عزیز العقائد (قسط۱۵)

عزیز العقائد (قسط۱۵)

تحریر:حضرت مولانا صاحبزادہ ابو الفیص محمد امیرؒ

تسہیل از:مولانا مفتی محمد اشرف بالاکوٹی

(شمارہ 676)

پچیسواں سوال:

کیا تم نے اپنی کسی تصنیف میں اشاعرہ کی طرف امکان کذب منسوب کیا ہے اور اگر کیا ہے تو اس سے مراد کیا ہے؟ اور اس مذہب پر تمہارے پاس معتبر علماء کی کیا کوئی سند ہے؟ واقعی امر ہمیں بتلاؤ!

جواب:

اصل بات یہ ہے کہ ہمارے اور ہندی منطقیوں و بدعتیوں کے درمیان اس مسئلہ میں نزاع ہوا کہ حق تعالیٰ نے جو وعدہ فرمایا خبردی، یاارادہ کیا، اس کے خلاف پر اس کو قدرت ہے یا نہیں؟ وہ تو یوں کہتے ہیں کہ ان باتوں کا خلاف اس کی قدرت کریمہ سے خارج اور عقلاً محال ہے۔ ان کا مقدور خدا ہونا ممکن ہی نہیں اور حق تعالیٰ پر واجب ہے کہ وعدہ اور خبر اور ارادہ اور علم کے مطابق کرے اور ہم یوں کہتے ہیں کہ ان جیسے افعال یقیناً قدرت میں داخل ہیں البتہ اہل سنت والجماعت اشاعرہ وماتریدیہ سب کے  نزدیک ان کا وقوع جائز نہیں۔ ماتریدیہ کے نزدیک نہ شرعا جائز نہ عقلا اور اشاعرہ کے نزدیک صرف شرعا جائز نہیں۔ پس بدعتیوں نے ہم پر اعتراض کیا کہ ان امور کا تحت قدرت ہونا اگر جائز ہو تو کذب کا امکان لازم آتا ہے اور وہ یقینی تحت قدرت نہیں اور ذاتا محال ہے تو ان کو علماء کرام کے ذکر کیے ہوئے چند جواب دئیے جن میں یہ بھی تھا کہ اگر وعدہ خبر وغیرہ کا خلاف تحت قدرت ماننے سے امکان کذب تسلیم بھی کر لیا جائے تو وہ بھی تو بالذات محال نہیں بلکہ سفہ اور ظلم کی طرح ذاتاً مقدور ہے اور عقلاً وشرعاً یا صرف شرعاً ممتنع ہے جیسا کہ بہتیرے علماء اس کی تصریح کرچکے ہیں۔ پس جب انہوں نے یہ جواب دیکھے تو ملک میں فساد پھیلانے کو ہماری جانب منسوب کیا کہ جناب باری عز اسمہ کی جانب نقص جائز سمجھتے ہیں اور عوام کو نفرت دلانے اور مخلوق میں شہرت پاکر اپنے مطلب پورا کرنے کو سفہاء وجہلاء میں اس لغویات کی خوب شہرت دی اور بہتان کی انتہاء یہاں تک پہنچی کہ اپنی طرف سے فعلیت کذب کا فوٹو وضع کرلیا اور خدائے ملک علام کا کچھ خوف نہ کیا اور جب اہل ہند ان کی مکاریوں پر مطلع ہوئے تو انہوں نے علمائے حرمین سے مدد چاہی کیونکہ جانتے تھے کہ وہ حضرات ان کی خباثت اور ہمارے علماء کے اقوال کی حقیقت سے  بے خبر ہیں۔ اس معاملہ میں ہماری ان کی مثال معتزلہ اور اہل سنت کی سی ہے کہ معتزلہ نے عاصی کو بجائے سزا کے ثواب اور مطیع کو سزا دینا قدرت کریمہ سے خارج اور ذات باری پر عدل واجب بتا کر اپنا نام اصحاب عدل وتنزیہ رکھا اور علماء اہل سنت والجماعت کی جور اور تعصب کی طرف نسبت کی اور علمائے اہل نسبت کی اور علماء اہل سنت والجماعت نے ان کی جہالتوں کی پرواہ نہیں کی اور ظلم مذکور میں حق تعالیٰ شانہ کی جانب عجز کا منسوب کرنا جائز نہیں سمجھا بلکہ قدرت کریمہ کو عام کہ ذات کا ملہ سے نقائص کا ازالہ اور جناب باری کے کمال تقدس وتنزیہ کو یوں کہہ کر ثابت کیا کہ نیکو کار کے لیے عذاب اور بدکار کے لیے ثواب کو تحت قدرت باری تعالیٰ ماننے سے نقص کا گمان کرنا محض فلسفہ شنیعہ کی حماقت ہے۔ اسی طرح ہم نے بھی ان کو جواب دیا کہ وعدہ خبر وصدق وعدہ کے خلاف کو صرف تحت قدرت ماننے سے حالانکہ صرف شرعا وعقلا دونوں طرح وقوع ممتنع ہے۔

نقص کا گمان کرنا تمہاری جہالت کا ثمرہ اور منطق وفلسفہ کی بلا ہے۔ پس بدعتیوں نے تنزیہ کے لیے حق تعالیٰ کے عام وکامل میں اس کا لحاظ نہ رکھا اور ہمارے سلف اہل سنت والجماعت نے دونوں امر ملحوظ رکھے۔ حق تعالیٰ شانہ کی قدرت عام رہی اور تنزیہ تام۔ یہ ہے وہ مختصر مضمون جس کو ہم نے  براہین میں بیان کیا ہے۔ اب اصل مذہب کے متعلق معتبر کتابوں کی بعض تصریحات میں سن لیجئیے!

(۱) شرح موافق میں مذکور ہے کہ تمام معتزلہ اور خوارج نے مرتکب کبیرہ کے عذاب کو جب کہ بلا توبہ مر جائے واجب کہا ہے اور جائز نہیں سمجھا کہ اللہ اسے معاف کرے اس کی دو وجہ بیان کی ہیں:

اول یہ کہ حق تعالیٰ نے کبیرہ گناہوں پر عذاب کی خبر دی اور وعید فرمائی ہے۔ پس اگر عذاب نہ دے اور معاف کردے تو وعید کے خلاف اور خبر میں کذب لازم آتاہے اور یہ محال ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ خبر وعید سے زیادہ سے زیادہ عذاب کا وقوع لازم آتا ہے نہ کہ وجوب  جس میں گفتگو ہے کیونکہ بغیر وجوب کے وقوع عذاب میں نہ خلف ہے نہ کذب۔کوئی یوں نہ کہے کہ اچھا خلف اور کذب کا جواز لازم آئے گا اور یہ بھی محال ہے کیونکہ ہم اس کا محال ہونا نہیں مانتے اور محال کیونکر ہوسکتا ہے جب کے خلف اور کذب ان ممکنات میں داخل ہیں جن کو قدرت باری تعالیٰ شامل ہے۔

(۲) اور شرح مقاصد میں علامہ تفتازانیؒ نے قدرت کی بحث کے آخر میں لکھا ہے کہ قدرت کے منکر چند گروہ بد ہیں۔

ایک نظام اور اس کے تابعین جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جہل اور کذب وظلم ونیز کسی فعل قبیح پر قادر نہیں کیونکہ ان افعال کا پیدا کرنا اگر اس کی قدرت میں داخل ہو تو ان کاحق تعالیٰ سے صدور  بھی جائز ہوگا اور صدور ناجائز ہے کیونکہ اگر باوجود علم قبیح کے بے پرواہی کے سبب صدور ہوگا تو سفہ لازم آئے گا اور علم نہ ہوگا تو جہل لازم آئے گا۔

جواب یہ ہے کہ حق تعالیٰ کی جانب نسبت کرکے کسی شئے کا قبیح ہم تسلیم نہیں کرتے ہیں، اس لیے کہ اپنے ملک میں تصرف کرنا قبیح نہیں ہوسکتا اور اگر مان بھی لیں کہ قبیح کی نسبت قبیح ہے تو قدرت حق امتناع صدور کے منافی نہیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ فی نفسہ تحت قدرت ہو مگر مانع کے موجود یا باعث صدور مفقود ہونے  کے سبب اس کا وقوع ممتنع ہو۔

٭…٭…٭