Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

درود شریف۔۲

درود شریف۔ فضائل، خواص، مسائل، مواقع،آداب۔۲

از: حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ

(شمارہ 678)

(۱۰)… سب سے لزیز تر اور شریں تر خاصیت درود شریف کی یہ ہے کہ اس کی بدو لت عشّاق کو خواب میں حضور پُر نور صلی اللہ علیہ وسلم کی دولتِ زیارت میسّرہوئی ہے… بعض درودوں کو بالخصوص بزرگوں نے آزمایا ہے۔

شیخ عبد الحق دہلوی رحمۃ اللہ نے ’’کتاب ترغیب اہل السعادات‘‘ میں لکھا ہے کہ جو شخص شبِ جمعہ میں دو رکعت نماز نفل پڑھے اور ہر رکعت میں گیارہ بار ’’آیۃ الکرسی‘‘ اور گیارہ بار ’’قُلْ ھُوَ اللہُ ‘‘ اور بعد سلام سو بار یہ درود شریف پڑھے، ان شاء اللہ تعالیٰ تین جمعہ نہ گزرنے پاویں گے کہ زیارت نصیب ہوگی۔

وہ درود شریف یہ ہے:

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِ نِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَاٰ لِہٖ وَاَصْحَابِہٖ وَسَلَّمْ۔

نیز شیخ موصوف نے لکھا ہے کہ جو شخص دو رکعت نماز پڑھے، ہر رکعت میں بعد ’’الحمد‘‘ کے پچیس بار ’’قل ھواللہ‘‘  اور بعد سلام کے یہ درود شریف ہزار مرتبہ پڑھے، دولت زیارت نصیب ہو۔

وہ درود شریف یہ ہے:

 صَلَّی اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ۔

نیز شیخ موصوف نے لکھا ہے کہ سوتے وقت ستر بار اس درود شریف کو پڑھنے سے دولتِ زیارت نصیب ہو:

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ بَحْرِاَنْوَارِکَ وَ مَعْدَنِ اَسْرَارِکَ وَلِسَانِ حُجَّتِکَ وَعَرُوْسِ مَمْلَکَتِکَ وَاِمَامِ حَضْرَتِکَ وَطِرَازِ مُلْکِکَ وَخَزَائِنِ رَحْمَتِکَ وَ طَرِیْقِ شَرِیْعَتِکَ الْمُتَلَذِّذِ بِتَوْحِیْدَکَ اِنْسَانِ عَیْنِ الْوُجُوْدِ وَالسَّبَبِ فِیْ کُلِّ مَوْجُوْدٍ عَیْنِ اَعْیَانِِ خَلْقِکَ الْمُتَقَدِّمِ مِنْ ُنوْرِ ضِیَائِکَ صَلٰوۃً تَدُ وْمُ بِدَوَامِکَ وَ تَبْقٰی بِبَقَائِکَ لاَ مُنْتَھٰی لَھَا دُوْنَ عِلْمِکَ صَلٰوۃً تُرْضِیْکَ وَتُرْضِیْہِ وَ تُرْضٰی بِھَا عَنَّا یَارَبِّ الْعٰلَمِیْنِ۔

نیز اس کو بھی سوتے وقت چند بار پڑھنا زیارت کے لیے شیخ نے لکھا ہے:

اَللّٰھُمَّ رَبَّ الْحِلِّ وَالْحَرَمِ وَرَبَّ الْبَیْتِ الْحَرَامِ وَرَبَّ الرُّکْنِ وَالْمَقَامِ! اِبْلِغْ لِرُوْحِ سَیِّدِنَا وَ مَوْلَنَا مُحَمَّدٍ مِّنَّا السَّلاَمَ۔

مگر بڑی شرط اس دولت کے حصول میں قلب کا شوق سے پُر ہونا، اور ظاہری و باطنی معصیتوں نے بچنا ہے۔

واقعات

(۱)… ’’مواہبِ لدینہ‘‘ میں تفسیر قشیری سے نقل کیا ہے کہ قیامت میں کسی مؤمن کی نیکیاں کم وزن ہو جاویں گی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک پرچہ سرِِ انگشت کے برابر نکال کر میزان میںرکھ دیں گے جس سے نیکیوں کا پلہ وزنی ہو جاوے گا۔

وہ مؤمن کہے گا:

میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جاویں۔

آپ کون ہیں؟

آپ کی صورت اور سیرت کیسی اچھی ہے!

آپ فرماویں گے: ’’میں تیرا نبی ہوں اور یہ درود جو تو نے مجھ پر پڑھا تھا، میں نے تیری حاجت کے وقت اس کو ادا کر دیا۔‘‘

(حاشیۂ حصین)

(۲) … حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ کہ جلیل القدر تابعی اور خلیفۂ راشد ہیں، شام سے مدینہ منورہ کو خاص قاصد بھیجتے تھے کہ ان کی طرف سے روضۂ شریف پر حاضر ہو کر سلام عرض کرے۔

(حاشۂ حصین ازفتح القدیر)

(۳)… ’’روضۃ الأحباب‘‘ میں امام اسماعیل بن ابراہیم مزنی سے جو امام شافعی رحمہما اللہ کے بڑے شاگردوں میں ہیں، نقل کیا ہے، کہ میں نے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کو بعد انتقال کے خواب میں دیکھا، اور پوچھا کی اللہ تعالیٰ نے آپ سے کیا معاملہ فرمایا؟

 وہ بولے:

مجھے بخش دیا اور حکم دیا کہ مجھ کو تعظیم و احترام کے ساتھ بہشت میں لے جاویں، اور یہ سب برکت ایک درود کی ہے جس کو میں پڑھا کرتا تھا، میں نے پوچھا وہ کون سا درود ہے؟۔

 فرمایا یہ ہے:

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ کُلَّمَا ذَکَرَہُ الذَّاکِرُوْنَ وَکُلَّمَا غَفَلَ عَنْ ذِکْرِہِ الْغَافِلُوْنَ۔

(حاشیۂ حصین)

(۴) … ’’مناہج الحسنات‘‘ میں ابنِ فاکہانی کی کتاب ’’فجرِ منیر‘‘ سے نقل کیا ہے کہ ایک بزرگ شیخ صالح موسیٰ رحمۃ اللہ علیہ ضریر(نابینا) تھے، انہوں نے اپنا گزرا ہوا قصہ مجھ سے نقل کیا کہ ایک جہاز ڈوبنے لگا اور میں اس میں موجود تھا، اس وقت مجھ کو غنودگی سی ہوئی، اس حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو یہ درود تعلیم فرما کر ارشاد فرمایا:

’’کہ جہاز والے اس کو ہزار بار پڑھیں۔‘‘ 

ہنوز تین سو بار پر نوبت نہ پہنچی تھی کہ جہاز نے نجات پائی… اور بعد الممات کے۔ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ‘‘ بھی اس میں معمول ہے اور خوب ہے، وہ درود یہ ہے:

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ صَلٰوۃً  تُنْجِیْنَا بِھَا مِنْ جَمِیْعِ الْاَھْوَالِ وَالْاٰ فَاتِ وَ تَقْضِیْ لَنَا بِھَا جَمِیْعَ الْحَاجَاتِ وَتُطَھِّرُنَا بِھَا مِنْ جَمِیْعِ السَّیِّئَاتِ وَ تَرْفَعُنَا بِھَا اَعْلَی الدَّرَجَاتِ وَ تُبَلِّغُنَا بِھَا اَقْصَی الْغَایَاتِ مِنْ جِمِیْعِ الْخَیْرَاتِ فِی الْحَیٰوۃِ وَ بَعْدَ الْمَمَاتِ۔

اور شیخ مجد الدین صاحبِ قاموس نے بھی اس حکایات کو بسند خود ذکرکیا ہے۔

 فائدہ: اس درود شریف کا بکثرت پڑھنا اور مکان میں لکھ کر چسپاں کرنا تمام امراض و بائیہ، ہیضہ و طاعون وغیرہ سے خفاظت لے لیے مفید اور مجرب ہے، اور قلب کو عجیب و غریب اطمینان بخشتا ہے او ر’’تَرْفَعُنَا بِہَا‘‘کے بعد بعض لوگ لفظ ’’عِنْدَکَ ‘‘ بھی پڑھتے ہیں، حضرت مولانا مدظلہ نے ایک والا نامۂ میں احقرکو اسی طرح تحریر فرمایا تھا۔

(حررہ محمد انعام اللہ غفراللہ لہ)

(۵) … بعض رسائل میں عبید اللہ بن عمر قواریر سے نقل کیا ہے کہ ایک کاتب میرا ہمسایہ تھا وہ مر گیا، میں نے اس کو خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ خدا تعالیٰ نے تیرے ساتھ کیا معاملہ کیا؟

کہا: مجھے بخش دیا، میں نے سبب پوچھا،کہا :

’’میری عادت تھی جب نام پاک رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کا کتاب میں لکھتا تو صلی اللہ علیہ وسلم بھی بڑھاتا، خدائے تعالیٰ نے مجھ کو ایسا کچھ دیا کہ نی کسی آنکھ نے دیکھا، اورنہ کسی کان نے سنا، نہ کسی دل پرگزرا۔‘‘

(گلشنِ جنت)

(۶)… ’’دلائل الخیرات‘‘ کی وجۂ تالیف مشہور ہے کہ مؤلف کو سفر میں وضو کے لیے پانی کی ضرورت تھی اور ڈول رسّی کے نہ ہونے سے پریشان تھے، ایک لڑکی نے یہ حال دیکھ کردریافت کیا اور کنوئیں کے اندر تھوک دیا، پانی کنارے تک اُبل آیا، مؤلف نے حیران ہوکر اس کی وجہ پوچھی، اس نے کہا:

’’یہ برکت درود شریف کی ہے۔‘‘ 

جس کے بعد انہوں نے یہ کتاب ’’دلائل الخیرات‘‘ کی تالیف کی۔

(جاری ہے)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor