Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

مفتاح القرآن۔۲

مفتاح القرآن۔۲

المعروف بہ تفسیر سورۃ الفاتحہ

مولانا صاحبزادہ ابوالفیض محمد امیر خسرو

(شمارہ 682)

حضرت مولانا صاحبزادہ ابوالفیض محمد امیر خسرو اشعری چشتی سجادہ نشین ترنوائی شریفؒ فاضل دارالعلوم دیوبندکی تصانیف میں سے (۱) باب الفیض (۲) عزیز العقائد (۳) تفسیر سورۃ فاتحہ۔ پہلے دو مکمل ہونے کے بعد اب تیسرا رسالہ تفسیر سورۃ فاتحہ شروع کیا جارہا ہے۔

جب بسم اللہ نازل ہوئی تو اس کے نازل ہونے سے عرش ہلا تھا اور ملائکہ دوزخ نے کہا تھا کہ جس نے اس کو پڑھا وہ دوزخ میں داخل نہ ہوگا۔ بسم اللہ کے ۱۹ حرف ہیں اور دوزخ پر مقرر شدہ ملائکہ بھی ۱۹ ہیں۔ (شمس المعارف ص۴۵)

اسی بسم اللہ کے طفیل سے سلیمان  علیہ السلام کی سلطنت قائم ہوئی تھی۔ (اسراربسم اللہ)

 حضرت عبداللہ بن عمیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس شخص کو کوئی حاجت درپیش ہو اس کو چاہیے کہ بدھ جمعرات اورجمعہ کا روزہ رکھے پھر جمعہ کو غسل کرکے کسی جامعہ مسجد میں جائے اور کچھ صدقہ مساکین کو تقسیم کرے پھر جمعہ کے بعد یہ دعا پڑھے:

’’اللّٰھم انی اسئلک باسمک الرحمٰن الرحیم لاالٰہ الا ھو الحی القیوم‘‘ آخر آیت تک پڑھے پھر یہ پڑھے:

’’الذی عنت لہ الوجوہ وخشعت لہ الاصوات ووجلت لہ القلوب من خشیتہ أسئلک اَن تصلی وتُسلم علی سیدنا محمد وعلی اٰلہ وصحبہٖ وسلّم وان تقضی حاجتی‘‘ اور اپنی حاجت کا نام لے۔

حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ یہ دعا جاہلوں سے پوشیدہ رکھنا ورنہ وہ ایک دوسرے پر بددعا کریں گے اور قبول ہوگی اور جاننا چاہیے کہ بسم اللہ اور اسم اعظم میں اتنا فرق ہے جتنا کہ آنکھ کی سفیدی اور سیاہی میں اور آدمی کی شیطان سے حفاظت بسم اللہ ہی ہے۔

اسرار لفظ اللہ

اگر ہم لفظ اللہ سے الف دور کریں تو ’’للّٰہ‘‘ رہ جائے گا، یعنی اللہ کے لیے اور اگر الف اور لام دونوں دور کریں تو ’’لہ‘‘ رہ جائے گا یعنی اس کے لیے ہے اور اگر یہ لام بھی دور کریں تو ’’ھو‘‘ رہ جائے گا یعنی وہ۔ معلوم ہوا کہ لفظ اللہ قطب الاسماء ہے پس اس کے سب حرف بالذات قائم ہیں۔ یہ بات کسی اور اسم میں نہیں ہے۔

اسم اللہ کے چارف ہیں۔ ایک الف اور دولام اور ایک یا اور طبعیتیں بھی چار ہیں۔ آبی، آتشی، خاکی، بادی۔ اور سمتیں بھی چار ہیں۔ مشرق، مغرب، شمال،جنوب۔ اور ملائکہ تسبیح بھی چار ہیں۔ جبرائیل، میکائیل، اسرافیل، عزرائیل۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم حضرت آدم علیہ السلام کی پیشانی پر لکھی ہوئی تھی۔ یہی بسم اللہ الرحمٰن الرحیم جبرائیل علیہ السلام کے پَر پر لکھی ہوئی ہے اور بسم اللہ ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا پر لکھی ہوئی تھی اور بسم اللہ ہی حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی پر لکھی ہوئی تھی اور بسمم اللہ ہی قرآن کریم کی ہر سورۃ کے شروع میں لکھی ہوئی ہے۔

فوائد بسملہ

جو شخص سات سو چھیاسی بار سات روز برابر پڑھے اس کی نیت اور ارادہ پورا ہو۔ جو کوئی سوتے وقت بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۳۱ بار پڑھے وہ اس رات میں شر شیطان سے محفوظ ہو۔ اگر طلوع آفتاب کے وقت آفتاب کے مقابل ہوکر ۳۰۰ بار بسم اللہ پڑھے اور اس کے ساتھ تین سو بار درود شریف پڑھے تو ایک سال کے اندر امیر کبیر ہوجائے لیکن نیت سچی ہو۔کند ذہن پر روز سات سوچھیاسی بار پڑھ کر پانی پر دم کرکے پلائے اس کا ذہن کشادہ ہو۔ جو شخص ڈھائی ہزار بار بطور ریاضت وچلہ کشی کے بمع شرائط پڑھے اس پر مستقبل میں آنے والے حالات منکشف ہوں۔ اگر بانجھ عورت ایک سو دس بار بروز اتوار لکھ کر کمر کے ساتھ باندھے تو اس کو حمل ٹھہر جائے اور اگر کسی کی اولاد نہ جیتی ہو اسے بسم اللہ کو اکسٹھ بار لکھ کربطور تعویز اپنے پاس رکھے اس کی اولاد زندہ رہے گی۔ خادم طریقت کے مجربات میں سے ہے اس خادم نے کئی بار تجربہ کیا ہے۔ (خادم الفقراء صاحب زادہ ابوالفیض محمد امیر خسرو اشعری چشتی)

جب خدا نے حرف ’’ب‘‘ کو زمین پر اتارا تو اس کے ساتھ ۸۱ فرشتے پیدا کیے اور حرف ’’س‘‘ کو جب پید اکیا تو نو ہزار آٹھ سو اسی فرشتے نازل ہوئے۔ طوالت کی وجہ سے حروف تہجی کا مفصل بیان نہیں لکھ سکتا باقی کتب تصوف وتعویزات میں بالتفصیل درج ہے۔ (اسرار بسملہ ص ۱۱)

بسم اللہ کی ’’ب‘‘ سے خدا کی بہار اور ’’س‘‘ سے سنا اور ’’م‘‘ سے مجد اور  ملکوت اور ’’الف‘‘ سے ازلیت اور ’’لام‘‘ سے لطف اور ’’ہ‘‘ سے ہدایت اور ’’الف‘‘ سے امر  اور ’’لام‘‘ سے لک (سب کچھ اللہ کے لیے) اور ’’را‘‘ سے رحمت اور ’’حاء‘‘ سے حکمت اور ’’میم‘‘ سے ملک اور ’’ن‘‘ سے نعمت مراد ہے اور ’’یا‘‘ سے یاوری مراد ہے۔

حضرت مولانا شیخ احمد بونیؒ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جب بسم اللہ کی آیت نازل ہوئی تو اہل آسمان از حد خوش ہوئے اور عرش عظیم ہلنے لگا اور بے شمار فرشتے جن کی گنتی خدا ہی کو معلوم ہے نازل ہوئے اور ملائکہ کا ایمان بڑھ گیا اور افلاک نے حرکت کی اور اس کی عظمت کے آگے سلاطین ذلیل ہوئے۔(شمس المعارف ربع اول ص ۵۰)

اور فرمایا کہ جس شخص نے صدق دل سے بسم اللہ کہی اس کے واسطے پہاڑ مغفرت مانگتے ہیں مگر ان کی مغفرت مانگنے کو یہ سنتا نہیں ہے اور فرمایا کہ انجیل شریف  میں خدائے قدوس حضرت عیسٰی علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ تم نماز اور قرأت میں بسم اللہ پڑھا کرو کیونکہ جو شخص اس کو پڑھے تو منکر اور نکیر کے ہول سے محفوظ رہے گا اور بوقت موت سکرات  موت سے محفوظ رہے گا اور قبر اس کی کشادہ ہوگی اور جب قبر سے اٹھے گا تو جسم اس کا سفید اور منہ نور سے چمکدار ہوگا۔ (شمس المعارف ربع  اول ص۴۰۔ اسرار بسملہ ص۱۴)

اسی میں بسم اللہ کی برکت سے نوح علیہ السلام کی کشتی چلی تھی اور کشتی نوح پر یہی بسم اللہ لکھی تھی۔ اسی ہی بسم اللہ کی برکت سے حضرت ابراہیم علیہ السلام  نے آگ سے نجات پائی تھی۔ پیغمبر خدا نے کہا ہے کہ جس نے وضو کرتے وقت بسم اللہ کو نہ پڑھا اس کا وضو ناتمام ہے۔

اسرار لفظ رحمن

رحمٰن رحمت سے مشتق ہے اور رحمت اپنی مرحمت کوچاہتی ہے اور ہر مرحوم اپنے راحم کا محتاج ہے اور راحم ہی رحمٰن  ہے۔

رحمن اور رحیم میں فرق

اللہ پر رحمن کا اطلاق اور رحمن پر اللہ کا اطلاق دونوں جائز ہیں۔ حضرت باری تعالیٰ فرماتے ہیں:

’’قل ادعوا اللہ اوادعوا الرّحمٰن‘‘

خدا کو اللہ سے پکارو یا رحمٰن سے پکارو ہردوجائز ہیں لیکن اسم رحمٰن کااطلاق غیراللہ پر درست نہیں اور رحیم کا اطلاق غیر اللہ پر درست ہے۔ چنانچہ ہمارے حضور کی شان میں وارد ہے:

’’وبالمؤمنین رؤوف رحیم‘‘

حضرت محمدﷺمومنوں پر رؤف بھی ہیں اور رحیم بھی ہیں۔ رحیم اس شخص کو کہتے ہیں جس میں رحمت اور شفقت غالب ہو۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online