Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

عزیز العقائد (قسط۱۶)

عزیز العقائد (قسط۱۶)

تحریر:حضرت مولانا صاحبزادہ ابو الفیص محمد امیرؒ

تسہیل از:مولانا مفتی محمد اشرف بالاکوٹی

(شمارہ 678)

(۳) مسائرہ اور اس کی شرح مسامرہ میں علامہ کمال بن ہمام حنفی اور ان کے شاگرد ابن ابی الشریف مقدسی شافعیؒ یہ تصریح فرمارہے ہیں۔ پھر صاحب العمدۃ نے کہا:

’’حق تعالیٰ کو یوں نہیں کہہ سکتے کہ وہ ظلم وسفہ اور کذب پر قادر ہے (کیونکہ ہوسکتاہے کہ جب خلف وکذب ان ممکنات میں داخل ہیں جن کو قدرت باری تعالیٰ شامل ہے) کیونکہ محال قدرت کے تحت میں شامل نہیں ہے یعنی قدرت کا تعلق اس کے ساتھ صحیح نہیں اور معتزلہ کے نزدیک افعال مذکورہ پر حق تعالیٰ قادر تو ہے مگر کرے گانہیں۔ صاحب العمدۃ کا کلام ختم ہوگیا۔ (اب کمال الدینؒ فرماتے ہیں)کہ صاحب العمدۃ نے جو معتزلہ سے نقل کیا ہے وہ الٹ پلٹ ہوگیا کیونکہ اس میں شک نہیں کہ افعال مذکورہ سے قدرت کا سلب کرنا عین مذہب معتزلہ ہے اور افعال مذکورہ پر قدرت تو ہو مگر باختیار خود ان کا وقوع نہ کیا جائے۔ یہ قول مذہب اشاعرہ کے زیادہ مناسب ہے بنسبت معتزلہ کے اور ظاہر ہے کہ اسی قول مناسب کو تنزیہ باری تعالیٰ میں دخل بھی ہے۔ بے شک ظلم وسفہ وکذب سے باز رہنا باب تنزیہات سے ہے۔ ان قبائح سے جو اس مقدس ذات کے شایان نہیں پس عقل کا امتحان لیا جاتا ہے کہ دونوں صورتوں میں کس صورت کو حق تعالیٰ کے تنزیہ عن الفحشاء میں زیادہ دخل ہے۔ آیا اس صورت میں کہ ہر سہ افعال مذکورہ پر قدرت تو پائی جائے مگر باحتیاط وارادہ ممتنع الوقوع کہا جائے زیادہ تنزیہ ہے یا اسطرح ممتنع الوقوع ماننے میں زیادہ تنزیہ ہے کہ حق تعالیٰ کو ان افعال پر قدرت ہی نہیں، پس جس صورت کو تنزیہ میں زیادہ دخل ہو اس کا قائل ہونا چاہیے اور وہ وہی ہے جو اشاعرہ کا مذہب ہے یعنی امکان بالذات وامتناع بالاختیار۔

(۴) محقق دوانی کی شرح عقائد عضدیہ کے حاشیہ کلبنوی میں اس طرح منصوص ہے خلاصہ یہ ہے کہ کلام لفظی میں کذب کا بایں معنیٰ قبیح ہونا کہ نقص وعیب ہے۔ اشاعرہ کے نزدیک مسلم نہیں اور اسی لیے شریف محقق نے کہا ہے کہ کذب منجملہ ممکنات کے ہے اور جب کہ کلام لفظی کے مفہوم کا علم قطعی حاصل ہے اس طرح کے کلام الٰہی میں وقوع کذب نہیں ہے اور اس پر علماء انبیاء علیھم السلام کا اجماع ہے تو کذب کے ممکن بالذات ہونے کے منافی نہیں جس طرح جملہ علوم عادیہ قطعیہ باوجود امکان کذب بالذات حاصل ہواکرتے ہیں اور امام رازی کے  قول کے خلاف نہیں الخ۔

(۵) صاحب فتح القدیر امام ابن ہمام کی تحریر الاصول اور ابن امیر الحاج کی شرح تحریر میں اس طرح منصوص ہے اب یعنی جب کہ افعال حق تعالیٰ پر محال ہوجائے جن میں نقص پایا جاتا ہے ظاہر ہوگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کذب وغیرہ کے ساتھ متصف ہونا یقینا محال ہے۔ نیز اگر فعل کا قبیح کے ساتھ اتصاف محال نہ ہو تو وعدہ اور خبر کی سچائی یقینی نہ رہے گی اور اشاعرہ کے نزدیک حق تعالیٰ کا کسی قبیح کے ساتھ یقینا متصف نہ ہونا ساری مخلوقات کی طرح (بالاختیار) ہے عقلا محال نہیں چنانچہ تمام علوم جن میں یقین ہے کہ ایک نقیض کا وقوع ہے وہاں دوسری نقیض محال ذاتی نہیں کہ وقوع مقدر نہ ہوسکے مثلا مکہ اور بغداد کا موجود ہونا یقینی ہے مگر عقلا محال نہیں ہے کہ موجود نہ ہوں اور یعنی جب یہ صورت ہوتی تو امکان کذب کے سبب اعتماد کا اٹھنا لازم نہ آئے گا اس لیے کے عقلا کسی شئے کا جواز مان لینے سے اس کے عدم پر یقین نہ رہنا لازم نہیں آتا اور یہی استحالہ وقوعی وامکان عقلی کا خلاف (معتزلہ اور اہل السنت میں) ہر نقیض میں جاری ہے کہ حق تعالیٰ کو ان پر قدرت ہی نہیں (جیسا کہ معتزلہ کا مذہب ہے) یا نقیض کو قدرت حق تعالیٰ شامل ضرور ہے مگر ساتھ ہی اس کے یقین ہے کہ کرے گا نہیں (جیسا کہ معتزلہ کا مذہب ہے) (جیسا کہ اہل السنۃکا قول ہے) یعنی اس نقیض کے عدم فعل کا یقین ہے اور اشاعرہ کا مذہب جو ہم نے بیان کیا ہے اور ایسا ہی قاضی عضد نے شرح مختصر الاصول میں اور اصحاب حواشی نے حاشیہ پر اور ایسا ہی مضمون شرح مقاصد اور چلپی کے حواشی مواقف وغیرہ میں مذکور ہے اور ایسی ہی تصریح علامہ قوشجی نے شرح تجرید میں اور قونوی وغیرہ نے کی ہے جن کی نصوص بیان کرنے سے تطویل کے اندیشہ سے ہم نے اعراض کیا اور حق تعالیٰ ہی ہدایت کا متولی ہے۔

چھبیسواں سوال:

کیا کہتے ہو قادیانی کے بارے میں جو مسیح ونبی ہونے کا مدعی ہے کیوں کہ لوگ تمہاری طرف نسبت کرتے ہیں کہ اس سے محبت رکھتے اور اس کی تعریف کرتے ہو، تمہارے مکارم اخلاق سے امید ہے کہ ان مسائل کا شافی بیان لکھو گے تاکہ قائل کو صدق وکذب واضح ہوجائے اور جوشک لوگوں کے مشوش کرنے سے ہمارے دلوں میں تمہاری طرف سے پڑگیا ہے وہ باقی نہ رہے۔

جواب:

ہم اور ہمارے مشائخ سب کا مدعی نبوت ومسیحیت قادیانی کی بارے میں یہ قول ہے کہ شروع شروع میں جب تک اس کی بدعقیدگی ہمیں ظاہر نہ ہوئی بلکہ یہ خبر پہنچی کہ وہ اسلام کی تائید کرتا ہے اور تمام مذاہب کو بدلائل باطل کرتا ہے تو جیسا کہ مسلمان کو مسلمان کے ساتھ زیبا ہے، ہم اس کے ساتھ حس ظن رکھتے اور اس کے بعض ناشائستہ اقوال کو تاویل کرکے  محمل حسن پر حمل کرتے رہے، اس کے بعد جب اس نے نبوت ومسیحیت کا دعویٰ کیا اور عیسیٰ مسیح کے آسمان پر اٹھائے جانے کا منکر ہوا اور اس کا خبیث عقیدہ اور زندیق ہونا ہم پر ظاہر ہوا تو ہمارے مشائخ نے اس کے کافر ہونے کا فتویٰ دیا۔ قادیانی کے کافر ہونے کی بابت ہمارے حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کا فتویٰ تو طبع ہوکر شائع بھی ہوچکا ہے۔ بکثرت  لوگوں کے پاس موجود ہے کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں مگر چونکہ مبتدعین کا مقصود یہ تھا کہ ہندوستان کے جہلاء کو ہم پر برافروختہ کریں اور حرمین شریفین کے علماء ومفتی و اشراف وقاضی ورؤسا کو ہم پر متنفر بنائیں کیوںکہ وہ جانتے ہیں کہ اہل عرب ہندی زبان اچھی طرح نہیں جانتے بلکہ ان تک ہندی رسائل وکتابیں پہنچتی بھی نہیں۔ اس لے ہم پر جھوٹے افتراء باندھے، سو خدا ہی سے مدد درکار ہے اور اسی پر اعتماد ہے اور اسی کا تمسک جو بھی ہم نے عرض کیا یہ ہمارے عقیدے ہیں اور یہی دین وایمان ہے۔ سو اگر آپ حضرات کی رائے میں صحیح و درست ہوں تو اس پر تصریح لکھ کر مہر سے مزین کردیجئے اور اگر غلط وباطل ہوں تو جو کچھ آپ کے نزدیک حق ہوں وہ ہمیں بتائیے! ہم ان شاء اللہ حق سے تجاوز نہ کریں گے اور اگر ہمیں آپ کے ارشاد میں کوئی شبہ لاحق ہوگیا تو دوبارہ پوچھ لیں گے یہان تک کہ حق ظاہر ہوجائے اور خفا نہ رہے اور ہماری پکار یہ ہے کہ سب تعریف اللہ کو زیبا ہے جو پالنے والا ہے تمام جہان کا اور اللہ کا درود وسلام نازل ہو اولین وآخرین کے سردار حضرت محمدﷺ پر اور ان کی اولاد وصحابہ وازواج و زریات سب پر زبان سے کہا اور قلم سے لکھا، خادم الطلبہ کثیر الذنوب والآثام حقیر خلیل احمد نے، خدا ان کو توشہ آخرت کی توفیق عطا فرمائے۔  ۱۸شوال۱۳۲۵ھ؁

تمام شد

شکر الحمد للہ رب العالمین عقائد سے متعلق رسالہ مکمل ہوا۔ بہت سارے مسلمانوں کی نظر سے اسلامی عقائد گزرے اور علماء دیوبند اہل سنت والجماعت کے متفقہ عقائد سے مسلمانوں کی بہت بڑی جماعت مستفید ہوئی۔

پہلا رسالہ عزیز العقائد اور اس کے متعلق عقائد سب مکمل ہوچکے ہیں، اللہ تبارک وتعالیٰ سب مسلمانوں کو عمل کی توفیق نصیب فرمائیں۔ آمین بحرمت سید المرسلین خاتم النبینﷺ وصحبہ اجمعین

ازقلم

تسھیل: محمد اشرف بالاکوٹی

نوٹ:

(ان شاء اللہ اس کے بعد رسالہ نمبر۳ مختصر تفسیر سورۃ فاتحہ شروع کی جائے گی)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor