Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

جواہرِ جہاد (قسط۹۲)

جواہرِ جہاد (قسط۹۲)

از: امیر المجاہدین حضرت اقدس مولانا محمد مسعود ازہر صاحب دامت برکاتہم العالیہ

(شمارہ 676)

انگریز چاہتا تھا کہ مسلمانوںکے دل سے عزت و عظمت کے خواب نکال دے، ان کے دلوںسے جذبہ جہاد نچوڑ لے، ان کے دماغوں سے شوق شہادت کھرچ لے اور ان کے ارمانوںسے اسلام اور مسلمانوںکے تحفظ کا سودا مٹا دے بس اسی کام کے لئے مرزا قادیانی کو لایا گیا اور اس سے طرح طرح کے دعوے کرائے گئے زیادہ دعوے کرنے کا مقصد مسلمانوںکو ان علمی بحثوںمیںالجھانا تھا جن سے مسلمانوںکی اکثریت دین کا علم نہ ہونے کی وجہ سے نا واقف ہے۔ قادیانی گروپ کا اصل مقصد انگریزی اقتدار کا تحفظ اور مسلمانوںکو اس غلامی پر مطمئن رکھنا تھا اور یہ مقصد تبھی حاصل ہو سکتا تھا جب مرزا قادیانی جہاد کو مشکوک بنا دے اور ان عظیم شخصیات کو جن کے حوالے سے مسلمانوں کو جہاد یاد رہتا ہے بدنام کردے۔ چنانچہ مرزا ملعون نے جہاد کا برملا انکار کیا، مجاہدین کو خوب برا بھلا کہااور جہاد کے منسوخ اور ملتوی ہونے کا اعلان کیا۔ دوسری طرف اس نے مستقبل کی اہم جہادی شخصیتوںحضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی رضی اللہ عنہ کو خوب بدنام کیا اور اپنی نا پسندیدہ ذات پر ان کے مبارک ناموںکی تختیاںچپکا کر مسلمانوںکو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ حال تو درکنار مستقبل میںبھی جہاد کا خیال چھوڑ دو کیونکہ زمانے کا مہدی اور مسیح خود انگریز کی کاسہ لیسی کر رہا ہے اور ملکہ برطانیہ کی حکومت کو خدا کی دَین بتا رہا ہے ان تمام باتوں پر اگر باریکی سے غور کیا جائے تو مرزائیت کا خلاصہ انکار جہاد نکلے گا کیونکہ مرزا کی تمام باتوں، کوششوںاور سازشوںکا ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے کہ مسلمان جہاد چھوڑ دیں، جہاد کا خیال دل سے نکال دیں اور جہاد کے معنی بدل دیں پھر اسی نظرئیے کے ذیل میںمرزا اور اس کی پارٹی نے کوشش کی کہ کسی طرح لوگوںکی نظر میںحضور اکرم ﷺکا مقام (نعوذ باللہ)مرزا قادیانی سے کم کر کے دکھایا جائے حضور اکرمﷺ نے قیامت تک قتال فی سبیل اللہ (جہاد) کے جاری رہنے کا اعلان فرمایا ہے مسلمان، حضور اکرمﷺ سے سچی عقیدت و محبت رکھتے ہیں اس لئے انہیںاس اعلان پر پختہ یقین ہے چنانچہ ہر زمانے میں جو لوگ بھی جہاد کے لئے اٹھے مسلمانوںنے انہیںحق پر سمجھ کر ان کی نصرت کی ۔ دوسری طرف مرزا قادیانی ملعون نے جہاد کی منسوخی کا اعلان کیا اب اس اعلان کی وقعت تبھی لوگوںکے دل میںآسکتی تھی جب وہ مرزا قادیانی کو (نعوذباللہ )حضور اکرمﷺ سے افضل سمجھیں اشعار و عبارات کی حد تک انہوںنے اس کی کوشش بھی کی مگر نظریاتی طور پر انہوںنے ایک اور داو کھیلا اور وہ یہ کہ جہاد کی دو قسمیںگھڑ لیں ایک تلوار کا اور دوسرا قلم کا۔ پھر یہ ڈھنڈورا پیٹ دیا کہ نعوذ باللہ قلم کا جہاد جہادِ کبیر اور تلوار کا جہاد جہادِ صغیر ہے چنانچہ ملاحظہ فرمائیے

تاریخی قومی دستاویز مرزا ناصر (مرزا قادیانی کا پوتا)کہتا ہے:تلوار کا جہاد منسوخ ہے تلوار کا جہاد تو جہاد صغیر ہے قلم کا جہاد جہاد کبیر ہے۔

دیکھئے! بلی تھیلے سے باہر آ گئی کہ مرزا قادیانی ملعون تو پڑھا لکھا تھا اس نے اپنی منحوس قلم سے اٹھاسی کتابیں لکھیں جبکہ سید الکونین حضرت محمد مصطفیٰﷺ امی تھے آپﷺ  نہیںلکھتے تھے تو نعوذ باللہ قادیانی ملعون افضل ہوا کیونکہ اس نے قلم سے جہاد کبیر (بڑا جہاد) کیا علمی اعتبار سے مرزا کی یہ بات بالکل بے وزن اور بودی ہے حضور اکرمﷺکا اُمی ہونا کوئی عیب نہیںبلکہ آپﷺکا کمال اور معجزہ ہے اور تلوار کا جہاد جو حضور اکرمﷺ نے کیا وہ بڑا جہاد ہے کیونکہ ساری امت مل کر اس جہاد کی ایک گھڑی کی قیمت ادا نہیں کر سکتی اور آپﷺ کے جہاد کا تذکرہ قرآن پاک نے کیا ہے اور قرآن پاک نے آپﷺاور آپﷺکی امت کو تلوار کے ساتھ جہاد کا حکم دیا ہے اللہ کا حکم اور قرآن کا حکم کبھی چھوٹا نہیںہو سکتا پھر جہاد یعنی قتال فی سبیل اللہ تو قرآن پاک کا موضوع ہے اور قرآن پاک میںاس عنوان کی سینکڑوں آیات موجود ہیں یہ تو مرزا ملعون کا ناپاک و سوسہ ہے کہ یہ جہاد چھوٹا جہاد ہے ورنہ قرآن پاک کو پڑھ لیجئے ہوش خود بخود ٹھکانے آ جائیںگے کہ ہم جس چیز کو چھوٹا کہہ رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا کس قدر اونچا مقام ہے مرزا قادیانی ملعون نے جہاد کے خلاف بہت کچھ لکھا اور پھر اپنے ظالمانہ وسوسوںکو پوری امت مسلمہ میںپھیلانے کی کوشش کی چنانچہ وہ لکھتا ہے:

میری عمر کا اکثر حصہ سلطنت نگریزی کی تائید اور حمایت میںگذرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میںاس قدر کتابیںلکھی ہیںاور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکھٹی کی جائیں تو پچاس الماریاںان سے بھر سکتی ہیں میں نے ایسی کتابوںکو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوںکے دلوں کو خراب کرتے ہیں ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔

(تریاق القلوب، ص ، مندرجہ روحانی خزائن ص ، ج )

دیکھا آپ نے مرزا اپنے ان کارنا موں کا اعتراف کر رہا ہے۔

(۱) جہاد کے خلاف کتابیںاور اشتہار لکھے ہیں۔

(۲)انہیںدوسرے ملکوںمیںپھیلایا ہے

(۳) جہاد کو ماننا احمقوںکا کام ہے۔

(۴) جہاد کے مسائل جوش دلاتے ہیں (معلوم ہوا کہ جہاد یعنی قتال فی سبیل اللہ کی مخالفت ہو رہی ہے)

(۵) یہ سارے کام سلطنت برطانیہ کو بچانے کے لئے کئے جا رہے ہیں۔

مرزا ملعون خود بھی اپنی بے برکت و ناپاک زندگی جی کر مر گیا، سلطنت برطانیہ بھی نہ بچ سکی بلکہ ایک بے نور ٹھنڈے علاقے تک محدود ہو گئی مگر مرزا کی ناپاک کوششوںسے ایک طبقہ اسلام کی مقدس شاہراہ سے گمراہ ہو کر مرتد ہو گیا جبکہ دوسری طرف مرزا قادیانی کے جہاد کے خلاف پھیلائے جانے والے پچاس الماریوںکے برابر وساوس مسلمانوں میں اس بری طرح پھیل گئے کہ وہ لوگ جنہیںکبھی آدھے منٹ کے لئے محاذ جنگ کی سعادت نصیب نہیں ہوئی اپنے گھروں میں بیٹھ کر دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ بڑا جہاد کر رہے ہیں ایسا جہاد جس میںاسلام دشمن کافروںکی نکسیر تک نہیں پھوٹتی جبکہ غزوہ احد میںآقا مدنی ﷺ جس جہاد میںزخمی ہو کر گر پڑے تھے وہ نعوذ باللہ چھوٹا جہاد ہے۔ ہائے کاش!مسلمان سمجھیں اور اپنے دامن ایمان کو مرزائی چنگاریوںسے بچائیں قتال فی سبیل اللہ کو بے دھڑک چھوٹا جہاد کہنے والے حضرات سے میری صرف گذارش ہے کہ وہ قرآن پاک کی سینکڑوںآیات قتال کو ایک نظر دیکھ لیں پھر اگر ان کے دل گردے میں اس جہاد کو چھوٹا جہاد کہنے کی طاقت باقی رہے تو شوق سے کہتے پھریں۔ مرزا قادیانی ملعون نے جہاد کے خلاف جو ظالمانہ وساوس پھیلائے ان وساوس کے اثرات پر اسے مکمل بھروسہ تھا اور اسے یقین تھا کہ جو جو لوگ اس کے زیر اثر آتے جائیںگے وہ جہاد کے منکر ہوتے جائیں گے چنانچہ وہ لکھتا ہے:

میںیقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیںگے، ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیںگے کیونکہ مجھے مسیحاور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار ہے۔ (مجموعہ اشتہارات ص، ج )

مرزا کی اس عبارت سے چند باتیںبالکل واضح طور پر سمجھ آتی ہیں۔

(۱)قادیانی تحریک کا اساسی مقصد مسلما نوںکو جہاد سے برگشتہ اور بیگانہ کرنا ہے چنانچہ وہ فخر سے کہہ رہا ہے کہ میرے مرید جیسے جیسے بڑھتے جائیںگے جہاد کے انکار کی فضاء عام ہوتی جائے گی۔

(۲)مرزا قادیانی اپنے مریدوںاور ماننے والوںکو جس بات کی سب سے زیادہ تلقین کرتا تھا وہ بات تھی انکار جہاد کیونکہ جس پیر کے ہاںجس بات پر زیادہ بیان ہوتا ہے مریدین پر اسی بات کا زیادہ رنگ چڑھتا ہے۔ اہل حق مچائخ میںسے بعض موت کی یاد پر زور دیتے ہیں، بعض دنیا کی محبت کے خاتمے کو اساسی موضوع بناتے ہیں، بعض حسن پرستی کے خلاف توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ دیکھنے میںآیا ہے کہ شیخ کے اساسی بیان کا مریدین پر خوب اثر ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی بھی نبی اور پیر بنا بیٹھا تھا اس کی اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا کی زبان پر ہر وقت جہاد کی مخالفت جاری رہتی تھے اور اس کے بیانات کا مرکزی موضوع جہاد کی مخالفت ہوتا تھا اس لئے اسے اندازہ ہو رہا تھا کہ مریدین کے بڑھنے سے ترک جہاد کے نظرئیے کو تقویت ملے گی۔

(۳)ہم نے مضمون کے شروع میںعرض کیا تھا کہ قادیانیت کا خلاصہ انکار جہاد ہے اور قادیانیت کی ہر تان اسی پر آ کر ٹوٹتی ہے ۔ مرزا کی یہ عبارت بھی اس دعوے کی تصدیق کرتی ہے کیونکہ وہ صاف لفظوںمیںکہہ رہا ہے کہ مجھے مسیح اور موعود مان لینا ہی جہاد کا انکار کرنا ہے یعنی مرزا نے مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے اس لئے تھا کہ لوگ جہاد کے منکر ہو جائیں، اس لئے کہ احادیث مبارکہ کی روشنی میںمسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی کا انتظار کرتے ہی جہاد کے حوالے سے ہیں۔ اب مرزا مسلمانوںکو دین کی سر بلندی سے مایوس کرنے اور جہاد سے ان کا ذہن ہٹانے کے لئے خود مسیحو مہدی بن بیٹھا سیدھے سادے مسلمان جب ایک نیم پاگل، بیمار، بے بس، بزدل، نہتے، شوگر و گیس سے بھرے شہوت و خباثت کے پتلے کو مہدی اور مسیح دیکھیںگے تو ان کے دل سے اسلام اور جہاد کی عظمت خود بخود دھل جائے گی اور ان کے خیالات میںسے لاکھوںفدائیوںکی کمان کرنے والے، مشرق و مغرب کے کفر کو عبرتناک شکست دینے والے، خود جنگوںمیںکودنے والے آسمان سے فرشتوںکا سہارا لے کر دمشق میںاترنے والے اپنی آنکھوں کی چمک اور سانس کی حدت سے یہودیت کو ختم کرنے والے اور زمین پر اسلام کا اقتدار اعلیٰ قائم کرنے والے مسیح اور مہدی کا خیال محو ہو جائے گا تب وہ انگریز کی غلامی کو دل و جان سے قبول کر لیں گے۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor