Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اسلام کیا ہے؟۔۲

اسلام کیا ہے؟۔۲

انتخاب: مولوی محمد حق نواز

(شمارہ 682)

نتائج ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، مسؤلیت سے عہدہ برآء ہونے کے لئے تمام آسمانی ہدایات پر عمل کرنے کا جیسے حکم ہے اس کی تعمیل ہوگی۔

الغرض: ایمان اور ایمانی حقائق کو و اشگاف بیان کرنا، کفر و شرک کی باتوں کو واضح کرنا اور عملی جد وجہد کے تمام مراحل سے گزرنا انبیاء کرام علیہم السلام کے لئے ناگزیر ہے، اگر دعوت  وتبلیغ کے کسی مرحلے پر ’’لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی‘‘ کا اعلان ہوتا ہے توکسی مرحلے پر جا کر’’ما کان لنبی أن یکون لہ أسری حتی یثخن فی الارض‘‘کا اعلان بھی ہوتا ہے۔

’’وقاتلوا الذین یلونکم من الکفار ولیجدوا فیکم غلظۃ۔‘‘

اور یہ بھی اعلان ہوتا ہے۔

’’یا أیھا النبی جاھد الکفار والمنافقین و اغلظ علیھم و مأ وا ھم جھنم و بسٔ المصیر۔‘‘

اور یہ بھی اعلان ہوتا ہے۔

’’قل لا تعتذروا قد کفرتم بعد ایمانکم۔‘‘ 

اور یہ بھی اعلان ہوتا ہے۔

’’فمالکم فی المنافقین فٔتین و اللہ أرکسھم بما کسبوا أتریدون أن تھدوا من أضل اللہ۔‘‘

بہرحال کفر و شرک کو مٹانا اور توحید کے جھنڈے گاڑنا ان کا سب سے پہلا کام ہوتا ہے… دینی نظام کے مختلف ادوار میں انبیاء آتے رہے، کبھی کبھی انبیاء کرام کے ساتھ ملوک و سلاطین کا نظام بھی قائم کیا گیا اور انبیاء کی رہنمائی میں کام کرنے کا حکم دیا گیا، خاتم الانبیاء حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کو تمام انبیائِ سابقین و ملوکِ صالحین و عادلین کے کمالات کا وارث بنایا گیا اور ایسی جامعیت عطاء فرمائی گئی کہ تمام مناصبِ اصلاح خواہ دعوت و تبلیغ کے ہوں یا جہاد و قتال کے یا نظمِ مملکت کے، آپﷺ کی ذاتِ با برکات میں جمع کر دیے گئے تھے، بیک وقت آپﷺ داعی الٰی اللہ بھی تھے اور حاکم اعلیٰ بھی اور قائد جیوش بھی، آپ ﷺکے خلفائے راشدین بھی آپ ﷺکی صفاتِ کمال کے صحیح جانشین تھے، جس طرح انبیاء کا منصب تھا کہ توحید کی علمبرداری کریں، دنیا سے کفر وشرک کو مٹائیں اور دعوت الٰی اللہ کے لئے جد وجہد کریں۔

ٹھیک اسی طرح علومِ نبوت کے وارثین کا فرضِ منصبی ہے کہ ایمان وکفر کی تمیز کرائیں اور ایک دوسرے کی حدود کو متعین کریں جس طرح کسی مسلمان کو کافر کہنا گناہِ عظیم ہے، ٹھیک اسی طرح کافرکو مسلمان کہنا بھی بڑا عظیم جرم ہے … اگر علمائِ امت اس فریضہ میں کو تاہی کریں تو ادائے فرض کی کوتاہی میں عنداللہ مجرم ہوں گے۔

البتہ: یہ ضروری ہے کہ اس فریضہ کی ادائیگی علمِ صحیح کی روشنی میں نیک نیتی سے ہو، جذبات بالاتر ہو۔ 

علماء کا فرض منصبی 

حدودِ اسلام کی حفاظت اور پاسبانی یہ علمائِ امت کا فرض منصبی ہے… جس کے بہر حال مکلّف ہیں… اگر اسلامی حکمرانوں کا فرضِ منصبی ہے کہ وہ مملکتِ اسلامیہ کی جغرا فیائی حدود کی حفاظت کریں تو علمائِ امت کا فریضہ ہے کہ وہ حدود کی حفاظت مملکتِ اسلامی کی حفاظت کی تدابیر سرانجام دیں، اور اگر غور کیا جائے تو دینِ اسلام کی حدود کی حفاظت مملکتِ اسلامی کی حفاظت سے بھی زیادہ اہم ہے۔

اب اگر مملکتِ اسلامی کے چپہ چپہ کی پاسبانی ضروری ہے تو اس سے زیادہ اسلامی قوانین اور احکام کی پاسبانی بلکہ ہر حکم و قانون کی پاسبانی ضروری ہے اور اسلامی مملکت بھی صیحح معنی میں وہی ہو سکتی ہے جو دینِ اسلام کی محافظ ہو اور جس میں احکامِ اسلام کی تنفیذ و تحفظ کی ضمانت ہو…

ظاہر ہے کہ مملکتِ خدا داد پاکستان اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت اور پاسبانی کے لئے وجود میں آئی ہے، تمام ترکوشش اسی لئے تھی کہ مسلمانوں کے نقوش کو امن و امان نصیب ہو اور اسلامی احکام محفوظ ہوں اگر کسی اسلامی ملک میں اسلامی قوانین کی حفاظت نہ ہو تو اس اسلامی حکومت کو اسلامی کہنا بے معنی ہوجاتاہے، ہر مملکت کی نوعیت اس کے دستور اور اس کے قوانین سے پہچانی جاتی ہے۔

جس طرح کمیونسٹ حکومت کا نظام اس کے دستور سے معلوم ہوگا اور جمہوری مملکت اس کے آئین سے معلوم ہوگی اس طرح ایک اسلامی مملکت کی شناخت کی علامت اسلامی دستور ہے… اگر کسی اسلامی مملکت میں ’’غیر اسلامی اقلیت‘‘ موجود ہے تو اس کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ ان کو غیر مسلم کہنا جرم ہوگا، کوئی غیر مسلم صرف اسلامی مملکت میں رہنے سے تو مسلمان نہیں بنے گا، کافر کافر رہے گا اور مسلمان مسلمان، اگر کافر موجود ہے تو اس کو کا کافر کہنا پڑے گا اگر کوئی شخص اسلامی قوانین میں سے کسی بھی قانون کا انکار کرے گا تو وہ یقیناً کافر اور غیر مسلم قرار دیا جائے گا۔

اسلام کا تعلق نہ تو جعرافیائی حد بندی سے ہے نہ رنگ و نسل سے ہے نہ وطن سے ہے بلکہ دین محمدی کی ایک ایک بات کو ماننے اور بغیر ہیر پھیر کے اس پر ایمان لانے اور یقین لانے اور یقین کرنے سے ہے، اس یقین کے اقرار کرنے کے لئے عنوان ہے ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ امید ہے کہ اہل انصاف کے لئے یہ چند اشارات کافی ہوں گے حق تعالیٰ صحیح فہم نصیب فرمائے۔

واللہ سبحانہ ولی التوفیق والھدایۃ وھوحسبنا ونعم الوکیل۔

دینِ اسلام کیا ہے؟

’’اسلام‘‘ نام ہے اس دین و شریعت کا جو حضرت خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے توسط سے امتِ محمدیہ کو دیا گیا ہے… اس کی بنیاد دو چیزوں پر ہے۔

ایک قرآن کریم

دوسری سنتِ نبویہ محمد یہ علی صاحبھا الصلوات والسلام، یہ دین مجموعہ ہے عقائد و عبادات کا، قوانین و احکام کا، اخلاق و تزکیہ نفوس کا، اس میں عبادت کا جامع ترین نظام ہے… جس میں عبادات بدنیہ بھی ہیں… جیسے نماز، روزہ…مالی بھی ہے جیسے زکوۃ، صدقات، کفارات…بدنی ومالی بھی ہیں… جیسے حج و عمرہ۔

 اسلام جس طرح عبادات کا جامع نظام رکھتا ہے، اسی طرح وہ احکام و قوانین کا بھی محیرا لعقول جامع ترین نظام ہے، جس میں نظم مملکت سے لے کر امورِ خانہ داری تک زندگی کے انفرادی و اجتماعی، دینی و سیاسی، معاشی و اقتصادی ہر پہلو اور ہر گوشے کے لئے تمام جزئیات موجود ہیں۔

ایسی طرح اس میں نفس روح کے تزکیہ کے لئے ظاہر وباطنی تمام ہدایات وارشادات موجود ہیں۔

الغرض: زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس کے لئے اسلام کے حیرت انگیز نظام نامۂ حیات میں اشارات و ہدایات کا کافی و شافی سرمایہ موجود نہ ہو… دینِ اسلام کا خزانۂ عامرہ ان تمام جواہرات اور قیمتی لعل و گہر سے مالامال ہے… جو انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے درکار ہیں اور جن سے دنیا بھی کے’’ازموں‘‘ کا دامن خالی ہے…

اسلام کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ لینن و مارکس اور ہیگل و اینجلز کے دروازے پر جا کر بھیک مانگے یا کسی سرمایہ دارانہ نظام کا دروازہ کھٹکٹائے… اسلام علیم و خبیر اور سمیع و بصیر رب العالمین جل ذکرہ کی طرف سے نازل کردہ دین ہے…

چند عقلاء و حکماء کے ذہنی ادراک کا نتیجہ نہیں، نہ قانون ساز اداروں یا قوم کے چند نمائندوں کی دماغی کاوشوں کا ثمرہ ہے… یہ اس علیم و خبیر کی قدرت کاملہ اور رحمتِ کاملہ کا ظہور ہے جو ہر دور، ہر زمانہ، ہر قوم اور ہر ملک کے انسانوں کا خالق ہے… جو پوری انسانیت کے حقیقی امراض سے باخبر اس کی واقعی ضروریات سے واقف اور اس کی دقیق نفسیات کا رازدان ہے۔ 

دینِ اسلام سے دُوری کے نتائج

تاریخ کے جس دور میں مسلمان حکمران اس پاکیزہ دین پر عمل کرتے رہے، اس کی برکات و ثمرات سے فیضیاب ہوتے اور جتنی بہتر صورت میں اس پر عمل ہوتا رہا اس کے مطابق نتائج بھی ظاہر ہوتے رہے…

بالآخر رفتہ رفتہ ملوک و امراء کی عیش و عشرت اور افراد و اقوام کی غفلت سے ان قوانین و احکام پر عمل کمزور ہوتا چلا گیا اور رفتہ رفتہ اسلامی نظام کی برکات سے مسلمان محروم ہوتے چلے گئے اور بعض ممالک میں تو یہ نعمت بالکلیہ چھین لی گئی، ان بد نصیب ملکوں میں ہمارا متحدہ ہندوستان بھی تھا جس پر تقریباً ایک ہزار برس کے بعد کفر یورپ کی ظالم وجابر حکومت کا تسلط ہوا تقریباً ایک صدی بعد ایک حصّہ متحدہ ہندوستان کا دوبارہ ’’پاکستان‘‘ کے نام سے مسلمانوں کے اقتدار میں دیا گیا، یہاں ابتدائی دور کے چند سالوں کے بعد ایسے حکمران آتے گئے جن کی طرف سے دینِ اسلام کے ساتھ ایسا معاملہ ہوتا رہا جیسے کوئی دشمنِ اسلام طاقت اسلام سے دیرینہ انتقام لینا چاہتی ہو، حق تعالیٰ کا نظام ہے… آخر کار ان ظالموں کو ذلیل کیا گیا۔

ان کے بعد نظمِ حکومت اور زمامِ اقتدار ایک ایسے شخص کے ہاتھ آئی جس سے شروع شروع میں توقع تھی کہ شاید اس کے ذریعہ سابقہ دور کی تلافی ہوجائے گی… اسلام کا بول بالا ہوگا اور اہلِ اسلام کی عظمتِ رفتہ ایک دفعہ پھر واپس آجائے گی…

 لیکن افسوس کہ اس دور میں دینِ اسلام کے تمام شعبوں کی تباہی و بربادی سابقہ ادوار سے کہیں زیادہ ہوئی، ’’مشاورتی کونسل‘‘ قائم کی گئی جس کا مقصد یہ بتلایا گیا کہ قانون ساز اسمبلی کوئی ایسا قانون نہ بنائے جس کی مشاورتی بورڈ تصدیق نہ کرے، عنوان کتنا خوبصورت ہے لیکن اس کی حقیقت کیا ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor