Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

جواہرِ جہاد (قسط۹۴)

جواہرِ جہاد (قسط۹۴)

از: امیر المجاہدین حضرت اقدس مولانا محمد مسعود ازہر صاحب دامت برکاتہم العالیہ

(شمارہ 678)

دیکھی آپ نے خوفناک قسم کی دو رنگی۔ انگریزوں کے لئے منہ میں گھی شکر اور انہیں برا کہنا خلاف تہذیب اور بد اخلاقی اور مجاہدین کے لئے حرامی اور بدکار جیسے الفاظ… یہی تہذیب آپ کو وحید الدین خان کے قلم میں ملے گی… بالکل یہی دو رنگی، ہندوؤں کے لئے سینہ فراغ اور اپنوں کو دو دو من کی گالیاںاور یہی انداز آپ کو ہمارے ملک کے جہاد مخالف طبقے میں ملے گا۔ وہ اسلام دشمن کافروں کو برا بھلا کہنا کفر سمجھتے ہیں جبکہ اپنے مسلمان مجاہد بھائیوں کو گالیاں دینا اور انہیں مارنا اپنے ایمان کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ ہاں اللہ کے دشمن ایسے ہی ہوتے ہیں… قرآن و سنت میں ان کی یہی علامات درج ہیں جبکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے محبوب بندے کافروں کے لئے سخت اور مسلمانوں کے لئے نرم ہوتے ہیں یہاں دو رنگی کی بات چل نکلی تو ایک دو رنگی بھی ملاحظہ فرما لیں۔ مرزا قادیانی، وحید الدین خان، منکرین حدیث اور جہاد کے مخالف طبقے جب جہاد کے خلاف لکھتے یا بولتے ہیںتو جہاد کے معنیٰ ’’قتال فی سبیل اللہ‘‘ لیتے ہیںچنانچہ آپ نے مرزا قادیانی کے اب تک جتنے حوالے اس مضمون میں پڑھے ہیںان میں مرزا لفظ جہاد سے قتال ہی مراد لے رہا ہے اور قتال ہی کو حرام قرار دے رہا ہے۔ آپ ان عبارتوں کو دوبارہ پڑھ لیجئے آپ کو درجنوں ثبوت اس بات کے مل جائیں گے کہ مرزا مسلمانوں کو لڑنے سے منع کر رہا ہے اور قتال کو حرام قرار دے رہا ہے… لیکن جب قرآن و سنت میں جہاد کے بے شمار فضائل سامنے آتے ہیں تو مرزا قادیانی سے لے کر ہر جہاد مخالف طبقہ ان فضائل کو اپنی ذات کے لئے ثابت کرنے پر تل جاتا ہے۔ جب وہ جہاد کے بیسیوں معنی نکال کر خود کو ایک مجاہد اعظم ثابت کرتے ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی ملعون و دجال لکھتا ہے:

’’جنگ سے مراد تلوار و بندوق کا جنگ نہیں کیونکہ یہ تو سراسر نادانی اور خلاف ہدایت قرآن ہے جو دین کے پھیلانے کے لئے جنگ کیا جائے اس جگہ جنگ سے ہماری مراد زبانی مباحثات ہیں جو نرمی اور انصاف اور معقولیت کی پابندی کے ساتھ کئے جائیںورنہ ہم ان تمام مذہبی جنگوں کے سخت مخالف ہیں جو جہاد کے طور پر تلوار سے کئے جاتے ہیں۔‘‘

(تریاق القلوب ص۲، روحانی خزائن ص۱۳۰، ج ۱۵)

مرزا کی یہ عبارت غور سے پڑھیں اور پھر اس خطرناک سازشی دو رنگی کو دیکھیں کہ کس عیاری کے ساتھ جہاد کے معنیٰ کو مشکوک کیا جارہا ہے۔ نیز وہ حضرات جو جہاد کا لفظ آتے ہی مشین چلا دیتے ہیں کہ وہ بھی جہاد ہے۔ اس عبارت پر غور فرمائیں کہ مرزا کہہ رہا ہے اس جنگ سے ہماری مراد (یعنی جہاد کے معنی بدلنا اور انہیں خلط کرنا) قادیانی مراد ہے چنانچہ جو لوگ قادیانی مراد پوری کر رہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور جہاد کے ساتھ انصاف کریں۔ مرزا قادیانی ملعون نے انگریز کے زیر سایہ رہتے ہوئے جہاد کے خلاف جو کچھ بویا وہ مسلمانوں کے لئے ایک خطر ناک ناسور بنا ہوا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ قادیانی افکار کی کی تردید کے وقت اس موضوع کو خاص اہمیت دی جائے کیونکہ یہی موضوع قادیانیت کا نچوڑ اور خلاصہ ہے اور جہاد کے بارے میں پھیلے ہوئے قادیانی وساوس مرزا ملعون کی ظاہری کامیابی ہیں اب اگر ہم اس فتنہ ملعونہ کو ناکام کرنا چاہتے ہیںتو ہم پر لازم ہے کہ جہاد کے بارے میں اپنا اور امت مسلمہ کا ذہن صاف کریں اور اپنے لٹریچر کو جہاد مخالف قادیانی وساوس سے صاف کر لیں۔ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ امریکہ نے قادیانیوں کو منظم کرنے کے لئے نئے بجٹ کا اعلان کر دیا ہے اور اب انگریزوں کے بعد امریکی اس ناپاک ٹولے کی سرپرستی کر رہے ہیں… ہمیں اس بات سے کوئی پریشانی نہیں ہے کیونکہ قادیانیت ایک باطل ہے اور باطل نے ٹوٹنا اور ختم ہونا ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنی جماعت کو انگریز کی پناہ میں دیا تھا۔ چنانچہ وہ لکھتا ہے:

’’حالانکہ میں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے میری اور میری جماعت کی پناہ اس سلطنت کو بنا دیا ہے یہ امن جو اس سلطنت کے زیر سایہ ہمیں حاصل ہے یہ امن مکہ معظمہ میں مل سکتا ہے نہ مدینہ میں اور نہ سلطان روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ میں۔ پھر میں خود اپنے آرام کا دشمن بنوں اگر اس سلطنت کے بارے میں کوئی باغیانہ منصوبہ دل میں مخفی رکھوں اور جو لوگ مسلمانوں میں سے ایسے بدخیال جہاد اور بغاوت دلوں میں مخفی رکھتے ہوں میں ان کو سخت نادان اور ظالم سمجھتا ہوں۔‘‘

(تریاق القلوب ص ۲۸، روحانی خزائن ص۱۵۶، ج ۱۵)

امید ہے آپ سمجھ چکے ہوں گے کہ جہاد کی مخالفت کسی دینی دلیل کی بنیاد پر نہیں صرف اور صرف انگریز کی پناہ حاصل کرنے کے لئے تھی۔ بعینہ یہی حال وحید الدین خان اور دوسرے مخالفین جہاد کا ہے۔ یہ سب لوگ کچھ دینی عبارتوں کا سہارا ضرور لیتے ہیں، بعض آیات و احادیث کو توڑ مڑور کر بیان کرتے ہیں مگر یقین کریں کہ یہ لوگ کسی دینی جذبے اور دلیل کے تحت جہاد کے مخالف نہیں ہوتے بلکہ جہاد کی مخالفت ان کی نوکری، ڈیوٹی اور ذمہ داری ہے جو ان کے کافر آقاؤں نے ان کے ذمے لگائی ہے۔ یہ لوگ اپنی حفاظت چاہتے ہیں اور دنیا کا ڈھیروں مال اور بس… برطانیہ نے اس ٹولے کی سرپرستی کی مگر پھر بھی ابھی تک قادیانی دھکے کھاتے پھرتے ہیں۔ انہوں نے ربوہ نام سے ایک شہر بسایا مگر الحمد للہ اس کا نام تبدیل ہو گیا ہے اور مرزائیوں کے لئے بھولے بھالے لوگوں کو گمراہ کرنے کا ایک دروازہ بند ہو گیا۔ انہوں نے برطانیہ میں پناہ پکڑی اور افریقہ کی غربت کو قادیانیت کے لئے پل بنایا مگر اہل حق ہر جگہ ان کا پیچھا کر رہے ہیں۔ قادیانیت کی عمر تھوڑی ہے اور اس باطل نے مٹنا ہے مگر مسلمانوں کے ذمہ لازم ہے کہ وہ اپنے دل و دماغ کو ناپاک قادیانی وساوس سے پاک رکھیں اور جہاد کے ساتھ غیر مشروط محبت اور وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے اس بات کا اعلان کر دیں کہ ہم مرزا قادیانی پر بھی لعنت بھیجتے ہیں اور اس کے باطل نظریات پر بھی۔

جہادی نورانی رشتے

امام المجاہدین، قطب الاقطاب حضرت سید احمد شہید رحمہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں شیخ الاسلام حضرت مولانا شاہ اسمٰعیل شہید رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’ان معاملات میں سے سے اول اور افضل یہ ہے کہ آپ (سید احمد شہید رحمہ اللہ) نے جناب رسالت مآب صلوات اللہ وسلامہ علیہ کو خواب میں دیکھا آنحضور ﷺ نے تین کھجوریں اپنے دست مبارک سے آپ کو کھلائیں اس انداز سے کہ ایک ایک کھجور اپنے دست مبارک میں لے کر آپ کے دہن مبارک میں رکھتے تھے اس کے بعد جب آپ بیدار ہوئے تو اپنے اندر اس رویائے حقہ (سچے خواب) کا اثر ظاہر و باہر محسوس ہوا۔ اس واقعے سے آپ کو سلوک طریق نبوت کی ابتداء حاصل ہوگئی… (مزید دو خواب ذکر کر نے کے بعد لکھتے ہیں) حتیٰ کہ ایک شخص نے حضرت سید صاحب رحمہ اللہ کی خدمت میں بیعت کی استدعا کی، حضرت ان دنوں عام طور پر بیعت نہیں لیا کرتے تھے، اس بناء پر اس شخص کی التماس قبول نہ فرمائی اس نے نہایت درجہ الحاج کی، حضرت نے اسے فرمایا کہ : ایک دو روز توقف کرنا چاہئے بعد میں جو کچھ مناسبِ وقت ہوگا ویہ عمل میں آئے گا۔ پھر (سید احمد شہید رحمہ اللہ) حضرت حق (اللہ تعالیٰ) کی جناب میں استفسار و اجازت کے لئے متوجہ ہوئے، اور عرض کیا کہ آپ کے بندوں میں سے ایک بندہ مجھ سے بیعت کی استدعا کرتا ہے آپ نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا ہے اور اس جہان میں کوئی کسی کا ہاتھ پکڑتا ہے تو ہمیشہ دستگیری کا پاس ( لحاظ) کرتا ہے، آپ کے اوصاف کو مخلوقات کے اخلاق سے کچھ بھی نسبت نہیں، پس اس معاملہ میں کیا منظور ہے؟ بارگاہ حق (اللہ تعالیٰ کی جانب ) سے حکم ہوا کہ جو لوگ تمہارے ہاتھ پر بیعت ہوں گے اگرچہ وہ لاکھوں کی تعداد میں ہوں ہم سب کی کفایت کریں گے۔‘‘

حضرت سید احمد شہید رحمہ اللہ کی ولادت صفر ۱۲۰۱ھ میں ہوئی… آپ حضرت سید شاہ علم اللہ نقشبندی کی اولاد سے ہیں، آپ کا خاندان تکیہ رائے بریلی میں مقیم تھا، آپ حسنی حسینی سید ہیں… حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ کے خاندان کے ساتھ آپ کے خاندان کے گہرے روابط تھے… جوانی کا زمانہ آیا تو آپ کے والد ماجد سید محمد عرفان رحمہ اللہ انتقال فرما گئے، حالات کے تقاضے سے آپ نے پہلے لکھنؤ اور پھر دہلی کا سفر کیا… دہلی پہنچ کر آپ حضرت شاہ عبد العزیز صاحب رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت شاہ صاحب نے تعارف ہونے پر بہت گرمجوش استقبال فرمایا اور بطور بشارت ارشاد فرمایا کہ اللہ کا فضل اگر شامل حال رہے تو اپنے ددھیال اور ننھیال کی میراث تم کو مل جائے گی… اس کے بعد آپ کو اپنے باکمال بھائی ترجمان القرآن حضرت شاہ عبد القادر صاحب رحمہ اللہ کے سپرد کر دیا… حضرت سید صاحب نے باقاعدہ بیعت تو حضرت شاہ عبد العزیز صاحب رحمہ اللہ سے فرمائی مگر باطنی استفادہ دونوں بزرگوں سے کرتے رہے۔ اور اس میں آپ نے اعلیٰ درجہ کا کمال حاصل فرمایا یہاں تک کہ خود حضرت شاہ عبد العزیز صاحب رحمہ اللہ منشی نعیم کو ایک خط میں تحریر فرماتے ہیں:

’’اس امت میں چالیس ابدال ہر وقت رہتے ہیں جن کے صدقے میں اہل زمین پر بارش برستی ہے اور انہیں رزق ملتا ہے اور انہی کے صدقے نصرت حاصل ہوتی ہے چہ عجب کہ سید احمد کو بھی ایسا ہی رتبہ مل گیا ہو اس لئے ان کے مقام کا انکار نہیں کرنا چاہئے ۔‘‘

یہ تمام باتیں اس وقت کی ہیں جب ابھی سید احمد شہید رحمہ اللہ پچیس سال کے نوجوان تھے اسی عمر میں آپ نے نکاح بھی فرمایا اور ۱۲۲۶ھ میں دوبارہ رائے بریلی سے دہلی تشریف لے گئے۔ چھوٹی سی عمر میں اتنے بلند مقامات پر پہنچنے کے باوجود حضرت سید صاحب کا دل جہاد ہی کے لئے تڑپ رہا تھا چنانچہ ۱۲۲۷ھ میں حضرت شاہ عبد العزیز رحمہ اللہ کی اجازت سے نواب امیر خان والی ریاست ٹونک کے لشکر میں شامل ہو گئے۔

منظورۃ السعداء میں ہے:

ترجمہ: ’’اقامت جہاد کے بارے میں آپ کو جو الہام ربانی ہوا اس کی بناء پر آپ نواب امیر کے لشکر کی طرف تشریف لے گئے۔‘‘

آپ اس لشکر میں چھ سال سے زائد رہے سید صاحب کے تذکرے اور تاریخیں اس زمانہ قیام کی کرامات اور واقعات غریبہ سے پر ہیں۔

۱۲۳۲ھ میں جب نواب امیر خان کی انگریزوں سے صلح ہو گئی تو حضرت سید صاحب نے لشکر سے علیحدگی اختیار کر لی اور حضرت شاہ عبد العزیز رحمہ اللہ کی خدمت میں لکھا کہ ’’خاکسار قدم بوسی کو حاضر ہوتا ہے، یہاں لشکر کا کارخانہ درہم برہم ہو گیا۔ نواب صاحب انگریزوں سے مل گئے، اب یہاں رہنے کی کوئی صورت نہیں۔‘‘

ایک ہفتہ بعد حضرت سید صاحب رحمہ اللہ دہلی تشریف لائے اور حسب معمول اکبر آباد کی مسجد میں قیام فرمایا اور لوگوں کا رجوع ہوا۔ انہی دنوں شیخ الاسلام حضرت مولانا عبد الحئی رحمہ اللہ اور حجۃ الاسلام مولانا شاہ محمد اسمٰعیل رحمہ اللہ آپ کے حلقہ بیعت و ارادت میں داخل ہوئے۔ مرشد وقت حضرت شاہ عبد العزیز رحمہ اللہ کی زندگی میں ان اماموں کا کسی کی بیعت میں داخل ہونا معمولی واقعہ نہ تھا اس کا بڑا چرچا ہوا، جوق در جوق علماء و فضلاء و صالحین بیعت ہونے لگے۔ شاہ صاحب کے خاندان کے اکثر افراد شاہ صاحب کی اجازت سے… مولانا محمد یوسف صاحب نبرہ حضرت شاہ اہل اللہ صاحب، برادر حضرت شاہ ولی اللہ صاحب رحمہ اللہ مع خاندان، مولوی وجیہ الدین صاحب رحمہ اللہ، حافظ معین الدین صاحب رحمہ اللہ وغیرہ مع خاندان واقرباء آپ کے مرید ہوئے اور ایسی مقبولیت و شہرت ہوئی کہ ید خلون فی دین اللہ افواجا  کا سماں بندھ گیا۔

اس کے بعد آپ نے ملک کے طول و عرض میں تبلیغی اسفار فرمائے آپ جہاں بھی تشریف لے گئے وہاں لوگوں کا رجوع اور ہجوم ہوا۔

  ہر ہر جگہ سینکڑوں آدمی متقی، متورع، عابد، متبع سنت اور ربانی بن گئے، ہزاروں فاسق صالح اور اولیاء اللہ ہو گئے، بیسیوں آدمی قتل کے ارادے سے آئے اور جانثار بن گئے اور گھر بار چھوڑ کر آپ کے ساتھ ہو گئے یہاں تک کہ میدان جنگ میں شہید ہو گئے۔ جس نے ایک مرتبہ زیارت کر لی وہ آپ کے رنگ میں رنگ گیااور مرتے مرتے مر گیامگر شریعت سے ایک قدم نہ ہٹا۔ اسی سفر کے دوران سہارنپور میں شیخ المشائخ حضرت حاجی عبد الرحیم صاحب ولائتی (شیخ الشیخ قطب عالم حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی) نے ایک روحانی اشارہ کی بناء پر آپ کے دست مبارک پر بیعت کی۔

حضرت حاجی عبد الرحیم صاحب شہید رحمہ اللہ اس بیعت کے بعد پوری زندگی حضرت سید صاحب کے ساتھ رہے اور ایک جنگ میں حضرت سید صاحب کا دفاع فرماتے ہوئے شہید ہوئے حضرت حاجی عبد الرحیم صاحب نے سید صاحب سے بیعت کے بعد اپنے تمام خلفاء اور مریدین کو بلوا کر حضرت سید صاحب سے بیعت کروایا انہیں خلفاء کرام میں حضرت میاں نور محمد صاحب جھنجھاوی رحمہ اللہ بھی شامل ہیں، حضرت سید صاحب نے حضرت میاں جی رحمہ اللہ کو بیعت فرمایا اور انہیں خلافت سے نوازا اور پھر جہاد کے خفیہ کاموں پر ان کی تشکیل فرمائی۔

سید الطائفہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ انہیں حضرت میاں نور محمد صاحب رحمہ اللہ کے خلیفہ تھے یوں علماء دیوبند کی روحانی سند سیدھی حضرت سید احمد شہید رحمہ اللہ تک پہنچتی ہے، یقینا اسی سند اور نسبت کا ان پر اثر ہے۔

(جاری ہے)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor