Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

جواہرِ جہاد (قسط۹۳)

جواہرِ جہاد (قسط۹۳)

از: امیر المجاہدین حضرت اقدس مولانا محمد مسعود ازہر صاحب دامت برکاتہم العالیہ

(شمارہ 677)

ایک اہم نکتہ

یہاںایک اہم بات ذہن میںآ گئی اور وہ یہ ہے کہ مسلمانوںکا تابناک ماضی اور ان کا روشن مستقبل انہیںکسی کا دل سے غلام نہیں بننے دیتا وہ ماضی میںدیکھتے ہیںتو انہیںاپنے محبوب نبی حضرت محمدﷺ سر پر جنگی ٹوپی پہنے، جنگوںکا سالار اعظم بنے، فتوحات پر فتوحات کرتے نظر آتے ہیںاور جب وہ مستقبل کی طرف نظر دوڑاتے ہیںتو انہیںحضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی کے فدائی دستے سرفروشی کے جوہر دکھاتے نظر آتے ہیںبس مایوس مسلمانوںکو ان کا ماضی دلاسہ دیتا ہے اور مستقبل ان کے دلوںسے مایوسی کو کھرچتا ہے۔ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کر کے مسلمانوںکو ان کے ماضی سے کاٹنے کی کوشش کی ہے کہ وہ اب مدینہ کی طرف دیکھنے کی بجائے غلاموںکے وطن قادیان کی طرف دیکھیںاور پھر اس نے مسیح اور مہدی کا دعویٰ کر کے مسلمانوںکو مستقبل سے مایوس کرنے کی سعی کی ہے کہ دیکھو جس مسیح اور مہدی کے انتظار میںتم ہر کسی سے ٹکر لے لیتے ہو وہ سر سے پاؤں تک بیماریوںمیںگھرا ہوا، ایک افیونی بدکار ہے، اس لئے اب تم انگریزوںکی اطاعت دل و جان سے قبول کر لو چنانچہ اس ظالم نے ملکہ برطانیہ کی اطاعت کو اسلام کا حصہ قرار دے دیا وہ لکھتا ہے:

سو میرا مذہب جس کو میںبار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں ایک یہ کہ خدا تعالی ٰکی اطاعت کریں، دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو جس نے ظالموںکے ہاتھ سے اپنے سایہ میںہمیں پناہ دی ہو سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔

(شہادت القرآن ص ، روحانی خزائن ص۰، ج)

اس عبارت میںاور باتوںکے علاوہ ایک قابل غور بات یہ ہے کہ مرزا نے انگریزی سلطنت کی تعریف امن قائم کرنے کے حوالے سے کی ہے کچھ عرصہ قبل ایک اور ملحد و منکر جہاد وحید الدین خان کا ایک انٹرویو سننے کا اتفاق ہوا وہ بھی انڈیا حکومت کی تعریف امن کے حوالے سے کر رہا تھا اور کشمیری مجاہدین کو لتاڑ رہا تھا یہاں میں قارئین کو اس بات کی دعوت فکر دیتا ہوںکہ مرزا قادیانی ہو یا وحید الدین خان وہ جہاد کی مخالفت کسی دینی دلیل کی وجہ سے نہیںبلکہ اپنی جان کے لئے امن اور مفادات حاصل کرنے کے لئے کر رہے ہیں چنانچہ ان کی یہ عبارتیںاس بات کا واضح ثبوت ہیںکہ ان ظالموںکی نظر میںبس دنیا کے مفادات اور یہاںکی زندگی ہے ورنہ آپ پورا قرآن پڑھ لیجئے انبیاء علیھم السلام وقت کے ان بادشاہوںسے ٹکرائے جنہوںنے اپنے ملکوںمیںآج کے حکمرانوںسے زیادہ ظاہری امن قائم کر رکھا تھا حضرات انبیاء علیھم السلام نے کفر اور اسلام کو معیار بنایا نہ کہ جان کی حفاظت اور دنیاوی مفادات کو بس اے مسلمانوں!انبیاء علیھم السلام کے راستے پر ڈٹے رہو اور ان بزدل، نفس پرست اور دنیا کی عارضی زندگی چاہنے والے نام نہاد مفکرین کی بات نہ مانو یہ لو گ خود بھی بزدل ہیں اور مسلمانوںکو بھی کافروںکا غلام بنانا چاہتے ہیں ظاہری طور پر ان کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ مسلمانوںکو بچا رہے ہیں حالانکہ مسلمان دنیا میںبچنے کے لئے نہیںآیا اور نہ کوئی کسی کو موت آنے پر بچا سکتا ہے۔ انبیاء علیھم السلام اور ان کے ماننے والوںنے ہمیشہ ایمان کی خاطر جان کی قربانی دی اور کبھی ایسا نہیںہوا کہ انہوںنے جان بچانے کے لئے ایمان کو چھوڑا ہو یا دین کو بدلا ہو ماضی کے ایمان والوںنے آگ کی خندقیںقبول کر لیں مگر کفر کے سامنے گردن نہیں جھکائی بس ہماری کامیابی بھی دین اور جہاد میںہے نہ کہ بزدلی اور بے ہمتی میںاصل بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنے زمانے میں اور وحید الدین خان اپنے دور میں کفر کی قوت سے بری طرح مرعوب ہو چکے ہیں اور ان کے دل و دماغ میںیہ بات مزین کردی گئی ہے کہ اب کفر کی یلغار کو کوئی نہیںروک سکتا، مرزا کو سلطنت برطانیہ پر اور وحید الدین خان کو امریکہ اور انڈیا کی طاقت پر بھروسہ ہے چنانچہ وہ انہیںطاقتوں پر بھروسہ کر کے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مسلمانوںنے اب اگر گردن نہ جھکائی تو انہیںجڑ سے ختم کر دیا جائے گا۔ چنانچہ مرزا ملعون نے اپنے زمانے میں اس بات کا اعلانیہ دعویٰ کیا کہ اب مسلمان کبھی فتح یاب نہیں ہو سکتے۔ لیجئے اس کے چند اشعار پڑھئیے:

اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال

دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال

اب آگیا مسیح جو دین کا امام ہے

دیں کے لئے اب تمام جنگوں کا اختتام ہے

اب آسمان سے نور خدا کا نزول ہے

اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے

دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد

منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد

اس نظم میں چند اشعار کے بعد کہتا ہے؎

یہ حکم سن کے بھی جو لڑائی کو جائے گا

وہ کافروں سے سخت ہزیمت اٹھائے گا

اک معجزہ کے طور پر یہ پیشگوئی ہے

کافی ہے سوچنے کو اگر اہل کوئی ہے

دیکھیں راز فاش ہو گیا کہ مرزا کو سلطنت انگریزی کی قوت پر مکمل بھروسہ تھا بس اسی بھروسے پر اس نے یہ پیشگوئی کر دی آج کے جہاد مخالف دانشوروں کو بھی امریکہ، انڈیا، اسرائیل کی طاقت پر اس قدر بھروسہ ہے کہ وہ بھی اسلام، مسلمانوں اور مجاہدین کے خاتمے کی صبح شام پیشگوئیاں کر تے رہتے ہیں اور مسلمانوں کو کافروں کے سامنے سر جھکانے کا حکم دیتے رہتے ہیں۔ الحمد للہ مرزا قادیانی کی پیشگوئی غلط ثابت ہوئی اب ان شاء اللہ زمانے کے پیٹ پرست دانشوروں کی باتیں بھی غلط ثابت ہوں گی اور جہاد کو کوئی نہیں مٹا سکے گا آج کل بعض لوگ مسلمانوں کی کمزوری کا رونا رو کر، ایمان میں ان کی عدم پختگی کا حوالہ دے کر انہیں جہاد سے روکتے ہیں یہ نظریات بھی مرزا قادیانی کے ہیںچنانچہ اسی نظم میں چند اشعار آگے چل کر وہ کہتا ہے؎

ظاہر ہیں خود نشاںکہ زماں وہ زماں نہیں

اب قوم میں ہماری وہ تاب و تواں نہیں

اب تم میں خود وہ قوت و طاقت نہیں رہی

وہ سلطنت ورعب وہ شوکت نہیں رہی

چند اشعار آگے لکھتا ہے؎

دل میں تمہارے یار کی الفت نہیں رہی

حالت تمہاری جاذب نصرت نہیں رہی

(مرزا کی یہ پوری نظم تحفہ گولڑویہ ضمیمہ ص۴۲، روحانی خزائین ص۷۷، ج ۱۷ پر ہے)

اس نظم کے مذکورہ بالا اشعار کو بار بار پڑھیں اور پھر اپنے اندر جھانک کر دیکھیں کہ کہیں خدانخواستہ مرزائی کینسر کا کچھ اثر ہمارے اندر تو نہیں آگیا؟ یاد رکھئے مرزائی افکار حضور سرور کونین ﷺ کی گستاخی، بے ادبی اور دشمنی پر مبنی ہیں اس لئے ہر عاشق رسول کا دل ان افکار سے پاک ہونا ضروری ہے یہاں یہ بات بھی یاد رکھئے کہ ہر شخص خواہ وہ کسی مقام پر کیوں نہ ہوجب وہ خود جہاد میں نہ نکلنا چاہتا ہو، اپنی جان اللہ تعالیٰ کے لئے قربان نہ کرنا چاہتا ہو اور وہ اپنی اس کمزوری اور غٖلطی پر رونے کی بجائے جہاد پر اعتراضات کرتا ہو تو آپ دیکھیں گے کہ اس کے منہ سے وہی وسوسے اور نشر ہوں گے جو مرزا قادیانی ملعون نے پھیلائے ہیں ہم میں طاقت نہیں، ہم نصرت کے قابل نہیں، اور بہت کچھ…

یہاں ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ مرزا قادیانی ملعون سے لے کر عصر حاضر کے نام نہاد دانشوروں تک جہاد کے تمام مخالفین مسلمانوں کو تو جہاد سے روکتے رہے جبکہ یہی لوگ کافروں کے لڑنے کی حمایت کرتے ہیں ان کی جنگوں کی تعریف کرتے ہیں اور خود ان کے ساتھ مل کر لڑنے کو جائز سمجھتے ہیں یعنی ان بد نصیب لوگوں کی قسمت میں بس اللہ کے راستے میں لڑنا نہیں ہے کیونکہ انہیں اس میں ہلاکت نظر آتی ہے لیکن جب انہیں لوگوں کو کافر اپنے ساتھ مل کر لڑنے کی دعوت دیتے ہیں تو یہ بھاگ بھاگ کر ان کے ساتھ جا ملتے ہیں مال، عہدے، حکومت بچانے کی لالچ میں۔

چنانچہ مرزا قادیانی ملعون لکھتا ہے:

’’میں ایک ایسی خاندان سے ہوں جو اس گورنمنٹ کا پکا خیر خواہ ہے میرا والد مرزا غلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار اور خیر خواہ آدمی تھا جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور جن کا ذکر مسٹر گریفن صاحب کی تاریخ رئیسانِ پنجاب میں ہے اور ۱۸۵۷ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریزی کو مدد دی تھی یعنی پچاس سوار اور گھوڑے باہم پہنچا کر عین زمانہ غدر کے وقت سرکار انگریزی کی امداد میں دئیے تھے ان خدمات کی وجہ سے چٹھیات خوشنودی حکام ان کو ملی تھیں۔ مجھے افسوس ہے کہ بہت سی ان میں گم ہو گئیں مگر تین چٹھیات جو مدت سے چھپ چکی ہیں ان کی نقلیں حاشیہ میں درج کی گئی ہیں۔ پھر میرے والد صاحب کی وفات کے بعد میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدمات سرکاری میں مصروف رہا اور جب تموں کے گزر پر مفسدوں کا سرکار انگریزی کی فوج سے مقابلہ ہوا تو وہ سرکار انگریزی کی طرف سے لڑائی میں شریک تھا۔

(کتاب البریہ ص ۳، ۴،۵، روحانی خزائن ص ۴، جلد ۱۳)

مجاہدین کو شدت پسند، دہشت گرد، رجعت زدہ کہنے والے اس عبارت میں موجود مناظر پر ایک نظر ڈالیں مسلمانوں کے لئے انگریزوں سے لڑنا حرام، دین دشمنی اور بے مصلحتی جبکہ انگریزوں سے لڑنا حرام، دین دشمنی اور بے مصلحتی جبکہ انگریزو ں کے ساتھ مل کر مسلمانوں سے لڑنا قابل فخر، کشمیری مجاہدین کا غاضب انڈین فوجوں سے لڑنا حرام، جبکہ وحید الدین خان کا نرسمہا راؤ سے ایورڈ قبول کرنا قابل فخر… طالبان کی حمایت حرام اور ناقابل معافی جرم مگر امریکیوں کو اڈے دینا اور ان کی مدد کرنا قابل فخر… عراقی مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھانا حرام جبکہ اپنی مسلمان فوجوں کو عراق میں امریکہ کے تعاون کے لئے بھیجنا قابل فخر… آخر یہ سب کچھ کیا ہے؟ کیا ان باتوں کا اس کے علاوہ بھی کوئی نتیجہ نکلتا ہے کہ ایسا کرنے والے لوگ اللہ تعالیٰ کو نہیں مانتے اور نہ ان کے دل و دماغ میں اللہ تعالیٰ کی کوئی عزت، اہمیت اور وقعت ہے اور نہ ان کے حاشیہ خیال میں اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کا کئی مقام ہے۔ یہ لوگ بس وقت کے زمینی تاجداروں کے پجاری ہیں اور اپنی اس عارضی سی زندگی کو بچانے اور سنوارنے کی خاطر جہاد کا انکار کرتے ہیں۔ یہ لوگ اگر زمین پر عمومی امن کے قائل ہوتے تو پھر کسی کے لڑنے کو درست نہ سمجھتے، اور نہ کسی کے ساتھ مل کر لڑتے اور نہ کبھی لڑائی کا سامان رکھتے اور نہ کبھی لڑنے والوں کا لباس پہنتے حالانکہ ایسا نہیں ہے یہ صرف اسلام اور مسلمانوں کے حق میں لڑنا غلط سمجھتے ہیں جبکہ کفر کے ساتھ مل کر لڑنے کو فخر جانتے ہیں اور خود اپنے مسلمان بھائیوں کو مارنا چاہتے ہیں جو دین اور جہاد کی خالص بات کرتے ہیں۔ دیکھئے مرزا قادیانی ایک طرف تو اس قدر رواداری کا قائل ہے کہ مسلمانوں کو چیخ چیخ کر انگریزی حکومت کی اطاعت پر کھڑا کر رہا ہے، جبکہ خود یہی مرزا قادیانی جہاد کا نام لینے والے مسلمانوں کو کیسی گندی گالیاں دے رہا ہے۔ یہاں اسے نہ رواداری کا خیال رہا اور نہ وسعت ظرفی کا۔ دیکھئے مرزا لکھتا ہے:

’’بعض احمق اور نادان سوال کرتے ہیں کہ اس گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے یا نہیں؟ سو یاد رہے کہ یہ سوال ان کا نہایت حماقت کا ہے کیونکہ جس کے لئے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے اس سے جہاد کیسا؟ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بد خواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔‘‘

(شہادت القرآن ص ۸۴، روحانی خزائن ص ۳۸۰، ج ۲)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor