Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

وصیت اور میراث کے احکام۔آخری قسط

وصیت اور میراث کے احکام۔آخری قسط

مولانا عاشق الٰہی بلند شہری رحمہ اللہ

انتخاب: شفیق الرحمن

(شمارہ 676)

(۱۱)… ورثے کے مشترک مال میں سے لوگوں کی مہمان داری، آنے والوں کی خاطر مدارت،کھانا کھلانا، صدقہ خیرات وغیرہ کچھ جائز نہیںہے… اسی طرح مرنے کے بعد سے دفن کرنے تک جو کچھ اَناج وغیرہ فقیروں کو دیا جاتا ہے مُردے کے مال میں سے اس کا دینا بھی حرام ہے… مُردے کو ہرگز کچھ ثواب نہیں پہنچتا، بلکہ اس میں ثواب سمجھنا بھی سخت گنا ہ ہے، کیونکہ اب یہ سب مال وارثو ں کا ہوگیا ہے، پرائی حق تلفی کر کے مال دینا ایسا ہی ہے جیسے غیر کا مال چُرا کے دے دیا جائے… اور مال وارثوں کو بانٹ دیا جائے، پھر ہر ایک کو اختیار ہے کہ اپنے اپنے حصّے میں سے شریعت کے موافق ایصالِ ثواب کریں یا نہ کریں، وارثوں سے اس خرچ کرنے اور خیرات کرنے کی اجازت بھی نہ لینا چاہیے،کیونکہ اجازت لینے سے فقط اُوپر کے دل سے اجازت دیتے ہیں، اجازت نہ دینے میں بدنامی محسوس کرتے ہیں، اس لیے اجازت کے الفاظ بول دیتے ہیں یا سر ہلا دیتے ہیں، ایسی اجازت کا کچھ اعتبار نہیں۔

(۱۲)… مرنے والے نے چھوٹا موٹا، کم یا زیادہ جو بھی مال چھوڑا ہو، رقم ہو، جائیداد ہو، پہننے کے کپڑے ہوں، گھر کا سامان ہو، برتن ہوں یا فرنیچر ہو، اس سب میں میراث جاری ہوتی ہے… عام طور سے لوگ میراث تقسیم کر تے ہی نہیں اور اگر تقسیم کرتے ہیں تو رقم اور جائیداد، مکا ن دُکان کو بانٹ لیتے ہیں، باقی مال یوں ہی مشترک استعمال ہوتا رہتا ہے… اس میں یتیموں، بیواؤں کا حصّہ ہو تا ہے، یہ بھی غضبِ میراث میں شامل ہے۔

ایک بزرگ کا قصہ ہے کہ ایک ایسے مریض کے پاس بیٹھے تھے جو جان کنی میں مبتلاء تھا، ان کے بیٹھے ہی بیٹھے مریض کی روح نکل گئی… انہوں نے فوراً چراغ بجھا دیا اور اپنے پاس سے پیسے دیے اور فرمایا کہ ان پیسوں کا تیل لے آؤ، یہ شخص جب تک زندہ تھا اس کی ضرورت سے چراغ جل رہا تھا، اور جب اس کی موت ہوگئی تو یہ چراغ اور اس کا تیل وارثوں کا مال ہو گیا، اوروارثو ں میں یتیم بھی ہیں اور بیوہ بھی ہیں، اور وہ ورثا بھی ہیں جو غیر حاضر ہیں، لہٰذا ہمیں اس چراغ سے فائدہ اُٹھانے کا حق نہیں رہا… لوگ تو اسے تقویٰ پر محمول کریں گے لیکن حقیقت میں یہ فتویٰ کی با ت ہے… شریعت میں دوسروں کا مال استعمال کرنے کی اجازت کہاں ہے؟

فائدہ:یہ جو کچھ ہم نے لکھا ہے لوگ اس میں تنگی محسوس کریں گے، لیکن اَحکام شریعت کو بیان کرنا ضروری ہے اور ان پر عمل کرنا لازم ہے… ایک آسان صورت یہ ہے کہ سارے مال کی مالیت یعنی قیمت لگائی جائے اور بچوں اور بیواؤں اور غائبوں کا جو حصہ نکلتا ہے نیک نیتی اور ادائے حقوق اور ہمدردی کے طور پر (جس میں ذرہ بھر کٹوتی نہ ہو) علیحدہ کر لیا جائے… پھر نابالغوں کا حصہ کسی ولی کے سپرد کر دیا جائے اور بیوہ کا حصہ اسی وقت سپرد کر دیا جائے، اور جو لوگ غائب ہیں ان کا حصہ امانتاً محفوظ کر لیا جائے اور جو بالغ موجود ہیں وہ اپنا حصہ بانٹ لیں… برتن، کپڑے، فرنیچر وغیرہ کوئی شخص اپنی طرف لگالے، اور جو بالغ ورثا حاضر ہیں وہ اپنے حصے تقسیم کرنے کے بعد آپس میں ایک دوسرے کو کمی پیشی حلال(معاف) کردیں۔ 

 یاد رہے! کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یتیموں اور بیواؤں کو صرف مالیت کی رقم دی جائے بلکہ سب کو ہر مال میں سے حصہ دیا جائے، رقم بھی حصے میں آئے گی اور جائیدا، مکان، دُکان بھی، خوب سمجھ لیں… جو چیز تقسیم ہوسکتی ہو اس کا طریقہ اور متعدد مکانات اور جائیداد اور زمین کی تقسیم کا طریقہ کتب فقہ میں بیان کیا ہے جسے تقسیم کرنے والے جانتے ہیں۔

 تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ ط وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ط وَذٰلِکَ الْفَوْزُالْعَظِیْمُ۔

وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ یُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِیْھَا وَلَہٗ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ۔

(النساء)

ترجمہ: یہ اللہ تعالیٰ شانہ کی حد بندیاں ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ شانہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرے اسے اللہ تعالیٰ شانہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا، جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بڑی کامیابی ہے… اور جو شخص اللہ تعالیٰ شانہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرے اور اس کے حدود سے آگے نکل جائے وہ اسے آگ میں داخل فرمائے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

میراث کے حصے بیان فرمانے اور وصیت نافذ کرنے اور دَین ادا کرنے کا حکم فرمانے کے بعد اَحکام خداوندی پر عمل پیرا ہونے کی تاکید فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:

کہ جو کچھ اوپر بیان ہوا یہ اللہ تعالیٰ شانہ کی حد بندیاں ہیں… اللہ تعالیٰ کے قانون کو ٹورنا اور حد بندیوں سے آگے بڑھنا بغاوت ہے… اور قانون کی پاسداری کرنا اور اس کی حفاظت کرنا اللہ تعالیٰ شانہ کی رضا مندی اور اس کے انعامات حاصل ہونے کا سبب ہے… فرماں برداروں کے لیے باغ ہیں جو’’دارالنعیم‘‘ میں ہوگے، اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، ان باغوں میں داخل ہوجانا بہت بڑی کامیابی ہے… جو لوگ حدود، قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں وہ نافرمان ہیں، اور نافرمانوں کی سزا دوزخ کا عذاب ہے جو ذَلیل کرنے والا ہے، اس میں وہ ہمشہ رہیں گے۔ 

جو لوگ اللہ تعالیٰ شانہ کے دِین کو نہیں مانتے یا جھوٹے منہ سے اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے قوانین کو غلط قرار دیتے ہیں، ان کو وہ ظالمانہ قوانین بتاتے ہیں، ان کا مذاق اُڑاتے ہیں وہ تو کافر ہی ہیں ان کے لیے سزا دائمی اور اَبدی ہے… ان کو دوزخ سے کبھی نکلنا نصیب نہ ہوگا… اور جو لوگ ایمان رکھتے ہوئے بے عمل ہیں، سزا کے مستحق وہ بھی ہیں، اللہ تعالیٰ شانہ کی جب مشیت ہوگی ان کی دوزخ سے رہائی ہوجائے گی۔

فائدہ :حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارے میں جو اَحکام ہیں ان سب کی پابندی کرنا لازم ہے، اور حقوق العباد کا بوجھ اپنے سر لے کر دینا سے جانا سخت وبال کی بات ہے… اللہ تعالیٰ شانہ کے حقوق میں جو کمی کوتاہی کی اور اَحکام کی خلاف ورزی کی وہ تو توبہ سے معاف ہو جاتے ہیں… اور جب اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوگی تو اپنے فضل سے بلا توبہ کے بھی معاف کردے گا، یا ایک مدت تک دوزخ میں سزا دے کر اہل ایمان کو جنت میں بھیج دے گا۔ 

لیکن اگر حقوق العباد دنیا میں ادا نہ کیے گئے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ شانہ اُنہیں معاف نہ فرمائے گا کیونکہ وہ مخلوق کے حقوق ہیں جو محتاج ہیں اور ضرورت مند ہیں… کسی بھی طرح کسی کا مال مارا، خیانت کی، قرض لے کر ادا نہ کیا، چوری کی، ڈاکا ڈالا، میراث کے مال میں حق داروں کا حصہ نہ دیا، یا کسی بھی طرح کسی کا حق رکھ لیا تو قیامت کے دن ان سب کا نیکیوں کے ذریعے بھگتان کرنا ہوگا۔

حضرت سفیان ثوری رضی اللہ عنہ فرماتے تھے:

’’اگرکوئی شخص اللہ تعالیٰ شانہ کی ستر (۷۰)نا فرمانیاں لے کر قیامت کے دن میدان میں پہنچے تو یہ اس سے ہلکا جرم ہے کہ کسی بندے کا ایک حق اپنے ذمے لے کر میدانِ قیامت میں حاضر ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ شانہ بے نیاز ہے، اس سے معافی کی اُمید رکھی جائے، لیکن بندے چونکہ خود محتاج ہیں… اس لیے ان کے حقوق کی ادائیگی کا دَھیان رکھنا اور حقوق العباد سے پاک ہوکر جانا بہت زیادہ اہم اور سخت ضروری ہے… بندوں سے وہاں معاف کرنے کی اُمید رکھنا بے وقوفی ہے، بندے وہاں محتاج ہوں گے کسمپری کا عالم ہوگا، ذرا ذرا سا سہارا تلاش کرتے ہوں گے اور ہر صاحب حق اپنا پورا پورا حق وصول کرنا چاہے گا۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے ارشاد فرمایاکہ:

کیا تم جانتے ہو کہ مُفلس کون ہے؟

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:

 ہم تو اسے مُفلس سمجھتے ہیں جس کے پاس روپیہ نہ ہو اور مال نہ ہو۔‘‘ یہ سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:

 بلاشبہ میری اُمت کا حقیقی مُفلس وہ ہوگا، جو قیامت کے روز نماز، روزہ اور زکوٰۃ بہت کچھ لے کر آئے گا… یعنی اس نے نمازیں بھی پڑھی ہوں گی اور روزے بھی رکھے ہوں گئے، زکوٰۃ بھی ادا کی ہوں گی، اور ان سب کے باوجود اس حال میں میدانِ حشر میں آئے گا کہ کسی کو گالی دی ہوگی، اور کسی پر تہمت لگائی ہوگی، اور کسی کا ناحق مال کھایا ہوگا، اور کسی کا ناحق خون بہایا ہوگا، اور کسی کو مارا ہوگا، اور چونکہ قیامت کا دن فیصلے کا دن ہوگا، اس لیے اس شخص کا فیلصہ اس طرح کیا جائے گا کہ جس جس کو اس نے ستایا تھا اور جس جس کی حق تلفی کی تھی سب کو اس کی نیکیاں بانٹ دی جائیں گی، کچھ اس کی نیکیاں اس حق دار کو دی جائیں گی اور کچھ دوسرے حق دار کو دی جائیں گی… پھر اگر حق پورا ہونے سے پہلے اس کی نیکیوں ختم ہوگئی تو اس کے سر حق داروں کے گناہ ڈال دیے جائیں گئے، پھر اس کو دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ (رواہ مسلم)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’جس نے اپنے کسی بھائی پر ظلم کر رکھا ہو کہ اس کی بے آبروئی کی ہو یا کوئی اور حق تلفی کی ہو تو آج ہی(اس دنیا میں اس کا حق کر دے یا معافی مانگ کر) اس سے پہلے معاف کرالے جہاں نہ دینار ہوگا نہ درہم۔‘‘

پھر فرمایا:

کہ اگر اس کے کچھ عمل اچھے ہوںگے تو بَقدر ظلم اس سے لے لئے جائیں گے(جو اصحاب حقوق کو دے دیے جائیں گے) اور اگر اس کی نیکیاں نہ ہوں گی تو مظلوم کی برائیاں لے کر ا س ظالم کے سر ڈال دی جائیں گی۔

(رواہ البخاری)

فائدہ: ان دونوں حدثیوں سے معلوم ہوا کہ صرف پیسہ کوڑی دبا لینا ہی ظلم نہیں ہے، بلکہ گالی دینا، غیبت کرنا، تہمت لگانا، بے جا مارا، بے آبروئی کرنا بھی ظلم اور حق تلفی ہے… بہت سے لوگ اپنے بارے میں سمجھتے ہیں کہ ہم دین دار ہیں، مگر ان باتوں سے ذرہ برابر نہیں بچتے۔

واضح رہے! کہ اللہ تعالیٰ شانہ اپنے حقوق کو تو توبہ اور استغفار سے معاف فرما دیتا ہے… لیکن بندوں کے حقوق اس وقت معاف ہوں گئے جب ان کو ادا کردے یا صاحب حق سے معاف کرالے۔

دعا: اللہ تعالیٰ شانہ ہم سب کو شریعت کے مطابق میراث تقسیم کرنے کی توفیق عطاء فرمائے،آمین۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online