی بلند شہری رحمہ اللہ

انتخاب: شفیق الرحمن

(شمارہ 675)

عصبات کا بیان

عصبات وہ وارث ہوتے ہیں جو اصحاب الفرائض کے حصے دینے کے بعد بقیہ مال لیتے ہیں اور اگر اصحاب الفرائض نہ ہوں تو پورے مال کے یہی وارث ہوتے ہیں۔

عصبات کی ترتیب اس طرح ہے۔

پہلا درجہ میت کی اولاد کا ہے، اگر بیٹی بیٹا دونوں ہوں تو’’ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ‘‘۔ کے اصول پر اصحاب الفرائض کو دے کر باقی مال ان کو مل جائے گا اور اگر کوئی صاحب فرض نہ ہو تو پورے مال کو اُصول کے مطابق یہی سب مال لے لیں گے۔

میت کی اولاد نہ ہوں تو دوسرے درجے میں اولاد کی اولاد عصبہ ہے۔

وہ بھی نہ ہوں تو باپ، دادا، اور وہ بھی نہ ہوں تو مرنے والے کے بھائی، پھر ان کے بیٹے اور وہ بھی نہ ہوں تو میت کے چچا اور وہ بھی نہ ہوں تو چچا کی اولاد عصبہ ہوتی ہے اور وہ بھی نہ ہوں تو میت کے باپ کا چچا عصبہ ہوگا(ایک ہو یا زیادہ ہوں)۔

بھائیوں میں میت کے سگے بھائیوں کا درجہ باپ شریک بھائیوں سے مقدم ہوگا، اسی طرح میت کے چچاؤں میں باپ کے حقیقی بھائیوں کا درجہ اس کے باپ شریک بھائیوں سے مقدم ہوگا… بیٹوں، پوتوں، حقیقی بھائیوں اور باپ شریک بھائیوں کے ساتھ اگر ان کی بہنیں ہوں تو وہ بھی’’ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ۔‘‘کے اُصول پر وارث ہوں گے۔

ان چار کے علاوہ باقی عصبات میںصرف مرد وارث ہوتے ہیں، اگر ان کے ساتھ ان کی بہنیں ہوں تو وارث نہ ہوں گی۔

اگر بیٹیوں کے ساتھ حقیقی یا باپ شریک بہنیں ہوں تو بیٹیوں کو حصہ دے کر باقی مال بہنوں کو ملے گا۔

ذوی الارحام کا بیان

اگر عصبات نہ ہوں تو ذوی الارحام کو مرنے والے کی میراث پہنچتی ہے۔

 جن کی تفصیل یہ ہے:

(۱)… بیٹیوں کی اولاد اور پوتے کی بیٹیوں کی اولاد۔

(۲)… نانا اور نانا کی ماں۔

(۳)…بھائیوں کی بیٹیاں اور بہنوں کے بیٹے اور بیٹیاں، سگے بہن بھائی ہوں یا باپ شریک اور ماں شریک بھائیوں اور بہنوں کی اولاد۔

(۴)… پھوپھیاں اور باپ کے ماں شریک بھائی اور ماموں اور خالائیں۔

یہاں تک ہم نے اجمالی طور پر حصہ پانے والوں کا تذکرہ کردیا ہے تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ حصہ پانے والے ترتیب وار کون کون ہیں؟۔

بعض مرتبہ یہ ہوتا ہے کہ میت کا مال جس کسی کے قبضے میں ہوتا ہے وہ یہ دیکھ کر کہ مرنے والے کی اولاد یا ماں باپ اور چچا یا کوئی قریبی رشتہ دار نہیں ہے تو اسے لا وارث سمجھ کر جس کے قبضے میںمال ہو وہ خود ہی دبا لیتا ہے۔

حالانکہ بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ جس کے پاس مال ہے خود اسے میراث میں کوئی حصہ پہنچتا ہی نہیں اور بعض مرتبہ اسے حصہ تو پہنچتا ہے لیکن پھر بھی پورے مال کو دبا لیتا ہے، میت کے دور اور قریب کے رشتہ داروں کو تلاش نہیں کرتا اور یہ بھی ہوتا ہے کہ میت کے اوپر قرض ہوتا ہے اور میت نے مال چھوڑا ہے جس کے قبضے میں میت کا مال ہے اس پر لازم ہے کی میت کا قرضہ ادا کرے، قرض خواہ طلب کریں یا نہ کریں۔

اور اگر میت کے قرض دار ہونے کا علم نہ ہو یا قرض خواہوں کا علم نہ ہو تو میت کے جان پہنچان والوں میں معلوم کرے کہ کسی کا قرض تو نہیں ہے، جس جس کا قرض ثابت ہوجائے اس کا حق دیتا چلا جائے۔

مفید مسائل

(۱)… قاتل کو مقتول کی میراث نہ ملے گئی… (اگر کوئی بندا اپنے اسیے رشتہ دار کو قتل کردے جس کا وہ شرعاً واث بنتا ہے تو اب اس قتل کی وجہ سے قاتل مقتول کی جائیداد سے محروم ہوجائے گا)۔

قتل سے مراد وہ قتل ہے جس کی وجہ سے فی نفسہ قصاص یا کفارہ واجب ہو اگرچہ کسی مانع کی وجہ سے قصاص وکفارہ ساقط ہوگیا ہو، جیسے اگر باپ نے بیٹے کو قتل کردیا تو باپ وارث نہ ہوگا… اگرچہ اس پر قصاص وکفارہ بھی نہیں… لہٰذا اگر بالغ وارث نے اپنے مورث کو طلماً مار ڈالا تو یہ وارث میراث سے بالکل محروم رہے گا۔

فائدہ: جس قتل میں قصاص یا کفارہ آتا ہے اس کی تین قسمیں ہیں۔

قتل عمد:یہ ہے کہ ایسی چیز سے قصداً  قتل کرے جو جارح ہونے کی وجہ سے اجزاء میں تفریق پیدا کرتی ہو مثلاً تلوار، چھرا، بانس کی تیز کھپانچ اور آگ وغیرہ اس قتل کا موجب قصاص، گناہ اور میراث سے محرومی ہے۔

شبہ عمد: یہ ہے کہ ایسی چیز سے قصداً قتل کرے جو جارح نہ ہو خواہ کسی بڑی موٹی بھاری زور دار چیزسے مارا ہو جس کے مارنے سے عموماً آدمی مر جاتے ہیں جیسے موٹا لٹھ، بڑا پتھر وغیرہ یا کسی چھوٹی چیز کے مارنے سے مر جائے جس سے عموماً لوگ نہیں مرتے مثلاً پتلی چھڑی، چھوٹا پتھر وغیرہ… اس کا موجب دیت،کفارہ اور میراث سے محرومی ہے۔

قتل خطاء: یہ ہے کہ سہواً قتل ہو جائے یعنی غلطی سے مارا جائے مثلاً ہرن کو گولی یا تیر مار رہا تھا نشانہ خطا کر گیا اور مورث پر لگا … یا بندوق درست کر رہا تھا بلا قصداً چل گئی اور مورث کو لگ گئی یا کوئی چاقو یا بڑی چیز اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر مورث پر جا پڑی وہ اس کے صدمے سے مرگیا… اس کا موجب دیت، کفارہ اور میراث سے محرومی ہے۔

 اگر نا بالغ یا مجنون نے اپنے مورث کو قتل کردیا تو میراث سے محروم نہ ہوگا کیو نکہ نا بالغ و مجنون کے اکثر افعال شرعاً مستو جب سزا وجزا نہیں ہیں۔

اسی طرح اگر ظلماً نہیں مارا بلکہ مورث ناحق اس پر حملہ کررہا تھا اس نے اپنے کو بچانے کے لیے اس پر وار کیا اور وہ مورث مرگیا تو یہ وارث میراث سے محروم نہ ہوگا یا مورت پر سزا میںکسی درجہ سے شرعاً قتل واجب ہو اور باد شاہ یا قاضی کے حکم سے وارث نے قتل کردیا تو بھی میراث سے محروم نہ ہوگا کیونکہ ان سب صورتوں میں قتل ظلماً نہیں ہے۔

(۲)… مسلمان کافر کا و ارث نہیں ہو سکتا اور کافر مسلمان کا و ارث نہیں ہو سکتا۔

اگر وارث مسلمان ہے اور مورث کافر ہے خواہ ہندو ہو یا عیسائی، یہودی، یا آتش پرست ہو تو اس کی میراث مسلمان کو نہیں ملے گی بلکہ اگر اس کے کافر وارث موجود ہوں تو ان کو دے دی جائے گی اور اگر کوئی بھی نہ ہو بیت المال میںجمع کی جائے گی اور اگر مورث مسلمان ہے اور وارث کافر ہے تو اس کو بھی مورث کی میراث نہ ملے گی بلکہ جو واث مسلمان ہیں ان کو دی جائے گی۔

(آسان میراث)

کیونکہ آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

’’قَالَ النَّبِیُّ ﷺ لَایَرِثُ الْمُسْلِمُ الْکَافِرَ وَلَا الْکَافِرُ الْمُسْلِمَ۔‘‘ 

(رواہ البخاری)

میراث کے مال میں غیرشرعی تصرفات

(۱)… عموماً میراث تقسیم کرتے ہی نہیں، اسے مل جل کر کھاتے پیتے ہیں، وارثوں میں یتیم بچے بھی ہوتے ہیں… ان کا مال کھا پی کر دوسرے لوگ برابر کر دیتے ہیں… ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ اپنے پیٹوں میں دورخ کی آگ بھرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

ِانَّ الَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰی ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْکُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِھِمْ نَارًاط وَسَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۔

(النساء)

ترجمہ: بے شک جو لوگ ظلم کے طریقوں پر یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں، بات یہی ہے کہ وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں اور عَن قریب دہکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔

(۲)… مرنے والوں کی بیویوں، بیٹیوں کو عموماً میراث نہیں دیتے یہ بہت بڑا ظلم ہے۔

(۳)… کفن میں غیرشرعی اخراجات کرتے ہیں، چار پائی کے اوپر کی چادر کفن کے ساتھ خریدی جاتی ہے، قبر میں اُتارنے کے لیے علیحدہ ایک چادر خریدی جاتی ہے، پھر یہ چادریں قبر ستان والوں کو یا رَسم کے مطابق جس کو چاہتے ہیں دے دیتے ہیں، یہ چیزیں کفن کی ضرورت میں شامل نہیں ہیں، میراث کے مشترک مال سے ان کو خریدنا خصوصاً جب کہ غائب وارث اور یتیم بچے بھی ہوتے ہیں، جائز نہیں ہے… جو لوگ یہ کپڑے لے لیتے ہیں ان کے لیے یہ کپڑے لے لینا حرام ہے کیونکہ یہ میراث کا مالِِ مشترک ہے جو تقسیم سے پہلے دیا گیا ہے۔

(۴)… بعض کپڑے لوگوں نے کفن کے ساتھ ضروری سمجھ رکھے ہیں، حالانکہ وہ کفن مسنون سے خارج ہیں، ان کو کپڑوں کو میت کے مال سے خریدا جاتا ہے یہ خریدنا جائز نہیں…غیر شرعی تصرفات میں سے کچھ کا تذکرہ ہم کر دیتے ہیں تاکہ ان سے بچا آسان ہو جائے۔

بعض لوگوں کا یہ عقیدہ اور گمان بن چکا ہے کہ جب جنازے کے نماز پڑھانے کے لیے امام کھڑا ہو اسے کے لیے جائے نماز میت کے مال سے لی جائے… اس میں بھی کچھ شرائط کے تحت لینے کو کہتے ہیں، مثلاً

(۱)… جائے نماز طول سوا گز اور عرض ۱۴ گز ہو۔

(۲)… پٹکا (عمامہ) طول ڈیرھ گز، عرض چودہ گز(یہ مردے کو قبر میں اتارنے کے لیے ہوتا ہے)۔

(۳)… بچھونا ارھائی گز، عرض سوا گز(یہ چار پائی پر بچھانے کے لیے ہوتا ہے)۔

(۴)… دامنی طول دو گز، عرض سوا(بقدر استطاعت چار گز سے سات گز تک) یہ یہ محتاجوں کو دیتے ہیں۔

(۵) چادر کلاں طول تین گز، عرض پونے دو گز، جو چار پائی کو ڈھانک لیتی ہے، گو پردے کے اہتمام کی وجہ سے عورت کے جنازے پر چادر ڈالنا ضروری ہے مگر کفن کا جزو نہیں ہے اور کا ہم رنگ کفن ہونا ضروری نہیں ہے(پردے کے لیے کوئی بھی کپڑا ہو کافی ہے)۔

(۵)… اگر جائے نماز وغیرہ کی ضرورت بھی خیال میں آئے تو گھر کے کپڑے کارآمد ہوسکتے ہیں یا کوئی عزیز اپنے مال سے خرید دے پھر واپس لے لے، یہ طریقہ آسان اور عمدہ ہے اس میں میت کے مال کو بغیر اجازت کے استعمال کرنا لازم نہیں آئے گا۔

(۶)… یہ جو دستور ہے کہ مردے کے استعمال کے کپڑے یا برتن وغیرہ خیرات کردیے جاتے ہیں، یہ بغیر اجازت وارثوں کے ہرگز جائز نہیں اور اگر وارثوں میں کوئی نا بالغ ہو تب تو اجازت دینے پر بھی ایسا کرنا جائز نہ ہوگا۔

اس بارے میں شریعت کا حکم یہ ہے کہ پہلے میت کے مال کو شرعی طریقے پر تقسیم کیا جائے… پھر ورثا اپنے اپنے حصے میں جس قدر چاہیں شریعت کے مطابق ایصال ثواب کرکے اپنے عزیز کو راحت پہنچائیں

(۷)… بعض علاقوں میں میت کو دفن کرنے کے بعد اسی میراث کے مشترک مال سے قبر پر روٹیاں یا کوئی اور چیز تقسیم کی جاتی ہے… بعض جگہ دفن کے بعد فقیروں یا نماز جنازے میں شریک ہونے والوں کو گھر پر بلا کر کھانا کھلایا جاتا ہے… یہ سب کام اسی مشترک مال سے کیے جاتے ہے… یہ بدعت بھی ہے اور اس بدعت کو پورا کرنے پر مال خرچ کا وبال بھی ہے… کھانے والوں کو بھی ہوش نہیں ہوتا کہ ہم کیا کھارہے ہیں… ایسا کھانا ہمارے لیے کیسا ہے؟۔

(۸)… پھر اسی مشترک مال سے تیجا، دسواں، چالیسواں کیا جاتا ہے… سال گزرنے کے بعد پھر برسی کی جاتی ہے … ان کا بدعت ہونا سب کو معلوم ہے لیکن میراث کے مشترک مال میں سے خرچ کرنا مستقل گناہ ہے۔

(۹)… بہت سے لوگوں کو قرآن پڑھنے کے لیے ایصالِ ثواب کے لیے گھر بلایا جاتا ہے، یا بعض لوگوں کو مقرر کیا جاتا ہے کہ قبر پر چالیس دن تک قرآن پڑھتے رہو اور انہیں کھانا پینا اسی مال سے اُجرت کے طور پر دیا جاتا ہے، اس میں اول تو مال مشترک میںسے خرچ کرتے ہیں، دوسرے ایصالِ ثواث کے دھوکے میں رہتے ہیں، جو شخص دنیاوی لالچ کے لیے قرآن مجید پڑھے اسے خود ہی ثواب نہیں ملتا دوسروں کو کیا ثواب بخشے گا۔

(۱۰)… بہت علاقوں میں حلیۂ اسقاط کا رواج ہے، میراث کے اسی مال مشترک سے لے کر بیس تیس سیر غلہ اور کچھ رقم اور قرآن پاک لے کر میت کے چاروں طرف گھما کر گھمانے والے آپس میں بانٹ لیتے ہیں اور ان کا بڑا یا سردار اولیائے میت پر ایک مشت مخصوص رقم واجب کر دیتا ہے وہ بالکل دُکان داری کے طور پر گھٹاتا ہے اور واجب کرنے والا پڑھاتا ہے اور جس مقدار پر اتفاق ہوجاتا ہے اس کو واجب کرنے والے آپس میں بانٹ لیتے ہیں، یہ سب کچھ اسی مشترک مال میں سے ہوتا ہے جس میں نا بالغوں اور غائبوں اور بیواؤں کا بھی حصہ ہوتا ہے… آپ میں تقسیم کرنے والے اور اس مال کے کھانے والے بظاہر اہل علم اور دیکھنے میں صالحین ہوتے ہیں، یہ لوگ اپنی ظاہری دنیاوی آمدنی کو دیکھتے  ہیں یہ نہیں سوچتے کہ آخرت میں اس کا کیا وبال ہوگا؟۔

حلیۂ اسقاط کے لیے جو لوگ غلہ اور رقم لے کر بیٹھتے ہے اور میت کے چاروں طرف گھماتے ہیں اور یہ تصور کرتے ہیں کہ دس پانچ سیر مال کا سو من بن گیا، کیونکہ آپ میں ہر شخص ایک دوسرے کو بار بار دس پانچ سیر غلہ دیتا چلا گیا، یہ سراپا دھوکہ ہے… ہر ایک شخص جو دوسرے کی طرف منتقل کرتا ہے یہ حقیقی طور پر دینا نہیں ہوتا، کیونکہ اگر کوئی شخص مال لے کر چلا جائے تو اسے جانے نہیں دیتے۔

ایک جگہ ایسا ہی ہوا کہ لوگ حلقے میںبیٹھے ہوئے غلہ اور پیسے کی پوٹلی گھما رہے تھے اور ایک دوسرے کو دے رہے تھے، ان میں سے ایک شخص پوٹلی لے کر بھاگ گیا، لوگ اس کے پیچھے دوڑے اور اسے پکڑ لیا، اس نے کہا کہ یہ مال واپس لے لو، میں اپنا قبضہ رکھنے کے لیے اسے لے کر نہیں بھاگا، میں نے تم سب کو دکھانے اور بتانے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا، اگر تم نے واقعی دے دیا ہے تو زبر دستی واپس کیوں لیتے ہو؟۔

اسے معلوم ہوا کہ آپس میں ایک دوسرے کو دینا بالکل ہیرا پھیری ہے اور فریب ہے… اپنے اس عمل سے اولیائے میت کو یہ تبانا کہ دس پانچ سیر غلہ دینے دے سو من غلے کا میت کو ثواب مل گیا اور اس کے نماز اور روزوں کا کفارہ ہوگا، یہ سب فریب… اس میں مرنے والے کو بھی فریب دینا ہے، وہ زندگی بھر حیلۂ اسقاط دیکھتا ہے، نماز روزے میں قصداً کوتاہی کرتا ہے، فرض نمازیں چھوڑتا ہے، روزے کھاتا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ نمازوں کی پابندی کرنے اور روزے رکھنے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ موت آتے ہی میرے وارثین حیلۂ اسقاط کے ذریعے سارے چھوڑے ہوئے روزوں اور نمازوں کا کفارہ کر ہی دیں گے۔

 جب تھوڑا سا مال خرچ کرنے سے زندگی بھر کی نمازوں اور روزوں کی پاندی کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟۔

 افسوس !…در افسوس! …

اس عالم نما جماعت پر جو حیلۂ اسقاط کا کارو بار کرتی پھرتی ہے، اسے نہ حلال وحرام کا خیال ہے نہ بدعتوں سے بچنے کا دھیان اور نہ مرنے والے کی خیر خواہی پیش نظر…بس ان کا اپنا من چنگا ہو جائے میت کا کچھ بھی بنے اور عوام میں جو بھی کچھ بد عقیدگی پھیلے… فالی اللّٰہ المشتکی وھوالمستعان۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor